بال بچے اور پانامہ لیکس


ammar masoodہمارا دودھ والا اب بہت ماڈرن ہو گیا ہے۔ سمارٹ فون رکھتا ہے۔ کئی دفعہ فیس بک پر دوستی کی درخواست کر چکا ہے۔ سارے اخبارات پڑھتا ہے۔ ٹی وی پر سارے ٹاک شو دیکھتا ہے۔ ملکی سیاست پر گہری دودھیا نظر رکھتا ہے۔ ہر دوسرے منٹ کے بعد فیس بک پر اپنا سٹیٹس بدلتا ہے۔ گفتگو کا شائق ہے۔ ذہن رسا رکھتا ہے۔ علاقے کی لوکل سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ سیاست میں میری تھوڑی بہت شدبد سے متاثر ہو کر کئی دفعہ اپنے ڈیرے پر آنے کی دعوت دے چکا ہے۔ پرسوں بہت اصرار پر اس کے ڈیرے پر چلا ہی گیا۔ دودھ میں ملانے والے پانی کی بالٹی تھامے اس نے پرزور استقبال کے ساتھ یہ جملہ کہا لو جی صاحب جی آگئے ہیں۔ اب پانامہ لیکس کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ یہ کہتے ہی اس نے شاید لاشعوری طور خالص دودھ میں خالص پانی بالٹی ملا دی۔ میرے استفسار پر اس نے کہا کیا کریں صاحب پورا نہیں پڑتا۔ بچوں کو روٹی بھی تو کھلانی ہے نا۔ آپ پاناما لیکس کے بارے میں بتائیں۔ حکومت جا رہی ہے نا؟ تحریک انصاف کا دھرنا اب کامیاب ہو گا نا؟ اس کے ساتھ ہی اس نے حکومت وقت کی ہمشیرہ اور والدہ کے بارے میں کچھ ناگفتہ ان کشافات کئے اور فرمایا حرام کھا کھا کر ان کے پیٹ نہیں بھرتے۔ لوٹ کے کھا گئے ہیں اس ملک کو۔ حرام ان کے منہ کو لگ گیا ہے۔ دوسرے ملک کے وزیر اعظم استعفی دے رہے ہیں تو ان کو موت کیو ں پڑتی ہے؟ بس جی کرپشن پاکستان کو کھا گئی ہے۔ میں حکومت کے جانے کے بارے میں کوئی ان کشاف نہ کر سکا تو دودھ والے نے جلدی سے دودھ ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر حوالے کیا۔ اس دوران اس نے فیس بک پر امانت، دیانت، صداقت کے حوالے سے ایک اور سٹیٹس اپ لوڈ کیا اور ایمانداری، سچائی اور حلال کمائی کے بارے میں ایک بلند آواز نعرہ لگایا اور دودھ میں پانی ملانے کے لئے ایک اور بالٹی لینے کے لئے روانہ ہو گیا۔

شیخ صاحب محلے میں ہی رہتے ہیں۔ آڑھت کا کاروبار ہے۔ محلے کی مذہبی شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچے سارے لندن میں رہائش پذیر ہیں۔ شیخ صاحب دن میں کئی دفعہ سکائپ پر اپنے لندن میں مقیم خاندان سے محو گفتگو ہوتے ہیں۔ بیٹیوں کو سر پر دوپٹہ لینے کی تلقین کرتے ہیں اور بیٹوں کو ہر قسم کی خبائث سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ہر مذہبی اجتماع کے موقعے پر ان کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔ شب برات پر چنوں والے چاولوں کی دیگ چڑھتی ہے۔ عید بقر عید پر خصوصی اہتما م ہوتا ہے۔ قربانی کے جانور سب سے مہنگے لاتے ہیں اور سارے محلے کو جلاتے ہیں۔ محلے کی مسجد کے معاملات میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔ رمضان میں تراویح کا انتظام انہی کے زیر اہتمام ہوتا ہے۔ مجھ سے گناہ گاروں کو نماز روزے کی تلقین کرنے بھی اکثر تشریف لاتے ہیں۔ ہاتھ کی تسبیح کو کبھی قیام نہیں ہوتا۔ حتی کہ بوقت دشنام اور غیبت بھی اسی سرعت سے انگلیاں عبادت میں مصروف رہتی ہیں۔ محلے کے ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کی عادات بد پر ان کی نظر رہتی ہے۔ ہر آتے جاتے کی اصلاح کے حوالے سے دھیما سا طنز ان کا شعار ہے۔ مجھ پر میڈیا سے تعلق کی بنا پر خصوصی شفقت فرماتے ہیں۔ ایک دفعہ شہرکے وسط میں واقع ان کے گودام میں جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ لال مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے اور گرم مسالے میں چورے کی بڑے پیمانے پر ملاوٹ ہو رہی تھی۔ میرے کسی سوال سے پہلے ہی شیخ صاحب نے خود فرما دیا کیا کریں صاحب بچوں کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ پھر اپنا سوال جڑ دیا۔ کیا بنے گا پانامہ لیکس کا؟ حکومت جا رہی ہے نا؟ نجات مل رہی ہے نا ان ڈاکووں سے؟ لوٹ کے کھا گئے اس ملک کو۔ بے غیرتوں کے پیٹ نہیں بھرتے۔ ہماری حق حلال کی کمائی سے دیکھو جی سارے اپنے اکاؤ نٹس بھر لئے ہیں۔ حرام کھاتے ہیں یہ حرام۔ میں ملاوٹ کا چشم دید گواہ ہونے کی حیثیت سے ان کی تشفی کے مطابق حکومت جانے کے بارے میں جب کوئی تسلی بخش پیش گوئی نہ کر سکا تو شیخ صاحب نے یقننا دل ہی دل میں فرمایا ہو گا۔ یہ میڈیا بھی بکا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حرام کھانے والوں کے عبرت ناک انجام کے بارے میں کوئی معروف روایت فیس بک پر اپ لوڈ کی۔ مجھے ایماندای کو شعار بنانے کی تلقین کی اور ساتھ ہی فر ط غیظ میں ملازم کو چائے کی پتی میں چنے کے چھلکوں کی ایک اور بوری مکس کرنے کا حکم دے دیا۔

