سید انور محمود کی خدمت میں چند گزارشات


shakeel chaudhryاچھی بات ہے کہ آپ نے وضاحت کردی ہے کہ آپ کبھی وزارت اطلاعات  میں نہیں رہے بلکہ آپ جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں   29برس  تک ریسرچ اسسٹنٹ رہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ کا فرقہ مودودی اور پاکستان کے مخالفوں سے کوئی واسطہ نہیں۔

معذرت خواہ ہوں کہ میرا مضمون ’مولان آزاد پر ناشائستہ حملہ :جواب الجواب ‘پڑھ کر آپ کےحب الوطنی کے جذبہ  کو ٹھیس پہنچی۔ بڑے ادب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ  آپ کا یہ جذبہ اتنا نازک کیوں ہے؟  اگر برا نہ مانیں تو میرا مشورہ ہے کہ  اپنے حب الوطنی کے تصورمیں کچھ وسعت  لائیں ۔ اس کے لئے آپ کو اندھی حب الوطنی سے جان چھڑا کر مبنی بر تعقل حب وطن کی طرف آنا پڑے گا۔  اس طرح آپ سکھی ہوجائیں گے اور میرے جیسے لوگوں کی تحریریں پڑھ کر کڑھا نہیں کریں گے۔

آپ نے لکھاہے کہ آپ عابد بخاری صاحب کی بہت سے باتوں سے اختلاف کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے وضاحت نہیں فرمائی کہ آپ کو ان کی کن باتوں سے اختلاف ہے۔ پھر آپ نے یہ حکم صادر  کرکے ہمیں حیران کردیا کہ ’چھوڑیں عابد صاحب کو‘۔ آپ نے یہ فرمان کیوں جاری کیا؟ عابد صاحب ہی نے تو اس بحث کا آغاز کیا تھا۔ انہیں اس سے کیسے خارج کیا جا سکتا ہے؟ پھر آپ نے ہم دونوں کے انداز کو بے ہودہ قراردے دیا۔ غالب کی زبان میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں:تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے! میں آپ کی زبان میں آپ کو جواب دوں تو آپ کو یقیناً اچھا نہیں لگے گا اور میرا مزاج بھی مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے دلیل‘متانت اور شائستگی سے اختلاف کرنے کا فن سیکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگوں کو آپ کی باتیں فسطائی طرر فکر کی عکاس محسوس ہوں۔

کیاآپ اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں؟ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ وطن عزیز میں اظہار رائے کی آزادی کا دائرہ پہلےہی  کافی سکڑ چکا ہے؟ آپ اسے مزید کیوں سکیڑنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ ملک اتنا کمزور ہے کہ ایک بےضرر سے مضمون سے اسے خطرہ لاحق ہوگیا ہے؟ اس طرح کے مضامین کتنے لوگ پڑھتے ہیں؟ اگر آپ نے اس سے  غلط اثر نہیں لیا تو دوسروں کو اتنا کم عقل کیوں سمجھتے ہیں کہ وہ اس سے گمراہ ہوجائیں گے؟ کیا آپ ان کی حب الوطنی کی توہین نہیں کررہے؟  ویسے حب الوطنی کا جذبہ بھی عجیب ہے ۔ اس کی توقع اور قدر ہم صرف اپنے ہم وطنو ں میں کرتے ہیں۔ جب دوسرے ملکوں کا معاملہ آتا ہے تو ہم ایسے لوگوں کی قدر کرتے ہیں جن میں یہ جذبہ نہ ہو یا نہ ہونے کے برابر ہو۔ ہمارے لوگ نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے کے مداح کیوں ہیں؟ آ پ چاہیں تو تاریخ  کے اسرائیلی پروفیسر شلومو زینڈ  (Shlomo Sand) کو بھی اس صف میں شامل کرسکتے ہیں۔ ویسے آپ کے خیال میں مشرق وسطیٰ کے کس ملک میں اظہار رائے کی آزادی  سب سے زیادہ  ہے؟  اور کیا یہ درست نہیں  کہ اسرائیل میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اس کے اساسی نظریہ سے اختلاف رکھتے ہیں اور وقتاًفوقتاً اس پر تنقید بھی کرتے رہتے ہیں؟ یہاں ایک  اورسوال بھی ذہن میں آ رہا ہے:کس مسلمان ملک میں اظہار رائے کی آزادی سب سے زیادہ ہے؟

