کچھ بات آمریت، منڈی، غربت اور آزادی کی۔۔۔   


\"zeeshan انیس سو چوراسی کے آخر میں میخائل گورباچوف (آخری سوویت صدر) نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ حیران کن حد تک دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لے آیا۔ اس دورہ کے دوران جب گورباچوف نے برطانوی شان و شوکت اور خوشحالی کا مشاہدہ کیا تو اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس وقت مارگریٹ تھیچر برطانوی وزیراعظم تھیں۔ گورباچوف نے تھیچر سے سوال کیا: آخر آپ کو کیسے پتا چلتا ہے کہ تمام شہریوں کو بہتر غذا مہیا ہے؟ تھیچر نے بڑا ہی ٹیکنیکل اور معاشی سائنس کی حکمت سے بھرا جواب دیا

I don’t know. Prices say it all.

(یہ کام میں نہیں کرتی، قیمتیں یعنی مارکیٹ کرتی ہے )

\"z01\"یہ اس برطانوی وزیراعظم کا جواب تھا جس کا ملک عرصہ سے خوراک کی پیداوار میں خودکفیل نہیں تھا، مگر وہاں خوراک کی کمی نہیں تھی۔ جبکہ روس جہاں انقلاب سے پہلے زراعت کی اتنی پیداوار تھی کہ نہ صرف خودکفیل تھا بلکہ سالانہ نو ملین ٹن خوراک دوسرے ملکوں کو ایکسپورٹ کرتا تھا۔ جب لوگوں سے بعد از انقلاب معاشی آزادی چھین لی گئی اور اس کی جگہ ریاستی آمریت نافذ کر دی گئی تو یکے بعد دیگرے خوراک کے بحرانوں نے روسیوں سے نہ صرف ان کا معیار زندگی چھین لیا بلکہ پے در پے قحط کے سبب جان کے لالے پڑ گئے۔ یوں اس تناظر میں تھیچر کا جواب انتہائی معنی خیز تھا۔

اسی طرح 1989 میں بورس یلسن نے امریکہ کا دورہ کیا۔ جانسن خلائی مرکز کا دورہ کرنے بعد مستقبل کا روسی صدر اچانک ایک سبزیوں کی دکان میں گھس گیا۔ وہاں اس نے لوگوں سے کافی سوالات کئے۔ امریکی لوگوں کے معیار زندگی نے اسے بہت متاثر کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ایسا معیار زندگی تو Politburo (سوویت کمیونسٹ پارٹی کے پالیسی میکرز) \"z02\"کو بھی حاصل نہیں، یہاں تک کہ صدر گورباچوف بھی اپنی غذا میں اتنی چوائسز نہیں رکھتے جتنا یہاں کے ایک عام آدمی کو حاصل ہیں۔ بورس یلسن نے اپنے ساتھی روسیوں سے کہا \”اگر ہمارے لوگ امریکیوں کا معیار زندگی اور یہاں کے سپر سٹور دیکھ لیں جو (روسی عوام) ضروریات زندگی کی بنیادی چیزوں کے حصول کے لئے ایک لمبی قطار سے گزرتے ہیں تو انقلاب آ جائے \”

انیس سو تراسی میں ایک سیاح روس جاتا ہے اور وہاں وہ دیکھتا ہے کہ ایک گلی میں ایک کافی طویل قطار ہے، معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ ٹماٹر کے حصول کے لئے یہاں کھڑے ہیں جبکہ دوسری گلی میں ایک اور بڑی قطار مردوں کی بنیانوں اور زیر جاموں کے لئے تھی جو تین دن تک رہی یہاں تک کہ سب \”انڈر گارمنٹس\” ختم ہو گئیں۔

\"z03\"فرق کیا تھا دونوں نظاموں کے بیچ ؟ امریکی نظام مارکیٹ پر انحصار کرتا ہے اور مارکیٹ طلب و رسد اور قیمتوں کی آزاد حرکت کا نام ہے۔ لوگ محنت کرتے ہیں، کماتے ہیں اور جو مرضی آئے خریدتے ہیں، اس میں ان کی معاشی آزادی ہے۔ سوویت نظام میں آپ ریاست کے ویسے ہی غلام ہیں جیسے دور زراعت میں آپ جاگیرداروں کے پابند تھے، آپ بغیر آمدن کے محنت کرتے ہیں بدلے میں ریاست آپ کی لباس رہائش اور خوراک کا انتظام کرتی ہے، اس میں معاشی آزادی صفر ہے، اشیاء و خدمات کے استعمال میں حق انتخاب سے آپ محروم ہیں۔ ریاست آپ کی لباس رہائش اور خوراک کا انتظام کیسے کرتی ہے آپ نے ٹماٹر اور بنیانوں کے قصے میں ملاحظہ فرمایا۔

یہاں ایک نقطہ زیر بحث لانا لازم ہے کہ طبقاتی تقسیم محض معاشی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی و سماجی بنیادوں پر بھی ہوتی ہے۔ ہر وہ چیز جو انسانوں میں مساوات کا خاتمہ کرے اور ان کی آزادیوں کو پابند سلاسل کرے وہ طبقاتی تقسیم کا سبب ہے۔ سوویت یونین میں جب مزدور قیادت (کمیونسٹ پارٹی) کی آمریت نافذ ہوئی تو خودبخود دو منفرد طبقات وجود میں آ گئے جن کی بنیاد طاقت، اختیار، اور اقتدار میں عدم مساوات تھی۔ اب سوویت پارٹی کے کرتا دھرتا کردار اور بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران بالادست طبقہ بن گئے۔ دوسری طرف زیر دست طبقہ عوام (رعایا) تھی جن کی پہلے معاشی و سیاسی آزادی سلب کی گئی اور پھر بالآخر آہستہ آہستہ باقی کی تمام آزادیوں سے بھی وہ محروم کر دیئے \"z04\"گئے۔ اسے ہمہ گیر آمریت (Totalitarianism ) کہتے ہیں۔

ایک مذہبی (تھیوکریسی) ریاست میں بھی دو طبقات وجود میں آجاتے ہیں ایک طرف بالادست مذہبی پیشوائیت ہوتی ہے اوردوسری طرف وہ گناہ گار عوام جسے بقول تھیوکریسی حق انتخاب سے محروم رکھنا اس لئے ضروری ہے کہ شیطان اسے اچک لیتا ہے یوں علماء کی راہنمائی (جو حقیقتا بالادستی ہوتی ہے ) اشد ضروری ہے۔ دونوں کے کردار بھی ملتے جلتے ہیں۔ایک سوشلسٹ نظام میں ریاست کے ولن اگر سرمایہ دار ہوتے ہیں تو مذہبی ریاست میں وہ ولن شیطان ہے۔ علماء کی مذہبی ریاست میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو سوشلسٹ ریاست میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہان کی ہوتی ہے۔ اور عوام جن کی آزادی سے ملا بھی ڈرتے ہیں اور سوشلسٹ ریاست کے آمر بھی کیونکہ ملا کے نزدیک ایک آزاد فرد کے حق انتخاب کو شیطان اچک لیتا ہے تو سوشلسٹ ریاست میں وہ سرمایہ داروں کے بہکاوے میں آ جاتا ہے۔ آمریت کے ہتھکھنڈوں میں دونوں کی نفسیات مشترک ہے۔ دونوں ہر حوالے سے ہمہ گیر آمریت (Totalitarianism ) کی بدترین شکلیں ہیں۔

سوشلسٹ انقلاب محض دو چار ممالک میں نہیں آیا، کل 46 سے زائد ممالک تھے جنہوں نے یہ نظام نافذ کیا۔ انجام سب کے سامنے ہے۔ ان میں سے وہ ملک جو قدرتی وسائل کی قلت کا شکار تھے وہ فورا ہی دیوالیہ ہو کر اس نظام سے نکل آئے مگر ان کی وراثتیں (پاکستان میں ضیا آمریت کی طرح ) ان معاشروں کی آزادی کے ہنوز درپے ہیں۔ وہ ممالک جو قدرتی وسائل کی دولت سے مالامال تھے ان میں آہستہ آہستہ یہ نظام کمزور ہوتا گیا جس کی وجہ اس سے جنم لینے والی معاشی ابتری، سیاسی آمریت، اور ثقافتی زبوں حالی ہے۔

