بوڑھوں کا گیت


12079630_960853090642821_7218508926732429182_nعورتو آؤ
ہم بوڑھے لوگوں سے محبت کرو
آؤ ہم سے محبت کرو
ہم تمہاری جوانی کا ابدی گیت ہیں،
دائمی دعا ہیں
ہم سے بہتر کوئی تمہاری ثنا نہیں کر سکتا
ہمارے سفید بالوں،
پکی رنگت
اور جھریائے ہوئے چہروں پر نہ جاؤ
ہماری دل گرمی، دل گدازی دیکھو
ہم لفظوں کی پلپلاہٹ ہیں
تمہاری غیبی کہانیوں میں
بچ رہنے والے آخری حقیقی کردار
اور تمہاری زندگیوں کے سب سے خوبصورت کنائے ہیں!

عورتو آؤ، ہمارے پاس بیٹھو
ہم سے باتیں کرو
ہم تمہاری ناآسودہ محبتوں کا بھرم ہیں
ہم تمہاری سہیلیاں ہیں
ہم سے اپنا آپ نہ چھڑاؤ
آؤ ہمارے ساتھ پیدل چلو
ہماری قربت کو محسوس کرو
اور ہمارا ہاتھ تھامتے ہوئے ڈرو مت
ہمارا خاموش کہنہ لمس
تمہاری ہی خواہشوں کا خمیازہ ہے
ہماری انگلیاں جادو کی چھڑیاں ہیں
جو رنگ برنگے لباسوں کو پرندوں میں بدل سکتی ہیں
ہم نے زمانوں کے سرکس دیکھے ہیں
موت کے کنوؤں کے چکر لگائے ہیں
اور وقت کے شیروں کو سدھایا ہے
ہمارے سینوں کے راز کریدو
ہمارے ساتھ دُور کے اسفار پر نکلو
ہم آج بھی راستوں کے اطراف میں
پھول کھلا سکتے ہیں
فصلیں اور درخت اگا سکتے ہیں
کھنگریلے پتھروں پر بیٹھ کر
بادلوں اور ہواؤں سے باتیں کر سکتے ہیں
اور پل کے پل بارش لا سکتے ہیں!

نیک دل عورتو آؤ!
ہماری آنکھوں کے بے بہا پانیوں میں اترو
ہم سمندر ہیں
ہمارے ریتلے ساحلوں پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرو
دیکھو ہماری ریت کتنی نرم ہے
ہمارے جزیروں کی رات خالص ہے
اور صبح اجلی ہے
ہمارے وجود کے جنگلوں میں
برگدی معبد ہیں
مقدس روشنی ہے
نروان ہے
اس سے پہلے
کہ ہماری دھوپ چھاؤں معدوم ہو جائے
اور ہم عمروں کی طویل راہگزاروں پر
اٹھتے بیٹھتے، پاؤں گھسیٹتے ہوئے
جیتے جاگتے پرچھائیوں میں ڈھل جائیں،
اپنے طلسم بند جسموں پر
ہماری فتح کے طول و ارض تسلیم کرو
ہم سے محبت کرو
ہماری تکریم کرو!!


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بوڑھوں کا گیت

  • 16-04-2016 at 4:01 am
    Permalink

    ہماری تکریم کرو !!

Comments are closed.