امروز کی رسوائی فردا کا اجالا ہے


\"ramish-fatima\"کیا عورت آدھی ہے\’ نامی کتاب میں وارث میر صاحب نے عبدالمجید سالک صاحب کی ایک تحریر کا حوالہ دیا پہلے ذرا اس پہ نظر ڈال لیں۔ \”عرصہ ہوا ہماری نظر سے عبدالمجید سالک صاحب کی ایک ہلکی پھلکی پنجابی تحریر گزری تھئ \”کنجریاں تے لچیاں رناں\” مولانا سالک نے وقت کے ساتھ بدلتے شرافت و نجابت کے بدلتے ہوئے معیاروں کا خاکہ اڑاتے ہوئے لکھا تھا کہ ایک زمانے میں لٹھے کا سفید برقعہ پہننے والی عورتیں سیاہ ریشمی برقعے پہننے والی عورتوں کو \’کنجریاں تے لچیاں رناں\’ کہا کرتی تھیں پھر سیاہ برقعے کا رواج کم ہوا تو بعض عورتوں نے چادریں پہن کر گھروں سے باہر نکلنا شروع کیا تو سیاہ برقعے پہننے والیوں نے چادر اوڑھنے والیوں کو \’کنجریاں اور لچیاں \’کہا۔ چادر نے دوپٹے کی صورت اختیار کی تو یہی طعن دوپٹا پہننے والیوں کو سننا پڑا اور جب دوپٹا سر سے ڈھلک کر سینے پر آ گیا تو سر پر دوپٹا رکھنے والیوں نے گلے میں دوپٹا ڈالنے والیوں کو \’کنجریاں تے لچیاں رناں\’ کا خطاب دیا\”

یہ بات محض لباس تک محدود نہیں رہے، آپ کسی بھی موضوع پہ بات شروع کریں تو طعنہ کہیں سے شروع ہوتا اور کہاں جا کر ختم ہو گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آپ کسی بھی موضوع کے حق یا مخالفت میں کچھ لکھیں تو ایسے ہی خطاب سے سے نوازا جائے گا ۔ نوازنے کا یہ عمل ہر طرف سے جاری و ساری ہے۔ بیشتر موضوعات ہماری طبیعت کو ناگوار گزرتے ہیں ، بہت سی آوازیں سماعتوں پہ گراں گزرتی ہیں لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم کسی کو بات کرنے کے حق سے محروم کر دیں؟

وہ طالبات جو کسی جامعہ میں زیرِ تعلیم ہیں ان کی زندگی کے مسائل گھروں میں رہنے والی عورتوں کی نسبت مختلف ہوں گے، شہروں میں رہنے والی بیشتر خواتین اس بات کا شعور نہیں رکھتیں کہ کھیتوں کھلیانوں میں کام کرتی عورتوں کے کیا مسائل ہو سکتے ہیں۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ آپ سرے سے اس بات سے انکاری ہو جائیں کہ جو بات کر رہا ہے اس کو بولنے کے حق سے محروم کر دیا جائے کیونکہ اسے کسی اور کے مسائل کا احساس نہیں؟ کسی اور کے مسائل کا احساس کرنا معقول بات ہے، ایک معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو نچلے معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے مسائل کا احساس ہو گا تو اس سے ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور مسائل کا حل بہتر طریقے سے ممکن ہو گا۔ لیکن اگر کسی کو اس بات پہ روک دیا جائے کہ وہ اپنے مسائل پہ آواز نہ اُٹھائے تو وہ کسی دوسرے کے مسئلے کی دردسری کیوں برداشت کرنے لگا؟

پھر کچھ لوگ اس مکالمے کے بیچ معاشرے اور مذہب کو لے آئے، دیکھیں اگر بات معاشرے کی ہے تو پھر یہ بدلا جا سکتا ہے، بدل رہا ہے، مکالمہ ہو گا تو ہی مزید بدلے گا اور شاید اتنا ہی بدلے گا جتنا سالک صاحب کی تحریر سے عیاں ہے۔ لیکن مذہب پہ بھلا کیسے بات کی جا سکتی ہے؟ یہاں اب ہمارے پر جلتے ہیں کہ یہاں پہنچ کر مکالمہ نازک موڑ پہ پہنچ جاتا ہے ۔ اختلاف کی گنجائش اس طور موجود نہیں رہتی کہ کب کہاں کوئی جملہ گستاخی شمار کر لیا جائے کون جانتا ہے۔اب تو سرکار سائبر کرائم بِل کے بعد ہم ویسے بھی سوچ رہے ہیں کہ ہر مسئلے کو شرعی، سماجی، معاشرتی اور معاشی نقطہ نظر کے بعد سائبری نقطہ نظر سے بھی دیکھنا ہو گا کہ کسی طور کوئی جملہ قابل گردن زنی نہ ٹھہرے۔اور ویسے بھی کچھ مسائل پہ مذہبی موضوعات سے جڑی کتابوں میں اتنا کچھ اس طریقے سے لکھا گیا ہے کہ اس کے بعد ان لڑکیوں کی بات ایسی ناگوار گزرے تو حیرت ہی ہو رہی ہے۔

