کرپٹ کون ہوتا ہے، کرپشن کسے کہتے ہیں؟


imran-and-Nawaz-Sharif-meetingعمران خان نے لندن روانگی کے وقت اور نواز شریف نے لندن پہنچ کر جو باتیں کی ہیں، وہ دلچسپ اور توجہ طلب ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کو بدعنوان قیادت کے احتساب کا نایاب موقع دستیاب ہوا ہے۔ ہم اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف بات کی جاتی ہے تو یہ شور مچایا جاتا ہے کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے چونکہ اپنی اس دلیل کی وضاحت نہیں کی اس لئے ان کی گفتگو کے مجموعی تاثر سے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عمران خان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔ اس کے بعد جمہوریت کا تماشہ بھی دیکھ لیں گے۔ اسی طرح وزیراعظم نواز شریف نے لندن پہنچنے کے بعد کل شام جو باتیں کی ہیں وہ بھی کم اہم نہیں ہیں۔ جس معاملے پر ملک کے اخبار گزشتہ ہفتہ عشرہ سے سیاہ کئے جا رہے ہیں اور ٹیلی ویژن پر جس خبر نے باقی سب اہم واقعات کو پیچھے دھکیل دیا ہے، ہمارے سادہ لوح نواز شریف کو اسی کے بارے میں خبر نہیں ہے۔ وہ پوچھتے ہیں آخر میرا جرم کیا ہے۔

ویسے عمران خان کی عینک سے دیکھیں اور نہایت صاف دلی سے مدعا بیان کریں تو اسی سادگی سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ 2013 کے انتخاب میں عمران خان کی باری تھی لیکن آپ نے ”دھاندلی“ سے تحریک انصاف کے ووٹ چرا لئے اور اس کرسی پر قابض ہو گئے جس کا ”حق“ عمران خان کو حاصل تھا۔ انہوں نے تو انتخابی مہم کے دوران ہی جتا دیا تھا کہ ”میاں صاحب جان دیو …. ساڈی واری آن دیو“ آپ نے اس وقت بھی اسی سادہ لوحی کا ثبوت دیتے ہوئے عمران خان کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور واضح اکثریت کا نعرہ لگاتے ہوئے اقتدار پر قابض ہو گئے تھے۔ اس کے بعد 2014 میں آپ کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی تھی کہ بے آواز لاٹھی یعنی اللہ کی لاٹھی کبھی بھی آپ کو نشانہ بنا سکتی ہے یعنی تیسرا ایمپائر آﺅٹ کے لئے انگلی کھڑی کر سکتا ہے۔ آپ نے ان اشاروں اور کلمات حکمت کو تسلیم کرنے کے بجائے عوام کے پرزور اصرار پر دھرنا دینے والے لیڈر کو ہی مطعون کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ اس مسئلہ کا آسان سا حل یہ تھا کہ آپ چوہدری نثار علی خان کے کان میں کہہ دیتے کہ ”2018 میں عمران خان کو وزیراعظم بننے دیں“ تو مسئلہ حل ہو جاتا۔ اب آپ لاکھ یہ کہہ لیں کہ اگر آپ یہ کام کرتے تو اس بات کا اندیشہ رہتا کہ چوہدری نثار جو اپنے بے پناہ سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے کو کمتر سمجھتے ہیں، جھٹ سے عمران خان کا حق خود اچک لیتے اور 2018 کے انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ کے امیدوار بن بیٹھتے۔ یوں دو پرانے ہم جماعتوں اور دوستوں… عمران خان اور چوہدری نثار علی خان میں اقتدار کی جنگ شروع ہو جاتی۔ اس لئے آپ جیسے سادہ لوح کا یہ سوچنا برحق تھا کہ چوہدری نثار کے کان میں سرگوشی کرنے کی بجائے مناسب وقت کا انتظار کریں تا کہ یہ بات عمران خان کو خود ہی سمجھ آ جائے۔