میں نے کسی کو بیوقوف قراردیا اور نہ کسی کو عقل کل۔ براہ مہربانی اپنے الفاظ اپنے منہ میں نہ ڈالیں۔ میر اجر م صرف اتنا ہے کہ میں نے مولانا آزاد  پر ناشائستہ تنقید  سے اختلاف  کیا ۔ ’محسن پاکستان‘ ڈاکٹر اے کیوخان  مجھ سے بڑھ  مولانا آزاد کی تعریف و توصیف کرچکے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نےفرمایا ہے کہ آپ بحث لمبی نہیں کرنا چاہتے۔ آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ کے چند جملے  ا یک مفصل اور تحقیقی  مضمون پر فوقیت رکھتے ہیں؟  اگرآپ میرے دلائل کا مدلل رد کر سکتے ہیں تو آپ کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے ۔ یہ قوم پر آپ کا  احسان عظیم ہوگا۔ اس سے ہمیں پتہ چل سکے گا کہ آپ کا تاریخ کا مطالعہ کتنا گہرا اور وسیع ہے اور آ پ کی قوت استدلال کس درجہ کی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کے دلائل مجھے قائل کرلیں۔ میں تو ہر وقت بہتر سے بہتر دلیل کی تلاش میں رہتا ہوں۔

میں آپ کے علم و فضل سے فائدہ اٹھانے کے لئے چند سوالات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ میر ی رہنمائی فرمائیں گے۔ ہماری نصابی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ میثاق لکھنو جناح  صاحب کا ایک عظیم ترین کارنامہ تھا۔ اگریہ بات درست ہے تو پھر اقبال نے اپنے خطبہ الٰہ آبادمیں کیوں کہا تھا کہ  میثاق لکھنو ایک گڑھا تھا جس میں مسلم سیاسی قیا دت جا گری تھی؟ ہمیں بتایا جاتا ہے  کہ 1937  میں بننے والی کانگرسی وزارتوں  نے مسلمانوں سے برا سلوک کیا  جس نے مسلم لیگ کو تقسیم ہندکا مطالبہ کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر جناح صاحب نے 8 مارچ  1944 کو علی گڑھ میں کیوں کہا تھا کہ’پاکستان ہندوؤں کےطرزعمل یا برےسلوک کی پیداوار نہیں۔ یہ تو ہمیشہ سےموجود رہا ہے۔ ‘ اسی تقریر میں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ’پاکستان کا اسی روز قائم ہو گیا  تھا جب یہاں کے پہلے غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تھا۔ ‘ اگر یہ بات درست ہے تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں  کہ جناح صاحب پاکستان کے بانی نہیں تھے؟  10 مارچ 1941 کو انہوں نےفرمایا تھا کہ ’پاکستان نہ صرف ایک قابل عمل مطمع نظر ہے بلکہ اس ملک میں اسلام کو مکمل تباہی سے بچانے کا واحد طریقہ ہے۔ ‘  کیاہندوستان میں اسلام مکمل تباہی سے دوچار ہوچکا ہے؟ اگر قیام پاکستان کے باوجود ایسا نہیں ہوا تو اس کے بغیر ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟  اگراسلام کی بقا کے لئے پاکستان کا قیام  ضروری تھا تو انہوں نے  6 جون  1946 کو کیبنٹ مشن پلان سے اتفاق کیوں کر لیا تھا؟   کیا یہ وہی منصوبہ نہیں جس کی انہوں نے  22 مئی  1946 کو  پاکستان کی نفی کرنے پر مذمت کی تھی؟ اگر قیام پاکستان کے لئے  اسلام اتنی اہمیت رکھتا تھا تو انہوں نے 11 اگست 1947 کو مذہب کو ریاستی امور سے الگ رکھنے کی بات کیوں کردی تھی؟  دو قومی نظریہ اب بھی اپنا وجود رکھتا ہے؟ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ممتاز قومی پروفیسرشریف المجاہد کےمطابق دو قومی نظریہ برصغیر کے صرف 1947 سے پہلے کے حالات سے مطابقت رکھتا تھا  (ڈان‘ ۲۵دسمبر 2004)۔ ان کی رائے میں قیام پاکستان سے دو قومی نظریہ فرسودہ ہو گیا کیونکہ دونوں قوموں نے خود کو ہندوستانی اور پاکستانی قوموں کے قالب میں ڈھال لیا تھا (دا نیوز‘ 23 مارچ 2011)۔ کیا یہ باتیں لکھ کر وہ غدار بن گئے ہیں؟  آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہندوستان میں مجھے بہت سے ہم خیال  لوگ مل جائیں گے۔ کیا  میرے ہم خیال لوگوں میں ہندوستانی  مسلمان بھی شامل ہیں؟

