ہم کہیں نہیں تھے جب منظور پشتین اکیلا کھڑا تھا


منظور پشتین جنرل باجوہ کے بیان پر خفا ہے گلہ مند بھی ہے۔ جنرل باجوہ صاحب نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ملکی سالمیت کے درپے ہیں۔ فاٹا میں امن قائم ہوا تو ایک تحریک شروع کر دی گئی۔

منظور کہتا ہے کہ ہمارے جلسے میں ہزاروں لوگ تھے۔ ہر بندہ ایک خاندان کا نمائندہ تھا ۔ سب اسی ملک کے باشندے تھے۔ اپنے ہی وطن کے کوئی خلاف ہوتا ہے کیا ؟ ہمیں کیوں کہا جا رہا۔

منظور سے پہلا سوال یہی کیا تھا کہ وہ را والے پیسے کدھر سنبھالے ہیں۔ وہ ہنسنے لگا تھا کہ مجھ پر بیرونی امداد کے الزام لگا رہے ہیں۔ میں تو باہر سے آنے والی فون کال تک نہیں سنتا ہوں۔ اپنے رشتے داروں سے بات نہیں کرتا ہوں۔ جو باہر رہتے، مجھے معلوم ہے کہ میری ایک غلطی آخری ہو گی۔ میں ایسی غلطی کیوں کروں کسی کو موقع ہی کیوں دوں۔

فنڈنگ کا ہم کیا کریں گے۔ جلسوں پر خرچ ہی کتنا ہوتا ہے؟ پشاور کے جلسے میں پیسے کم پڑ گئے تھے۔ چندے والے بکسے کھولے تو پورے ہو گئے۔ محسود وزیر کم ہیں کہ کسی سے پیسے مانگنے پڑیں۔ ویسے اگر پیسے چاہئے ہوں تو اپنے قبائل سے کروڑوں اکٹھے ہو سکتے ہیں شارٹ نوٹس پر۔ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ  ان پیسوں کا لیکن ہم کریں گے کیا۔ ہم لوگ کچھ مجبور خاندانوں کی مدد کرتے تھے۔ اس کے لیے بھی جو چاہئے ہوتا تھا مقامی ذرائع سے ہی پورا ہو جاتا تھا۔

منظور سے جب یہ پوچھا کہ افغانستان سے اس کی اتنی حمایت کیوں ہو رہی ہے تو اس نے کہا کہ اسے نہیں پتہ ۔ پھر کہا شائد ہمارے دکھ مشترکہ ہیں ۔ زبان ایک ہے حالات ایک سے ہیں۔ اک دوسرے کی تکلیف کی سمجھ آتی ہے۔

منظور کہتا ہے کہ میں بہت کچھ سنتا ہوں۔ ہر بات کا جواب نہیں دینا چاہتا۔ تنازعات سے بچنا چاہتا ہوں۔ ہر وہ بات جس پر لوگوں کا اتفاق نہیں ہے ابھی ان کی رائے تقسیم ہے اس پر خاموش رہنا چاہتا ہوں۔

لر و بر کی بات فاٹا کے مستقبل کی بات اسی طرح دوسرے معاملات ہیں جن پر مشران کو کسی نتیجے پر پہنچنا ہے۔ منظور صرف ان مطالبات تک محدود رہنا چاہتا ہے جن پر اتفاق رائے ہے یا جن پر وہ خود یکسو ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمارا ساتھ سب دے رہے تو ہم متنازعہ مسائل میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ۔ ہم اپنی تحریک پر فوکس ہیں۔ ہم سیاست سے بھی دور رہنا چاہتے ہیں۔ ہم  بس اپنے مطالبات پر عمل چاہتے ہیں۔ یہ حل ہو جائیں ہم گھر بیٹھ جائیں گے اپنے کام سے لگ جائیں گے۔

منظور کا کہنا ہے کہ وہ اپنا پیغام لے کر ساری پختون قیادت کے پاس گیا ہے۔ آگے مت سنیں کہ کیا ہوا کون کون اس سے نہیں ملا۔ کس نے ملنے کا کہہ کر پھر انکار کر دیا۔ کس نے مل کر بھی ناراضی دکھائی اور غصہ ہی کیا۔

