نمائش چورنگی کو مسمار کرنے کی ضرورت ….


usman ghaziعثمان غازی

کراچی کی نمائش چورنگی لادین اور ایک سازشی چورنگی ہے، اپنے اطوارسے یہ ترقی پسند بھی لگتی ہے۔ محرم میں یہ چورنگی امام بارگاہ بن جاتی ہے اورربیع الاول میں یہاں حق چاریار کے نعرے لگتے ہیں۔
اس چورنگی کی خاص بات یہاں کا حدود اربع ہے، ایک جانب عالمی مجلس ختم نبوت کی مسجد سنیوں کے جذبات کو جلابخش رہی ہے تو اس کے بالکل سامنے خراسان کا علاقہ اہل تشیع آبادی کو آغوش میں لئے ہوئے ہے۔
نمائش چورنگی کاسب سے خاص مقام نمائش چورنگی ہی ہے، اگر کبھی نمائش چورنگی کی آزادخیالی ، لادینیت اور سازشی ذہنیت پر کوئی مقدمہ چلاتویہاں کے حالات واقعات کے سب سے بڑے گواہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ہوں گے، ان کامزارنمائش چورنگی کے بالکل ساتھ واقع ہے،اس مزار کے اطراف تتلیاں وافرمقدارمیں پائی جاتی ہیں، کالے برقعوں میں ملبوس ان تتلیوں کو آپ انہیں قائداعظم کاسب سے بڑاعقیدت مند مت سمجھ لیجئے گا۔ یہ روز یہاں آتی ضرور ہیں مگر مناسب قدر دان ملنے کی صورت میں یہ تتلیاں اپنے اپنے چمن کا رخ کرلیتی ہیں
نمائش چورنگی اور احتجاجی مظاہروں کاچولی دامن کاساتھ ہے، آپ اسے قاہرہ کے التحریراسکوائر یا استنبول کے تقسیم اسکوائر سے تشبیہ دے سکتے ہیں،اس چورنگی کا دل بہت وسیع ہے، یہاں کوئی بھی سیاسی ومذہبی جماعت گلے پھاڑ جلسے کرے، دھرنے دے یا پھر چورنگی کی سڑک ہی کواحتجاج کے لیے بند کردے، چورنگی ذراسابھی چوں نہیں کرتی۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ نمائش چورنگی سب کے باپ کی جاگیر ہے۔
539367a70e717چودہ اگست کو یہاں سندھی قوم پرستوں کی …. مردہ بادریلی سے لے کر دس محرم کو عاشورہ کا جلوس روایتی جوش وخروش کے ساتھ نکلتے ہیں۔
نمائش چورنگی کے موسم میں ایک عجیب تاثیر ہے، جب کسی احتجاجی مظاہرے، ریلی یاجلوس کے شرکا یہاں سے گزرتے ہیں تو ان کے نعروں میں جان پڑجاتی ہے، اگرریلی یا جلوس دور سے آرہا ہے اور شرکا تھکے ہوئے ہیں تو نمائش چورنگی پہنچنے پر ان کے قدموں میں تیزی آجاتی ہے، یہ چورنگی احتجاجیوں کو ایک خاص توانائی فراہم کرتی ہے
کسی زمانے میں نمائش چورنگی سے نشترپارک کا نام ذہن میں آتا تھا، کراچی کی دیواروں پر آج بھی کئی دہائیوں پہلے کے لکھے ہوئے چلوچلونشترپارک چلوکے نعرے اس بات کابین ثبوت ہیں کہ نشترپارک نمائش چورنگی کاایک مقبول احتجاجی مرکزتھا۔
نشترپارک میں ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر الطاف حسین نے خطاب کیا، ایم کیوایم کا نقطہ آغاز یہی نشتر پارک تھا، اب لاکھوں کو اپنے قلب میں سمونے والا نشترپارک رفتہ رفتہ سکڑ گیا ہے یا پھر وہ پہلے سے سکڑا ہواتھااور اس زمانے کے لاکھوں افراد پھنس پھنسا کرپارک میں ایڈجسٹ ہوتے تھے، بہرحال نشتر پارک کی جگہ اب نمائش چورنگی کے جناح گراونڈ نے لے لی ہے،جناح کے مزارکے سامنے جناح گراونڈ میں سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کامظاہرہ ایسے کرتی ہیں جیسے جناح کوچیلنج کررہی ہوں کہ مقبولیت کسی کی اجارہ داری نہیں ہے، دیکھو ہم بھی کتنے مقبول ہیں
نمائش چورنگی کی ایک خاص بات یہاں کے دسترخوان بھی ہیں۔ صبح شام یہاں مفت کھانا تقسیم ہوتاہے۔ چورنگی کے اطراف میں ہر طرح کے مستحق افراد مرغ مسلم اور دیگر مرغن کھانوں سے سے بخوبی استفادہ کرتے ہیں۔ کھانے کے اوقات میں تو نمائش چورنگی بالکل ایک روایتی ہوٹل کا منظرپیش کرنے لگتی ہے جہاںسے اٹھنے والی اشتہاانگیز خوشبوئیں سفید پوشوں کے چلتے قدموں کو بھی روک دیتی ہیں۔
نمائش چورنگی میں ایک عالمگیریت ہے،صومالیہ میں بھوک سے بچے مریں یا بوسنیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہو، نمائش چورنگی پر ضرور احتجاج ہوتاہے
عبدالستارایدھی اپنے بھیک مشن کے لیے اسی نمائش چورنگی کا انتخاب کرتے ہیں اور نمائش چورنگی کے راہ گیر گھنٹوں میں لاکھوں روپے ایدھی کی جھولی میں ڈال کر یوں رفوچکر ہوجاتے ہیں کہ پہچان نہ لیے جائیں
نمائش چورنگی پاکستان کی سب سے بدتمیز چورنگی ہے، یہ ناہنجار ہرشخص کو اپنے سینے پر مونگ دلنے دیتی ہے، نہ شیعہ دیکھتی ہے اورنہ سنی کی شناخت کرتی ہے، اس چورنگی کی حمیت اور غیرت مرچکی ہے، جیالے ’دلا تیر بجا….‘ پرلیاری کا مخصوص رقص کریں یا حق پرست مظلوموں کاساتھی ترانے پردھمال ڈالیں، یہ چورنگی سب کے لیے اپنی بانہیں واکردیتی ہے۔ نمائش چورنگی ایک دہریہ چورنگی ہے، یہ بیک وقت مسجد، مندر اورچرچ بن کر اترا رہی ہے۔ یہاں پر پاکستان مردہ باد کانعرہ بھی لوگ ایسے لگاتے ہیں جیسے نمائش چورنگی ہندوستان کا حصہ ہو۔ یہ چورنگی پاکستان اور اسلام کے لیے بہت بڑاخطرہ بن چکی ہے۔ نمائش چورنگی کو مسمار نہ کیا گیا تو رواداری کی یہ وبا ملک بھرمیں پھیل سکتی ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “نمائش چورنگی کو مسمار کرنے کی ضرورت ….