17مئی 1947 کو جناح صاحب نے ماؤنٹ بیٹن کو لکھا: ـ’مسلم لیگ بنگال اور پنجاب کی تقسیم سے اتفاق نہیں کرسکتی۔ اس کا کوئی تاریخی‘معاشی‘سیاسی یااخلاقی جواز ممکن نہیں۔ ان صوبوں نے  اپنے انتظامی‘معاشی اور سیاسی نظاموں کو تعمیر کرنے میں تقریباً ایک صدی لگائی ہے۔ ‘ اسی ماہ انہوں نے ماؤنٹ بیٹن سے یہ بھی کہا کہ ’عزت مآب سمجھ نہیں رہے کہ پنجابی ایک قوم ہیں اور بنگالی بھی ۔ پنجابی یا بنگالی ہندو یا مسلمان ہونے سے پہلے پنجابی یا بنگالی ہوتا ہے۔ اگر آپ ہمیں یہ صوبے دے رہے ہیں تو پھر کس بھی صورت انہیں تقسیم نہ کریں۔ اگر آپ نے انہیں تقسیم کیا تو پھر آپ انہیں معاشی طور پر تباہ کردیں گے اور بے پایاں خون خرابے اور فسادکو دعوت دے رہے ہوں گے۔ ‘ اگر ہندو اور مسلمان ہندوستا ن کی سطح پر اکھٹے نہیں رہ سکتے تھے تو پنجاب اور بنگال کی سطح پر انہیں اکھٹا رکھنے کی کوشش کیوں کی گئی؟

