شبیر تو بولے گا…. کتے مردہ باد


zafar kakarافتخار عارف کو شہر گل کے خس و خاشاک سے خوف آتا ہے۔ ادھر معاملہ یوں ہے کہ ہمیں شہر گل کے خس و خاشاک کے ساتھ ساتھ کتوں سے بھی خوف آتا ہے۔ اب کتے یاد آنے کی وجہ ایک سیاسی رہنما کی ’چہچہائی‘ ہوئی کتوں والی تصویر بالکل نہیں ہے بلکہ گلی میں بھونکتے کتے ہیں۔ کوئی بارہ برس کی عمر رہی ہو گی جب مسجد سے واپسی پر ہمسائے کے کتے نے پنڈلی پر کاٹ لیا تھا۔ اماں نے ایک پرانا کپڑا جلا کر راکھ زخم پر لگا دی جس سے وقتی آرام آ گیا۔ ابا جی پہنچے تو پتہ چلا کہ اگر کتا کہیں باولا نکل آیا تو ہمارے پاگل پن کے امکانات کافی روشن تھے۔ طے ہوا کہ اگلے دن دم کرانے کسی بابا جی کے پاس لے کر جائیں گے۔ یہ شہر سے دور ایک گاﺅں تھا جہاں ایک بابا جی پاگل کتے کے کاٹے کا دم کرتے تھے۔ بابا جی کی عمر کوئی اسی برس کے قریب قریب تھی۔بابا جی نے زخم پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں موندھ لیں اور تھوڑی دیر کچھ پڑھتے رہے پھر آنکھیں کھول کر تین بار ’ چھو چھو چھو‘ کیاجو ہمیں ’ شھو شھو شھو‘سنائی دیا۔ پہلے تو اپنی سماعت پر شک گزرا لیکن جب بابا جی نے کلام آغاز کیا تو پتہ چلا کہ انہوں نے شھو شھو شھو ہی کہا تھا۔ اب جن لوگوں نے ایک بے دانت بابا کو زبان کے نیچے نسوار رکھ کر بولتے نہ سنا ہو ان کو چھو اور شھو کا فرق بتانا بہت مشکل کام ہے۔بابا جی نے پاس کھڑی بچی کو کہا کہ گھر سے ایک روٹی لے آﺅ۔ روٹی آ ئی تو بابا جی نے پہلے اس سے سات چھوٹے چھوٹے نوالے بنائے اور پھر ان نوالوں کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے چھوٹے چھوٹے بنٹوں میں بدل دیا۔ اب بابا جی نے شڑاپ کر کے نسوار تھوکا اور ایک بنٹہ منہ میں ڈال لیا۔ تھوڑی دیر تک بنٹہ منہ میں گھماتے رہے پھر نکال کر ہماری طرف بڑھایا کہ کھا لو۔ بس کیا بتائیں! ایسی متلی آور نسواری خوارک نہ اس پہلے کھائی تھی اور نہ اس کے بعد۔ سات نسواری بنٹوں سے کہیں آسان تھاکہ سات ’اینٹی ر یبیز‘ انجکشن لگوا لیتے مگر ہمارے یہاں تو یہی اینٹی ریبیز دستیاب تھے۔