وینزویلا بھی ان میں سے ایک ہے۔ روس کی طرح یہ ملک بھی تیل و گیس سے مالامال ہے جس کی معیشت کا کلی دارومدار تیل و گیس کی ایکسپورٹ پر ہے۔ انڈسٹری تباہ ہو چکی ہے، اس وقت وینزویلا میں شرح مہنگائی 700 فیصد سے بھی زائد ہے۔ لوگ بنیادی ضروریات تک سے محروم ہیں۔ ادویات اتنی نایاب ہیں کہ جڑی بوٹیوں کی طب دوبارہ سے استعمال میں آ رہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کا غلبہ ہے اور سیاسی آمریت کی بدترین شکل رائج ہے۔ معیشت کا ایسا برا حال ہے کہ قوی امکان ہے ملک جلد دیوالیہ ہو جائے گا-

\"ElliotErwitt_13_Nikitaگزشتہ ماہ The Daily Beast کی رائٹر Saraí Suarez اپنے آبائی وطن وینزویلا اپنے خاندان سے ایک طویل عرصہ بعد ملنے جاتی ہیں وہ لکھتی ہیں

\”ہم ہفتوں تیاری کرتے رہے۔ ہمیں روزانہ دوستوں کے وٹس ایپ پیغامات ملتے کہ بخار کی ادویات لیتے آئیے گا، یہ آپ کو یہاں نہیں ملے گی۔ اضافی ڈائپر لیتے آئیے گا یہاں آپ کو نہیں ملے گا- اب کیوں آ رہی ہو بعد میں آ جانا اس وقت حالات بہت برے ہیں۔ مچھر دانیاں لیتی آنا کیونکہ یہاں ذیکا، ڈینگی اور chikungunya وائرس ہر طرف ہے۔میں تمہیں نہیں ڈرانا چاہتی مگر یاد سے اپنی بچی کے لئے دودھ لیتی آنا، اپنے سفر کے دوران انتہائی احتیاط کرنا اور سوشل میڈیا پر کچھ بھی شائع نہ کرنا کیونکہ یہ یہاں خطرناک ہے \”

اور جو انہوں نے مشاہدہ کیا اس کے بارے میں لکھتی ہیں \”یہاں کچھ بھی خریدنے کو دستیاب نہیں، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تب بھی نہیں۔ دکانوں میں فوجی سپاہی گھی چینی اوراور ٹوائلٹ پیپر کے خریداروں پر ایسے نظر رکھے ہوئے ہیں جیسے یہ سونے کے سکے ہوں۔ بجلی نہیں ہے، ریفریجریٹر خراب ہو رہے ہیں۔ بجلی کی تاریں بغیر مرمت کے بکھری پڑی ہیں- کاریں گرد سے اٹی ہوئی ہیں کیونکہ اسپیئر پارٹس دستیاب نہیں کہ مرمت کروائی جائے۔ ادویات دستیاب نہیں، ہسپتالوں کا انتظام انتہائی برا ہے، پرتشدد اموات کے اعتبار سے یہ ملک سرفہرست ہے۔ برین ڈرینیج (قابل و تخلیقی ذہن کی ہجرت ) عروج پر ہے۔ ایک بدحال ملک کے پیسوں سے جگہ جگہ ہوگوشاویز کی بڑی بڑی تصویریں لگی ہوئی ہیں جس میں اس کی گھورتی آنکھیں بتاتی ہیں کہ اس کا دور کتنی بدترین آمریت تھا۔ کیوبا کے بعد یہ وہ سوشلزم تھا جو میں نے اپنے شوہر کو دکھایا (کہ دیکھ لے اور سبق حاصل کرے)

سیاسی ثقافتی اور معاشی آزادیوں سے انحراف کسی بھی ملک کو زوال کے کن گڑھوں میں دھکیل دیتا ہے اس کا مطالعہ ہم ہر سوشلسٹ ملک کو بطور کیس اسٹڈی کر سکتے ہیں۔ سوشل سائنسز کے تمام طالب علموں کو ان اہم سوالات کے جوابات ان ممالک کے مطالعہ سے لازمی مل جائیں گے کہ

– قیمتیں کیسے کام کرتی ہیں ؟

– آزاد منڈی کی معیشتوں میں قحط کیوں نہیں آتے اور سوشلسٹ معیشتوں میں کیوں آتے ہیں ؟

– حکومتی کاروباری ادارے کیوں نقصان میں جاتے ہیں جبکہ نجی ملکیت کے ادارے کیوں نہیں ؟

