پاکستان کی مبہم اور کمزور خارجہ پالیسی


edit

ایک ہفتہ کے دوران پاکستان کی وزارت خارجہ کے دو اعلیٰ نمائندوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دو مختلف بیانات دئیے ہیں۔ اس دوران ملک کی سیاسی قیادت اور امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ اس طرح اہم ترین ہمسایہ کے حوالے سے غیر واضح اور مبہم پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے وسیع تر مفادات کے لئے سود مند نہیں ہو سکتی۔ ملک میں وزیر خارجہ کی کمی شدومد سے محسوس کی جاتی ہے لیکن جب بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور دوریاں موجود ہوں تو ان سے نمٹنے کے لئے جو سیاسی و سفارتی مہارت درکار ہوتی ہے، کل وقتی اور باصلاحیت وزیر خارجہ کے نہ ہونے سے ملکی و قومی مفادات پر موثر آواز سامنے نہیں آتی۔ اس کا مظاہرہ مارچ کے شروع میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھی ہوا۔ یہ ایک اہم گرفتاری تھی اور اس کے بعد پاکستانی حکام نے ملک میں بھارتی خفیہ ایجنسی کا نیٹ ورک توڑتے ہوئے کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ لیکن عالمی سفارتی سطح پر پاکستان، بھارت کا چہرہ بے نقاب کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کل اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران اس تاثر کو مسترد کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے لئے مذاکرات معطل ہو چکے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنوری میں پٹھان کوٹ حملہ کے بعد دونوں ملکوں کے سیکرٹری امور خارجہ کے درمیان مجوزہ ملاقات کا شیڈول بنانے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان رابطہ ختم ہے اور ان کے درمیان اس حوالے سے مواصلت موجود نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے وزارت خارجہ مسلسل ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ رابطے کس سطح اور کس نوعیت کے ہیں لیکن وزارت خارجہ کے اس بیان کے ذریعے دراصل بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کے اس بیان کی تردید کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو انہوں نے نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے اتنے واضح ثبوت سامنے آنے کے بعد پاکستان کا موقف درست ثابت ہوا ہے۔ ان حالات میں دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات فی الوقت معطل ہیں۔ سیکرٹری امور خارجہ کے درمیان مجوزہ ملاقات کے لئے ابھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ ان دونوں بیانات سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد کی کمی ہے اور وہ بوجوہ اس خلیج کو پاٹنے اور طے شدہ جامع مذاکرات کے لئے پیش رفت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لیکن ایک ہفتہ کے وقفے سے وزارت خارجہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں کی طرف سے اس بارے میں متضاد بات کرنے سے اسلام آباد کی غیر واضح پالیسی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف ہی وزارت خارجہ کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن انہوں نے بوجوہ بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔

اس کے برعکس آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دو روز قبل گوادر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی روشنی میں پاکستان میں تخریب کاری سے متعلق بھارتی کارروائیوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ دشمن کے ان عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ آرمی چیف نے بھی اشارہ دیا تھا اور بعد میں اسلام آباد کے حکام نے بھی یہ بتایا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے صدر دفتر میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو ہر قیمت پر ناکام بنانے کے لئے ایک خصوصی شعبہ قائم کیا گیا ہے۔ یہ قیاس کر لینا کہ کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد بھارت کے پالیسی ساز اچانک اپنی حکمت عملی کو تبدیل کر لیں گے، خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ اگرچہ پراکسی وار کے ذریعے کسی ملک میں بدامنی کے حالات پیدا کرنا بھی جنگ ہی کی ایک قسم ہے۔ کوئی بھی دور اندیش قیادت دشمن ملک کے ایسے اقدامات کو اس پر دباﺅ بڑھانے اور مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ گزشتہ چار سے چھ ہفتوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان سفارتی محاذ پر بری طرح ناکام ہے۔ اول تو پاکستان، بھارت کے مقابلے میں دنیا میں تنہا ہو چکا ہے۔ عالمی لیڈر بھارت کو زیادہ قابل اعتبار ساتھی تسلیم کرنے لگے ہیں جبکہ پاکستان کے بارے میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے اور افغان طالبان کے حوالے سے غیر واضح حکمت عملی اختیار کرنے کا تاثر عام ہے۔ عالمی دارالحکومتوں میں یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے افغان طالبان مذاکرات سے گریز کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر نے حال ہی میں یہ بیان دیا ہے کہ پاکستان کو اب بھی افغان طالبان پر اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ انہیں حکومت سے مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے افغان حکومت کا یہ تاثر غلط فہمی یا ناقص معلومات کی بنیاد پر قائم ہو۔ لیکن پاکستان اس تاثر کو زائل کرنے یا طالبان کو گوریلا جنگ ختم کر کے مذاکرات پر آمادہ کرنے میں ناکام ہے۔ ایسے ہر مرحلہ پر پاکستانی وزارت خارجہ کی کارکردگی پر سوال اٹھتا ہے۔

