بابا شادل کی قبرکے کنارے!


waqar ahmad malikگاؤں سے نکلتے ہی ایک کوس تک بڑا راستہ تھا۔ یہ بڑا راستہ ایک کوس بعد چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں میں تقسیم ہو جاتا۔ ہر پگڈنڈی کسی نہ کسی کے کھیتوں میں جا کر معدوم ہو جاتی۔ شام کے بعد سناٹا ہو جاتا۔ اگر کسی ذی روح کا وہاں سے گزر ہوتا تو یہ پگڈنڈیاں اور بڑا راستہ واحد ثبوت تھا کہ یہاں کہیں انسانوں کی بستی ہے۔

انسانوں میں نظم کا اولیں اظہاریہ، یہ متعین گزر گاہیں ہی تو تھیں۔

لیکن ایک ثبوت اور بھی تھا۔ بڑے راستے پر ایک کابلی کیکر تھا جس کے نیچے ایک میلی کچیلی گٹھری پڑی تھی۔ اس گٹھری میں ایک انسان کے سانسوں کی آواز تھی۔ یہ جیتا جاگتا بابا شادل تھا جو ہر وقت میلے کچیلے کھیس میں لپٹا بیٹھا رہتا۔ گاﺅں کے نوجوانوں میں سے کسی نے اسے لیٹے یا چلتے پھرتے نہیں دیکھا۔ گرمی ہو یا سردی وہ کابلی کیکر کے پاس کھیس اوڑھے ٹیک لگائے بیٹھا رہتا۔

گاﺅں کے بڑے جانتے تھے کہ بابا شادل ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ کسی زمانے میں بابا شادل گاﺅں کا سیانا بانا مشہورتھا۔

بابا شادل کے باپ کے بارے میں سنا تھا کہ کوئی باجا سا بجاتا تھا۔ بابا شادل کی ماں اور باپ کسی کسان کے ہاں روٹی کے عوض کام کرتے تھے۔ وہاں ہی بابا شادل پیدا ہوا۔ بابا شادل چار ماہ کا تھا جب کھیتوں میں کام کرتی ماں اس کو کمر پر چادر سے باندھے رکھتی۔ کام کرتی رہتی تھی۔

کام کی زیادتی کی وجہ سے بعض اوقات دھیان میں ہی نہ رہتا کہ شادل بھوکا پیاسا ہے۔

شادل روتا نہ تھا کہ ماں کے پیٹ میں ہی اس تک غربت کی مفصل خبریں پہنچ چکی تھیں۔ شادل جماندرو سیانا بانا تھا۔

03کام کی زیادتی اس قدر تھی کہ شادل کے ماں باپ کو اپنی اکلوتی اولاد کی جانب محبت سے دیکھنے کا وقت بھی میسر نہیں تھا۔ چارہ کاٹتے ہوئے کھیتوں میں بس یہی وہ چند لمحے ہوتے جب ماں دودھ پلاتے ہوئے اس کی جانب پیار سے دیکھتی۔ دودھ پلانے کے بعد دونوں ہاتھوں سے اس گڈے کو اپنے سامنے اوپر نیچے چند ہلورے دیتی اور اس کی ناک سے ناک ملاتے ہوئے اسے پیا ر سے اوئے کتیا اوئے کھوتیا کہتی۔

پھر انہی دنوں بارشیں ہوئیں۔ دو سال سے کچی چھت پر گارا لگانے کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔

رات کے وقت بارش کی برستی بوندیں شادل کے باپ کے دل پر غضب ڈھا رہی تھیں۔

دو عارضی ستونوں کے اندر ہی اندر دیمک اپنے لیے پختہ گھر تعمیر کرنے پر لگی تھی جب کچا مکان دھڑام سے آن گرا۔

دور ڈھوکوں تک دھڑام کی آواز گئی تھی۔ لوگ بھاگتے ہوئے آئے تھے۔ ملبہ ہٹا یا تو شادل کا باپ مر چکا تھا۔

ماں کی سانس چلتی تھی جب کسان کی بیوی دودھ میں ہلدی ڈال کر لائی۔ اس کی سانس چلتی تھی لیکن پلکیں ساکت تھیں۔ اس کے ہونٹوں کے ساتھ دودھ کا برتن لگانے کی کوشش کی گئی لیکن اس کی آنکھیں ایک جگہ مرکوز تھیں۔ اس شخص کے ہاتھوں پر مرکوز تھیں جس نے ایک چھوٹی سی گھٹری تھام رکھی تھی اور اس گھٹڑی میں شادل تھا۔ وہ منتظر تھی کہ گٹھری میں کوئی حرکت دیکھے لیکن گٹھری ساکت رہی۔

04کسی نے پوچھا، بچہ کیسا ہے، ہاتھ تھامے شخص نے کہا بچہ خیریت سے ہے۔

اور اسی لمحے کہ جب شادل کی ماں کے دو ساکت ہونٹوں کے درمیان ہلدی ملا دودھ راستہ تلاش کرتا تھا وہ مر گئی۔

شادل بہت رل کر بڑا ہو رہا تھا۔ جانوروں کو چراتا۔ جانوروں کے بارے میں سوچتا اور جانوروں سے جانوروں کی باتیں کرتا۔ انسانوں کا ذکر تک نہ کرتا۔

جانور وں کے جنسی ملاپ کو دلچسپی سے دیکھتا ، اور نہ معلوم کب نامحسوس طریقے سے اس دلچسپی میں حسرت شامل ہوئی۔

شادل کے عورت کے ساتھ پہلے جنسی تجربے کی کہانی میں بھی جانوروں کا کردار ملتا ہے۔ جب بکرا بکری کے پیچھے دوڑا تھا اور پھر کچھ دیر میں جا لیا تھا۔ اس وقت ڈھور ڈنگر چراتی ایک عورت یہ منظر دیکھ کر ہنسی تھی۔ منہ 05دوپٹے میں چھپا کر اس نے شادل کو دیکھا تھا اور پھر درمیانی لمحوں کی تفصیل کسے معلوم؟

بس شادل کی طوفانی سانسیں تھیں نیچے عورت تھی۔تیز سانسوں میں آتے مٹی کے ذرے تھے اور جوار کی جڑوں کی خوشبو سی تھی جو اس کے نتھنوں سے ٹکراتی تھی۔ اس کو یہ تجربہ آنے والے ہفتوں میں بارہا ہوا ۔ مٹی کے ذرات اور جوار کی جڑوں کی خوشبو جنسی تجربے کا حصہ بن گئی۔

جب بھی چارہ کاٹتے ہوئے اسے یہ خوشبو آتی اس کے بدن میں طبعی تبدیلیاں آنے لگتیں۔

شادل جوان ہو گیا۔ ایک دفعہ جانور بیچنے ساتھ والے گاﺅں گیاجہاں ایک عورت سے اسے عشق ہوا۔ شام ڈھل گئی واپس نہ آ یا اسی گاﺅں کے پاس چھپ گیا۔ عشق کو نتیجہ خیز بنانے رات کے وقت اس عورت کے گھر کی دیوار ٹاپی ۔ گھر کے مرد اٹھ گئے۔ شور مچ گیا۔ شادل بھاگا۔ اس کے پیچھے لاٹھیاں لیے کسانوں نے بھاگتے شادل کوجا لیا۔ شادل ایک جوار کے کھیت میں اوندھے منہ گرا تھا۔ اس کی پشت اور سر پر ڈنڈے پڑ رہے تھے۔ اس کی ناک میںمٹی کے ذرے اور 06جوار کی جڑوں کی خوشبو تھی۔

ڈنڈوں سے ہوتی تکلیف اس پر سرے سے اثرہی نہ کرتی تھی۔

شادل واپس گھر نہیں گیا۔ اس کو ہمیشہ افق کی دوسری جانب دنیا اور منظروں کی ہوس رہی تھی۔ تجسس رہتا تھاکہ اس پار کیا ہے؟

وہ جب پار گیا اس کو ایک اورپار نظر آیا۔ اس نے چار پار ، پار کیے تھے لیکن واپس ڈھور ڈنگروں کی نگہبانی کی مجبوریاں تھیں جو واپس لے آتیں۔

گاﺅں کے کسانوں نے اسے چور سمجھ کر خوب مارا تھااور مرتا چھوڑ آئے تھے۔ شادل واپس اپنے گاﺅں نہیں آ یا۔ اس نے دو لفظ بارہا سنے تھے۔

اکبربادشاہ اور دلی شہر۔

اس نے بہت سے لوگوں سے پوچھا کہ بادشاہ کا شہر کتنے پار ، پار کر کہ آتا ہے ۔ صحیح معلومات کسی کے پاس نہ تھیں۔ شادل پیدل چلتا رہا۔ پنڈی گھیب گیا وہاں سے نکہ کلاں پہنچا۔ پھر سواں کے ساتھ ساتھ تراپ پہنچا۔ تراپ سے میلوں کی مسافتیں مارتا ایک گاﺅں پہنچا جس کانام کوٹ گلہ تھا یہاں سے کسی نے ایک کنی نام کا گاﺅں بتایا۔ اس کے علاقے 01میں اجنبی زمین کو کنی کہا جاتا تھا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ کنی زمین کا آخری سر ا ہو گا لیکن لوگوں نے بتایا کہ یہاں سے آگے ایک شوہ دریا ہے اور آبادیاں ہیں۔ پھر اس نے وہ شوہ دریا دیکھا جس میں پانی ہی پانی تھا۔

کسی نے بتایا کہ اس کا نام سندھ دریا ہے اور مقامیوں سے ہی شادل نے روایت سنی کہ یہ دریا اتنا گہرا ہے کہ آٹھ چاپائیوں کے وان کو ملا کر ایک رسی بنائی گئی جس کے ایک سرے پر وزنی پتھر باندھا گیا لیکن دریا کے پیندے کا کوئی سراغ نہ ملا۔

شادل نے دریا کیا عبورکیا کرنا تھا پیدل کنارے کنارے چلتا رہا اور ایک بستی داﺅد خیل جا پہنچا۔ شروع میں پار کی گنتی گنتا رہا لیکن پار اس قدر ہو گئے کہ گنتی ختم ہو گئی۔

شادل آوارہ گردی کرتے ، قصے کہانیاں سنتے ایک سال کے بعد واپس گاﺅں پہنچا۔

شادل کی موسم اور فصلوں کے حوالے سے کچھ پیش گوئیاں حرف بحرف سچ ثابت ہوئیں۔ گاﺅں والوں کے دلوںمیں دھاک بیٹھ گئی۔ گلی کا ایک نکڑ شادل کے نام سے شہرت حاصل کر گیا جہاںشادل اپنی ایک سال کی سیاحت کے قصے بیان کرتا۔ گاﺅں والے اصرار کر کے شوہ دریا اور اس کی گہرائی کے قصے بار بار سنتے۔

پھر بارشیں ہوئیں گاﺅں میں ایک چھت گر گئی۔دھڑام کی آواز آئی۔ رات کا وقت تھا۔ شادل آواز سننے کے بعد مدد کے لیے پہلے پہنچنے والوں میں سے تھا۔ چھت کی مرکزی کڑی کے نیچے وہ پانچ سالہ بچہ آیا تھا جو اپنے باپ کے ساتھ شادل کی کہانیاں سننے جاتا تھا۔

02شادل کہانیاں سناتے ہوئے اس بچے کو بہت غور سے دیکھتا تھا کہ ایسا تجسس اسے اور کہیں نظر نہ آتا تھا۔ اسے ایسے لگتا کہ شوہ دریا کی کہانی سنتے ہوئے وہ بچہ سانس لینا بھول گیا ہے ۔ وہ کہانی میں وقفہ ڈالتا کہ بچہ ایک دفعہ آنکھ جھپک لے ۔۔ایک دفعہ سانس لے لے۔

اور اب وہی بچہ جو اوندھے منہ گرا ہوا تھا اور اس کا سر سلامت تھا لیکن اس کی کمر پر طاقتور کڑی تھی جس کو گاﺅں والے مل کر ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ شادل بچے کے سر کے سامنے آ کر لیٹ گیا۔ بچہ سانس نہیں لے پا رہا تھا۔ چہرہ لال سرخ اور آنکھیں کھلی تھیں ، شادل کو دیکھتے ہوئے اس کے منہ سے شوہ دریا کا لفظ نکلا تھا۔ اسکی آنکھوں میں وہی تجسس تھا۔ بچہ مر چکا تھا۔ تجسس لیے آنکھیں کھلی تھیں۔ ان آنکھوں میں شادل کو کئی ُپار‘ نظر آئے۔

بس اس کے بعد شادل ، بابا شادل ہوا۔ کابلی کیکر کے پاس گٹھڑی پڑی رہتی جس میں ایک نفس سانس لیتا تھا۔

پگڈنڈیاں ، بڑا راستہ اور بابا شادل ، انسانی بستی کے معتبر گواہ ٹھہرے۔

(پس نوشت: ہمارے گاﺅں کے قبرستان کا سب سے قدیمی حصہ لگ بھگ چار سو سال پرانا ہے۔ قبرستان کے اس حصے میں اکثر گھومتا ہوں اور ہر قبر کے کنارے کھڑا سوچتا ہوں کہ یہاں کیا شاہکار کہانی دفن ہے ۔ شادل کی بھی ایسی ہی تخیلاتی کہانی ہے کہ شاید جس قبر کنارے میں کھڑا ہوں یہاں کوئی شادل دفن ہو۔  بے شک اسی کی ذات سارے علم کا احاطہ کیے ہوئے ہے)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

5 thoughts on “بابا شادل کی قبرکے کنارے!

  • 15-04-2016 at 3:53 am
    Permalink

    Classics. Hats off

  • 15-04-2016 at 10:39 am
    Permalink

    کسی بھی منظر سے کہانی تخلیق کرنے کا ہنر کوئی آپ سے سیکھے۔
    سیانا بانا ؟ پنچابی کا سیانا بیانا تو نہیں۔ ؟

  • 15-04-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    کمال کر دیا وقار صاحب۔ اسقدر پختگی، اتنا درد۔ کیا پرواز ہے تخیل کی اور کتنی آفاقی سچائیاں پوشیدہ ہیں اس تحریر میں۔ بہت اعلی۔

  • 15-04-2016 at 1:37 pm
    Permalink

    جی مبین صاحب اصل میں سیانا بیانا ہی لکھنا چاہتا تھا

  • 15-04-2016 at 11:28 pm
    Permalink

    وقار صاحب
    پنجابی وچ اگر مہینے اچ ہک ادھی کہانی / کویتا اگر لکھ دتا کرو گے تے بڑا مہربانی ہوئے گی

Comments are closed.