افسوس عمران خان کو یہ بات اس طرح سمجھ نہیں آتی جس طرح آپ کو اب تک یہ پتہ نہیں چلا کہ آخر آپ کا کیا قصور ہے اور آپ نے کیا جرم کیا ہے …. بے پناہ کرپشن ، بدعنوانی ، منی لانڈرنگ اور حلفیہ بیان دیتے ہوئے جھوٹ بولنے جیسے الزامات کی بھرمار میں آپ ہی کا حوصلہ ہے کہ اتنی سادگی کا مظاہرہ کریں۔ یوں تو پاناما پیپرز نے تو بس عمران خان کے حوصلہ کو جوان ہی کیا ہے ورنہ قومی دولت لوٹنے کے الزامات آپ پر اور جناب زرداری پر گزشتہ کئی برس سے لگائے جا رہے ہیں۔ جس طرح عمران خان 2013 کے انتخاب سے پہلے آپ کو اور زرداری کو یکساں طور سے ”چور“ ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے اسی طرح اپوزیشن لیڈر (قومی اسمبلی کی نشست کے بغیر) نواز شریف بھی اس سے زیادہ زور و شور سے پیپلز پارٹی اور اس کی ساری قیادت پر لوٹ کھسوٹ کے الزامات لگا رہے تھے۔ یادش بخیر شہباز شریف نے ایسے بدعنوانوں کے ساتھ جو سلوک کرنے کا اعلان مائیک گراتے اور مکے مار کر میزیں توڑتے ہوئے کیا تھا …. مہذب الفاظ میں اسے بیان کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لئے وزیراعظم صاحب جمع خاطر رکھیے اتنی سادگی بھی اچھی نہیں۔ کرپشن کرنے کا پتہ نہیں البتہ ان الزامات کا سامنا کرنے کا آپ کا پچیس تیس سال کا تجربہ ہے۔ اسے بروئے کار لاتے ہوئے آپ اب بھی الزامات کے اس طوفان سے صاف بچ نکلیں گے۔ شاید آپ ہی کی مدد کے لئے ایک کے بعد ایک سپریم کورٹ کے سابق جج اور چیف جسٹس اس کمیشن کی سربراہی سے انکار کر رہا ہے جسے قائم کرنے کا وعدہ آپ نے براہ راست قوم سے کیا تھا۔ چوہدری نثار علی خان اب تک انکار کرنے والے 5 ججوں کا شمار کر چکے ہیں۔ ممکن ہے یہ تعداد زیادہ ہو۔ کیونکہ بے خبری میں وزیر داخلہ بعض باتوں کا نوٹس بھی نہیں لیتے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی یہ کہہ کر آپ کے اختیار اور موقف کی تائید کر دی ہے کہ تحقیقات کروانا عدالتوں کا نہیں انتظامیہ کا کام ہے۔ اس لئے “ لوٹ لیا لوٹ لیا “ کی جتنی چاہے دھوم پڑتی رہے، وزیراعظم کی اکثریت اور اختیار کو فی الوقت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جس طرف سے خطرہ کا امکان تھا، وہاں انہوں نے پہلے یہ اعتراف حقیقت کر لیا ہے کہ ہمارا مقصد حکومت کرنا ہے فساد کرنا نہیں۔ اب معاملات فوج چلائے یا اسحاق ڈار، جب تک وزارت عظمیٰ کی تختی نواز شریف کے نام کی لگی ہے، راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ یوں بھی اس ملک کی تاریخ میں کسی کمیشن کو بروقت معاملات قوم کے سامنے لانے یا بعد از وقت اصل حقائق بتانے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اگر کسی رپورٹ میں غلطی سے کچھ اشارے شامل ہو بھی جائیں تو بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار تو سیاسی حکومت کے ہاتھ میں ہی رہتا ہے کہ وہ اسے عام لوگوں کے لئے جاری کرے یا نہ کرے۔ اس معاملہ میں زیادہ تردد کی ضرورت اس لئے بھی نہیں ہے کہ فی الوقت جو دو پارٹیاں حکومت سازی کی امیدوار یا اہل ہو سکتی ہیں، ان کا اس قسم کی تحقیقات اور ”حساس معلومات“ کے بارے میں ایک سا رویہ ہے۔ اسی لئے اعتزاز ۔ نثار شاﺅٹنگ میچ کے باوجود فیصلوں کا اختیار زرداری اور نواز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ اب وہ دونوں خیر سے لندن میں اکٹھے ہیں۔ اگرچہ دونوں طرف سے کسی خفیہ یا عام ملاقات کی تردید کی گئی ہے لیکن قوم کو خبر ہو کہ وزیراعظم نواز شریف کی طرح آصف علی زرداری بھی بیمار ہیں اور بغرض علاج لندن گئے ہوئے ہیں۔

