سوشل میڈیا کا المیہ


salarقدیم ادوار کی وہ راتیں کتنی حسین ہوا کرتی تھیں کہ جب بچپن کے زمانے میں سرسبز و شاداب کھیتوں کے جھرمٹ میں دیہات کے گھر کچے لیکن لوگوں کے پیار، محبت، خلوص سے سرشار جذبات سچے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ان راتوں کا سحر اس وقت طاری ہوا کرتا تھا جب “دادی” اور “نانی” بچوں کو دیو مالائی قصے کہانیاں سنا کر نیند کی آغوش میں لے جاتی تھیں اور پھر تب جا کر آنکھ کھلتی تھی جب صبح پو پھٹتے ہی آسماں سے رات کی سیاہ چادر سرکنے لگتی تھی۔ اس وقت پرندوں کی میٹھی آوازیں جب سماعتوں کو کھٹکھٹاتی تھیں تو قدرت کے حسین وجود کا احساس ہوا کرتا تھا۔ ان دنوں شاید کسی کے وہم و گماں میں بھی نہ ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب “ماڈرنائیزیشن” یعنی جدت ایسے میٹھے ماحول کو سَر کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ پھر ایک دن ایسا بھی آن پہنچے گا جب دیہات میں بھی لوگوں کے گھروں کے ہمراہ دل بھی پکے ہوجائیں گے۔ ایسے پر سکون طرزِ زندگی پر جب جدید دور کی ایسی چادر طاری ہوگی جس کے کینوس کے اوپر سائنسی ایجادوں کا ایک طویل ڈیزائن آویزاں ہوا تب جاکے انسان “گلوبل ولیج” جیسی عبارت سے آشنا ہوا۔  اس حقیقت میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں ہونی چاہیئے کہ دنیا کو گلوبل ولیج بنانے میں انٹرنیٹ خاص طور پر سوشل میڈیا کا کلیدی کردار رہا ہے۔ عام طور پر لفظ “میڈیا” تو انگریزی زبان کا لفظ ہے جس میں ذرائعِ ابلاغ یعنی اخبارکے ساتھ ساتھ نشریات کے دیگر ذرائع بھی آجاتے ہیں لیکن جب اس لفظ کے ساتھ “سوشل” یعنی سماجی کا اضافہ ہوتا ہے تو اس کی تعریف کی سرحدیں وسیع ہو جاتی ہیں۔ اس کے معنی ہیں ابلاغ کے وہ ذرائع جو عام عوام یا پھر سماج کے استعمال میں آتے ہوں۔ مثال کے طور پر موبائل، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب، وائبر یا پھر سماجی روابط کے دیگر ذرائع وغیرہ۔

ترقی یافتہ معاشروں میں سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کے باعث وہاں کے لوگ سماجی روابط کی ایسی ویب سائٹس وغیرہسے سیکھنے اور سکھانے کی خاطر ایک درسگاہ کا کام لیتے ہیں اور یہی شاید سوشل میڈیا کے حقیقی استعمال کا تقاضا بھی ہے کہ سائنس کی ایسی نعمتوں کو بہتر سمت میں ہی استعمال کر کے اس کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کے ہمراہ اپنے ارد گرد بستی سوچ میں مثبت تبدیلی کی خاطر ہی استعمال کیا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں پر ہر طرح کی سائنسی تخلیق کی جانب لوگوں کی دلچسپی کثیر تعداد میں ہوتی ہے۔ اس سے جو حشر ہمارے ہاں سائنسی ایجادں کے ساتھ ہوتا ہے یقیناََ ان کے تخلیق کار کی روح بھی کرب میں مبتلا ہوتی ہوگی۔

مثال کے طور پر پاکستان میں آج سے کچھ برس قبل جب سی این جی متعارف کرائی گئی تھی تو ابتدائی طور پر اس کو چھوٹی گاڑیوں کے لئے لایا گیا تھا لیکن آج سی این جی کے حصول کی خاطر سی این جی اسٹیشنز پر لگی لمبی قطاروں میں اکثریت بڑی گاڑیوں کی ہی ہوتی ہے اور اب ہمارے پاس وین، ڈاٹسن، منی بس وغیرہ تو کیا اب بسیں بھی سی این جی پر چلنے لگی ہیں جس کے باعث ایسی سائنسی ایجادوں کے مستحق لوگ بھی اکثر و بیشتر ان سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے طفیل آزادیِ اظہار کے نکتے کو تقویت ملنے کا موقع بھی ملا ہے وہاں اس کے باعث سائبر کرائم میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اخبار کی دنیا میں کسی خبر یا رپورٹ کو شایع ہونے سے قبل مختلف زاویوں سے اس کی تصدیق کے عمل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ جب کہ سوشل میڈیا میں اس طرح کی روایت کی عدم دستیابی کے باعث ہر طرح کی خبر پوسٹ کرنا ہر فرد کے اپنے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا پر ہر فرد اپنی پوسٹ کا خود ہی ایڈیٹر ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر آزادیِ اظہار کا کچھ حد سے زیادہ ہی فائدہ لیا گیا ہے جس کے ہمارے معاشرے کے اوپر اگر اچھے اثرات نہیں پڑے تو یقیناََ اس حوالے سے بہتر نتائج بھی سامنے نہیں آ سکے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر بغیر کچھ سوچے سمجھے جو کچھ لوگ پوسٹ کر دیتے ہیں، تو باقی تمام لوگ اس کی پیروی کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں کچھ ویسے بھی انا کی جنگ کے مارے قیدی بستے ہیں جو سوشل میڈیا کو اس حد تک سنجیدہ لیتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی زندگی ہی سوشل میڈیا کو سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہی سبب ہے کہ جس کی وجہ سے لوگوں کی ذاتی طور پر کچھ تلخیوں کی بنیاد بھی سوشل میڈیا ہی بنتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار کرنا اپنے آپ سے دھوکے کے مترادف ہوگا کہ ہمارے یہاں سوشل میڈیا کو سماجی تذکروں کے بجائے جھوٹی دوستیاں، فریب اور سنسنی پھیلانے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

کسی بزرگ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ “رات گئے جاگنا بھی خوش نصیب لوگوں کے نصیب میں ہوتا ہے” اس حوالے سے ہمارے معاشرے میں بسنے والی نوجوانوں کی کھیپ بھی بہت ہی خوش نصیب ٹھہری۔ مگر ان کے رت جگوں میں محض سوشل میڈیا کا استعمال ہوا کرتا ہے۔ اس لئے نوجواں نسل کو چاہیئے کہ سوشل میڈیا کا بہتر سمت میں استعمال کر کے اس سائنسی نعمت کا بھرپور فائدہ حاصل کریں۔ اور  منفی اثرات کے بجائے ملک و قوم کے ساتھ ساتھ عالمِ انسانیت کے فائدے کی لئے ایک اجتماعی عمل کے طور پر کارآمد بنیں۔ اسے ہمیں ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی مل سکے گا اور نوجوان نسل کا وقت بھی برباد ہونے سے بچ سکے گا۔


Comments

FB Login Required - comments