ہمارے دوست ہیں عاقل۔  بنی نوع انسان سے عمومی طور پر نفرت کرتے ہیں۔ جاہل اتنے ہیں کہ ہر کسی کو جاہل سمجھتے ہیں۔ اعداد و شمار کے ماہر ہیں۔ ہندسوں سے گفتگو کرتے ہیں۔ حکومت تو کیا دنیا سے ہی ناخوش رہتے ہیں۔ عقل کی بات کو احتیاطاً ہی مسترد کر دیتے ہیں۔ ہر رشتے حتیٰ کہ دوستی، رشتہ داری اور خلوص کو بے وقوفی تصور کرتے ہیں۔ چیزوں کو نوٹوں کے پیمانے پر پرکھتے ہیں۔ ملکی حالات سے عموما شاکی رہتے ہیں۔ پاکستانیوں کی جہالت، پسماندگی اور افلاس پر بڑے ولولہ انگیز بیانات دیتے ہیں۔ اس ملک کے تمام مسائل حل کرنے پر بذات خود قدرت رکھتے ہیں ایک دو دفعہ بیرون ملک کا چکر لگا آئے تو سمجھیں وہیں کے ہو رہے۔ اب انہیں یہ ملک گندا، اس کے لوگ بے ایمان اور حکومتیں نااہل اور نظام بوسیدہ اور زنگ آلود لگتا ہے۔ عاقل کو کام کسی سے پڑ جائے تو اس کے پاوں تک پڑ جاتے ہیں ورنہ بھنویں تنی ہوئی رکھتے ہیں۔ کسی کا احسان نہیں مانتے۔ اپنی ذات میں خود کو ادارہ مانتے ہیں۔ پاناما لیکس کے حوالے سے حکومت کا فوری استعفی ان کا مطالبہ ہے۔ بڑی شدت سے حکومت کے مستعفی ہونے کے منتظر ہیں۔ ہر خاص و عام کو یہ نوید سناتے رہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں کو حکمرانی کا کوئی حق نہیں اب انقلاب آئے گا اور خونی انقلاب آئے گا۔

ایک دن سرراہے ملاقات ہو گئی خلاف معمول اچھے موڈ میں تھے۔ استفسار پر خود ہی بتانے لگے ایک دوست کے ساتھ کاروبار کیا تھا۔ ہندسوں کی ایسی کرشمہ سازی دکھائی کہ دس لاکھ پیٹ لئے۔ مزید فرمانے لگے گو کہ اس فراڈ کا دستاویزی ثبوت موجود ہے مگر ہمارے دوست کو نہ بینک کی بیلنس شیٹ کی خبر نہ دستخط کی پہچان نہ بینکاری کے طریقہ کار کے بارے میں کچھ معلوم نہ کمپنیز آرڈیننس کے بارے میں کچھ پتہ۔ قسمت سے ملتے ہیں ایسے لوگ۔ سونے کی کان ہے بھائی سونے کی کان۔ آگے آگے دیکھیئے کیا ہوتا ہے۔ اب یہ فراڈ تو نہ ہوا یہ بزنس ہے بابا۔ میری اس بات سے تشفی نہ ہوئی تو جھینپ کر خود فرمانے لگے۔ کیا کریں یار بچوں کے لئے کرنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فیس بک پر سچ بولنے، ایماندای سے کام کرنے اور صداقت کو شعار بنانے کے بارے میں ایک ولولہ انگیز سٹیٹس اپ لوڈ کیا اور ملک میں بڑھتے ہوئے بینک فراڈ کے بارے میں زور زور سے نعرے لگاتے اپنی منزل کی جانب ہو لئے۔

میں اس معاشرے کے دوغلے معیارات کے بارے میں کچھ نہیں کہناچاہتا لیکن نواز شریف کوبھی پاناما لیکس کے بارے میں یہی کہنے کی اجازت تو دے دیں کیا کریں یار بال بچوں کی خاطر یہ سب کرنا پڑتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 43 posts and counting.See all posts by ammar