اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان میں ایک مسلمان ہوتے؟


kashifکاشف چوہدری

ایک ماہ قبل نیو یارک میں ایک 81سالہ معمر کتاب فروش کو ایف بی آئی نے حراست میں لے لیا اور واشنگٹن کی انسداد دہشت کی عدالت نے اسے آٹھ سال کی قید اور ایک بھاری جرمانے کی سزا سنا دی- اس شخص کا جرم یہ تھا کہ اس کے پاس سے قرآن کریم کا نسخہ برآمد ہوا-
کرسچن رہنماو¿ں نے حکومت کے اس عمل کو سراہا کہ اس نے عیسائیت کی روح کو قائم رکھا اور ایک گستاخ مسلمان کو سزا سنائی اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی روک تھام کے لئے ایسے مزید اقدام اٹھاے جایئں-
کیا آپ ڈونلڈ ٹرمپ کو الزام دے رہے ہیں جو اس سوچ کا علمبردار ہے؟
دار اصل یہ واقعہ امریکہ میں نہیں بلکہ ہمارے ملک پاکستان میں ہوا ہے اور سزا پانے والے معمر شخص کا تعلق احمدیہ جماعت سے تھا.
میرے دوست کے دادا عبد الشکور صاحب کو ان کے نائب کے ہمراہ احمدیہ لٹریچر فروخت کرنے پر ربوہ سے گرفتار کیا گیا-
عبدالشکور صاحب دوستوں میں شکور بھائی کے نام سے مشہور ہیں اور ایک 81سال کے معمر شخص ہیں- میں ان سے بارہا ملا ہوں- وہ ایک بہت منکسر المزاج اور محبت کرنے والے شخص ہیں- ان کی آٹھ سالہ قید کی سزا کی خبر ایک انتہائی تشویشناک امر ہے-
پاکستان میں تو توہین مذہب کے قانون کے تحت احمدیوں کو کئی طریقوں سے قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے-
اپنی مسجد کو مسجد کہنا، اپنے آپ کو مسلمان کہنا احمدیہ لٹریچر تقسیم کرنا خواہ وہ احمدیوں کے لئے ہی ہو، ان سب باتوں پر ایک احمدی جیل جا سکتا ہے.
ذرا سوچئے کہ آپ کے عمر رسیدہ دادا کو محض اس بات پر جیل ہو جائے کہ وہ ایسی کتاب فروخت کر رہے تھے جو کسی دوسرے کو ناپسند ہیں یا اس کے مسلک کے برخلاف ہیں۔
شکور بھائی نے اپنے مسلک کی بنیاد پر بہت سی صعوبتیں جھلیں ہیں-
1974ءمیں ان کے والد کے گھر اور دکان کو اینٹی احمدیہ مشتعل افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا.
1985ء میں ضیا دور حکومت میں اینٹی احمدیہ قانون کے تحت شکور بھائی کے خلاف اپنے مسلک کے اظہار کی وجہ سے قانونی کارروائی کی گئی-
1990ءمیں ایک مولوی کے اس الزام پر کہ شکوربھائی کی انگوٹھی پر قرانی آیت کندہ ہے انھیں تین سال کی سزا سنائی گئی-
ابھی پچھلے سال شکوربھائی کو حراست میں لیا گیا او ان کی دکان پر لوکل پولیس اہلکاروں نے توڑ پھوڑ کی- شکور بھائی مذہبی انتہا پسندی کے آگے استقلال کے ساتھ کھڑے ہونے کی ایک مثال ہیں- ان تمام زیادتیوں کے باوجود آپ کو ان کا چہرہ بشاشت سے کھلا ہوا نظرآے گا. آپ ان کے مزاج میں کسی قسم کی کوئی تلخی نہیں دیکھیں گے- وہ ایک انتہائی محب وطن شہری ہیں- پچھلی تین دہائیوں سے شکوربھائی کی طرح پاکستان میں ہزاروں احمدی اینٹی احمدیہ قوانین کے تحت حراست میں لئے جا چکے ہیں-
پچھلے سال میں نے طاہر مہدی صاحب کے متعلق لکھا تھا جو میرے عزیز بھی ہیں اور ایک ناشر ہیں- انہیں احمدیہ کتاب میں قرانی آیات چھاپنے کی بنیاد پر قید میں ڈالا گیا اور وہ آج تک زندان کی صعوبت جھیل رہے ہیں۔
پاکستان میں اینٹی احمدیہ قوانین اس دور میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی بدترین مثال ہے-