– معاشی آزادی کا سیاسی و ثقافتی آزادی سے کیا تعلق ہے ؟

– کیا طبقات محض معاشی اسباب سے بنتے ہیں ؟

-اور سب سے اہم یہ کہ ہماری سرگرمیوں میں incentive اور self interest کا کیا مقام ہے ؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 132 posts and counting.See all posts by zeeshan

14 thoughts on “کچھ بات آمریت، منڈی، غربت اور آزادی کی۔۔۔   

  • 15-04-2016 at 3:03 am
    Permalink

    میہائیل گورباچوو سوویت یونین کے آخری سربراہ یعنی سوویت کمیونسٹ پارٹی کے آخری جنرل سیکرٹری، سپریم سوویت کی پریزیڈیم کےا آخری چیئر مین اور سوویت یانین کے پہلے اور آخری صدر تھے نہ کہ آخری صدر۔

  • 15-04-2016 at 10:32 am
    Permalink

    مکمل جھوٹ

  • 15-04-2016 at 1:07 pm
    Permalink

    ذیشان، آپ مغربی میڈیا کی غلط بیانیوں پر تکیہ کر رہے ہیں۔ روس میں کبھی، انقلاب سے پہلے یا بعد میں قحط نہیں پڑا البتہ سوویت یونین کے یوکرین میں جنگ عظیم دوم سے پہلے بہت برا قحط ضرور پڑا تھا۔ سوویت یونین میں اشیاء کی خریداری کے لیے قطاریں صرف تب لگی تھیں جب گورباچوو کے تحت تعمیر نو کے عمل کے دوران عالمی سرمایہ داری نظام نے جی ہاں اسی نظام کے کارپردازوں نے یہاں مصنوعی قلت پیدا کی تھی۔
    ظاہر ہے مرغیوں نے انڈے دینا یا گائیوں نے دودھ دینا نہیں چھوڑا تھا مگر یہ سب دستیاب نہیں تھا کیونکہ انڈے گڑھوں میں پھینک دیے جاتے تھے اور دودھ نالیوں میں بہا دیا جاتا تھا ( کم قیمت پر خرید کر) یہ ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے نمائندوں نے کیا تھا تاکہ “ویکیوم” پیدا کرکے اپنے “پراڈکٹس” مارکیٹ میں لائے جائیں۔ انڈے اور دودھ مثال ہیں، روس کے بنے تمام ریفریجریٹر اور ایرکنڈیشنر ملٹی نیشنل کے غیر ملکی نمائندے خرید لیتے تھے۔ ان کے کارآمد پرزہ جات نکال لیتے اور باقی اونے پونے بیچ دیتے یوں جاپان، کوریا اور جرمنی کی بنی الیکٹرونک مصنوعات کی “مارکیٹ” تخلیق کی گئی۔ ان سب کے دستاویزی ثبوت آج موجود ہیں لیکن اب ان کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ روس میں سرماییہ داری اپنے بھیانک جبڑوں کے ساتھ منہ پھاڑے کھڑی ہے۔

  • 15-04-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    یہ کالم تصویر کا ایک رخ ہے میرے دوست.. میری بہن بنک میں جاب کرتی ہے.. وہ کوئی چھٹی نہیں کر سکتی.. صبح نو بجے جاتی ہے اور رات سات بجے کے بعد آتی ہے..وہ کیا اپنی مرضی سے جیتی ہے.. یہ بھی معاشی غلامی کی ایک شکل ہے..سرمایہ داری کی چھتری تلے دنیا کے وسائل چند ہاتھوں میں ہیں جو دنیا کے جغرافیائی، معاشی اور سیاسی خدا بنے بیٹھے ہیں.. یہ بھی ایک طرح کی طبقاتی تقسیم ہے جسکا سبب کم از کم سوشلزم کا نعرہ نہیں بلکہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام ہے

  • 15-04-2016 at 10:54 pm
    Permalink

    یہ تجزیہ انتہائی غلط اور عوام دشمن ہے۔ سوشلسٹ گورنمنٹ روٹی کپڑے مکان اور روزگار کی زمہ دار ہوتی ہے۔ اور آپکے جنتی نظام سرمایہداری میں اسی فیصد عوام کے شب و روز انہی چیزوں کے حصول کی جدوجہد میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ پھر بھی یہ چیزیں “قسمت والوں” کو ہی ملتی ہیں۔
    دوسری بات ورکنگ آورز یعنی کام کے گھنٹوں کی ہے۔ آج سے تقریبا” سو سال پہلے پرانی ٹیکنالوجی کے ساتھ اگر کام کے اوقات آٹھ گھنٹے تھے تو پھر آج بھی آٹھ گھنٹے کیوں ہیں؟ کیا سو سالوں میں ایسی مشینیں نہیں آ گئیں جس پہ کم لوگ کام کر کہ زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلا” اگر ایک مشین پر پہلے آٹھ مزدور کام کر رہے تھے اور جدت کی وجہ سے یہ کام صرف ایک بندہ کرنے لگا ہے تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آٹھ بندے ایک ایک گھنٹہ کام کرتے۔ یوں سب کی زندگی بھی سہل ہو جاتی اور کوئی بے روزگار بھی نہ ہوتا۔ لیکن سرمایہ داری میں معاملہ اسکے برعکس ہے۔ مشین کی جدت کا تمام تر فائدہ سرمایہ دار کی جیب میں جاتا ہے۔ وہ ایک مزدور سے ہی زیادہ وقت کام کروائے گا اور باقی افراد کو نکال دے گا۔ یوں بے روزگاروں کی ایک فوج ہمہ وقت موجود رہے گی۔ جو ہر وقت کام پر آنے کو تیار ہو گی۔ اسکی مدد سے سرمایہ دار کام پر موجود مزدوروں سے اپنی مرضی سے اجرت طے کرے گا۔

  • 15-04-2016 at 11:14 pm
    Permalink

    اور میاں کہاں کی آزادی کیسی آزادی کی بات کرتے ہو؟
    لوٹ کھسوٹ کی آزادی کی وکالت کرتے ہو۔ بے روزگار اور بے گھر فرد کے لیے بھوک سے مرنے کی آزادی ہوتی ہے۔
    یا اپنا آپ سرمایہ دار کے آگے سرمایہ دار کی طے کردہ اجرت اور کام کے اوقات پر خود کو بیچنے کی آزادی؟
    سرمایہ داری تو ایسا گھناونا نظام ہے کہ اس نے انسان سے اُس کی تمام تر روحانیت چھین لی ہے۔ یہاں روحانیت کا مطلب مذہب، اخلاقیات، آرٹ، موسیقی اور ایسی دیگر سرگرمیاں ہیں۔
    سرمایہ داری ہر فرد کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس دیوہیکل پیداواری نظام کا پُرزہ بن کر زندگی گُزار دے۔ جس میں سونے کے علاوہ تمام وقت وہ مزدوری میں ہی گُزارے۔ مینجرز، اُستاد، وکیل، ڈاکڑ، بینک ملازمین و دیگر بھی پڑھے لکھے مزدور ہی ہیں۔ یہ نظام کسی کو اتنا وقت ہی میسر نہیں آنے دیتا کہ وہ اپنی روحانی ترقی کے لیے کام کر سکے۔
    ایسے میں اپکی آزادی کی رٹ لایعنی تکرار ہے۔ سرمایہ دار یقینا” بہت سے قلم فروشوں کو خرید کر اپنے حق میں تحریریں لکھواتے ہیں۔ لیکن انسان دوست اہل جنوں و اہل علم صاحبان اتنا کام کر گئے ہیں کہ جسے ہم جیسے طالب علم پڑھ کر آسانی سے آپ جیسوں کی قلابازیاں پکڑ لیتے ہیں۔

  • 16-04-2016 at 1:42 am
    Permalink

    You should read “Capital in the twenty first century” by Thomas Piketty to see the other side of the story

  • 16-04-2016 at 4:20 am
    Permalink

    پاکستان میں پولیس ۔ اصلیت ۔
    ===================
    پولیس میں بھرتی ھونے والوں کا خواب ۔ نوٹ ملیں گے نوٹ ۔ کھلے نوٹ ۔خوب لوٹیں گے عوام کو ۔
    بھرتی کرنے والوں کا خواب ۔ استعمال کریں گے ان کو اپنی چودھراھٹ کے لیے ۔ عوام کو تھانوں میں چھترول کے لیے ۔ اپنے سیاسی مخلفین کے تھانے میں ھاتھ پاؤں تڑوانے کے لیے ۔ جو طبقاتی بنیاد پر سر اٹھاءیں ان کے سر تڑوانے کے لیے ۔ اور بس ۔ کون سا معیار اور اور کون سا اخلاق دیانت ۔
    رنگ دیکھتا ھے آسماں کیسے کیسے ۔
    =======================
    قومی اسمبلی پاکستان نے بھاری اکثریت سے ساءبر بل منضور کر لیا ۔ ماشالله اس وقت قومی اسمبلی کے تیس 30 ارکان موجود تھے ۔ جن میں ن لیگ ۔ پی پی پی اور پی ٹی آءی کے ارکان تھے ۔ ماشالله اندر سے سب ایک ھیں ۔

  • 16-04-2016 at 4:23 am
    Permalink

    افسوس کہ اس ملک کے سیستدانوں نے اس بد نصیب قوم کو سواءے دھوکے کے اور کچھ نہیں دیا ۔ اسی لیے پاکستان کا کوءی حکمران نہ ھی عزت سے کرسی سے اترا ھے اور نہ ھی عزت سے مرا ھے ۔ عمران خان بھی طبقہ اشرافیہ کا ایک مہرہ ھے ۔ اس کے پاس کوءی پروگرام نہیں ھے اور نہ ھی ایکسپرٹ ۔ یہ صرف تماشہ دکھا کے اپنا مطلب پورہ کرنا چاھتا ھے ۔ تاکہ اسے اقتدار بھی مل جاءے اور طبقہ اشرافیہ کو بھی کوءی نقصان نہ ھو ۔ مگر اب ایسا نہ ھو گا ۔
    کیا یہ مزارے یہ غلام اپنے آقاءوں اپنے مخدوموں کے خلاف ووٹ دے سکتے ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اے واعظ بتا خلق خدا کو اصل بات ۔ ڈنڈی نہ مار ۔ اسی طرح جب دنیا میں صنعتی دور شروع ھوا تو ان لوگوں نے جن کے قبضے میں وساءل تھے ۔منافع بخش صنعتیں لگاءیں اور بے وسیلہ لوگوں کو مزدور رکھ لیا ۔جو کہ عملی طور پر ان کے غلاموں سے کم نہ ھیں ۔اے واعظ بتا خلق خدا کو اصل بات ۔ ڈنڈی نہ مار ۔ آج کل جو باندروں کا تماشہ ھو رھا ھے اس پر چی گیویرہ کا قول بلکل صادق آتا ھے کہ انصاف ملتا نھیں انصاف چھیننا پڑتا ھے ۔ پاک و ھند کے عوام ابھی اس قابل نھیں ھو سکے کہ انصاف چھین
    Like · Reply · Just now

  • 16-04-2016 at 4:27 am
    Permalink

    اب کچھ عقل کو ھاتھ مارو
    ===============
    ماضی میں تو سامراج کی چاکری میں سامراج کی بڑی خدمت کی اور اپنے ملک کو بارود اور دھشت گردی کا ڈھیر بنا دیا ۔ جب کہ بے وقوف عوام کو فتوحات کے چکر میں ڈالے رکھا ۔ اب سارے خوفناک منصوبے ترک کر دو اور تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن کرو ۔ بہت فتوحات کر لیں ۔ خدا کے لیے اب اور کچھ فتوحات کی ضرورت نہیں ھے ۔ مسلہ کشمیر کچھ لو کچھ دو کی بناد پر حل کر لو ۔
    ============================== عقل کے اندھے ۔ کرپشن پٹی اتارو ۔ اب کو اس بد نصیب قوم کو تعلیم ۔علاج اور خالص خوراک دے دو ۔ باقی سب یہ خود کر لیں گے ۔ کہاں کہاں پولیس اور رینجرز کھڑے کرو گے ۔ بھارت برا ھے ۔ بھارت گندہ ھے ۔ بھارت بے ایمان ھے ۔ کیوں ۔ اس لیے کہ ھم کشمیر کو ( آزاد) ۔ کرانا چاھتے ھیں ۔ اس مقصد کے لیے ھم جو کچھ کر سکتے ھیں کرتے ھیں ۔ اس کے جواب میں بھارت بھی جو کچھ کر سکتا ھے کرتا ھے ۔ ارے عقل کے اندھو تاریخ پڑھو جب تک بھارت ایک متحدہ ملک ھے تم کشمیر نہیں لے سکتے ۔ وہ بھی ایٹمی ملک بن جانے کے بعد ۔ کیوں عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ھو ۔پہلے بنگال دے دیا ۔ اب شمالی علاقے نہ ہاتھ سے نکل جاءیں ۔ مسلہ کشمیر کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر حل کر لو ۔ پہلے اپنے ملک کو درست کر لو ۔ لوگوں کو ان کے حقوق دو ۔ ورنہ یہ سب تم بے کار اور خود اپنے لیے بے کار کی گیم کھیل رھے ھو ۔ اور خطرناک گیم کھیل رھے ھو ۔ ( آزاد ۔ ھم
    پاکستانی عوام تو کشمیریوں سے بھی زیادہ غلام ھیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ )

  • 16-04-2016 at 4:43 am
    Permalink

    وقت گزرتا ھے ۔ یہ کاءنات گردش کرتی ھے ۔ بڑے بڑے بت پاش پاش ھوتے ھیں ۔ انسانی معاشرہ نت نیے انقلابات سے دوچار ھوتا ھے ۔ پرانے انقلابات کھنڈر بن جاتے ھیں ۔ مگر انھی انقلابات کی راکھ سے نیے انقلابات جنم لیتے ھیں ۔ انسانی تاریخ میں کچھ انقلابات مزھبی روپ میں آءے اور کچھ غیر مزھبی روپ میں مگر ان کا گرنا ایک ھی جیسا تھا ۔ آج کسی طرح بھی ان جیسا انقلاب لانا یا نظام لانا ناممکن ھے ۔ کیوں کہ انسانی تاریخ نے آگے بڑھنا ھے ۔ انسانیت کے دشمن خواہ وہ غیر مزھبی ھوں یا مزھبی انسانیت کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتے ۔

  • 16-04-2016 at 4:48 am
    Permalink

    ضلفقار علی بھٹو وڈیرہ تھا ۔ اس نے سوشلزم کے نعرے تو لگاءے مگر انتخابی نظام ایسا بنایا کہ جس سے وڈیرے بڑی آسانی سے انتخابی فراڈ میں کامیاب ھو جاتے ھیں ۔ بھلا پچاس فیصد سے کم ووٹ ڈالے جاتے ھیں ۔اس میں سے بیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والا کامیاب ھو جاتاھے ۔ اس سےبڑھ مزاق اور بے ایمانی کیا ھو سکتی ھے ۔ اسی
    طرح عمران خان دھاندلی دھاندلی کا شور تو بہت مچاتا ھے مگر طبقاتی
    =========================================
    نظام انتخاب کی بات نہیں کرتا ۔ چار سو کنال کے محل میں رھتا ھے اور
    =========================================
    غریبوں کا بڑا ھمدرد ھے ۔ ایک دن سمبلی میں جا کے غریبوں کے حق
    =========================================
    میں کوءی قانون پیش نہیں کیا ۔!!!!!!!!!!!!!!?????????? اس سے صاف
    ===============================
    ظاھر ھوتا ھے کہ ان کا اصلی اتحاد عوام کے خلاف ھے ۔ اور پلان آف ایکشن یہ ھے کہ عوام کو ڈگڈگی کے کھیل تماشوں میں الجھاءے رکھو ۔ مگرانکے حق میں کوءی حقیقی قانونسازی نہ کرو ۔ باقی سب اچھا ھے ۔ راوی چین لکھتا ھے ۔ اس بدنصب عوام کو مارشلاؤں نے کیا دیا اور جمہوریتوں نے کیا دیا ھمارے سیاستدان ۔ بابو ۔ لٹیرے وڈیرے سب کے سب عالمی سامراج کے مہرے ھیں ۔ وہ جب اور جہاں چاہتا ھے ان کو استعمال کرتا ھے ۔ اور اس کے عوض ان کے ڈالر اکونٹوں کو ان کی وہاں پر جاءدادوں کو اور اولادوں کو تحفظ دیتا ھے ۔ جب کہ پاکستان عدلیہ ملک کے اندر ان کو تحفظ دیتی ھے ۔ صرف اوپر اوپر سے ھی ھا ھیاؤ کرتی ھے ۔ مگر نتیجہ صفر ۔ فوج مارشلا لگاتی ھے تو جگرداری کو تحفظ دیتی ھے ۔ طبقہ اشرافیہ کی یہ ایک گیم ھے ۔ جو ٦٥ سال سے چل رھی ھے اور نہ جانے کب تک چلے گی ۔