  • 18-01-2016 at 4:40 pm
    Permalink

    ایک اچھی تحریر، میں ایک خواب دیکھتا ہوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ نمائش چورنگی پر مزارِ قائد کے راؤنڈ اباؤٹ پر پانچ سمتی مینار قائم کیا جائے۔ جس کی ایک سمت قرآنی آیات اور حدیث کے تراجم ہوں، ایک جانب سندھی بلوچی، پشتو، ہزارہ اور دیگر زبانوں میں امن کا پیغام ہو۔ ایک جانب نہج البلاغہ کے اقتباسات ہوں۔ چوتھی سمت میں پاکستان بنانے والے ہندو، پارسیوں اور کرسچین مشاہیر کے کارنامے ہوں اور ایک جانب اسکول کے بچے (نئی نسل) اپنے پیغامات لکھیں۔ اور اس مینار کو امن کا مینار کہا جائے جس کے افتتاح میں تمام سیاسی جماعتیں، تمام اقلیتوں، تمام مسالک کے علما شریک ہوں۔ یا شاید یہ ایک خواب ہی ہے۔

    • 23-01-2016 at 10:54 pm
      Permalink

      کم وبیش ایسا ہی ایک مینار میری ویدر ٹاور کراچی میں موجود ہے، جس پر تمام مذاہب کی علامتیں ہیں، یہ مینار اس جذبے سے بنایا گیا تھا کہ کراچی میں بندرگاہ سے داخل ہونے والوں کو یہ پیغام ملے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ امن سے رہتے ہیں، ان دنوں یہاں یہودیوں کی کثیر آبادی تھی، ان کا بھی نشان ٹاور پر موجود ہے

  • 27-01-2016 at 1:01 pm
    Permalink

    عثمان غازی کی بہت اچھی تحریر۔ لگتا ہے غازی صاحب نے اس چورنگی کو نارے لگاتے ہوئے بہت غور سے دیکھا ہے۔ اب یہ نعرے انہوں نے سنے ہیں یا انہوں نے کسی جماعت کے حق میں خود نعرے لگائے ہیں۔۔ لیکن مجھے اتنا ضرور پتہ ہے کہ یہ نعرے کسی انتہاپسند جماعت کے حق میں بلند نہیں ہوئے ہونگے ۔ کیونکہ غازی صاحب اسی رواداری کی بیماری کے مریض ہیں جس کے پھیلنے کے خدشے کا انہوں نے خود اظہار کیا ہے۔

Comments are closed.