وجاہت مسعود صاحب کی خدمت میں


hamza sayyadوجاہت مسعود صاحب کا کالم پڑھا جس میں انہوں نے فرمایا کہ مولانا مودودی سے پہلے اسلام کو کسی نے ضابطہ حیات نہیں کہا اور یہ کہ مولانا مودودی ایک اسلامی سیاسی انقلاب لانا چا رہے تھے جس وجہ سے انہوں نے یہ اصطلاح وضع کی . پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام ضابطہ حیات ہے اور اس میں کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اسلام زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق جزوی طور پر بھی کوئی حتمی طریقہ متعین کرتا ہے بلکہ اسلام ضابطہ حیات اس معنی میں ہے کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے راہنماء اصول پیش کرتا ہے, اور بندے سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جو طریقہ بھی وضع کرے لیکن ان اوصولوں کی رعایت ضرور کرے . وجاھت صاحب نے ضابطہ حیات والی بات پر یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ اگر ضابطہ حیات والی بات مان لی جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اسلام کے اندر کوئی لچک نہیں اور وہ زمانے کو پیچھے لے جانے کی بات کرتا ہے … حقیقت یہ ہے کہ ضابطہ حیات کا جو مطلب ہم نے اوپر بیان کیا گیا ہے وہی ہے اور مولانا مودودی کا بھی یہی مطلب تھا اگر ان کا وہ مطلب ہوتا جو وجاھت مسعود صاحب نے ان کی طرف منسوب کیا ہے تو انہیں سیاست کے باب میں جا بجا اجتہاد کرنے کی ضرورت نہ پڑتی . اسلام زمانے کو پیچھے لے جانے کا قائل نہیں ہے بلکہ وہ زمانے کے فطری ارتقاء کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے . اسلام میں اجتہاد کے ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اسلام ہر جزوی چیز سے بحث نہیں کرتا اگر ایسا ہوتا تو پھر اجتہاد کی ضرورت ہی نہ پڑتی .اسلام میں تھیوکریسی کی کوئی گنجائش نہیں . اسلامی حکومت کا مطلب مولویوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب بطور ماخذ قانون قرآن و سنت کی بالادستی ہے . پاکستان جیسے ملک میں جو مذہب کے نام پر بنا ہے اس میں لبرل ازم کے خواب دیکھنے کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ لبرل ازم کے بارے میں اسلام کی کیا رائے ہے اور ان دونوں کے سمجھوتے کی کیا صورت ہو سکتی ہے .


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “وجاہت مسعود صاحب کی خدمت میں

  • 16-04-2016 at 12:22 am
    Permalink

    اچھا ۔ اب بینکنگ اور سوشلزم کے بعد اسلام کی لبرلزم کے بارے میں بھی رائے ہے۔ ذرا مکمل حوالہ دے دیجئے گا ۔ جو کتابیں میرے گھروں میں ہیں وہاں تو نہیں ملا ☺

    • 16-04-2016 at 12:48 pm
      Permalink

      ya dakha jai k islaam ma is ki kis hd tk gunjaish ha

  • 16-04-2016 at 12:45 pm
    Permalink

    matlab ya k ya dakha jai k islam ma is k kis hd tk gunjaish ha

  • 17-04-2016 at 1:09 am
    Permalink

    لبرل ازم کا مطلب ہے ہر انسان کو آئین و قانون کے دائرے میں یا تہذیب و تمدن کے دائرے میں رہتے ہوئے آزادی حاصل ہونا اور کسی کا دوسروں پر اپنی رائے مسلط نہ کرنا۔ اس لحاظ سے اسلام میں لبرل ازم نہیں بلکہ خود سارے کا سارا اسلام لبرل ازم ہے جیسے مسلمانوں کی سب سے پہلی ریاست جسے غلطی سے اسلامی ریاست کہا جاتا ہے یعنی ریاست مدینہ وہ ایک سیکولر ریاست تھی کیونکہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اس میں بسنے والے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی ہوتی ہے جو کہ ریاست مدینہ میں تھی۔

  • 17-04-2016 at 6:03 am
    Permalink

    انصار رضا صاحب نے ایک نیا سوال اٹھا دیا ھے۔۔۔ کیا ریاستِ مدینہ اسلامی تھی یا سیکولر؟؟؟؟؟؟
    بیانیے کا مکالمہ کئی حساس (تاھم بنیادی) مباحث کے دروازے کھول رھا ھے۔۔۔۔ ھم جیسے عام قارئین اہل علم و دانش کی فکر انگیز و بصیرت افروز تحاریر سے کما حقہ روشنی حاصل کرنے کے مشتاق ہیں۔۔۔۔ امید ھے وجاھت مسعود صاحب کسی بھی تعصب یا امتیاز کے بغیر قارئین کو جاری مکالمے/ مباحثے سے متعلق تمام نکتۂ ھاۓ نظر کے مطالعہ اور اپنی اپنی فہم و فراست کی بنیاد پر قبول و رد کے حق سے محروم نہیں کریں گے۔
    ھم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ تمام معزز و محترم قلم کاراپنی تحاریر کو تہذیب و شائستگی کے دوائر میں رکھیں گے تاکہ قارئین کو شائستہ، متوازن اور مدلل تحریر پڑھنے کو ملیں۔ شکریہ

    • 17-04-2016 at 1:26 pm
      Permalink

      ایک چھوٹی سی تصحیح کرنا چاہوں گا۔ میرا نام انصر رضا ہے انصار رضا نہیں۔ ایک الف زائد پڑگیا ہے۔ باقی اہل علم و دانش احباب کے خیالات پڑھنے کا منتظر و مشتاق ہوں کہ اسی طرح ہم سیکھتے ہیں۔

  • 17-04-2016 at 4:00 pm
    Permalink

    میں نے اس موضوع پر ” سیکولر ازم , مذھب اور انسان ” کے عنوان سے مزید لکھا ہے اور اپنی تحریر وجاھت مسعود صاحب کو سینڈ کر دی ہے .

    • 17-04-2016 at 4:02 pm
      Permalink

      ’’سینڈ‘‘ کرنے کی بجائے بھیج دیتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ کم از کم اردو کا حلیہ تو نہ بگڑتا۔

      • 18-04-2016 at 6:01 pm
        Permalink

        thats bad sir,, respect..

      • 18-04-2016 at 7:26 pm
        Permalink

        There is nothing disrespectful Ali Sahib. I have politely asked not to distort and disfigure Urdu. We should use words from any foreign language when we do not
        find their alternates in Urdu. Besides it is a direction from Hun Sub team that
        جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔
        In the light of this instruction I requested him to use Urdu word

Comments are closed.