شعور ماہواری


adnan karimiافسوس اس پر ہے کہ اندازہ نہیں تھا ہم اتنی پستی اور گراوٹ کا شکار ہوجائیں گے۔ ماہواری جیسے مسائل کے حق میں نا صرف بولا جائے گا بلکہ اس کے تدارک اور تدابیر کے طور پر استعمال ہونے والی اشیاء کو برسر بازار لٹکا کر داد وصول اور تحفظ حقوق نسواں کی علمبرداری کی سند بھی حاصل کی جائے گی۔

واشنگٹن پوسٹ کا دماغ خراب نہیں تھا کہ اس نے میاں نواز شریف صاحب کے طرز حکمرانی میں لبرل ازم کے ایڈیشن کو سراہا اور اسے ملکی ترقی کا زینہ قرار دیا۔ اسی ترقی کی ایک جھلک آج لاہور کی پاکستان بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی میں دیکھنے میں آئی، جہاں طالبات نے اپنی پشت پر ماہواری کے دھبے اور پیڈز دیواروں پر لٹکا کر “مخلوط بیداری و شعوری مہم” کا آغاز کیا۔ مہم کا مقصد ماہواری کی ناپاکی کا تصور قلوب واذہان سے ختم کرکے ان ایام میں شریعت کی عائد کردہ پابندیوں اور ممنوعات سے جان چھڑانا ہے۔ مذکورہ مہم کی خشت اول رکھنے کا سہرا تو ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کے سر جاتا ہے جب رواں صدی کے اوائل میں محترمہ نے الہدی انٹرنیشنل کے فورم سے فتوی دیا تھا کہ حائضہ خاتون تلاوت کلام پاک کے ساتھ ساتھ تمام دینی مامورات کو بھی بجا لاسکتی ہیں۔ اس ضمن میں تمام آیات واحادیث کو کراس کرتےہوئے موصوفہ کی اجازت نے معاشرہ میں وہ رنگ جمائے جس کا خاکسار چشم دید گواہ ہے۔ حالیہ حیا سوز تحریک پر پوری قوم مبارکباد کے مستحق ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ فی زمانہ ہم نے “امت وسط” کے اعتدال کا وصف کھو دیا ہے۔ ہم پائنی، ارسطو و افلاطون اور قدیم یہودیوں کے افراط زدہ افکار مذمومہ (ان ایام میں وہ اچھوت کی مریضہ، منحوس اور عذاب بن جاتی ہے۔ اس سے سلام کلام تو درکنار، اسے وبال سمجھ کر جنگل میں دور بٹھا دیا جاتا ہے) سے خائف ہوکر عیسائیوں کی تفریط زدہ سوچ اپنانے کی ایسی کوشش کر رہے ہیں کہ جس میں کوئی روک ٹوک اور قدغن نہیں ہے۔ حالانکہ اعتدال کا راستہ تو سورة بقرہ کی آیت نمبر 222 ہے کہ جس میں خداوند تعالی برملا ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ حیض گندگی ہے۔ اس دوران اپنی بیویوں سے ہم بستری نہیں کی جا سکتی۔ رہا سوال بات چیت اور معاملات کا، تو دین میں نا تو یہودیوں کی طرح سختی ہے اور نا ہی عیسائیوں کی طرح چھوٹ بلکہ معتدل رہ کر اسی پر عمل کرنا ضروری بے جتنا آیات واحادیث میں مذکور ہے۔ خداوند قدوس امت مسلمہ کو عقل سلیم کی دولت سے نوازے۔

( محترم بھائی عدنان کریمی سے استفسار ہے کہ انہوں نے پائنی، ارسطو اور افلاطون میں سے کسے افراط زدہ یہودی   قرار دیا ہے اور کسے تفریط زدہ عیسائی کا درجہ دیا ہے ۔ مدیر) 


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “شعور ماہواری

  • 15-04-2016 at 9:21 am
    Permalink

    عدنان احمد کریمی صاحب! معاشرے کو پستی سے نکالتے ہوئے آپ خود بھی تصویر کھنچوانے جیسے گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں. اس لیے فوراً توبہ کریں یا ہم جیسے جاہلوں کی رہنمائی فرمائیں کہ تصویر کشی کی حرمت کب اور کس طرح حلت قرار پائی.