ملک کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ نواز شریف ایک تو داخلی معاملات ، سیاسی چیلنج اور بدعنوانی کے نئے الزامات کی وجہ سے شدید دباﺅ میں ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ علیل بھی ہیں اور بغرض علاج ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے لندن پہنچنے پر ایک سوال کے جواب میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے غیر واضح اور مختصر جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملک مسلسل حالت جنگ میں نہیں رہ سکتے۔ انہیں بات چیت کرنے اور کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اقدام کرنا ہو گا۔ یہ ایک گھڑا گھڑایا بیان ہے جو گزشتہ 60 برس سے کسی نہ کسی صورت جاری ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اس تعطل کو توڑنے کے لئے علاقائی یا عالمی سطح پر کیا اقدامات کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان سے لے کر وزیراعظم / وزیر خارجہ تک کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ یا کم از کم وہ لوگوں کو اس پر اعتماد میں لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وزیراعظم کے اس بیان کی تائید البتہ ان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے بھی کی ہے کہ پاکستان اور بھارت ہمیشہ کے لئے دشمن نہیں رہ سکتے۔ اس طرح یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت بھارت کے ساتھ امن کے حوالے سے اس اصول پر متفق ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ جنرل جنجوعہ کو اکتوبر میں وزیراعظم کا مشیر برائے امور قومی سلامتی نامزد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مشیر قومی سلامتی اجیت دوول کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے یہ مشیر بیرون ملک ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں اور ہر بحرانی صورتحال میں وہ ٹیلی فون پر بات بھی کرتے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھی ایسے رابطے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جنرل ناصر جنجوعہ کو سیاسی حکومت میں فوج کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ اس حد تک تو فوج اور سیاسی قیادت میں اشتراک ہے لیکن مزید پیش رفت کے حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔

اس دوران منگل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے ہندواڑا میں ایک سترہ سالہ لڑکی کے ساتھ ایک بھارتی فوجی کی جنسی زیادتی کے واقعہ کے بعد ریاست میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کی جس میں ایک بوڑھی عورت اور تین نو عمر لڑکے جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے ظلم کا شکار بننے والی لڑکی کو حفاظتی حراست میں لے لیا ہے۔ اس اقدام پر بھی کشمیری لیڈر اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں سخت ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔ تاہم پاکستان کی طرف سے اس اشتعال انگیز اور غیر انسانی صورتحال کی بنیاد پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ پاکستان نے مسلسل کشمیر کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور اور بھارت کے ساتھ تعلقات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے حالات پر صرف قومی سطح پر نعرے لگانے کا ردعمل ہی سامنے آتا ہے۔ صورتحال کو وسیع تر قومی مقاصد حاصل کرنے کے لئے کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی۔

گزشتہ دسمبر میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی غیر اعلانیہ دورے پر اچانک لاہور پہنچے تھے۔ دونوں ملکوں کے لیڈروں نے اس موقع پر جامع مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور وزارت خارجہ کے سیکرٹریز کی ملاقات طے پائی تھی۔ اس اعلان کے ہفتہ عشرہ بعد 2 جنوری کو پٹھان کوٹ میں بھارتی ائر بیس پر دہشت گرد حملہ ہوا جس میں 6 حملہ آور اور 8 بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت نے پاکستان پر براہ راست الزام تو عائد نہیں کیا لیکن وہاں عام طور سے پاکستانی گروہ جیش محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو اس کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ اس واقعہ کی تحقیق میں مدد دینے کے لئے جب پاکستانی جے آئی ٹی JIT نئی دہلی جانے والی تھی تو پاکستان میں کلبھوشن یادیو پکڑا گیا۔ اس سے قبل 2008 میں ممبئی حملوں کا الزام حافظ سعید اور لشکر طیبہ پر عائد ہوتا ہے۔ پاکستان بدستور جیش محمد اور لشکر طیبہ کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کرتا رہا ہے۔ حافظ سعید کو قومی سطح پر اہم مذہبی لیڈر کی حیثیت حاصل ہے اور کسی بھی قومی آفت کے موقع پر جماعت الدعوة کی فلاحی تنظیم سب سے پہلے امدادی کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔

ان حالات میں پاکستان کے ان اعلانات کے باوجود کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور قبائلی علاقوں میں ضرب عضب کی کامیابیوں کے باوجود عالمی سطح پر سفارتی اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہو رہی۔ پاکستانی حکومت ملک میں موجود بھارت میں جنگی کارروائیوں کی حمایت کرنے والے اور دہشت گردی میں ملوث گروہوں کے خلاف ویسی ہی پالیسی اختیار کرنے میں ناکام ہے جو تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں اختیار کی گئی ہے۔ اس لئے عالمی مبصر اور صحافی اسلام آباد کی دہشت گردی کے بارے میں حکمت عملی میں یکسوئی تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اب ملک کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار یہ نہیں جانتے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا عمل معطل ہے یا رابطے بحال ہیں اور امید باقی ہے۔ پاکستان کی پالیسی اور عملی اقدامات کے بارے میں کنفیوژن اور تضادات کو ختم کئے بغیر نہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پیش رفت ممکن ہے اور نہ دنیا پاکستان کے خلاف بھارتی تخریب کاری پر پوری طرح یقین کرنے کے لئے تیار ہو گی


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “پاکستان کی مبہم اور کمزور خارجہ پالیسی

  • 16-04-2016 at 2:53 am
    Permalink

    بہت خوب

  • 16-04-2016 at 6:12 pm
    Permalink

    گرامی القدر وزیر اعظم نواز شریف صاحب سے کسی بیدار مغزی کی توقع عبث ہے آپ اُن کے فرائض سے قطع نظر رکھیں تب بھی حالات اُنہیں کی ذاتِ بابرکات کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ شکریہ

Comments are closed.