ایسے میں عمران خان کو لندن جانے کی نہ جانے کیا سوجھی۔ لیکن یہ طے ہے کہ انہیں ایسا موقع تو نہیں دیا جائے گا کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ایک دوسرے کے مدمقابل آنے پر مجبور کر دیں۔ حالانکہ 2013 کے بعد 2018 میں وزیراعظم بننے کی خواہش لئے عمران خان نے بادل نخواستہ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کی لوٹ مار کو فراموش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا اول نشانہ وزیراعظم نواز شریف ہیں، کیونکہ حق تلفی بھی تو انہوں نے کی ہے۔ اس لئے یہ عوامی لیڈر جو بیمار اور بھوکے پاکستانی باشندوں کے غم میں بڑے محل نما گھر میں رہتا اور پرائیویٹ جہازوں میں سفر کرتا ہے، اب مجبور ہو کر یہ کہنے لگا ہے کہ کرپشن کے معاملے میں جمہوریت کہاں سے آ گئی۔ گویا پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے نزدیک جمہوریت پر تو مفاہمت ہو سکتی ہے لیکن بدعنوانی پر نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگر جمہوری نظام قومی خزانے کی لوٹ مار پر کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا تو آمریت کیوں کر اسے ختم کرنے میں دلچسپی لے سکتی ہے۔ یہ مسلمہ اصول ہے کہ اقتدار پر قابض کوئی بھی مطلق العنان، جسے عوام کے ووٹوں اور تائید کی ضرورت نہ ہو خطرناک اور عوام دشمن فیصلے کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ ماضی قریب کی پاکستانی تاریخ اس بیان کی تائید کرتی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان جمہوریت کو مسترد کرتے ہوئے کسی ایسے فوجی کا راستہ دیکھ رہے ہیں جو انہیں اقتدار میں لانے کا راستہ ہموار کر سکے۔

کسی کو اس بات سے انکار نہیں ہے کہ گزشتہ 68 برس کے دوران بدعنوانی اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ لیکن عمران خان سمیت کرپشن کے بارے میں بات کرنے والے ہر شخص سے یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ اس بحث میں ساری ذمہ داری سیاستدانوں پر کیوں عائد کی جاتی ہے۔ فوج بھی تو اس ملک میں تیس برس تک براہ راست اور تقریباً اتنی ہی مدت بالواسطہ شریک اقتدار رہی ہے۔ پھر کوئی عمران خان یہ صدا کیوں نہیں لگاتا کہ ایوب خان ۔ یحییٰ خان ۔ ضیاءالحق یا پرویز مشرف کی بدعنوانی اور غصب کی تحقیقات کی جائیں اور ان کا پردہ چاک کیا جائے۔ اس ملک کو شفاف اور مالی بدعنوانی سے پاک دیکھنے والے خواہ وہ سیاستدان ہوں یا صحافی ، دانشور ہوں یا رائٹس ایکٹیوسٹ سیاسی پارٹیوں اور سول ذمہ داروں کے ساتھ وردی پوش لٹیروں کی بدعنوانی سامنے لانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔ یہ موقف کیوں سننے میں نہیں آتا کہ ملک میں احتساب کا یکساں نظام قائم کیا جائے جو کسی عہدیدار یا عام شہری کی غلط کاری پر یکساں طور سے گرفت کر سکے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سویلین بدعنوانیوں کے لئے ایک طریقہ کار ہے اور فوجیوں کو سزا دینے کا معیار مختلف ہے۔ کرپشن کے ثمرات سے دونوں یکساں استفادہ کرتے ہیں اور قوم و ملک کو ان کا نقصان بھی ایک سا پہنچتا ہے، پھر انہیں ایک ہی طریقہ اور نظام کے تحت جانچنے اور سزا دینے کی بات کیوں نہیں کی جاتی۔

اس بحث میں یہ بھی طے ہو جانا چاہئے کہ آخر کرپشن کس چیز کا نام ہے۔ کیا ناجائز طور سے لائسنس جاری کرنے، فنڈز میں خردبرد کرنے یا میرٹ کو نظر انداز کر کے بھرتیاں کرنا ہی کرپشن ہے یا آئین توڑنا اور اس طرح خود کو عقل کل قرار دے کر من پسند لوگوں کو پوزیشن پر لانے کی راہ ہموار کرنا بھی اسی تعریف میں آتا ہے۔ اگر دیانتداری سے بدعنوانی کی تعریف پر اتفاق کیا جا سکے تو ملک میں لوٹ مار کے نام پر الزام تراشی کا لب و لہجہ ضرور تبدیل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بہت سے پرجوش لیڈروں کو خود اپنا چہرہ بھی اس آئینے میں نظر آنے لگے گا۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “کرپٹ کون ہوتا ہے، کرپشن کسے کہتے ہیں؟

  • 16-04-2016 at 5:47 pm
    Permalink

    دھاندلی اور کرپشن کیخلاف احتجاج کرنا آپکے ہاں جرمِ عظیم ہے۔ آپ احتساب سے پہلے جذباتی آوازوں کا کچھ علاج کرنا چاہتے ہیں۔ شوق سے صاحب۔ قلم میں سیاہی ضروری ہوتی ہے شعور اور حکمت لکھنے میں بھلا کہاں استعمال ہو گا۔ شکریہ

Comments are closed.