مردہ لینن اور زندہ پوتن، دونوں مہنگے


 mujahid mirzaچند روز پیشتر حکومت روس نے لینن کے محفوظ جسد کو برقرار رکھنے کے عمل کی خاطر امسال دو لاکھ ڈالر کی منظوری دی ہے۔ لینن کا انتقال 21 جنوری 1924 کو ہوا تھا۔ ماسکو کے لال چوک میں کریملن کی دیوار کے ساتھ “مزار لینن” ہے، مخصوص دنوں میں جس کے اندر سیڑھیاں اتر کر انتہائی خاموشی اور پراسرار سی روشنیوں میں سوٹ میں ملبوس ان کے جسد کو شیشے کے تابوت میں لٹایا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ لینن کی لاش کو دفنانے کا تقاضا کئی بار کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب لینن کی لاش کو محفوظ رکھنے پر مامور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فراعین مصر کی ممیوں کی مانند پٹیوں میں لپیٹے بغیر، ان کی لاش کو جب تک چاہیں محفوظ رکھا جا سکتا ہے جو ایک سائنسی کارنامہ ہے۔ لاش کو دفنائے جانے کا فیصلہ کرنا ایک سیاسی معاملہ ہے تاہم ایسا کرنے سے ایک بڑی سائنسی کامیابی بھی سپرد خاک ہو جائے گی۔

اس کے برعکس روس کے موجودہ سربراہ صدر ولادیمیر پوتن نے 14 اپریل کو دن کے بارہ بجے سے روس کے لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ ان کا ایسا “شو” پہلی بار نہیں بلکہ چودھویں بار ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر براہ راست پیش کیا گیا تھا۔ صدر روس ہر بار اس شو میں پہلے سے زیادہ وقت بیٹھ کر جواب دیتے ہیں۔ یہ باقاعدہ براہ راست شو ہوتا ہے۔ اس کے لیے دو ہفتے پہلے ایک پورا انفراسٹرکچر ترتیب دیا جاتا ہے۔ ایک خصوصی کال سنٹر بنایا جا تا ہے جس میں درجنوں آپریٹر لڑکیاں لوگوں کے آڈیو وڈیو سوالات ریکارڈ کرتی ہیں۔ سوالات ویب سائٹ پر بھی کیے جا سکتے ہیں اور ٹیلیفون پر بھی ریکارڈ کروائے جا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے ملک بھر سے سوالات موصول ہوتے ہیں 27ECE44600000578-3053265-image-m-8_1429837718718مگر سوالات کے کئی میدان متعین ہیں جیسے کہ مجھے روس سے اردو زبان کی سرکاری معلوماتی ویب سائٹ بند کیے جانے سے متعلق سوال کرنا تھا لیکن آئی ٹی سے متعلق سیکشن نہیں تھا چنانچہ مجھے فارن افئیرز کا خانہ چننا پڑا۔ دور کے کئی مقامات پر سب سے بڑے حکومتی ٹی وی چینل کے نمائندے بھی مخصوص لوگوں کو جمع کرکے ان سے براہ راست سوال لیتے ہیں۔ لاکھوں سوالات میں سے ایک خصوصی ٹیم سوالات منتخب کرتی ہے جن کے جواب صدر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ میرا سوال منتخب نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میں بحیثیت روسی شہری امور خارجہ سے متعلق سوال کرنے والا کون ہوتا ہوں یا ممکن ہے اس ٹیم نے اس معاملے کو اتنا اہم سمجھا ہی نہ ہو۔

 یہ تقریب کس طرح سے “شو” ہے؟ اس لیے کہ اس میں باقاعدہ شو کی طرح پہلے اینکر پرسن تمہید پیش کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ اب آپ کے سامنے تشریف لاتے ہیں صدر روس ولادی میر ولادیمیر پوتن جو ایک کونے سے نمودار ہوتے ہیں۔ انہیں ہال کے شروع میں موجود پریزنٹر پہلے ایک ٹیبل کے پاس لے جاتا ہے تاکہ بتائے کہ یہ سارا عمل کیونکر کام کر رہا ہے۔ اس بار اس کمپیوٹر پر بیٹھی ہوئی لڑکی کا بننا ٹھننا باقی آپریٹر لڑکیوں سے بہتر اور زیادہ سٹائلش تھا۔ وہ اس پر براہ راست وڈیو سوال لے رہی تھی۔ ایک دور کے شہر میں ایک لڑکی سوال rian_00782052.hr.enکرنے کے لیے پہلے سے ہی ٹوٹی ہوئی سڑکوں کے نزدیک جا کر کھڑی ہوئی تھی۔ سوال سننے کے بعد صدر استفسار کرتے ہیں “یہ میری بات سن سکتی ہے؟” اینکر پرسن بتاتی ہے جی ہاں۔ وہ اس کے سوال کا تفصیلی جواب دینے لگتے ہیں۔ اس اثناء میں دو قدم پر بیٹھی ہوئی آپریٹر لڑکی ہنس ہنس کر کسی اور سے بھی باتیں کیے جا رہی ہے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ صدر آپ کے پاس کھڑا جواب دے رہا ہو اور آپ کام کیے جا رہی ہوں؟ ممکن ہے بھئی کہ کوئی ایسی ٹکنالوجی ہو یا تکنیک۔