جہاں تک بات اخلاقیات کی ہے تو اس کا معیار بھی میری اور آپ کی نظر میں مختلف ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پہ میری اخلاقیات کو اس بات سے کوئی تکلیف نہیں پہنچتی اگر دو چاہنے والے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چہل قدمی فرما رہے ہوں، میری آنکھوں کو یہ منظر بھلا ہی لگے گا۔ لیکن عین ممکن ہے کہ آپ کی اخلاقیات کو اس سے سخت ٹھیس پہنچے اور آپ خدائی فوجدار بن کے نازل ہو جائیں اور انکوائری کمیشن بٹھا دیں ۔ اس لیے بہتر یہی ہو گا اگر کچھ آپ کی اخلاقیات کو ناگوار گزرے تو آپ اسے ویسے ہی نظرانداز کر کے آگے بڑھ جائیں جیسے ہم کسی ناپسندیدہ جملے کو نظرانداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ ہر بات پہ محاذ آرائی کریں گے تو پھر جیسے آپ کی برداشت بات بات پہ جواب دے جاتی ہے کسی روز سامنے والے نے بھی تہذیب کا دامن چھوڑ دیا تو آپ کہیں گے، بات کرنے کی تمیز نہیں۔

اگر کوئی بات کر رہا ہے تو چلیں بات کرنے دیں۔ شاید اسی طرح بات کرنے کی راہ نکل آئے، جو بول رہا ہے ایک روز اسے بات کہنے کا سلیقہ بھی آ جائے۔ ظاہر ہے جو بات کر رہا ہے اسے کوئی تکلیف ہے، کوئی مسئلہ ہے، یہ بات اسے چبھ رہی ہے تو وہ بول رہا ہے۔لیکن یہ تو تب ممکن ہو گا جب ہم مکالمے پہ یقین رکھیں گے۔اور ایسا ہم کیوں کریں؟ ہم کیوں بولنے دیں؟

شرم یا حیا صرف عورت کے جسم سے جڑے کسی قدرتی عمل سے منسوب کر دینا ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنے کی تحریک کو بےباکی اور بےحیائی کہا گیا۔ اگر آپ دس ایسی خواتین کے نام گنوا سکتے ہیں جو سوشل میڈیا پہ بےباکی سے کچھ لکھ رہی ہیں تو پچاس ساٹھ نام ایسے مردوں کے بھی ہوں گے ہی جو اتنا خوبصورت تبصرہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ حرافہ، فاحشہ جیسے الفاظ صرف ہماری خاطر لغت کا حصہ بنائے گئے تھے۔ مجھے ذاتی طور پہ جامعہ کی طالبات کا یہ عمل اس طور برا نہیں لگا کیونکہ میں خود مخلوط تعلیمی ادارے میں زیرِ تعلیم رہی ہوں اور میں نے لوگوں کو ان باتوں پہ مذاق اڑاتے دیکھا ہے۔ خواتین اکثر کیا ہمیشہ ہی ان معاملوں میں مدد کرتی دکھائی دی ہیں لیکن مذاق اڑانے والے حضرات کی عزت آپ کی نظروں میں کیسے گھٹ جاتی ہے، یہ بتانا اب بھی ضروری ہے کیا؟ اور جیسے جملے بولے جاتے ہیں ان کے بعد کوئی لڑکی اگر اپنا اعتماد کھو بھی دے تو کیا فرق پڑتا ہے۔

سیکس ایجوکیشن ہو حیض ہو یا کوئی اور موضوع، آخر میں مجھے فراز صاحب کا سہارا لینا پڑا کہ

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

34 thoughts on “امروز کی رسوائی فردا کا اجالا ہے

  • 15-04-2016 at 10:48 pm
    Permalink

    آج ہم دال پہ ٹرخائے گئے جن کاموں کی بدولت

    کیا عجب کل وہ قصے کو قصابوں کی دکانوں میں ملیں

  • 15-04-2016 at 11:42 pm
    Permalink

    سرکار سبوخ سید صاحب کسی روز دیسی مرغا بھی نصیب ہو گا

  • 16-04-2016 at 12:25 am
    Permalink

    سائبر کرائم بل کی خیر۔ متوقعہ ملاقات اڈیالہ جیل میں ہونے کا روشن امکان ☺

  • 16-04-2016 at 12:42 am
    Permalink

    wesay g sara mazmoon acha tha mgr ap b aakhir main uss ajeeb o ghareeb topic pay likhna bilkul ni bhooli jaisay molvi sb har achi aur buri bat mai Islam ka sahara laitay hain wesay ap ny b khud ko liberal sabit krnay k liay haiz pay comment krna zroori smja.han for the sake of literature aj apki grift kafi mazboot dikhai di

  • 16-04-2016 at 12:47 am
    Permalink

    حاشر۔۔۔۔ ہم تم ہونگے
    ہم سب ہونگے
    رقص میں سارا اڈیالہ ہو گا

  • 16-04-2016 at 12:49 am
    Permalink

    جناب سید ثقلین پسندیدگی کیلیے شکریہ۔ لبرل کہنے کیلیے مزید شکریہ۔

  • 16-04-2016 at 1:47 am
    Permalink

    Every one in this society is taking his own position in two poles extreme liberals and extreme religious.Hum jaisay log kahan jaain jo mazhab,ravayat,ikhlaqiyat aur taraqi k imtzaj k sath jeena chahtay hain. hmaray liay tou imtehan hi bn rha hy k humain dono main sy koi b qabool ni krta k aik k baray main bat kr dain tou gunahgar kehlaain dusray k baray main kr dain tou jahil kehlaain.Wesay Mohtarma iss position pay kharay ho k likhnay ki koshish keejiyay ga tou pata lagay ga apko k shayad yay sub sy mushkal soorat e haal hy.aur Adyala ki tension mut leejiyay aap k peechay AAntiyaan aur dossron k peechay Molana hazrat hain haan masla un ko hoga jinhain dono qabool ni kartay