افسوس ہے کہ ان قوانین کو پاکستان کے تمام مذہبی علما کی حمایت حاصل ہے- یہی علما ڈونلڈ ٹرمپ سے تو متنفر ہیں مگر خود نفرت پھیلا رہے ہیں- اور ہم پاکستانی ٹرمپ کے انتہا پسند خیالات سے کراہت محسوس کرتے ہیں لیکن اپنے ملک میں خاموش تماشائی بن کر ٹرمپ کے خیالات سے کہیں زیادہ شدت پسند خیالات کا عملی طور پر ساتھ دے رہے ہیں- شکور بھائی کے معاملے نے پاکستان میں شدت پسندی سے نمٹنے کے معاملے میں حکومت کی سنجیدگی کے متعلق کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں- ابھی ایک ماہ قبل ہی 16 دسمبرکو پوری قوم نے سانحہ پشاور کا سوگ منایا جس میں ایک سال پہلے معصوم بچوں کی جانیں گئی تھیں- اس وقت حکومت نے بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کی روک تھام اور مذہبی منافرت کا شکار ہونے والی اقلیتوں کو تحفظ دینے کے لئے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا تھا۔ نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد میں ان مساجد اور مدارس پر کڑی نظر رکھنا بھی شامل تھا جہاں سے فرقہ وارانہ اشتعال انگیز باتیں اور تحریریں جاری کی جاتی ہیں-
گزشتہ کئی برسوں سے احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر پاکستان میں عام ہے۔ ایسی تحریریں اور اسٹکر آپ کو ہر جگہ نظرآئیں گے جن میں عوام کو احمدیوں کے خلاف مشتعل کیا جاتا ہے خواہ وہ پبلک بس اسٹاپ ہوں سرکاری سکول اور ہسپتال ہوں عدالتیں ہوں یا مساجد۔ علما سر عام احمدیوں پر کفر کے فتوے لگاتے نظر آتے ہیں اور انہیں واجب القتل قرار دیتے ہیں- اشتعال انگیز ی کے ضمن میں دیگر فرقے بھی ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں- شیعہ حضرات بھی اس مذہبی منافرت کا شکار ہیں جس میں عوام کو ان کے خلاف شدت پسندی پر بھڑکایا جاتا ہے- حکومت نے بالآخر اس نفرت پھیلانے والی گفتگو کو فرقہ وارانہ قتل و غارت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان شروع کیا تھا ۔ اور اب شکور بھائی ہی کو مورد الزام ٹھہرا کر ان پر انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کر دیا گیا جب کہ احمدیوں کے خلاف اشتعال پھیلانے والی گفتگو مسلسل اسی طرح جاری ہے-
یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ کھلے طور پر نفرت اور تشدد پر ابھارنے والے علما پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں ابھی حال ہی میں حفیظ سنٹرکے ایک دکان دار کو اپنی دکان کے باہر اشتعال انگیز اعلانات لگانے پر گرفتار کیا گیا۔ اگلے ہی دن لاہور میں ایک بہت بڑے عوامی احتجاج میں احمدیوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور اشتعال انگیز بینر لہرائے گئے۔ اس کے نتیجے میں میں مذکورہ دکاندار کو رہا کر دیا گیا اور رہائی کے بعد اسے پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ اس واقعے میں نیشنل ایکشن پلان کا کوئی کردار نظر نہیں آیا۔
نیشنل ایکشن پلان کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ تھا ، ان کے حقوق کو پامال کرنا نہیں۔ اشتعال انگیز تقریر و تحریر کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے سے اور ایک امن پسند شہری کو توہین مذہب کے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر سزا دے کر ریاست نے پشاور میں جان دینے والے معصوم فرشتوں کے ساتھ کئے گئے عہد کو پامال کر دیا ہے-


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان میں ایک مسلمان ہوتے؟

  • 18-01-2016 at 2:18 am
    Permalink

    ریاست جب غیر سنجیدہ ہو اور شرپسندوں کے خلاف آپریشن کا بین الاقوامی دباؤ بھی ہو تو جھنجھلاہٹ میں قربانی شکور بھائی جیسے معصومین ہی کی دی جاتی ہے

  • 01-05-2016 at 7:37 am
    Permalink

    Thank you for writing this paper. There is some humanity left in Pakistan in you

Comments are closed.