کیا ایک نیا مذہبی بیانیہ ممکن ہے؟


aasemمیرا کلام ہمیشہ خارج میں کسی شعور کا محتاج ہے۔ میں آپ کو اپنا مخاطب بناتا ہوں تو آپ کی موجودگی میرے لئے ایک بدیہی مفروضہ ہوتا ہے، میں یہ فرض کرتا ہوں کہ آپ موجود ہیں اور میری بات آپ تک پہنچنی چاہئے۔ خود کلامی کی صورت میں بھی مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ میرے اندر کوئی کان لگائے بیٹھا ہے جو میری مراد جاننا چاہتا ہے، اس کو معانی پہنانا چاہتا ہے، میرے کلام سے تعلق پیدا کرنا چاہتا ہے۔اس ناگزیر فطری مفروضہ بندی کے بعد ہی میرا کلام میری ذات سے باہر پھوٹتا ہے۔ مراد کو ملفوظ کرنا میری جبلت ہے، اسے خارج میں کسی شعور تک پہنچانا میرا ارادی فعل ہے۔یہ کہنا درست ترین ہو گا کہ میری شعور سے برآمد ہونے والا کلام معنی خیز ٹھہرنے کے لئے خارج میں موجود کسی شعور کے ہونے کا محتاج ہے۔

