شاہد، شنّو اور پان کی پچکاری


tabbasum zia

ہم بھی بڑی عجیب قوم ہیں۔ اتنی عجیب کہ خلائی مخلوق وہاں خلا سے ہمیں جگتوں کے ساتھ ساتھ جوتے بھی رسید کرے اور ہمیں معلوم ہی نہ ہو پائے کہ ہم پر یہ آوازیں کون کَس رہا ہے اور ہماری پیٹھ پر جوتوں کی بارش کون برسا رہا ہے۔ کرہ ارض پر تو کیا مریخ پر بھی ہم جیسی کوئی مخلوق نہیں پائی جاتی ہوگی۔ جس نے بھی کہا تھا سچ کہا تھا کہ اگر منہ بند رکھتے تو ”شاہد کو شنّو کی شادی میں کرسیاں نہ لگانا پڑتیں”۔ او کچھ خدا کا خوف کرو، او کچھ ہوش کے ناخن لو، او کچھ حیا کرو۔ کل تک تم اقبال کے اس شاہین (آفریدی) کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے اور آج ایک ہی پل میں تم اسے وصی شاہ کے حسیں ہاتھ کا کنگن پہنانے پہ تُلے ہوئے ہو۔ او کچھ خدا کا خوف کرو۔ کیا ہو گیا جو اس بے چارے راج دلارے نے بھی سیاست کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لئے۔ قصور دراصل اس عوام کا اپنا ہے جو ابھی تک کُکڑ لڑوانے اور درختوں سے مسواکیں اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔ کان کھول کر آج میری یہ بات سن لو، بلکہ لکھ لو اور اگر ہو سکے تو طاہر شاہ کے گانے میں میرا یہ تاریخی جملہ ڈلوا دو کہ بحرِ ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والا اب کرکٹ کی دنیا میں یا کم از کم پاکستانی ٹیم میں تو نہیں آئے گا۔ وجہ اس کی کیا ہے؟وجہ  یہ ہے کہ اب گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں ڈی چوک میں۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ڈی چوک میں باندھے جاتے ہیں۔اور بے چارے بے وقوفی کی حد تک سادہ لوح عوام یہ منظر دیکھنے کرکٹ اسٹیڈیم میں جا  بیٹھتے ہیں۔

اب اگر ڈی چوک یا ریڈ زون کا ذکر چلا ہے تو یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ ان گھوڑوں کے رنگ بدل چکے ہیں۔ اب صرف تمہارے وہ سیاہ اور سفید رنگ والے گھوڑے نہیں دوڑا کرتے، اب وقت ہے سرخ اور اورنج رنگ کے گھوڑے دوڑانے کا۔ اسی لئے تو انہوں نے پورے ریڈ زون کے گرد ایک ایسا پُل تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے کہ جس پر صبح شام، دن رات اور سال کے تین سو پینسٹھ دن مسلح گارڈز سے بھری ہوئی ایک میٹرو ان کی حفاظت کے لئے دوڑا کرے گی۔ اب مسئلہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ اس بھوکی ننگی گورنمنٹ کے پاس ان گارڈز کو اسلحہ دینے کا بجٹ کم پڑ گیا ہے۔ حل اس کا انہوں نے یہ نکالا ہے کہ ان تمام کے تمام گارڈز کو پان چبانے پر مجبور کیا جائے گا اور بس میں ایک ریکارڈنگ چلائی جائے گی جس میں ان بے چاروں کو یہ یاد دہانی کروائی جاتی رہے گی کہ تمہیں تنخواہ پان چبانے کی دی جاتی ہے لہذا خوب چباؤ اور جیسے ہی کسی طرف سے کوئی دھرنا گروپ یا مارچ وارچ آتا دیکھو تو مار دو اس پہ پچکاری اور نہلا دو اس کو پان کی پِیک میں، تاکہ آئندہ کبھی وہ  جرات نہ کریں اس طرف کا رخ کرنے کی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ میں نے تو ایک بڑے نامی گرامی اور اپنے جیسے سلجھے ہوئے صحافی کو یہ کہتے بھی سنا ہے کہ اسی میٹرو پُل سے ذرا نیچے ایک اورنج ٹرین لائین بچھائی جا رہی ہے جس کا مقصد بھی وہی ہو گا جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔

کالم کا اختتام اس بات پر کروں گا کہ اگر کرکٹ اور سیاست میں من پسند نتائج کے خواہاں ہو اور سر اٹھا کر جینا چاہتے ہو تو کسی شاہد اور شّنو کے مسئلے میں ٹانگ مت اڑایا کرو۔

آخر میں ایک ”کالا قول” اپنی گمشدہ قوم کے لئے کہ۔ ۔ ۔

 جب بھی کبھی ڈی چوک کا رخ کرو تو سرخ رنگ کی چھتریاں ساتھ لے جانا مت بھولو۔اس سے تمہاری رہی سہی عزت داغ دار ہونے سے بچ جائے گی اور تمہارا یہ عمل ان بادشاہ نما حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہو گا۔”


Comments

FB Login Required - comments