1کوئی روایتی محرومی کا رونا نہیں ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ حساسیت کا معاملہ ہے کہ سینہ چاکان چمن اب درد کی دولت عام کرتے کبیدہ خاطر نہیں ہوتے۔بس ایسے ہی کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ منہ میں سگار، ہاتھ میں قیمتی گھڑی، اور اے سی زدہ ٹی وی اسٹوڈیو میں بیٹھے دانشور جب کہتے ہیں کیا محرومی؟ کونسی محرومی؟ اور پھر چند سڑکوں اور پلوں کے نام لے لے کر ترقی کا مٹکا پھوڑتے ہیں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ انہوں نے کبھی نسوار والی انیٹی ریبیز نہیں کھائیں۔ ان کی ماﺅں نے ایسے اینٹی ریبیز کے بعد ان کو بتاشے نہیں کھلائے۔انہوں نے ماﺅں کا وہ دکھ نہیں دیکھا جب کوئی بابا جی ان کو کہتا ہے کہ اکیس دن بچے کو پانی کی شکل نہیں دکھانی ورنہ وہ پاگل ہو جائے گا۔ اور مائیں اکیس دن تک بچے کو کوزے کا سر ڈھک کر پانی پلاتی ہیں۔ روتی آنکھوں سے گیلے کپڑے سے اس کو نہلاتی ہیں۔اکیس دن اس کو کمرے سے باہر نہیں جانے دیتی کہ کہیں کسی جوہڑ کا پانی دیکھ کر پاگل نہ ہو جائے۔ یہی کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ماں ایسا دکھ نہ جھیلے۔پھر دیکھیے نا! ہر ایک کو کتا بھی نہیں کاٹتا۔ کچھ کو پولیوہو جاتا ہے تو کوئی مولوی صاحب دم کر کے تین ماہ کے لئے یہی پرہیز تجویز کرتا ہے۔ کسی کی اولاد نہیں ہوتی تو کوئی پیر صاحب خاتون کو ماہواری روکنے والی گولیاں پانی میں ملا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الٹرا ساونڈ نہیں کروانا۔ ماہواری کے بند ہونے سے خاتون بیچاری خوش ہو کر ’امید سے‘ امید لگا کر بیٹھ جاتی ہے اور نو ماہ بعد جب پتہ چلتا ہے کہ خون کی جبری بندش سے اس کو کئی اور بیماریاں لاحق ہو چکی ہیں تو سب رام بھلی۔ یادش بخیر ہمارے یہاں تو دانت کا درد مٹانے کو بھی ڈاکٹر کی بجائے بابا فرید کے مزار کے دروازے میں کیل ٹھونکے جاتے تھے۔بات تلخ ہے لیکن آ گئی ہے۔ ہمارے ماما قادر فرمایا کرتے ہیں کہ 5ترقی اور علم کے قربان جاﺅں۔ دیکھو نا لاہور کے رائے ونڈ کا اسلام کتنا امن پسند ہے۔ کراچی کے مدرسوں اور جدید یونیورسٹیوں کی سہولیات میں کوئی فرق نہیں۔ ہمارے یہاں تو پچھلے تیس برس سے مجاہدین ایجاد ہو ہو کر افغانستان فتح کرنے سے ہی فارغ نہیں ہوئے۔ماما قادر سے کون کہے کہ یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی۔

کوئی بیس برس ادھر کی بات ہے بریگیڈیر (ریٹائرڈ) محمد یوسف (ستارہ بسالت) کی ’خاموش مجاہد‘ اس خاکسار نے ایک مدرسے کی لائبریری میں ہی پڑھی تھی۔ کتاب کا ذیلی عنوان ’افغان جہاد کے پس پردہ کار فرما حکمت کار‘ میں جہاد اور حکمت کی گرہ آج تک نہیں کھلی۔ شکوہ کوئی نہیں ۔ ملال کوئی نہیں۔ جو سبق ہم نے آٹھویں جماعت میں رٹا تھا وہ آج بھی یاد ہے۔’ مسلمانان ہند نے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان کو اسلام کے حاصل کیا تھا۔ یہ اس قوم کی خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسا عظیم قائد نصیب ہوا جن کے بے لوث، مخلصانہ ، اور مدبرانہ قیادت میں ہم نے محکومی سے نجات حاصل کی اور آزادی کی نعمت غیر مترقبہ سے ہمکنار ہوئے۔ ہمیں اس عظیم قائد کی لاج رکھ کر پاکستان میں نفاذ اسلام کے لئے جدو جہد کرنی ہے اور ہر طرح کی ذاتی، لسانی اور گروہی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور قوت و استحکام کیلئے اپنی صلاحیتوں کو وقف کر نا ہے‘۔ ہم تیار ہیں۔ گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں۔

