کیا ہمارے بچے اب کبھی پارک نہیں جا سکیں گے۔۔۔


بچپن میں جب میرا گزر اپنے شہر کے بھرے پُرے کوچہ و بازار سے ہوتا تھا تو بے ساختہ حبیب ولی محمد کے گائے ہوئے نغمے کے الفاظ ذہن و دل میں گونجنے لگتے تھے۔

روشن و رخشاں، نیر و تاباں پاکستان رہے

جب تک سُورج چاند ہے باقی

جب تک باقی جہان رہے۔

خاص طور پر یہ دُعائیہ مصرعے آنکھیں نم کر ڈالتے تھے۔

اس کے پہاڑوں دریاؤں پر، میدانوں صحراؤں پر

اس کے ہرے بھرے شہروں پر، ہرقریے ہر گاؤں پر

اللہ تیری رحمت برسے، تیرا کرم ہر آن رہے۔

ملتان سے تعلق ہونے کے باعث وہاں کے سب سے معروف اور با رونق بازار حسین آگاہی آنا جانا رہتا تھا جہاں کھوے سے کھوا چلتا تھا۔ اسے چھٹی حس کہہ لیجیے یا کچھ اور مگر اس چہل پہل کو دیکھ کرمیرا دل خوفزدہ ہوجاتا تھا۔میں نے حبیب ولی محمد کی طرح ہمیشہ ان کوچہ و بازار اور ہرے بھرے شہروں کی سلامتی کی دُعا مانگی  ہے۔ ہم نے بچپن میں اکا دُکا بم دھماکوں کا ذکر ضرور سنا تھا مگر کبھی کوئی بڑا سانحہ نہ سنائی دیا اور نہ دکھائی دیا۔ تب تو یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ میرے ہرے بھرے شہروں کو کسی دُشمن کی بددُعا لگ جائے گی۔ حالات اس قدر اندوہ ناک ہوجائیں گے کہ کوچہ و بازار میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ اسکولوں کے در دیوار سینکڑوں بچوں کی چیخ و پُکار سنیں گے۔ خدا کے حضور سجدہ ریز پیشانیاں سجدوں سے اُٹھنا بھول جائیں گی۔ پارکوں میں ہنستے کھلکھلاتے معصوم وجود ایک لمحے میں دھجیوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔ ان کے قہقہے ہمیشہ کے لیے تھم جائیں گے۔ سب دُعائیں، سب ندائیں بے کار ہو جائیں گی۔

پڑھنے والوں کو میری باتیں جذباتیت سے بھرپور نظر آئیں گی۔ یہاں استادِ محترم رضی الدین رضی کے الفاظ مستعار لینے کی جسارت کر رہی ہوں کہ’’ ضبط کے عالم میں ایک بے ربط تحریر‘‘۔ بس اپنی بھی یہی حالت ہے۔ کیا کیا جائے کہ موجودہ صورتحال کسی بھی انسان کو گہری جذباتیت سے دوچار کر سکتی ہے سوائے ان کے جن کے دلوں پر پردے ڈال دیے گئے اور قفل لگا دیئے گئے۔ ’’پتھر دل ‘‘ کا لفظ یہاں صادق نہیں آتا کہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض پتھر ایسے بھی ہیں کہ جن سے پانی بہہ نکلتا ہے۔ جب معصوم ذہن یہ سوال اُٹھانے لگیں کہ کیا ہم کبھی اسکُول نہیں جاسکیں گے؟ کیا اب ہم کبھی پارک میں نہیں کھیل سکیں گے تو جذبات اُمڈے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں۔ دل خون کے آنسو روئے نہ تو کیا کرے۔ اب تو یہ حالت ہے کہ غالب کی طرح یہ جی چاہتاہے کہ ’’اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے‘‘ لیکن ساتھ ہی اگلا مصرعہ لاچار کر ڈالتا ہے کہ’’مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے‘‘۔ ایک محشر کے بعد دوسرے محشر کا سامنا کرنا پڑا تو کیا ہوگا؟۔ وہاں بھی یہی چیخیں، یہی نوحے، یہی آہو بکا ہوئی تو کیا کریں گے؟ اب تو بس یہی سوال چین و سُکوُن لوٹ لیتا ہے کہ کیا ہمارے بچے اب کبھی پارک نہیں جاسکیں گے جہاں ان کی شرارتوں کو زبان ملتی ہے اور جہاں کی فضائیں ان کے قہقہوں اور مسکراہٹوں سے رنگین ہوتی ہیں۔ ہمارے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر ہمارے بچے اسکول اور پارک نہیں جائیں گے تو کیا ہوگا؟

ہول اٹھتے ہیں یہ سوچ کر اگر وہ اسکول اور پارک نہیں جائیں گے تو کہیں اسامہ بن لادن اور ملا عمر تو نہیں بن جائیں گے۔ جب ان کو پڑھنے لکھنے اور ہنسنے کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا تو کیا وہ بھی خودکش جیکٹیں پہن لیں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ نوجوان جن کے کھیل کے میدان کاروباری مراکز، تعمیراتی منصوبوں اور شاہراہوں کے کام آجاتے ہیں اور وہ چور، ڈاکو یا جنسی دہشت گرد بن جاتے ہیں یا وہ نوجوان جس نے گلشنِ اقبال پارک لاہور میں اپنے ساتھ سینکڑوں معصوم لوگوں کی دھجیاں اُڑا ڈالیں۔ نفسیات کے علم کے مطابق اگر ’’ارتفاع (sublimation) ‘‘ کا عمل و قوع پذیر نہ ہو تو شخصیت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مجرم پیدا ہوتے ہیں اور دہشت گرد جنم لیتے ہیں۔ جب انسانی قوتوں کا صحیح استعمال نہ ہو تو وہ اپنا رُخ موڑ لیتی ہیں۔ یہ سب سوچنے اور کہنے کو دل تو نہیں چاہتا لی۔

کرسی ہے ،تمہارایہ جنازہ تونہیں ہے

کچھ کر نہیں سکتے تواترکیوں نہیں جاتے


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کیا ہمارے بچے اب کبھی پارک نہیں جا سکیں گے۔۔۔

  • 16-04-2016 at 10:04 pm
    Permalink

    میں‌ آپ کے جذبات سمجھ سکتی ہوں۔ آج کے وقت کی اشد ضرورت ہے کہ مائیں‌ اپنے بچوں‌ کو اپنی چھایا میں‌ رکھیں‌، بہتر بیٹے بڑے کریں‌، ان کی نارمل ضروریات کو سمجھیں‌ اور شدت پسندوں‌ کے ہتھے چڑھ جانے سے اپنی اولاد کو بچائیں۔

Comments are closed.