منظور کہتا ہے کہ ہم ان کو بھی مانتے ہیں جن کی تحریک سو سال پرانی ہے۔ ان کی بھی عزت کرتے ہیں جو کہتے کہ وہ ستر سال سے میدان میں ہیں۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں سب کی مجبوری سمجھتے ہیں۔

فوج کے خلاف نعروں پر منظور نے بتایا کہ وہ آرمی سکول کا پڑھا ہوا ہے۔ قومی ترانے کا احترام کرتا ہے جس کی اکثر لوگ پروا نہیں کرتے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے وطن کے لیے جب کچھ کرنے کا سوچا کرتا تو اکثر آنسو بھی بہایا کرتا تھا۔

منظور نے یہ بھی کہا کہ فوج کے خلاف نعرے کس نے لگائے ۔ کچھ اور متنازعہ باتیں کس نے کیں۔ یہ سب جاننے کے لیے وہ بیٹھ کر خود بہت سی ویڈیوز دیکھتا رہا ۔ لوگوں کی نشاندہی کی ان سے بات کی  انہیں منع کیا۔ یہ سب بتا کر وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ پشاور کے جلسے میں وہ خود بھی جذباتی ہو گیا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ جب میں نے مسلسل لوگوں کی تکالیف سنیں ان بچوں ماؤں سے ملا جن کے اپنے لاپتہ ہیں تو پھر میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔

وہ یہ بھی کہتا ہے جو چند لڑکوں نے فوج کے خلاف نعرے لگائے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوا۔

وہ جب مسائل کی بات کرتا ہے تو اپنی، اپنے لوگوں کی کوتاہیوں کا بھی ذکر کرتا ہے انہیں کھلے دل سے مانتا ہے۔ یہ ماننے کے بعد جب وہ سیکیورٹی فورسز کے حوالے سے بات کرنی شروع کرتا ہے تو پھر بہت کچھ ایسا بتاتا ہے کہ بہتر ہے کہ وہ سینیر افسران خود ہی سنیں اسی سے اس کو سامنے بٹھا کر۔

وہ کہتا ہے کہ آپ مجھے کوئی ایک لفظ بتاؤ جس میں کہا ہو کہ سیکیورٹی چیک پوسٹ بند کر دو یا نہیں ہونی چاہئے۔ میں اعتراض اس فرق پر کرتا ہوں جو فاٹا میں ہے اور باقی پاکستان میں نہیں ہے۔

منظور بتاتا ہے کہ بیالیس بلوچ رجمنٹ کے ساتھ کرکٹ کا میچ اس نے کروایا تھا، یہ ایسا پہلا میچ تھا۔ وہ خود مقامی ٹیم کی جانب سے کھیلا تھا۔

اس سے جب کہا جاتا ہے کہ ایک دم سے تمھاری تحریک کیسے اتنی مضبوط ہو گئی، تو یہ سن کر وہ خفا سا ہو جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کیسے وہ کتنے سال سے اکیلا جدوجہد کر رہا ہے۔ درجنوں بار وہ احتجاج کر چکا ہے۔ اس نے ساتھ بیٹھے محسود لڑکوں کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ جب میں احتجاج کرتا تھا یہ مجھے منع کرتے تھے۔ اکثر غصہ بھی کرتے تھے۔

وہ بتاتا ہے کہ فاٹا پر بہت ظلم ہوا ہے۔ ہمیں طالبان نے مارا۔ سیکیورٹی فورس والے سنتے نہیں تھے۔ پھر جب یہ آئے تو زیادتیاں ہوئیں۔ لوگ گھبرا کر چپ ہو گئے تھے۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آتی تھی واقعات کی۔ لوگوں نے بات کرنا احتجاج کرنا چھوڑ دیا۔

وہ یاد دلاتا ہے کہ وہ اس وطن کے لیے بے گھر ہوئے تھے۔ وہ ان احسانات کو بھی یاد کرتا ہے جو ہمسایہ قبائل نے بے گھروں پر کیے ۔ کتنے سال تک مفت اپنے گھر فراہم کئے جلانے کو مفت لکڑی فراہم کی۔ یہیں اس نے بتایا کہ آپ بیرونی امداد کے الزام لگاتے ہو تو یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ فاٹا کے بے گھروں کو کس احترام سے لوگوں نے گھر بھی فراہم کئے تھے۔ سب لوگ تو کیمپوں میں نہیں گئے تھے۔