مگر کیا میرا شعور اس کلام کے درست فہم کے لئے صحیح طور پر گھات لگا کر بیٹھا ہے؟
اگر خدا بھی مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے تو میرا شعور اس کے کلام کا بدیہی مفروضہ ہے۔اس کا دعوی ٰ یہی ہے کہ وہ مجھے ہدایت دینا چاہتا ہے کیوں کہ ہدایت میری ابدی حیات اور میری ہستی کی معنویت کے لئے ضروری ہے۔ حقیقتِ مطلق اور اس کے مظاہر کو لفظوں اور تصورات میں قید کر کے اپنے شعور میں اتارنا میری معذوری اور بے چارگی کا ثبوت ہے۔ وہ یہ معذوری بہت اچھی طرح جانتا ہے کیوں کہ میرا خالق ہے اور مجھے اس سے کہیں زیادہ جانتا ہے جتنا میں اپنے آپ سے واقف ہوں۔مگر بہرحال اس کا یہ دعویٰ اسی وقت معنی خیز ہے جب میں اسے ماننے ، اس پر ایمان لانے کے لئے موجود ہوں۔بادی النظر میں یہ بہت ہی قابلِ فہم سا منظر نامہ ہے لیکن شعور کی بھول بھلیوں میں اسی لمحے نہایت ہی پیچیدہ ہو جاتا ہے اگر اس کی تہوں میں اترنے کی کوشش کی جائے۔ آپ غور کیجئے تو کیا میں یہی کہتا نظر نہیں آرہا کہ خدا کا کلام میری صفتِ سماعت اور ارادتِ فہم کا محتاج ہے؟ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ایسا صرف نظر آ رہا ہے، حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ لیکن اگر ہم انفس و آفاق میں اسے کھوجنے نکلتےہیں تو لازمی طور پر اس تلاش کے نتیجے میں ایک نظریاتی پٹاری لے کر ہی واپس لوٹتے ہیں۔ جونہی کھولتے ہیں، تماشا شروع ہو جاتاہے۔
مزید غور طلب بات یہ ہے کہ یہ ایک نہایت جدید تناظر ہے کیوں کہ میرے جیسے انسان کا شعور اب اپنے آپ کو کائنات میں سرایت کئے گئے کسی کلی شعور کا ایک ننھا سا جزو ماننے سے قاصر ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ شعور کی قصداً یہی ترجیح ہے بلکہ میری مراد یہ ہے شعور کی نامیاتی ماہیت ہی تبدیل ہو چکی ہے۔ذرا سہل کاری سے کام لیا جائے تو یوں کہنا چاہئے کہ ازمنہ? قدیم کے مقابلے میں ہر آنے والے دور کا انسان بتدریج نظرئیے کا جبر قبول کرتا چلا آ رہا ہے۔ اختصار لازم ہے لہٰذا اتنی موضوعی رائے پیش کرنے کی اجازت دیجئے کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نظریہ بندی انسان کا ایک مثبت فعل ہے۔ مثبت ان معنوں میں کہ نظریہ اس کے مبہم تصورات کو ایک ساخت عطا کرتا ہے، اسے کچھ اصول و ضوابط عطا کرتا ہے تاکہ وہ ان کو پیشِ نظر رکھ کر سامنے پھیلے کشادہ میدان کے گرد ایک باڑ ھ باندھ سکے۔ ابراہیمی مذاہب میں خدائی کلام سے نظریہ برآمد کرنا کوئی نئی یا عجیب و غریب بات نہیں۔ اسلام کوئی تاو¿ ازم یا کنفیوشنزم یا بدھ مت تو نہیں جس میں اصول و ضوابط پر مشتمل نظریاتی خاکے کی اتنی زیادہ اہمیت نہ ہو۔ لیکن وہاں بھی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اظہار بالآخر ایک ایسے دور میں داخل ہوتا ہے جہاں اسے لفظوں کے پیرائے میں ڈھلنے کی حاجت ہوتی ہے۔آخر کنفیوشس، موئی تی، شان ینگ، تاو¿ تی چنگ وغیرہ ہمیں نظموں، مختصر دروس اور گنجلگ تصویری زبان میں بات کرتے کیوں نظر آتے ہیں؟
اب ذرا قریب آئیے اور اپنی روایت میں غواصی کیجئے تو ان نظریاتی خاکوں کی تاریخ کوئی آج کی نہیں۔ان گنت بیانیے ہوں یا لاتعداد جوابی بیانیے، دونوں خدائی کلام کو نظرئیے کی دیواروں میں قید کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ پس منظر چاہے روایتی ہو یا مبنی بر تجدد ،ہر زمانے میں دریافت کا عمل جاری و ساری ہے۔ شریعت کو کیا مطلوب ہے؟ اس کے مقاصد کیا ہیں؟ کتنے ہیں؟ پانچ یا چھ؟ اصولِ دین کیا ہیں؟ عقائد کی فہرست کیا ہے؟ اس فہرست میں کیا عدل اور امر بالمعروف و نہی المنکر ہونا چاہئے یا نہیں؟ فہرست کی ترتیب و ترجیح کیا ہونی چاہئے؟ قرآن کی تفہیم و تفسیر کے اصول کیا ہونے چاہئے ہیں؟ سنت کیا ہے؟ اس کے مآخذ کیا ہیں؟ کیا اہل مدینہ کا عمل سنت کا ماخذ ہے؟ شام و عراق میں بیٹھے ایک دوسرے کیا خط لکھے جارہے ہیں؟ شوافع اور مالکیوں کی کیا بحث ہے؟ احناف کیا کہتے ہیں؟ استحسان، عرف، عمل وآثار صحابہ سے دلیل کیوں؟ ابن قیم کی احناف پر تنقید کیا ہے؟ یہ باطل فرقوں پر لکھی گئی جلدیں کیا ہیں؟ ان باطل فرقوں کے عقائد کیا تھے؟ یہ بظاہر حتمی نظر آنے والے فیصلے کیا واقعی اتنے حتمی ہیں؟ شاطبی کیوں اندلس میں نظریہ بندی کی تحقیق میں مصروف ہیں کہ مقاصد الشریعہ میں کیا رکھیں اور کیا نہیں؟ ایسا کیا تھا کہ چودھویں صدی عیسوی میں اندلس کے ایک اہل علم کو نظریہ بندی کی ضرورت محسوس ہوئی؟ شہاب الدین قرافی کیوں قرونِ وسطیٰ کے مصر میں یہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ سنت کیا ہے اور اس سے حکم کیسے اخذ کیا جائے؟ غزالی کیوں ازسرِ نو نظریہ علم کی بنیادیں کھنگالنے پر مجبور ہیں کہ بالآخر کچھ نتائج پر پہنچ کر تصوف کے اصول مرتب کر رہے ہیں؟