اب صدر محترم پوڈیم پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں ایک مرد اور ایک خاتون اینکر پرسن ان کے سامنے براجمان ہو جاتے ہیں۔ دو تین اینکر پرسن خواتین مائیک پکڑے حاضرین میں گھوم رہی ہیں۔ حاضرین ظاہر ہے منتخب کردہ لوگ ہیں یا مشاہیر و معززین۔ ساڑھے تین چار گھنٹوں کے اس پروگرام میں صدر اور صدر کی انتظامیہ کے خلاف ایک بھی بات نہیں ہوتی۔ عمومی مسائل کا صدر محترم گول مول جواب دیے چلے جاتے ہیں۔ کبھی کبھار حکومتی عمّال کو، جو کسی مسئلہ کے مبینہ طور پر ذمہ دار قرار پاتے ہیں، سخت لہجے میں ہدایات بھی دے دیتے ہیں اور ہلکا سا دھمکا بھی دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلّٰا۔ اس شو پر کوئی کم لاگت نہیں آتی۔ ملک کے سب سے بڑے ٹی وی چینل کا پورا عملہ ایڑیوں کے بل کھڑا گھوم یا بھاگ رہا ہوتا ہے۔

00001

روس کی معروف ملکہ عظمٰی کا پوتومکین نام کا ایک وزیر اعظم ہوا کرتا تھا۔ ملکہ معظمہ دریائے والگا میں تیرتے شاہی بجرے سے ملک میں خوشحالی کا نظارہ کرنا چاہتی تھیں۔ خوشحالی ہوتی تو دکھائی دیتی لیکن پوتومکین بھی آخر وزیر باتدبیر تھے۔ انہوں نے ساحل کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر گتے کی عمارتیں کھڑی کروا دیں۔ لوگوں کو اچھے اچھے ملبوسات پہنا کر گتے کی بستیوں کی گلیوں میں خوش و خرم گھومنے اور ملکہ کے سامنے کورنس بجا لانے اور پھول اچھالنے پر مامور کر دیا۔ ملکہ خوش ہو کر سینٹ پیٹرزبرگ لوٹ گئیں تو پوتومکین صاحب نے گتے کے شہر سمٹوا دیے یوں “پوتومکین بستیاں” ایک تاریخی محاورہ بن گئیں مگر ہمارے صدر موصوف تو صدر محترم ہیں وہ پوتومکین بستیوں کا کھیل نہیں کھیلتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں کہ حالات “سرمئی” ہیں۔ نہیں سمجھے نا آپ، تو سمجھائے دیتے ہیں روس میں کہا جاتا ہے کہ افراد اور اقوام کی زندگیوں میں روشن اور تاریک ادوار آتے ہیں اس سوال پر کہ کیا ملک کی زندگی میں روشن دور ہے یا تاریک پوتن صاحب نے فرمایا کہ حالات نہ روشن ہیں نہ تاریک بس ملگجے ہیں یعنی سرمئی۔

روس میں اب سوویت یونین والی مبینہ ہمہ گیر آمریت نہیں ہے، حالانکہ سوویت یونین میں سٹالن کے بعد خروشچیف نے ٹوٹیلیٹیرین ازم کو لپیٹ دیا تھا۔ برزنیف کے عہد میں ہمہ گیر آمریت رہی ہی نہیں تھی اور برزنیف کے بعد تو ویسے ہی معاملات اور طرح کے ہونے لگے تھے، AP_22303873182-580x394مگر اب بھی روس میں امریکہ یا برطانیہ والی جمہوریت نہین ہے کیونکہ ” ہو از پوتن؟” نے اقوام مغرب کو بتا دیا تھا کہ میاں جمہوریت اپنی اپنی طرز کی۔ اپنی طرز کی جمہوریت ہم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ یوں پوتن صاحب ہر معاملے پر ٹی وی پر ایک “شو” ہر دوسرے تیسرے روز کرتے ہیں۔ کسی وزیر کی کھنچائی ، کسی گورنر کی دھلائی، کسی وزیر یا گورنر کی حوصلہ افزائی۔ یہ سب کچھ خاص طور پر ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ لوگوں کے لیے “پوتومکین تھیٹر” ہوتا ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ تو سالانہ شو میں 14 اپریل کو دکھائی دے گیا کہ سخالین کے جزیرے پر کارخانے کے مزدور کئی ماہ سے تنخواہوں کے بغیر پھنسے ہوئے، تنخواہ نہیں ہوگی تو کام بھی نہیں چھوڑ سکتے اور جزیرہ چھوڑنے کے لیے بحری جہاز کا ٹکٹ بھی نہیں لے سکتے۔ بارہ ہزار روبل پنشن میں ہوم سروسز کے چھ ہزار ادا کر دیں تو بڑھاپے کے امراض کی ادویات کہاں سے لیں؟ اس بار تو ایک “مرد حر” بھی پتہ نہیں کس طرح نقب لگانے میں کامیاب ہو گیا جس نے سوال کر دیا کہ “ولادیمیر ولادیمیرووچ آپ آخر کب امرا سیاست مداروں کی بھلائی کا کام چھوڑ کر عوام کی بھلائی کے لیے کام کریں گے؟”۔ اس بیچارے کی “منحوس شکل” جلدی سے ٹی وی سکرین سے ہٹا دی گئی اور صدر نے جواب کی بجائے سوال کر دیا کہ “میں نے عوام کے لیے کیا کچھ کم کام کیے ہیں؟” بھائی یہاں مردہ لینن بھی مہنگا اور زندہ پوتن بھی مہنگا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مردہ لینن اور زندہ پوتن، دونوں مہنگے

  • 16-04-2016 at 2:59 am
    Permalink

    🙂

Comments are closed.