منظور احتجاجی کیسے ہوا اس پر کہنے کے لیے اس کے پاس بہت کچھ ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کیسے غلط کارروائیاں ہوئیں۔ اک بار مویشیوں پر بم گرا دئے گئے۔ لوگ مر گئے ، شناخت مشکل ہو گئی تھی کہ کونسا گوشت انسان کا ہے؟ اگلے دن اسی کارروائی کی خبر لگی تھی کہ کامیاب ایکشن میں اتنے دہشت گرد ہلاک۔ منظور کہتا ہے کہ ایسے واقعات دیکھے تو میں بولنے لگا۔ اکیلے بھی کھڑا ہونا ہوتا تو احتجاج کرتا تھا۔

وہ کہتا ہے کہ آپ کو فرق کرنا ہو گا ٹھیک اور غلط میں۔ ادارے اگر غلط کاروائی کرتے ہیں تو اپنا اندرونی احتساب کا عمل ایکشن میں لائیں۔ ہمارے اعتراضات پر ہمیں مطمئن کریں۔

منظور نے بتایا کہ وہ کس طرح حقائق اکٹھے کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس نے کسی حملے میں مرنے والے بچوں کے لیے احتجاج کیا۔ اس نے تب احتجاج نہیں کیا جب کہیں ایک بھی دہشت گرد مر گیا بھلے ساتھ کچھ بے گناہ مر گئے۔

منظور کوئی ایسی بات نہیں کہنا چاہتا جس کی اس کے پاس پوری معلومات نہیں ہیں۔

بات جب بہت سنجیدہ ہو گئی تو منظور سے پوچھا کہ تم اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کیوں نہیں لکھتے ہو۔ منظور ویٹنری ڈاکٹر ہے۔ منظور نے کہا کہ کئی ڈاکٹر مسلح انقلابی تحریکوں کا حوالہ ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی اشارے میں بھی میرے حوالے سے کسی مسلح تحریک کا سوچے۔ ہماری جدوجہد پرامن ہے آئین پاکستان کے مطابق ہمارے قانون کے مطابق ۔

منظور نے نہیں کہا لیکن مجھے لگا وہ ڈاکٹر اللہ نذر کا حوالہ دے رہا ہے۔

منظور سے مذاق میں کہا کہ منظور تمھیں نہیں لگتا کہ ہمارے حالات اور کچھ ہم بھی ڈنگر سے ہو گئے ہیں۔ ہمیں ڈنگر ڈاکٹر کی ضرورت ہے۔ منظور سر جھکا کر ہنسنے لگا۔

آخر میں منظور سے کہا کہ علی وزیر بہت جزباتی انداز میں خطاب کرتے ہیں۔ انہیں کبھی سمجھایا نہیں۔ منظور کا کہنا تھا کہ وہ میری بات سنتے ہیں، کہتا رہتا ہوں۔ پھر پوچھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ علی وزیر کے ساتھ کیا ہوا ؟ علی وزیر کی کہانی سنائی۔ پشاور جلسے سے پہلے انتظامیہ سے میٹنگ کی اک کہانی سنائی۔

اس میٹنگ کی کہانی مجھے نہیں سنانی۔ جب علی وزیر نے بائیکاٹ کیا وہ جذباتی ہو گیا وہ خفا ہو گیا۔

منظور نے کہا کہ علی وزیر کی والدہ نے اپنے کمرے سے دروازہ ہٹا دیا ہے۔ اس دروازے کی جگہ کپڑے کا پردہ لگا رکھا ہے۔ علی وزیر کی ماں کو دستک سے وحشت ہوتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اس سے پہلی دستک نہیں بھولتی۔ جب پہلی دستک ہوئی تو اس نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی۔ دوسری دستک پر سات لاشیں آئیں تھیں۔ اس کے بعد مزید چھ ۔

باجوہ سر آپ منظور پشتین سے خود مل لیں۔ آپ کچھ احکامات دیں گے۔ منظور اپنے گھر چلا جائے گا۔ ورنہ وہ کھڑا رہے گا کبھی وہ اکیلا کھڑا تھا ہم ساتھ نہیں تھے۔ آج وہ کہیں بھی کھڑا ہو تو اکیلا نہیں رہتا۔ مطالبات تو اس کے جائز ہیں جو وہ منوا ہی لے گا اک دن ۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 298 posts and counting.See all posts by wisi