  • 16-04-2016 at 11:45 am
    Permalink

    جناب ثقلین صاحب میرے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ بےفکر ہو جائیں
    اور مہربانی فرمائیں تحریر دوبارہ پڑھ لیں ، شاید آپ بات سمجھ پائیں۔

  • 16-04-2016 at 1:41 pm
    Permalink

    ہماری اکثریت شاید ثقلین صاحب کی طرح سوچتی ہے. مجھے لگتا ہے ہم (بحیثیت مجموعی) دو کشتیوں کے مسافر ہیں. ہمیں دین بھی چاہیے اور دنیا بھی؛ اور یقینا آخرت بھی! یہ دونوں کشتیاں اپنے ہی قوانین پر ڈولتی رہتی ہیں اور ہم لٹکے رہتے ہیں. کبھی دنیا کی طرف بھاگتے ہیں، کبھی دین کی طرف لوٹتے ہیں. ہمیشہ اس دوئی میں الجھے رہتے ہیں. ہمیں اس دوئی کا خاتمہ کرنا ہوگا!

    وقت کا جدلی عمل جاری رہتا ہے. یہ دنیا ہماری خواہشات کی تابع نہیں ہے. اور ہے بھی. بارشیں ہمارے ہاتھ اٹھانے سے نہیں ہوتیں. اور ہوتی بھی ہیں: یہ انسانی ہاتھ ہی ہیں جو مصنوعی بارشیں برسانے کا بند و بست کرتے ہیں. زلزلے گناہ بڑھ جانے سے نہیں آتے. اور آتے بھی ہیں: یہ انسان کا جرم ہی ہے جو زمین کا ماحولیاتی نظام بگاڑ رہا ہے.

    ترقی اور روایت… ترقی: ہمارے دماغ جیسے کیسے سوچ ہی رہے ہیں، محنت کر رہے ہیں. قوموں کی دوڑ میں ہم بھی کہیں ڈول ہی رہے ہیں. پھر یہ ترقی فردی آزادی، ہوس زر اور اخلاق باختہ ہو کر ہمیں ڈراتی بھی ہے. ہم ڈر جاتے ہیں!

    روایت: ہمارا اخلاق، ہمارا مذھب، ہماری شناخت، حق، سچائی، بخشش.. پھر دوسرے اخلاق (یا بد اخلاقیاں)، دوسرے مذھب (یا باطل نظام).. ثقافتی یلغار.. اور یوں ہماری شناخت مٹنا شروع ہو جاتی ہے. اور ہم مٹ جاتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں!

    کیا اس دوئی کا خاتمہ ممکن ہے؟ نہیں! ہو بھی سکتا ہے! ہم قبول کر لیں. ہم مان لیں. اور تضادوں میں جینا سیکھ لیں اور متضاد لوگوں کو جینے دیں.

  • 16-04-2016 at 3:20 pm
    Permalink

    لیکن کیا مذھب کے بغیر اخلاقیات کی عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی؟ انعام کا لالچ دے کر اچھائی کی طرف راغب کرنا اور سزا کے خوف سے برائی سے روکنا ہی اخلاقیات ہے؟ اخلاقیات کے سبق تو بدھا، کنفیوشس اور ارسطو نے بھی دیے تھے.

    اگر اخلاق کا بیڑا مذھب اٹھاتا ہے تو ایک مذھب، دوسرے مذھب کے خلاف لڑتا کیوں ہے؟ ایک فرقہ دوسرے فرقے سے الجھتا کیوں ہے؟

    آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ معاشرہ کچھ اقدار پر قائم ہوتا ہے اور افراد کو کنٹرول کرتا ہے. لیکن یہ اقدار بھی انسانی تشریح ہی کی مرہون منت ہیں.

  • 17-04-2016 at 1:05 am
    Permalink

    جناب رمیض صاحب،
    آپ نے فرمایا کہ ’جب انسان کی زندگی سے دین نکلتا ہے یا دین کی چنداں اہمیت نہیں ہوتی‘ جس سے بظاہر آپ یہ کہنا چاہ رھے ہیں کہ معاشرے میں اس حوالے سے موجود رویے جو آپ کی نظر میں بہت قابل اعتراض ہیں دین سے دوری کا مظہر ہیں
    جناب آپ کی خدمت میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ دین کی نمائیندہ شخصیات یعنی صحابہ کرام کے دور کا مطالعہ کبھی ان کے جنس کی طرف رویہ کے حوالہ سے کر کے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ دور اول کا وہ معاشرہ جو اسلامی تعلیمات پر قائم ھوا تھا جنس کے بارے میں بہت کھلا، حقیقت پسندانہ رویہ رکھتا تھا، مثال کے طور پر بخاری شریف میں حضرت عمر کا ایک دور مدینہ کا واقعہ درج ہے جو میں بوجوہ یہاں نقل نہں کر ر ہا دیکھا جا سکتا ہے جس میں حضرت عمر ایک لونڈی کے ساتھ اختلاط کرتے کرتے رک گیے
    جس سے یہ راقم نے یہ سبق حاصل کیا کی وہ سیکس کو انسانی ضرورت کے طور پر ہی دیکھتے تھے بغیر کسی معزرت خواہانہ رویہ کے اور ساتھ ہی حدوداللہ کا اتنا پاس کرتے تھے کہ عین ’وصال‘ سے پہلے جب بظایر خواھش پوری طرح ابھری یوتی یے، بھی اگر پتا چل جاتا کہ جو عمل وہ کرنے جا رہے ہیں وہ خلاف شرع ہے تو رک جاتے تھے
    We must look at this whole issue with pragmatism and and from a humanist angle.