انور صاحب ‘ ہمیں نادرشاہی حکم سنانے کی بجائے دلیل اور حوالے  سے بات کرنی چاہیے۔ آپ نے  میرے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے کیا چودھری خلیق الزماں اور حسین شہید سہروردی   کے بارے میں بھی اسی طرح کے خیالا ت رکھتے ہیں؟ ان دونوں نے بھی تو دو قومی نظریہ پر تنقید کی تھی؟ چودھری صاحب کس طرح پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر اور مشرقی پاکستان کے گورنر بن گئے تھے؟   سہروردی صاحب  کیسے پاکستان کے وزیراعظم بن گئے تھے؟ ان کی آئین ساز اسمبلی کی رکنیت کیوں منسوخ کردی گئی تھی؟ انہیں غدار کیوں قرار دیا گیا تھا؟ وہ گاندھی کے مداح کیسے بن گئے تھے؟ کیا یہ درست ہے کہ قرارداد پاکستان پیش کرنے والے شیر بنگال فضل الحق نے اپریل 1954  میں کلکتہ  کے دورے کے دوران قیام پاکستان کی نفی کردی تھی؟ کیا ان کی حکومت اسی لئے برطرف نہیں کی گئی تھی؟  اگر واقعی ایسا ہوا تھا تو پھر اسلام آباد کی ایک اہم سڑک ان سے کیوں موسوم ہے؟ کیا اب بھی وہ پاکستان کے ہیرو ہیں ؟ کیا الطاف حسین نے 2004  میں اپنے پندرہ روزہ دورۂ ہندوستان کے دوران قیام پاکستان کی نفی کی تھی؟ اس وقت کتنی محب وطن  سیاسی جماعتوں اور شخصیات  نے ان کی مذمت کی؟ حکومت وقت  نے ان کے اور ان  کی جماعت کے خلاف کیا کارروائی کی تھی؟ کیا آپ کی نظر میں خلیق الزماں‘ سہروردی ‘ فضل الحق اور الطاف حسین غدار ہیں؟  کیا آپ نے اتنی ہی ناگواری سے الطاف حسین کو ہندوستان منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا؟  کیا آپ اپنا علیحدہ ملک بنانے پر بنگالی مسلمانوں کو غدار سمجھتے ہیں؟ اور ہاں چودھری رحمت علی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟  ان کے مطابق 3 جون کا تقسیم ہند کا منصوبہ  قبول کرکےمسلم لیگ نے  عظیم غداری کا ارتکاب کیا تھا۔ انہوں نے جنا ح صاحب  کے بارے میں جو زبان  استعمال کی تھی وہ میں یہاں نقل کرنے سے قاصر ہوں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناح صاحب تقسیم ہند کامطالبہ زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنے کے لئے کیا تھا لیکن صورت حال ان کے ہاتھ سے نکل گئی۔  اسی لئےبہت سے لوگ  تقسیم ہند کا الزام نہرو کو دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے ایک ایسا بیان دیا جو تقسیم ہند پر منتج ہوا۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

آپ نے وجاہت مسعود صاحب پر بھی ایک فتویٰ جڑ دیا ہے۔ کیا انہیں مضامین شائع کرنے سے پہلے آپ کی منظوری حاصل کرنی چاہیئے؟ کیا پورے ملک پر سینسر شپ لاگو کردینی چاہیئے؟ آپ اس طرح کے مضامین کے علاوہ کن چیزوں پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں؟ چودھری خلیق الزمان‘ سردارشوکت حیات ‘ سردارابرہیم اور عاشق حسین بٹالوی کی کتابوں پر بھی پابندی ہونی چاہیئے؟  فریڈم اَیٹ مِڈنائٹ کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے؟ کیا ہندوستانی فلموں‘ کتابوں اورموسیقی پر بھی پابندی ہونی چاہیئے؟ آپ کے نزدیک dissent   کا کیا مفہوم ہے اور کیا تمام ملکوں میں اس جرم کا ارتکا ب کرنے والوں کو قابل گردن زدنی سمجھتے ہیں؟ آپ ارون دھتی رائے ‘ نوم چومسکی اور شلومو زینڈ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے shakil.chaudhary@gmail.com )

shakil-chaudhari has 5 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari

11 thoughts on “سید انور محمود کی خدمت میں چند گزارشات

  • 15-04-2016 at 11:17 pm
    Permalink

    محترم و مکرم شکیل صاحب،
    آپ نے آزادئ رائے اور اس کے اظہار کے حامی اپنے ہم وطنوں کا مقدمہ بہت خوبی اور دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے، میری دعا ہے آپ اپنے برقیاتی قلم (کی بورڈ) کو بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اسی طرح کام میں لاتے رہیں

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔۔!!!

  • 16-04-2016 at 2:45 am
    Permalink

    Patriotism . The false God. Well articulated piece . Congratulations.

  • 16-04-2016 at 4:40 am
    Permalink

    شکیل چوہدری صاحب
    جواب کا انتظار فرمایے

    • 16-04-2016 at 7:27 am
      Permalink

      سیدانور محمود صاحب‘
      میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ ہوسکتا ہے آپ کومیراجواب الجواب پڑھنےکی تکلیف اٹھاناپڑے۔ عمرگزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں۔ اس لئے اپنے دلائل میں جھول نہ چھوڑئے گااور پہلے جیسی زبان سے احتراز کیجئےگا۔ اگرممکن ہوتواپنا مضمون اشاعت کے لئے بھجوانے سے پہلے اس کے بارے میں کسی اہل علم کی رائے لے لیجئے گا۔ شکریہ۔