غرض آج دن تک اتنا کچھ اتنے وسیع تاریخی رقبے پر پھیلا ہوا ہے کہ اگر اس سارے منظر کو ماوارائے مکان کہیں باہر سے بیٹھ کر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ ایک نہایت کشادہ میدان کے گرد باڑھ باندھنے کا مسئلہ ہے۔ ایک ایسا کشادہ میدان جس میں کئی چار دیواریاں ہیں جن کے اپنے اپنے مکین ہیں جو باہم ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ مگر مشترکہ بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسان کو اس میدان میں اس طرح قید رکھا جائے کہ وہ باڑھ کے دوسری طرف جھانکنے کی بھی کوشش کرے تو ذرا ٹھٹکے، ہچکچائے، کم از کم اپنے آپ سے ہی ڈر جائے۔ لیکن مزید غور سے دیکھیں تو بات ایسی سادہ بھی نہیں۔ یہ سب بھی انسان ہیں۔ ان کی بھی علمی ترجیحات ہیں، ان کی بھی نفسیاتی الجھنیں ہیں، انہوں نے بھی مباحثے کرنے ہیں، بیانیے دینے ہیں، جوابی بیانیے دینے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک بہت وسیع علمی روایت کا حصہ ہے۔
مگر اب اس پر اتنا وقت گزر چکا ہے کہ باڑھ میں بہت سوراخ بن چکے ہیں۔ دیواریں جگہ جگہ سے شگاف زدہ ہیں۔ باہر سے خوشگوار ہوا بھی اندر آتی ہے اور تعفن زدہ بھاپ بھی۔ بیانیے اور جوابی بیانیے کی یہ ساری بحث اب جامعات کی حدود سے باہر نکل کر مارکیٹ میں آ چکی ہے، کتابوں سے نکل کر اخباری کالموں کی زینت بن چکی ہے، مباحثہ سکڑ کر محض جملہ بازی بن چکا ہے۔بات اس حد تک پہنچی ہے کہ انسانی خودکشی بھی ایک قسم کا مذہبی نظریاتی بیانیہ ٹھہری ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جس میں انسانی شعور کو کامیابی سے باور کرا دیا گیا ہے کہ جنت بہرحال ایک امکان کے طور پر قابل دسترس ہے۔
ان حالات میں اب انسان جاننا چاہتا ہے کہ باڑھ کے دوسری طرف کیا ہے؟ وہ مذہبی بیانیے کی اس قطعیت سے عاجز آ چکا ہے، وہ تعریفات کے چنگل میں پھنس چکا ہے۔تعبیرات کے جنگل میں ایک بظاہر لامتناہی شام ڈھل رہی ہے۔ایک سوچے سمجھے ارادے کے ساتھ یہ مفروضہ باندھ کر کہ خدا انسان کو اس کی زندگی کی ہر ہر ساعت میں حکم میں باندھنا چاہتا ہے، خدا اب محض متون سے ایک اخذ کردہ ’حکم ‘ تک محدود ہو چکا ہے۔
کیا ایسا تو نہیں کہ اب انسان کو ایک بالکل نئے بیانیے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے؟ ایک ایسا بیانیہ جو یہ بتائے کہ نظرئیے سے آگے کیا ہے؟ ہماری استعاراتی باڑھ کے دوسری طرف کہیں اصل میں خدا ہی تو موجود نہیں؟ ایک ایسا خدا جو محض حکم تک محدود نہیں بلکہ انسان کے قریب ، بہت قریب ایک ذات کے طور پر موجود ہے۔ جو منوانے سے زیادہ ماننے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ماننے سے پہلے نہیں تو بالکل متوازی طور پر اپنے آپ کو انسانی قلب پر آشکار کرنا چاہتا ہے تاکہ انسان اسے جان لے۔کیا ایک ایسا تیسرا مذہبی بیانیہ بھی ممکن ہے جو ان چار دیواریوں کو توڑ دے اور اس باڑھ کے دوسری طرف موجود خدا سے اس مجبور انسان کو ملا دے؟ ایک ایسا بیانیہ جو سماج میں خارج سے وارد ہو کر محض ایک جبری مطالبہ نہ سمجھا جائے بلکہ انسانی شعور کے اندر سے پھوٹے؟ ایک ایسا جذبہ تسکین جو انسانی شعور و فہم کی تمام جہتوں میں ایک فطری کلیت رکھتا ہو؟ کیا ایک خوبصورت خدا اور خوبصورت انسان کا ملاپ ممکن ہے؟


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “کیا ایک نیا مذہبی بیانیہ ممکن ہے؟

  • 18-01-2016 at 5:07 pm
    Permalink

    Strange.. Why you would like to invent ‘wheel’ again. If collective wisdom’ of centuries is unable to ‘fulfill’ your demand then how is it possible that a new narrative will satisfy you or anyone? ‘Human’ is noting but a spirit of unfulfilled desire.

  • 29-02-2016 at 6:00 am
    Permalink

    بہت اچھے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ وجود حقیقی کہیں تحت الشعورکی گہرائیوں سے قلب انسانی پر اپنا انعکاس کرے۔ اگر مذ ہب کو داخلی کیف کا مظہر بننا ھے تو اہل تصوف کے ہاں یہ تجربہ موجود ھے اور روایت کیا جا رہا ھے۔ لیکن کسی خارجی پیمانے پر جانچے بغیر اس کی صداقت کی دلیل کیا ھوگی؟

Comments are closed.