  • 17-04-2016 at 1:45 am
    Permalink

    Very good madam writer u have given some of the very attractive comments.In actual Wen u gave many examples in your comment they may be accepted but as a student of research in science and analyzing your comments I have to admit that contribution to scientific research in last 800,900 years from muslim community is nearly zero.when the scientists who have nothing to do with islam invented technologies or given different theories they had nothing to do with islam.They presented their research on the basis of pure logic and the logic which a human mind gets accepted.Now for an example as a muslim I see that earthquakes are result of inequality and bayhayai noone from the community of science accepts that as concept of earthquake is different to geologists.They give the phenomena whats happening on lower levels of earth.But what i concieve that the earthquake happens to be exactly through the same phenomena as scientists have given the theories but the trigger to happening of those concepts are those what Islam says.Islam is relgion of nature and Allah runs HIS system through all scientific means but trigger to those events are what HE said.As a non believer,I am not saying to anyone, its very hard to accept without some reason and logic so the logics are there for them but as a believer its we who had to see the whole events by looking into sayings of LORD and then looking into the logic.Actually believe is something above all logics.I can bet you that if something is revealed by scientists we accept that although we ourselves have never experimented that.I have never seen neutron,proton or electron yet i believe as we have belief in science and scientists.In the same manner we believe in what Allah says as we have Belief in Allah whether we have experimented it by ourselves or not.you must have noticed that you can easily driven through your friends rather than to unknown.As you have faith and believe in your friends than unknowns.To me all the universe is obeying some law which are purely scientific but who have created those scientific phenomenas.Scientists just explored them.They where there even before exploration.then question is who created all the things obeying these scientific laws and who devised these laws.Science and Relegion has very strong relation.I would present just one hadith qudsi having meaning…Main aik chupa hua khazana tha, MAIN ny insan ko iss liay paida kia k pehchana jaoon…may be I could convey what i wanted to say as its not the place where all can be discussed.At the end I would have to admit whether I accept or differ your views but I respect your views as u might be a person with thoughts different than me yet u have a very healthy sence of intellactualism

  • 17-04-2016 at 5:03 am
    Permalink

    لیکن کیا مذھب کے بغیر اخلاقیات کی عمارت کھڑی نہیں کی جا سکتی؟

    بالکل ھو سکتی ھیں اور راقم کی رائے میں تو خود قرآن بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بدی اور بھلائی کا تصور قدرت کی طرف سے روح انسانی میں ودیعت کیا گیا یے مزھب صرف اس کو ریفائن یا پہچاننے میں مدد گار ھو سکتا ھے لیکن بدی اور نیکی کا شعور فطرت انسانی کا جزو لا ینفک یے اور انسان صرف انسان ھونے کے ناطے بھی اخلاقیات کی عمارت اور اخلاقی قدریں دریافت اور قائم کر سکتا یے

  • 17-04-2016 at 10:40 am
    Permalink

    ثقلین صاحب، آپ کا رومانوی طرز فکر بہت خوب ہے جیسا کہ میں نے کہا ہماری اکثریت ایسے ہی سوچتی ہے.

    مگر، ہماری یہ رومانوی سوچ بھی اسی عقلی سائنس کی دین ہے. اس سائنس کے بیج مذہبی عقائد و حکومت کو ایک طرف رکھ کے بوۓ گۓ. ڈارون نظریہ ارتقا تدوین کرتے وقت مذہبی خلفشار کا شکار رہا ہوگا: بائبل کی مانے یا اپنے مشاھدے کی سنے. اور ہم بھی کتنے عظیم ہیں اس مخمسے میں کبھی آئے ہی نہیں: ہمیشہ تعلق جوڑ لیتے ہیں. کیونکہ ہم سچائی کی دریافت کے کرب (یا انبساط) سے کبھی گزرے ہی نہیں.

    اور سچائی کیا ہے، اس کو جاننے کا کوئی حتمی دعوی نہیں کر سکتا. کم از کم میں تو نہیں.

  • 17-04-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    اسلام دینِ فطرت ہے تو باقی مذاہب ؟ اور پھر آپکے نقطے کے بعد تو میں یہ بھی پوچھ سکتی ہوں فطری یا قدرتی عمل پہ بات کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ اختلاف شاید بات کرنے کے طریقہ کار سے ہو گا پھر اور یہ میں کہہ چکی ہے کہ بات کرنے دیں گے تو ہی بات کرنے کا سلیقہ آئے گا۔
    اخلاقیات کا تعلق مذہب سے کیوں ہے؟ فرد سے کیوں نہیں؟ اور معاشرے سے ہے تو معاشرے کی مثال تو وہی ہے کنجریاں تے لچیاں رناں والی۔

  • 17-04-2016 at 4:51 pm
    Permalink

    پہلے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ ‘نمائش’ کیا تھی ؟ کس مقصد کیلیے تھی؟ اور میں نے جو لکھا وہ کیا تھا؟
    ‘ناپاک’ اس کی وضاحت ہی کر دیں کہ یہ کیا ہے اور وہ جو نمائش تھی وہ اس پہ کیسے پوری اترتی تھی؟

  • 17-04-2016 at 4:55 pm
    Permalink

    پڑھا لکھا طبقہ ملا کے خلاف اس لیے ہے کہ عمومی طور پر ملا نے ہر مفید ایجاد – پرنٹر، سپیکر، کیمرے وغیرہ – کی مخالفت کی؛ سرسید، جناح، اقبال جیسے ترقی پسندوں کو فتووں سے نوازا؛ اور ہر اس چیز سے منع کیا جس کو استعمال کرتے ہوئے جدید دنیا کی صورت گری کی گئی ہے.

    اور بات کسی طبقے کی مخالفت کی نہیں بلکہ رجعت پسندی اور ترقی پسندی کے اختلاف کی ہے، ٹھیکیداری اور انفرادی آزادی قبول و رد کی ہے.

    اپنی خامیوں کی پردہ پوشی کی ڈگر کو چھوڑ کر، تعصّب، مغالطوں، سازشی تھیوریوں سے نکل کر کھلے ذہن سوچنے کی ضرورت ہے.

    اگر اسلام کی بات کی جاۓ تو اسلام کی روح کو سمجھئے. جو قبائلیت، رنگ و نسل کے تفاخر، خدا کے نام پر تشدد و تفریق اور نفسی مکر کی کراہت سے پاک ہے. جو دوسروں کو قبول کر کے پھیلا ہے انھیں رد و تفریق کر کے کمزور و گمراہ ہوا ہے.

    خود پر اسلام طاری کیجیے. دوسروں پر تھوپنے سے پرہیز کیجیے.

    سیاست کو اسلام سے نہیں، اسلام سے سیاست کو پاک کیجیے.

  • 17-04-2016 at 5:12 pm
    Permalink

    اور بات صرف ایجادات کی مخالفت کی نہیں یہ وہ گناہ کبیرہ ہے جس کی سزا آج تک بھگت رہے. ہیں خدا جانے کب تک بھگتتے رہیں گے. خدائی اوتاروں سے چھٹکارا پائیے. یورپ نے جب کلیسا سے جنگ کی تو کیا عیسائیت ختم ہو گئی؟ نہیں. کیوں کہ اسکا تعلق خدا اور انسان کے رشتے سے ہے. ہاں بس یہ ہوا کہ ٹھیکیداروں کے دماغ درست ہو گۓ. مطالعہ کیجیے آج سے پانچ سو سال پہلے عیسائیت کیا تھی. اسلام کو بھی کوئی خطرہ نہیں. وہ تو دین فطرت ہے نا. خطرہ ہے بوسیدہ سوچ کو، منافق نظام کو اور جھوٹے خداؤں کو.

  • 17-04-2016 at 6:02 pm
    Permalink

    ٹھیکیداروں کو نظر آ رہا ہے کہ کیا ہو گا فرحان خالد۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہار ماننے پہ تیار نہیں

  • 17-04-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    صورت حال تھوڑی سی خطرناک بھی ہے، رامش فاطمہ. ہم وہ بد قسمت امہ ہیں جنہوں نے ابن رشد کو رد کیا اور غزالی کو مانا. جناح کو رد کیا اور مودودی کو مانا. ہم اس بحث میں پڑے ہیں نیوکلس ہوتا ہے یا نہیں. وہاں دوسری طرف مذہبی جنونی نیوکلیئر ہتھیاروں کی ٹھوہ میں ہیں. میرے منہ میں خاک، پھر تو ہر چیز کا فیصلہ کرنا بہت آسان ہوگا!

  • 17-04-2016 at 7:46 pm
    Permalink

    سنتِ رسولؐ کے کچھ ظاہری پہلوؤں کو دنیاوی جاہ وجلال کا ایسا ذریعہ بنا لیاگیا ہے کہ نبیؐ کے سارے باطنی کمالات آنکھوں سے اوجھل ہوگئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے آپؐ کی ذات میں شفقت وانکسار، محبت، درگزر، شیریں کلامی، فراخدلی، تنگدستی میں وقار اور حسِ جمال ایسی کوبیاں تھیں جو صرف نعتوں اور خطبوں کا مضمون ہیں۔ اقبال نے اپنے پہلے لیکچر میں رسول اللہؐ کی ایک دعا کا ذکر کیا تھا ’’اے اللہ مجھے واقعات وکائنات کی اصل صداقتوں کا علم عطا کر‘‘۔

    یوں لگتا ہے کہ جیسے علم کہ یہ آرزو اب ہمارے لئے قابل تقلید نہیں رہی قابل تقلید ہے تو بس ایک مخصوص حلیہ، جسے دیکھ کر دل نہیں مانتا کہ عربوں کے نفیس ترین صاحب جمالؐ کی مشابہت ان لوگوں سے ہوسکتی ہے جن کے کاروبار حرص کے جہنم اور گھر خوشحالی کے نمائش کدے ہیں، جن کے وعظ کڑکتی بجلیوں جیسے اور چہرے کرختگی کے صحراہیں، جہاں اپنائیت سے بھری ایک مسکراہٹ ڈھونڈتے آپ کی آنکھیں بھر آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام نے دولت اور خوشحالی سے منع نہیں کیا بلکہ اس دنیا میں جو اچھا ہے سب حلال ہے۔ تو کیا کرخت حلیے، اپنائیت سے خالی چہرے اور جستجو سے محروم آنکھیں یہی ’’حسنہ‘‘ کی تعریف میں آتی ہیں

