لیبارٹری میں پیدا شدہ بچے اور برگر اور علما کا نیا امتحان


گزشتہ اسلامی نظریاتی کونسل کے دور میں آپ نے ریپ کے کیس میں ڈی این اے کی شہادت کے ناقابل قبول ہونے کی بحث دیکھی ہو گی۔ فارینزک ماہرین کہتے تھے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مجرم کو پکڑا جاتا ہے۔ کونسل والے کہتے تھے کہ آپ کسی صورت اس پکڑے جانے والے کو حدود کے تحت سزا نہیں دے سکتے، تعزیر کے تحت گنجائش دی جا سکتی ہے۔ حدود کے تحت تو خیر پاکستان میں کسی کو بھی سنگسار کرنے کی سزا دینے کا تصور موجود نہیں ہے، مگر کونسل کے اس موقف کی بنیاد پر پر ایک سوال کھڑا ہو گیا تھا کہ کیا اسلامی فقہہ کو جدید سائنس کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

گزشتہ دنوں قصور کی بچی زینب کے کیس کا مجرم بھی ڈی این اے کی مدد سے ہی پکڑا گیا تھا اور مردان کی بچی عاصمہ کا بھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ یا تو مذہبی علما سائنسی ایجادات اور دریافتوں کے ساتھ نہ چلنے کی وجہ سے مکمل طور پر نظرانداز کیے جانے لگیں گے، یا پھر ان کو جدید علوم کی روشنی میں قدیم فقہی اصول تبدیل کرنے ہوں گے۔

اب چین سے آنے والی خبر ہی دیکھ لیں۔ خبر آئی ہے کہ ایک جوڑا جو چار برس قبل ایک حادثے میں ہلاک ہو گیا ہے، اس کا بچہ پیدا ہوا ہے۔ بچے کا نام ٹیان ٹیان ہے۔ جوڑے نے ہلاک ہونے سے پیشتر ایک تولیدی مرکز میں اپنا بیضہ اور سپرم محفوظ کروا رکھا تھا۔ اسے مصنوعی تولیدی عمل سے گزارا گیا اور ایک عورت کی کرائے کی کوکھ میں رکھ دیا گیا۔ نو مہینے بعد بچہ پیدا ہو گیا۔

جلد یا بدیر یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں بھی رائج ہو جائے گی۔ مصنوعی تولید کے مراکز تو پہلے ہی پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں بھی کرائے کی کوکھ دستیاب ہو جائے گی۔ تو سوال یہ ہے کہ پھر علما ایسے بچے کے متعلق کیا حکم لگائیں گے؟ کیا اس بچے کو اپنے ماں باپ کی حقیقی اولاد سمجھا جائے گا؟ اس کی وراثت کا کیا حکم ہو گا؟ وغیرہ وغیرہ۔ موجودہ پاکستانی قانون تو غالباً اسے علم حیاتیات کی وجہ سے اپنے ماں باپ کا بچہ تسلیم کرے گا۔ مگر علما کا اس پر کیا موقف ہو گا؟ پھر اس پر حرام حلال کی بحث بھی چھڑے گی۔ کیا اس بچے کو ماں باپ کا جائز وارث قرار دیا جائے گا یا اسے حرام کی اولاد قرار دے کر ایدھی کے پنگھوڑے میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا؟

ابھی ایک اور دلچسپ ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ بھی کیا جا چکا ہے۔ پانچ اگست 2013 کے دن پروفیسر مارک پوسٹ نے لندن میں صحافیوں، باورچیوں اور غذائی ماہرین کے سامنے ایک ایسے بیف برگر کا نوالہ لیا جس کی قیمت سوا تین کروڑ پاکستانی روپے تھی۔ اس بیف برگر کی خاص بات یہ تھی اس کا گوشت کسی گائے سے حاصل نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے پروفیسر مارک پوسٹ نے خود اپنی لیبارٹری میں ”اگایا“ تھا۔

پروفیسر مارک پوسٹ نے ایک گائے کا سٹیم سیل لیا۔ سٹیم سیل خلیے کی ایک بالکل ابتدائی شکل ہوتا ہے، جو کسی بھی عضو یا ہڈی کی شکل اختیار کرنے پر قادر ہوتا ہے۔ ایک سٹیم سیل کے ذریعے کھربوں خلیات بنائے جا سکتے ہیں۔ سائنسدان اس کے ذریعے مصنوعی انسانی اعضا کی تیاری پر ریسرچ کر رہے ہیں جو کافی ایڈوانس لیول پر پہنچ چکی ہے۔ پروفیسر مارک نے گائے کے اس سٹیم سیل کو اپنی لیبارٹری کی ایک ڈش میں ڈالا اور تین مہینے میں ان کے برگر کی بوٹی تیار ہو گئی۔ اس ریسرچ کے لئے گوگل کے بانی سرگی برن نے سرمایہ فراہم کیا ہے۔ پروفیسر پوسٹ کا اندازہ ہے کہ ان کے بنائے گئے گوشت کی قیمت چھے ہزار روپے فی کلو ہو گی۔ مستقبل میں ہر باورچی خانے میں کاونٹر پر ایک مشین موجود ہو سکتی ہے جو گھر کی ضروریات کے مطابق گوشت تیار کر رہی ہو گی۔

تو علما کو اب یہ سوچنا پڑے گا کہ زندہ جانور کے جسم سے لئے گئے سٹیم سیل کی مدد سے بنایا گیا یہ مصنوعی گوشت حلال ہو گا یا حرام۔ وہ گائے بیل جس سے یہ خلیہ لیا گیا ہے، وہ تو زندہ سلامت کھڑا ہے۔ وہ ذبیحہ تو نہیں ہے۔ پھر اس مصنوعی گوشت کو کیا ہم اناج سمجھ کر کھا سکتے ہیں یا اس پر گوشت کے احکامات لاگو کریں گے۔ یا فرض کر لیں کہ اگر بکری کو ذبح کرنے کے فوراً بعد اس کے جسم سے سٹیم سیل لے لئے جائیں تو کیا اس سے بنایا ہوا یہ پانچ دس ہزار کلو مصنوعی گوشت حلال قرار پائے گا؟

علما ایسے سوالات پر غور کرنا شروع کر دیں تو مناسب ہے۔ بچے اور برگر پیدا کرنے کی یہ ٹیکنالوجی جلد ہی عام ہو جائے گی۔ اس سے پہلے پہلے ہی بحث مباحثہ کر لیں۔ غامدی سکول کو تو شاید اپنے نسبتاً جدید رجحانات کی وجہ سے ٹیکنالوجی کو قبول کرنے میں وقت نہیں لگے گی مگر روایتی علما سے یہ توقع ہے کہ وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ لیکن یہ بھی توقع ہے کہ وہی ہو گا جو تاریخ میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ یعنی جدید سائنس کی پہلے مذہبی راہنماؤں نے شدید مخالفت کی ہے، مگر پھر یہ دیکھنے کے بعد کہ عوام اسے اپنا چکے ہیں، علما اسے جائز قرار دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا اس پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 934 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar