مسلم ساختہ دیسی سیکولرازم کی ضرورت


AHMED ALI KAZMIبصد احترام عرض ہے کہ سیکولر ازم ایک سیاسی نظریہ ہے۔ ’’اسلام ازم‘‘ بھی ایک سیاسی نظریہ ہے۔ دو سیاسی نظریات کی آپسی لڑائی میں ایک کی دوسرے پر وقتی برتری میں خالص نظریاتی بحث سے ہٹ کر بہت ساری جزئیات اور واقعاتی و زمانی حقائق کا اہم کردار ہوتا ہے۔ بیسویں صدی میں اسلام کی سیاسی تشریح اور اس کی عملی شکلیں دور جدید میں قومی ریاستوں اور جمھوری نظام کی بنا پر پیدا شدہ حقیقتوں سے معقول انداز میں نبرد آزما ہونے میں کس حد تک کامیاب رہی ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔ مودودی صاحب کی تمام تر تحریریں وحید الدین خان صاحب کی ایک تنقید نہیں سہار سکتیں۔ اقبال کا تصور ملت حضرت مدنی کے ایک خطبے کے سامنے پریشان ہو جاتا ہے۔

اقلیتوں‘‘ کا مسئلہ، آزادی مذہب کا معاملہ، صنفی مساوات کا قضیہ، جمھور کے حق حکمرانی کا قصہ اور دیگر ’’جزئیات‘‘ میں جدید مسلم سیاسی فکر نے بحیثیت مجموعی ٹکراو، اختلاف، انکار اور رد عمل کی پالیسی اپنائی ہے۔ مسلم ممالک میں صنفی مساوات کی کوششوں کو مسلم سیاسی مفکرین نے کاونٹر کیا۔ پاکستان میں خاندانی قوانین، عورت کا حق خلع اور خواتین کے تحفظ کا حالیہ ایکٹ اور ان پر ہونے والا رد اس طرز عمل کی نشانیاں ہیں۔ مسلم سیاسی فکر میں ریاستی سطح پر اجتہاد کی گنجائش کتنی ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جمھور کے حق حکمرانی و قانون سازی کے نظریہ کو کہیں بھی پسند نہیں کیا جاتا نہ ہی اس میں کوئی گنجائش دی جاتی ہے حالانکہ اللہ کی حاکمیت کا نعرہ شروع شروع میں جب خوارج نے لگایا تو مولا علی رضی اللہ عنہ نے ’’سچی بات کی غلط تشریح‘‘ جیسا عظیم جملہ عطا کیا جو آج بھی بر حق ہے۔ مسئلہ ارتداد میں گنجائش کی بات کی جاتی ہے۔ کونسی مسلم سیاسی فکر میں یہ گنجائش دی گئی ہے۔ اقلیتوں کا مسئلہ کہاں حل کیا گیا ہے۔ یہ سب تو نظریاتی سطح کے مسائل ہے۔ عملی طور پر تو صورتحال یہ ہے کہ افغانستان، سعودیہ، ایران اور پاکستان میں (جزوی طور پر) اسلام ازم کے خوفناک نتائج ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ سیکولرازم کے نام لیوا اصل قضیے یعنی ماخذ قانون پر بات کرنے کی بجائے مسلم فکر میں کمزوریاں نکالتے ہیں کی ذیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی ۔

اگر مسلم سیاسی فکر میں درج بالا معاملات پر دور جدید سے مطابقت کا خیال کیا جاتا ، اس مسئلے کو کفر و اسلام، حق و باطل اور اللہ و طاغوت کی لڑائی جیسی اصطلاحات اور سوچ کی بجائے سیاست و ریاست پر عملی حقائق کی نسبت سے غور کیا جاتا تو اب تک ہم یقینا ایک ’’دیسی ساختہ مسلم سیکولرازم‘‘ بنانے میں کامیاب ہو کردوسرے اہم میدانوں میں گفتگو کر رہے ہوتے۔ خیال رہے کہ برصغیر میں روایتی مسلم فکر کے سب سے بڑے مکتب، دیوبند، کے ایک بڑے حصے نے آج سے 70,80 سال پہلے ہی اس دیسی ساختہ مسلم سیکولر ازم کو دریافت کر لیا تھا مگر اس قوم کو حضرت مدنی و حضرت سندھی سے ذیادہ حضرت مودودی و حضرت اقبال و حضرت عثمانی کی فکر محبوب تھی۔


Comments

FB Login Required - comments

احمد علی کاظمی

احمد علی کاظمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ پاکستانی سیاسی و آئینی تاریخ اور سیاسی اسلام و جمھوریت کے مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بین اور کرکٹ کے تماشبین اس کے علاوہ ہیں۔ سہل اور منقح لکھنے کے قائل ہیں۔

ahmedalikazmi has 8 posts and counting.See all posts by ahmedalikazmi

One thought on “مسلم ساختہ دیسی سیکولرازم کی ضرورت

  • 15-04-2016 at 8:44 pm
    Permalink

    Excellent and thought provoking

Comments are closed.