    بے حسی اور خود پسندی کی وہ شکلیں جو ہمیں اپنے اِس معاشرے کے طاقتور اور خوشحال طبقوں میں ملتی ہیں، غالباً دنیا کے بدترین سرمایہ پرست معاشروں کے مافیا کے ہاں بھی نہیں۔ یورپ اور امریکا ، روس اور چین جنہیں ہم مادیت پرستی کے طعنے دیتے نہیں تھکتے، وہاں کے بدترین سرمایہ پرست اگر ہمارے تاجر، عالم دین اور مجاہد کی سنگ دلی دیکھ لیں تو شدتِ رشک سے پتھر ہوجائیں۔

  • 17-04-2016 at 7:59 pm
    Permalink

    فرحان خالد ، سلمان یونس جو حالات و واقعات اور شدت پسندی ہے اس سے بظاہر تو شر ہی شر پھیلتا نظر آتا ہے ، اگر اس شر میں کوئی خیر کا پہلو ہے تو اس پہ غور کرتے ہیں ورنہ غور کرنا بھی ایک جرم ہے، کیوں بھی کہنا جرم ہے، کیسے بھی کہنا جرم ہے۔
    سوال کرنا جرم ہو اور مکالمے پہ پابندی لگا دی جائے تو پھر حالات خراب ہی ہوتے ہیں بہتر کسی صورت نہیں ہو سکتے۔

  • 17-04-2016 at 9:31 pm
    Permalink

    خیر کا پہلو ڈھونڈا جا سکتا ہے.

    تشدد و تنفر کی جگہ مکالمہ اور تفکر، گولی و کشکول کی جگہ قلم اور ایجاد، تفرقے و تعصب کی جگہ ہم آہنگی اور تفہیم، بھوک و بیماری کی جگہ خوشحالی اور امن، غیبی طاقتوں و دشمنی عناصروں کے اندیشوں کی جگہ اپنی پیداواری اور تخلیقی صلاحیت اور استعداد پر بھروسہ، دکھاوے و خود فریبی کی جگہ تجزیہ اور محاسبہ ذات

    پہیہ تو ایجاد ہو چکا ہے. گاڑی بھی تیار ہے – یہ اور بات ہے ٹوٹ پھوٹ چکی ہے – سو اس کی مرمت اور اسی صحیح سمت میں چلانے والے کچھ انسان چاہییں. انسان، فرشتے نہیں، فرعون نہیں، بھگت نہیں. انسان، عام انسان.

    بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیاری تعلیم ملے، حقوق کا شعور بڑھے، آبادی کا کنٹرول ہو، اقلیتیں بااختیار ہوں.

    شکایتی اور عذرخواہی کے رویوں کو چھوڑ کر فعال کردار اپنائیں: میں کیا کر سکتا ہوں، میں کیسے ٹھیک ہو سکتا ہوں.

    دنیا کو سمجھیں، اپنے سے مختلف قوموں، نسلوں، تہذیبوں، مذہبوں، فرقوں کو سمجھیں: آخر یہ تنوع و کثرت کیا ہے.

    انفرادی اخلاقیت، ثواب و گناہ سے اٹھ کر اجتماعی طور پر سوچیے: انسانیت کے لئے سوچیے.

    صرف یہ نا سوچیے جنت کمالی، یہ بھی سوچیے اس دنیا کو تو جہنم نہیں بنایا.

    شیطانوں سے خبردار رہئے: وہ کبھی حقیقی روپ میں نہیں آتے، وہ نیک لبادوں میں لبھاتے ہیں. جہالت سب سے بڑا شیطان ہے.

    خیر کے بہت سے پہلو ہو سکتے ہیں. آگاہی اور دریافت کا طویل سلسلہ.

    جیسا کہ آپ نے لکھا ‘امروز کی رسوائی فردا کا اجالا ہے’

  • 17-04-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    ارے وہ آئن سٹائن والے کالم کو آپ نے سنجیدہ کیوں لے لیا؟
    اور یہ آپکا تاثر ہے کہ کوئی کیا پیغام دینا چاہ رہا تھا ہو سکتا ہے میرا تاثر مختلف ہو۔

  • 18-04-2016 at 12:45 am
    Permalink

    میں کسی طبقے نہیں سوچ کی بات کر رہا تھا. تاریخ کو بھونڈا کہ کر حقیقت سے آنکھیں چرانا بہت آسان ہے. چلیں یہ خوش آئند ہے اب سوچ میں بہتری آرہی ہے. اب سوئی کی نوک پر فرشتوں کی ٹھیک تعداد بتانے والا algorithm منظر عام پر آنے والا ہے. مبلغ کی سات عادات پر بات ہوگی. اب پلیٹ میں رکھ کر ہمیں ساری سائنس اور میڈیسن مل گئی ہے، کوئی فتویٰ لگے بغیر. اب دین ہی کے نہیں سائنس کے ٹھیکیدار بھی ہم ہیں. حقیقتا سائنس تو پیدا ہی ہم سے ہوئی تھی وہ بس پھر تاتاری آ گۓ. اور ہماری کتابیں یورپ روانہ ہو گئیں. امریکی اسلحے سے جہاد لڑ کر دین کی بہت خدمت ہو گئی اب سائنس میں کوئی ایسا breakthrough ہو جاۓ کہ صدیوں کی علم دشمنی کا داغ دھل جاۓ. کامیاب طریقے سی coke studio جیسا شاندار پروگرام بنایا ہے، اب دیکھنا کیمسٹری، فزکس اور اکنامکس میں نوبل انعامات کی بارش ہوگی. کسی طبقے کی نہیں سوچ کی بات کی ہے.

  • 18-04-2016 at 1:28 am
    Permalink

    wesay dr sy mujhy yad aya k main agr aj sochoon k main medical k baray main jo dil main aay likh doon aur researcher kehlaoon tou dunya k saray dr aur log mujhay oal fol bakain gay pagal kahain gay.Agr aj main physics ka naya qanoon doon bina physics k knowledge kay tou physics k log mjhay jahil aur shobdabaz kahain gay.bs g Deen py khuli ijazat day di jaay jo chahay apna falsfa paish kar dy bs unhain koi tokay ni na koi deendar aur na koi dunyadar.k yahan guftgu krny ka haq sub mangtay hain.Jaisay science aur medicine pay bat krnay k liay scientific background,knowledge and terms ka ilm hona zroori hy wesay hi deen pay gufgtu krny k liay deen ka ilm aur asloob ka pata hona zaroori hy.pr na g mazhab ko tou ghar ki londi smjtay hain sub k sub.sub ka haq hai jaisay chahyay uss pay zban drazi karain unhain azadi honi chahiyay.Fikri guftgu k liay fikar lazmi hy mgr yahan tou guftgu hi fatoori hy k liberalism ki mohbat main mazhab k liay dilon mai fatoor waafir mikdar mai mojood hy

  • 18-04-2016 at 2:21 am
    Permalink

    کنجریاں تے لچیاں رناں Ramish bibi ny muaashray mai waqoo pazeer taghayar ki jo misal di hy uss sy mai bilkul mutafiq hn k aj tou mai khud aik aisay hi experiance sy guzra mgr yay bat apni jagah musalima haqeeqat hy k muslman ghalat ho skta hy Islam ni.aur muashray ki amoomi burayon ko islam sy naathi krna sarasar byinsafi hy.agr aik baaraish shkhs koi ghulti karay tou bat islam pay laay jaain aur agr woi ghlti koi jidat psnd shehri kray tou usay uss ka individual act kaha jaay.ab agr haiz k dino mai university ki girls ko koi mzaq ka nishana bnata hoga tou sochiyay beaconhouse university main konsa mullah parta hoga wahan tou saray k saray upper class k clean shaved,french cut walay larky hotay hain.bjaay iss kay k liberlism ko tanqeed k nishana bnaya jata moord-e-ilzam mazhab krar paya aur jidat pasndon ki ghlti ko sudharnay ka khoob tareeqa dhoonda k aam admi ki muashrti ravayat aur haya ki dhjyan bkhairna taay paya.kamal ka badla hy g k nuksan karay koi aur bharay koi aur

  • 18-04-2016 at 7:56 am
    Permalink

    مذھب کو آپ لوگ درمیان میں لاتے ہیں. نظام اور رویوں پر تنقید کی جاۓ تو مذھب پر حملہ سمجھا جاتا ہے اور اسلام خطرے میں آ جاتا ہے.
    اسلام ہے رنگ و نسل کے بت توڑ کر خدا کے آگے جھکنے کا نام، اس کو کیا خطرہ ہے.
    خطرہ ہے تعصّب اور جہالت پر مبنی دقیانوسیت کو.
    فزکس اور میڈیسن پر کسی کی اجاراداری نہیں آپ نیوٹن کے قوانین کو غلط ثابت کیجیے، کوئی آپ کو قتل کرنے نہیں اے گا بلکہ انعامات سے نوازا جاۓ گا
    خدائی قانون اٹل ہیں: جو پوری کائنات کو جکڑے ہوئے ہیں، کوئی قوم یا امت کہاں کھڑی ہی وہ بھی انہی قوانین کی کارفرمائی ہے.
    خدا تو انسان کی رہنمائی کرتا ہے، قومیں ہی مکر جاتی ہیں.
    خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں.
    اور پھر جس کے پاس جو ہے اسی میں شاداں و فریباں ہے.
    آنحضرت صلعم نے تو کہا تھا انہوں نے کالے اور گورے عربی اور عجمی کے فرق ختم کر دیا ہے پھر کیوں اس راستے کو چھوڑا اور آج تک متفرق اور بٹے ہوئے ہیں.
    قبائلی رسوم کا خاتمہ ہو گیا پھر کیوں بنو ہاشم و بنو امیہ کی چپکلش کی آگ آج تک جل رہی ہے.
    وہ کیا عوامل تھے کہ سائنس اور تحقیق کی پٹری سے اترے.
    سرسید کی ان تعلیمی کاوشوں کو سراہے کہ ایک جدید ریاست کے آزاد شہری ہیں، مظلوم اقلیت نہیں. اور ideology کے چکر میں کشت و خوں نہیں کر رہے.
    دوسری قوموں کو گمراہ سمجھنا چھوڑ دیں. وہ ہم سے زیادہ با اخلاق اور ایماندار ہیں اور contribute کر رہی ہیں – اگر آپ لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے.
    ان چیزوں کو سوچیے اور ان کا جواب دیجیے، مکالمہ کیجیے، صرف لیبل چسپاں کرنے، چیزوں کو سنجیدہ نا لینے اور غلط حقائق پیش کرنے سے آپ حقیقت بدل نہیں سکتے.