  • 16-04-2016 at 8:31 am
    Permalink

    شکیل چودھری صاحب جب تک سید انور محمود صاحب جواب لکھنیں میں مصروف ہیں آپ غالب کے اس شعر پر عمل کیجیے اور سمجھیے کہ یہ اسی موقع کیلیے لکھا گیا ہے.
    “قاصد کے آتے اتے خط اک اور لکھ رکھوں
    میں جانتا ہوں وہ جو لکھیں گے جواب میں”

  • 16-04-2016 at 9:54 am
    Permalink

    شکیل چوہدری صاحب
    آپکے مضمون کا جواب ارسال کردیا ہے، آپکا جواب الجواب بھی پڑھ لینگے، جہاں تک دلائل کی بات ہے جو سچ ہے وہ لکھ دیا ہے اور یہ تو آپکو پتہ ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے، جناب میرئے لیے ممکن نہیں کہ کسی اہل علم سے رائے لوں، کیونکہ ان کی رائے کے بعد مضمون پھر میرا نہیں رہے گا، آپ ہیں نہ اہل علم کافی ہے۔ شکریہ

  • 16-04-2016 at 11:51 am
    Permalink

    بھئی واہ

  • 16-04-2016 at 1:46 pm
    Permalink

    acha nahi lag raha itnay muazziz ashkaas ooper talay k behn bhaiyon ki tarah lar rahay hain…

    • 17-04-2016 at 11:47 am
      Permalink

      مائدہ محمود صاحبہ‘
      میں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن براہ مہربانی ہم دونوں کے دلائل اورطرر استدلال کا ایک غیرجانبدارانہ موازنہ ضرور کرلیجئے گا۔ اس سےآپ کو اندازہ ہوگا کہ کس کے دلائل میں کتنا وزن ہے۔ انور صاحب چاہتے ہیں کہ سب لوگ تاریخ کو اسی نظرسے دیکھیں جس سے وہ دیکھتے ہیں۔ ہر وہ شخص انہیں برا لگتا ہے جو تاریخ اور مطالعہ پاکستان کے نام پروطن عزیز میں جاری برین واشنگ کے بارے میں کوئی سوال اٹھائے۔ ان کےنزدیک مستند ترین تاریخ دان ریٹائرڈ بیوروکریٹ صفدرمحمود صاحب ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے تاریخ دان صفدر صاحب کو تاریخ دان تسلیم کرتے ہیں؟ انہیں اگر پھر بھی صفدر صاحب کی صلاحیتوں پر اتنا اعتماد ہے توان سے میرے سوالات کے جوابات لے دیں۔ میں ان کا انتہائی ممنون ہوں گا۔

    • 18-04-2016 at 3:40 am
      Permalink

      محترمہ مائدہ محمود صاحبہ
      سب سے پہلے توعرض یہ ہے کہ کہ مجھ میں اور شکیل چوہدری صاحب میں قطعی کوئی جھگڑا نہیں، بس سوچ کا فرق ہے، تین دن پہلےتو میں انہیں جانتا بھی نہیں تھا۔ بقول انکے میں نے صرف درسی کتابیں پڑھی ہوئی ہیں جبکہ چوہدری صاحب اس قدر زیادہ پڑھ گئے ہیں کہ بانی پاکستان محمد علی جناح کو غلط کہنے میں بلکل عار محسوس نہیں کرتے ،جہاں زیادہ برا کہنا ہوتا ہے تو پھر اپنی ڈمی آئی ڈی سے کام لیتے جیسے کہ میرئے خلاف استمال کرتے ہوئے اپنی ایک ڈمی آئی ڈی کے زریعے فرمایا:
      سید انور محمود کے نام: منجانب: ارشد محمود
      قائد اعظم کی ایک سو بے وقوفیاں گنوائی جاسکتی ہیں۔ اب انہیں داڑھی والی مقدس ہستی گناہ اور خطا سے پاک کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ صرف منٹو کا وہ مضمون ہیں پڑھ لیں۔ جو قائد اعظم کے اوپر لکھا ہوا ہے۔۔ قائد اعظم ایک ایسے شخص کو اپنا ڈرائور بھرتی کرلیتے ہیں۔۔۔جو ڈرائونگ ہی نہیں جانتا۔۔۔۔ اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے؟

      چوہدری صاحب پاکستان کے بدترین مخالف مولانا ابو کلام آزاد کے بہت بڑئے مداح ہیں، میں نے اپنے مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صفدر محمود سے جڑی ایک بات کا تذکرہ کیا تھا جس میں انہوں نے ابوکلام آزاد کو کانگریس کا شوبوائے کہا تھا، اس لیے اب جن محترم شکیل چوہدری صاحب کو شاید 10 افراد نہیں جانتے، وہ ڈاکٹر صفدر محمود سے جواب مانگ رہے ہیں، اپنے آپ کو دانشور اور اہل علم کہنے والے شکیل چوہدری صاحب اسقدر متعصب ہیں کہ وہ ڈاکٹر صفدرمحمود صاحب کو ڈاکٹر لکھنا بھی پسند نہیں کرتے ، وہ انہیں ‘‘ریٹائرڈ بیوروکریٹ صفدرمحمود صاحب’’ لکھ رہے ہیں، افسوس میں نے پہلے دن سے آجتک چوہدری صاحب سے ایک ہی سوال کیا ہے کہ ‘‘کیا محمد علی جناع ایک بیوقوف انسان تھے اور ساری عقل مولانا آزاد کے پاس تھی؟’’ چوہدری صاحب بہت کچھ فرماتے ہیں لیکن اس سوال کا جواب نہیں دیتے۔

      برحال آپکے ایک لاین کے تبصرئے کاشکریہ، اب کچھ مت لکھیے گا ورنہ شکیل چوہدری صاحب آپکے خلاف بھی ایک تحقیقی مقالہ لکھ ڈالینگے اور اس میں پوری کوشش کرینگے کہ جناح صاحب کو کچھ برا بھلا کہیں اور اپنے ممدوع ابو کلام آزاد کی تعریف کرلیں۔
      آپکا بہت بہت شکریہ۔

  • 20-04-2016 at 12:22 am
    Permalink

    سیدانورمحمودصاحب‘ لگتا ہے کہ آپ اس مقولے پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جھوٹ بارباربولاجائے تو لوگ اسے سچ سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں نے جعلی آئی ڈیز بناکرآپ کی توہین کی؟ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ آپ مولانا آزاد کو کیوں پاکستان کا بدترین مخالف کہتے نہیں تھکتے۔ کیا جناح صاحب سے اختلاف کرنا گنا ہ کبیرہ تھا؟مولانا آزاد کا جرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ تقسیم ہند مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ثا بت ہوگی۔ کیا ہندوستان میں رہ جانے والے مسلم لیگیوں کو بھی اگست ۱۹۴۷میں اس بات کا احساس نہیں ہوگیا تھا؟ کیا چودھری خلیق الزمان نے اپنی سوانح عمری میں اسی طرح کی بات نہیں کی ہے؟

    میں نے یہ کہا تھا کہ چونکہ آپ میرے سوالوں کا جواب نہیں دے سکے اور آپ ڈاکٹرصفدرمحمود کے بہت بڑے مداح ہیں توان سے میرے سوالات کے جوابات لے دیں۔ اس میں کیا غلط بات ہے؟ کیا میں نے کوئی گستاخی کی؟ جہاں تک انہیں ڈاکٹر نہ لکھنے کو تعلق ہے تو یہ سہواًہو۔ اس کا تعصب سے کوئی تعلق نہیں۔

    آپ کی یہ بات کہ مجھے دس لوگ بھی نہیں جانتے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ براہ مہربانی ایسی باتیں لکھنے سے پہلے ذراغوروخوض کرلیا کریں ورنہ کوئی آپ کو سنجیدگی سے نہیں لے گا۔

Comments are closed.