    یہ آج بھی ستر سال بعد بھی تاج برطانیہ کے آگے کتے کی طرح دم ہلاتے ھوے جاتے ھیں ۔ ان کے ساتھ کھڑے ھو کر شرابیں پینے کو ایک اعزاز سمجھتے ھیں ۔ انگریز تو درکنار اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے سامنے گلابی انگریزیاں بولتے ھیں ۔ کروڑوں ڈار کرکت جیسے بے کار کھیلپر خرچ کرتے ھیں جب کہ اپنے ملک میں لاکھوں لوگ بھوکے مر رھ ھیں ۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ سماجی اونچ نیچ ۔ استحسال ۔ اور غربت و امارت کے درمیان جنگ ھی دراصل ایک ایسی حقیقت ھے جو مختف روپوں ۔ مختلف دھوکوں اور عیاریوں اور مکاریوں ۔ مزھبوں اور فرقوں کے روپ میں لڑی جاتی ھے ۔ ماضی میں کچلے ھوے طبقات کی بغاوت کر کے ریاست پر قبضہ کر لینا ھی انقلاب کہلاتا تھا ۔ فرانس روس چین اور کچھ دوسرے ملکوں میں ایسے انقلاب پیدا ھوے اور لا زول کامیابیاں حاصل کیں ۔ مگر آج کل استحصالی طبقات نے ان انقلابات کو کوروکنے کے لیے کچھ نیے طریقے ایجاد کر لیے ھیں ۔مثلن بالغ راءے انتخابات ۔ اب ان انتخابات کو انتخابات کہنے والے یا تو بڑے سادہ لوح ھوتے ھیں یا پرلے درجے کے مکار بکاؤ مال ھوتے ھیں ۔ پاک و ھند کے لوگ اگرچہ اس غلامی پر خوش ھیں ۔ اس لیے یہاں روس اور چین جیسے انقلاب ممکن نہیں ھیں ۔ بہرحال جو لوگ ان کو اس غلامی سے نکالنا چاھتے ھیں ان کو اپنی تمام تر توناءیاں طبقاتی نظام انتخاب پر صرف کرنی چاھیں ۔
    اگر کوءی صاحب طبقاتی نظام انتخاب کے بارے کوءی ابہام محسوس کرتے ھیں ۔ تو آپ مجھ سے رابطہ کریں آپ کے سارے ابہام دور کر دوں گا ۔ آپ کو صرف یہ کرنا ھو گا کہ اپنے اپنے علاقے میں
    طبقاتی نظام انتخاب کے لیے پریشر گروپ تشکیل دیں ۔ شخصیت پرستی جہالت ھے ۔اس جہالت سے جان چھڑاءیں ۔ اگر اپنا فون نمبر سیل نمبر دیں تو میں خود آپ سے رابطہ کروں گا ۔ وسلام ۔ آپ کا بھاءی ۔ شوکت علی خان ۔[email protected]
    LikeCommentShare

  • 16-04-2016 at 12:02 pm
    Permalink

    یہ کیسا دلچسپ نکتہ ہے کہ ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے مولوی، نیشنلسٹ اور لبرل، سوشلزم کی مخالفت میں یوں یک جا ہو جاتے ہیں کہ نہ حقائق کی چھان بین کی پرواہ کرتے ہیں نہ تصویر کے مکمل نہ ہونے کی پرواہ۔ یہ دیکھ کر بھی لطف آتا ہے کہ کل تو جو امریکہ مولویوں کے لیے قابلِ قبول تھا، آج آدھی دنیا کو تباہی میں دھکیلنے والا وہی امریکہ اور اس کا دستِ راست یورپ نیشنلسٹوں اور لبرلز کے لیے کیسے جنت نظیر بنا ہوا ہے۔

  • 17-04-2016 at 1:26 am
    Permalink

    یااللہ لبرلز کو کچھ پڑھنے کی بھی توفیق عطا فرما۔ مارگریٹ تھیچر کو اس کے اپنے ملک میں لوگ “بچوں کا دودھ تک پی جانے والی ڈین“ کہا جاتا ہے۔

Comments are closed.