  • 18-04-2016 at 1:23 pm
    Permalink

    Mohtram Farhan sb first look at newton laws they are proposed to be established and no layman can be allowed to giv logics over it.dear Farhan sb aik research article likhnay k liay related literature ka knowledge zroori hain new laws tou bht door ki bat.

  • 18-04-2016 at 2:40 pm
    Permalink

    محترم کہنے کا مقصد تھا سائنس آزاد مشاہدے اور غور و فکر پر قدغن نہیں لگاتی. اگر نیوٹن کے قوانین کو منجمد کر لیا جاۓ تو آئنسٹائن کے نظریہ کی ضرورت نا پڑے. اور فطرت، قوانین الہی کا مرقع ہے. انسانی دریافتوں اور ان کی تصحیح کا عمل جاری رہتا ہے. اور سائنسی علم ارتقائی عمل سے گزرتا ہے. قرآن کلام الہی سو ہمیں اس پر غور و فکر کرنا چاہیے. it is said: Truth Cannot Contradict Truth
    کیا ہم مذھب کو اس نظر سے دیکھ سکتے ہیں. اقبال کے لفظوں میں ‘mechanically repeating old values’ کی جگہ ‘Reconstruction of Religious Thought in Islam’ کی بات کریں. جناح کے لفظوں میں ایک تجربہ گاہ کی بات کریں، جہاں جدید مسائل کا حل مشاہدے اور اجتہاد سے ہو سکے.
    یہ ایک نقطہ نظر ہے، غلط بھی ہو سکتا ہے

  • 18-04-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    bilkul drust k ijtehad ka kam mujtehid hi ada kr skta hy na k every tom and jerry

  • 18-04-2016 at 8:42 pm
    Permalink

    فرحان صاحب،
    دست بستہ عرض ھے کی تجربہ گاہ والی تجویز تو برائے مہربانی نہ دیں، کیونکہ لیبارٹری کی کارکردگی کا ایک اجمالی جائزہ پیش خدمت ھے ۔۔۔۔
    قیامِ پاکستان سے پہلے قائداعظم نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ملک ایسی لیبارٹری ہو جہاں اسلامی نظریات پر تجربات کیے جا سکیں۔۔۔۔
    لیبارٹری میں جو تجربات کامیاب ہوتے ہیں اس کے بعد اُن کی پروڈکشن بڑے پیمانے پر شروع ہو جاتی ہے۔ ستر کی دہائی میں ہم نے نئے کافر تیار کرنے کاجو کامیاب تجربہ کیا تھا وہ وہیں نہیں رکا۔ اسی اور نوے کی دہائی میں کئی مسجدوں سے نعرے اُٹھے کافر کافر شیعہ کافر اور ملک کے طول و عرض میں شیعہ ڈاکڑ، استاد، وکیل، تاجر اور دانشور چُن چُن کر اتنی بے دردی سے قتل کیے گئے کہ احمدی بھی کہہ اُٹھے ہوں گے کہ شکر ہے ہم کافر ہیں شیعہ نہیں ۔۔۔!!!!
    اِس کے بعد سے کافر پیدا کرنے تجربات کرنے کا کاروبار اتنا پھیل چکا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ہر شہری کے لیے دو اور ایسے مسلمان موجود ہیں جو اُسے کافر سمجھتے ہیں۔ یا رسول اللہ کہنے والے یا حسین کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں، ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے والے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے والوں کو کافر کہتےہیں، داتا صاحب پر منتیں ماننے والے بلھے شاہ کے مزار پر دھمال ڈالنے والوں کو کافر کہتے ہیں۔
    فوج پہلے طالبان کو مومنیں سمجھتی تھی اب کافر سمجھتی ہے یا شاید ہمیں یہی بتاتی ہے۔ پنجاب کی حکومت پنجابی بولنے والے طالبان کو مسلمان سمجھتی ہے، پشتو بولنے والوں کو کافر، یا الہی یہ ملک ہے یا کافر بنانے کی فیکٹری؟؟

  • 18-04-2016 at 11:11 pm
    Permalink

    شکریہ فرحان صاحب،
    میرا اشارہ بھی استعاروں میں احتیاط ھی کی طرف تھا،،
    میں تو بوجوہ یہ مقدمہ جناح صاحب کے کسی بیان اور عمل کو بنیاد بنا کر بھی نہیں پیش کرتا کیونکہ اس میں ایسے تضادات ھیں جن پر بحث میں اصل مقصد گم ھو جاتا ھے، سو استعارہ اور خصوصا مقدمہ کی بنیاد بہت سوچ سمجھ کر عصری اور زمانی حالات اور تقاضوں کی روشنی میں قایم کرنی چاھیے

  • 18-04-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    آپ سے متفق ہوں. زیادہ تر استعاروں کی حیثیت چلے ہوئے کارتوسوں سے زیادہ نہیں ہوتی. یہ زبان و کلام کے مغالطے ہی ہیں جو تاریخ کو دھرانے کا موقع دیتےہیں. ایک ادیب، Imre Kertesz اسے ایسے بیان کرتے ہیں:

    The words on paper will be cited, interpreted, debated, the experiences will be forgotten, only the language will remain

    Language was a tool of the total dictatorship, and it was the most important tool of this dictatorship

    Somehow it made a horrifying ideology a palatable part of everyday life

Comments are closed.