2چھوڑیئے افتادگان خاک کے ’غیر ضروری اور غیر معمولی حساسیت‘ کی محرومی کی خود ساختہ داستانیں۔جن لوگوں کوآج سے بیس برس پیشتر کا پشین شہر یاد ہو، ان کو ’کتوں والا بابا‘ بھی ضرور یاد ہو گا۔خس و خاشاک کا باسی بابا شہر کے سارے آوارہ کتوں کا بابا تھا۔ دن بھر گلی گلی اور تندور تندور پھر کر باسی روٹی جمع کرنے والا بابا سرشام بازارکے ایک تھڑے پر بیٹھ کر آواہ کتوں کو یہی باسی روٹی کھلاتا تھا۔لوک گیتوں کی وارفتگی کی سمجھ تو اس زمانے میں نہیں تھی مگر بابا جی کے ٹپے دل کو بے قرار و بے کنار کر دیتے۔ وہ ٹپے بھی یاد نہیں ہیں بس کچھ مفہوم سا یاد ہے جیسے بلھے شاہ نے کہا ’ راتیں جاگیں کریں عبادت۔۔راتیں جاگن کتے۔۔تیں تھوں ا±تے۔۔بھونکنوں بند م±ول نہ ہوندے۔۔جا رُڑی تے سُتے‘۔ بابا جی کی ساری زندگی ان آوارہ کتوں کے بیچ گزر گئی۔شہر کے سارے آوارہ کتے بابا جی کے گرد پڑے رہتے۔بہت بچپن کے دن تھے اس لئے بابا جی کی باتیں ذہن سے محو ہیں بس دو باتیں یا دہیں۔ ایک بار جب ہم سکول میں تھے تو جانے کس بات پر کالج والوں نے ہڑتال کی تھی اور ہمارے سکول آکر چھٹی کروا دی۔ یہ جلوس ضلع کچہری کی طرف زندہ باد، مردہ باد کے نعرے لگاتا رواں دواں تھا کہ عین بازار کے مرکزی چوک پر کتوں والا بابا آ کر کھڑا ہوا۔ اس کے ساتھ قریباََ کوئی تیس چالیس کتے بھی سڑک پر آ گئے۔ جلوس ایک خاموشی سی چھا گئی۔ بابا جی نے ایک زوردار نعرہ لگایا۔ سب زندہ باد۔۔۔ بس انسان مردہ باد! اور خاموشی سے واپس اپنے تھڑے پر بیٹھ گئے۔ ایک یاد یہ ہے کہ بابا جی کے 4کتے جب گزرتے انسانوں یا گاڑیوں پر آو آو کر بھونکتے تو بابا جی کہتے، بچو نا کر۔ بے چارے انسان ہیں! سارے کتے خاموش ہو جاتے۔

پانامہ کی خبریں گرم ہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے خون کے نمونوں پر شک کر رہے ہیں۔فائلوں کو کھولنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کینیڈا سے ایک صاحب تیسری بار انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ لندن میں بیمار ایک دوسرے سے ملنے نہ ملنے کی آہ و زاریاں کر رہے ہیں۔ ایوبی آمریت کا رونا رونے والے سائبر بل لا رہے ہیں۔ کہیں بھائیوں کے گریڈ بڑھ رہے ہیں اور کہیں پاک سرزمین ضمیر جگاﺅ مہم پر ہے۔ٹیلی افلاطونوں کی چاندی ہے۔ ادھر طاہر شاہ ہے۔ ادھر قندیل بلوچ ہے۔اس طرف پانامہ ہے۔پائپ والے بابے قوم کی بقا کے لئے اک ذرا گردن گھما کر کسی آمر کی تصویر دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔چھوٹو کے گینگ نے کئی سپاہوں کو شہید کر دیا۔ ڈاکٹر اسد امریکہ سے کوئٹہ آیا کہ وطن کی خدمت کرنی ہے۔ پویس نے احتجاج کے جرم میں تشدد کر کے بینائی سے محروم کر دیا۔ایک عجیب بے ہنگم شور ہے۔ پانامہ، دھرنا،انقلاب، پولیس ، ڈاکٹر، لبرل، ٹی وی، دانشور، اخلاقیات ،جمہوریت، آمریت، ضرب، عضب، را، ایران توران۔ شاید احمد جاوید صاحب نے لکھا تھا کہ ، ’بے حسی کے مزے کوئی ہم سے پوچھے‘۔رات کا سمے ہے۔ باہر گلی میں آوارہ کتے آﺅ آﺅ کر رہے ہیں۔ بابا جی تو رہے نہیں۔ میں نے چھت پر کھڑے ہو کر ہانک لگائی۔ بچو نہ کرو …. ہم انسان ہیں! کتے مگر خاموش نہیں ہوئے۔ سب زندہ باد …. بس کتے مردہ باد!


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

7 thoughts on “شبیر تو بولے گا…. کتے مردہ باد

  • 16-04-2016 at 3:53 pm
    Permalink

    بہت زبردست ظفراللہ خان، منفرد ہیں آپ!

    • 16-04-2016 at 10:11 pm
      Permalink

      I am much obliged and tegatded sir.

  • 16-04-2016 at 3:55 pm
    Permalink

    سبحان اللہ

    • 16-04-2016 at 10:12 pm
      Permalink

      Thank you rashid sahib.

  • 16-04-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    بہت زبردست، تلخ اور سچ، پڑھتے ہوئے کیا کیا یاد نہیں آیا، کوئی گاؤں، کوئی قصبہ، کوئی صوبہ ہو، وہی انسان اور وہی کتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

    • 16-04-2016 at 10:13 pm
      Permalink

      Sir mnis izat afzai k liye bahut shukurguzar hon.

  • 17-04-2016 at 11:20 pm
    Permalink

    کیا بات ہے یدے بھائی آپ کی

Comments are closed.