  • 15-04-2016 at 12:43 pm
    Permalink

    مبشر صاحب تصویر لگانے جیسی بھونڈی مثال دینے سے بہتر تھا آپ اپنی سطحی سوچ کو خود تک ہی محدود رکھتے.
    لکھاری نے جس موضوع پر قلم اٹھایا اس پر بات کیجیے

  • 15-04-2016 at 7:22 pm
    Permalink

    دو سوال:

    ۱۔ ماہواری کا ’ تدارک ‘ کیا ہوتا ہے اور کیوں کیا جانا چاہئے؟

    ۲۔ اگر اعتدال کا راستہ یہی ہے کہ حیض کے دوران ہم بستری نہیں کی جاسکتی تو پھر فرحت ہاشمی نے کیا خطا کی اگر انھوں نے اعلان کردیا کہ حائضہ خاتون تلاوت کلام پاک کے ساتھ ساتھ تمام دینی مامورات کو بھی بجا لاسکتی ہے؟ انھوں نے ہم بستری کی اجازت تو نہیں دی۔

  • 15-04-2016 at 8:28 pm
    Permalink

    motafeeq…

  • 17-04-2016 at 2:00 am
    Permalink

    Well said G Writer.Exactly true

  • 17-04-2016 at 6:48 pm
    Permalink

    بات یہ ہے کہ بقول غالب
    پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
    رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
    جب معاشرے میں ناجائز اور شدید قسم کی پابندیاں عائد کردی جائیں اور جنسی موضوعات کو محض ذہنی عیاشی تک محدود کردیا جائے تو ردِّ عمل ایسا ہی شدید ہوگا جیسا کہ بیکن ہاؤس میں ہوا۔ مغرب میں بے محابا آزادی چرچ کے صدیوں تک ایسے ہی ظالمانہ نظام اور شدید پابندیوں کا ردِّ عمل ہے۔ بہشتی زیور اور گلستان بوستان تو ابھی کل کی بات ہے احادیث کے مستند مجموعات میں کتاب النکاح پڑھ کر دیکھ لیں جنسی معلومات واضح طور پر لکھی نظر آجائیں گی۔لیکن برا ہو ملّائیت کا جس نے اپنی نام نہاد حیاء کو نافذ کرتے ہوئے شریعت کو بھی شٹل کاک برقعہ پہنادیا ہے۔

  • 17-04-2016 at 7:05 pm
    Permalink

    عدنان کریمی بھائی نے ایک مختصر مگر خوبصورت مدلل جواب دیا ہے۔ اب مبشر صاحب نے جواب نہ ہونے کی صورت میں بس چسکا لینے کی کوشش کی ہے۔

    اور مدیر محترم اگر ان کی اس بات ” ہم پائنی، ارسطو و افلاطون اور قدیم یہودیوں کے افراط زدہ افکار مذمومہ (ان ایام میں وہ اچھوت کی مریضہ، منحوس اور عذاب بن جاتی ہے۔ اس سے سلام کلام تو درکنار، اسے وبال سمجھ کر جنگل میں دور بٹھا دیا جاتا ہے) سے خائف ہوکر عیسائیوں کی تفریط زدہ سوچ اپنانے کی ایسی کوشش کر رہے ہیں” کو دوبارہ ایک بار غور سے پڑھ لیں تو شائد سوال ختم ہو جائے جو نیلے رنگ میں کسی کسی پوسٹ کے نیچے لازمی لکھتے ہیں۔

Comments are closed.