یہ شارع عام کیوں نہیں


 

 

ARSALAN QAMARہمارے معاشرے میں ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ ایک ایسا خود ساختہ مقدس صحیفہ ہے جس کے خلاف سوچنا بھی سماجی روایات کے خلاف جانا اور بغاوت تصور کیا جاتا ہے۔ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے اس تصور نے سینکڑوں معاشرتی اور مذہبی مسائل پر بات کرنے کو ’’یہ شارع عام نہیں‘‘ کی حیثیت دے رکھی ہے ۔ ہمارا یہ مشرقی معاشرہ بالخصوص اس کا شکار نظر آتا ہے جہاں روشن خیالی کو دین کا ایک ایسا دشمن سمجھ لیا گیا ہے کہ جائز مسائل اور موضوعات پر بحث بھی ’’ٹیبو‘‘ سمجھے جانے لگی ہے۔ روشن خیالی کے مجسم خیال سے ایسا ڈر پیدا کر دیا گیا ہے کہ ہم سالہا سال سے اسی جگہ منجمد کھڑے ہیں کہ ذرا بھی ہلے تو یہ بت ٹوٹ جائے گا۔

ایسا ہی ایک موضوع حیض یعنی پیریڈز یا مینسٹرویشن کا ہے۔ اپنے اپنے گھروں میں ہی دیکھ لیجئے۔ میں نے اور آپ نےاس لفظ کے متعلق اپنے گھروں میں کبھی کوئی بحث دیکھی؟ البتہ بواسیر کی بابت ذکر دوستوں کی محفلوں میں بھی چلتا ہے۔ جب کبھی سنا، عورتوں سے بہ حالت شرم سنا۔ اگر گھر میں اس بابت کوئی بات ہوتی بھی ہے توخود کو اتنا شرمسار سمجھا جاتا ہے کہ ہماری شعوری کیفیت بھی شرمندہ سی ہونے لگتی ہے۔ آخر شرم کی کیا بات ہے اور کیوں؟ اگر حیض ایک ایسی چیز ہوتی کہ جس پر خجالت وشرم صحیح ہوتی تو پھر قرآن اور حدیث میں اور رسول اللہ ﷺ کے محفلوں میں اس موضوع پر بات کیوں ہوتی تھی؟ کیوں اس کے تمام تر پہلو زیر غور لائے جاتے تھے یہاں تک کہ ان ایام میں عورت اور مرد کو کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ کیا ان محفلوں میں شرم اور خجالت کا فقدان تھا؟ یا پھر ہم کہیں منجمد ہوئے بیٹھے ہیں؟

گزشتہ دنوں لاہور میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی کی طالبات نے پیریڈز پر ایک عجیب احتجاج کیا۔ ان طالبات نے پیریڈز کےلئے استعمال ہونے والے پیڈز کو دیوار پر سجایا اور اس کے ساتھ ہی ساتھ علامتی طور پر اپنے لباس بھی داغدار کئے اورہر پیڈ پر مختلف قسم کے پیغامات اور سوالات لکھے گئے ۔”بی این یو” لاہور کی ان طالبات کا یہ جرأت مندانہ مظاہرہ ہمارے معاشرے کے منجمد سوچ کے بت پر لگایا جانا والا ایک دھکا ہی سہی، مگر یہ اپنے ساتھ بہت سے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر گیا۔ دیوار پر لگائے جانے والے پیڈز پر لکھے سوالات نہایت مضبوط اور سوچنے پر مجبور کر دینے والے اور سب کے سب پڑھنے کے لائق تھے جن کو یہاں درج کئے دیتا ہوں۔

اگر مرد کھلے عام کنڈوم خرید سکتا ہےہے تو میں پیڈ کیوں نہیں خرید سکتی؟ کہ مجھے بے شرم، بے حیاء اور آوارہ سمجھا جائے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے سیکس کے مسائل اور سیکس آرگنز سے متعلق مسائل کو اتنا پیچیدہ اور پوشیدہ کیوں کر دیا گیا ہے؟ پیریڈز کو اتنا برا کیوں سمجھا جاتا ہے؟ مرد کو بواسیر ہو جائے، خون کا دھبہ لگا ہو تو اسے بیمار سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر میرے کپڑوں پر خون کا کوئی دھبہ لگا ہو تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسا کیوں؟ جب ہر گھر میں ماں، بہن، بیوی، بیٹی موجود ہے تو کیا ان کو یہ معاملات پیش نہیں آتے؟ جب آپ اپنے بچوں کو ان کے مسائل کے بارے میں آگہی نہیں دو گے تو وہ کس سے پوچھیں گے؟ باہر والوں سے پوچھنے کی صورت میں کیا ان کو بہکانے اور استعمال کرنے کا خطرہ نہیں ہو سکتا؟ ہمیں اک چھوئی موئی، اچھوت اور چھپنے کے قابل مخلوق ہی کیوں بنا دیا گیا ہے؟ کیوں ہمیں پیڈز خریدتے وقت ان کو کالے یا رنگ دار لفافوں کی ضرورت پیش آتی ہے؟ جبکہ یہ قدرتی عمل ہے پھر ہم کو ایسا کیوں محسوس کروایا جاتا ہے کہ اس بات پر شرمندہ بھی ہونا ہے؟ ہزاروں لاکھوں خواتین صرف اس لئے خطرناک بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کہ ان کو اس بارے میں بات کرنے پر شرمندہ ہونا سکھایا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ شرم کے مارے بیماری کو گلےلگا لیتی ہیں لیکن کچھ کہہ نہیں پاتیَ اور پھر ساری عمر کبھی بے اولادی کا سامنا تو کبھی جسمانی کمزوری کا رونا؟ پیریڈز کو اک گالی سمجھا جاتا ہے؟ اگر ایک بیٹی کو پہلی بار پیریڈ ہوں تو وہ بے چاری ڈر کے مارے کونوں میں چھپتی پھرتی ہے کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو گیا۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ کوئی اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔ اس کو گناہ یا بے شرمی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ جب مردوں کی بیماریوں کے لئے دیواریں بھری پڑی ہیں۔ ہر طرف مردانہ کمزوری کے اشتہارات نظر آتے ہیں تو پھر عورتوں کے مسائل پر بات تک کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیوں؟ اور ایسے ہی بہت سے سوالات؟

یہ سب سوالات ہمارے معاشرے کے ہر خود ساختہ منجمد اور دقیانوسی قانون پر ایک سوالیہ نشان ہیں۔ ہمیں ان سب معاشرتی اور مذہبی ٹیبوز کو توڑنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہمارے قدم آگے بڑھنے سے روک دئے ہیں اور ہماری سوچ اور شرم کو ایک کالے پیرہن میں ڈھانپ رکھا ہے۔ ہمیں اس کو ایک نارمل قدرتی چیز ماننا ہوگا اور اس پر اپنے بچوں کو کھل کر تعلیم دینی ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments