کیا شہباز شریف ٹیڑھا اڑتے ہیں؟


ایک آدمی نوکری کے لیے انٹرویو دینے گیا۔ وہ پوری طرح تیار ہو کے گیا تھا۔ سلیقے سے مانگ نکالی ہوئی، بال جمائے ہوئے، پرانا لیکن صاف ستھرا کریز جما کوٹ پتلون، چمکدار بوٹ، عینک کا باریک سا سلور فریم، تھوڑا لمبا قد، کھلتا ہوا رنگ، ایک اچھے امیدوار کا نمونہ بنے وہ جوان دفتر پہنچ گیا۔ ایک ہفتے سے وہ انٹرویو کی دن رات تیاری کر رہا تھا‘ اس لیے چہرے سے بھی پراعتماد نظر آتا تھا۔ مسئلہ یہ ہوا کہ جب وہ دفتر پہنچا تو اسی وقت انٹرویو لینے والوں کو اوپر سے ایک واٹس ایپ آ گیا۔ اس میں کسی اور بندے کی تصویر تھی اور لکھا تھا کہ جتنے مرضی انٹرویو لے لو، سلیکٹ تم نے اسی آدمی کو کرنا ہے۔ نہیں کرو گے تو نہ نوکری رہے گی نہ تمہارا یہ سلیکشن بورڈ، کون شریف انسان اپنی نوکری سے پیار نہیں کرتا؟ واضح رہے کہ پیغام بھیجنے والی طاقتوں کا نام ہم نہیں جانتے، نہ ہی کسی سہولت کار کا ہمیں علم ہے۔ کہانی سنانے والے یہ بتاتے تھے کہ میسج آنے کے بعد چن کے ایسے سوالات رکھے گئے جن کا جواب دینا کسی بھی امیدوار کے لیے ممکن ہی نہ ہو۔ انٹرویو شروع ہوا، چونکہ اس طرح کے مشکل ترین سوالوں پہ سب لوگ فیل ہو رہے تھے تو مرضی کا بندہ رکھنے اور نوکریاں بچانے کی ٹھیک ٹھاک امید پیدا ہو چکی تھی۔

اتنے میں ہمارے ہیرو کا نمبر آیا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا۔ پشت پہ دروازہ بند کیا۔ تہذیب سے چلتا ہوا میز کے سامنے آیا۔ سب کو سلام کیا، اجازت لی اور کرسی پہ بیٹھ گیا۔ دونوں ہاتھ کرسی کے بازوؤں پہ ہیں۔ ہلکی سی ٹیک لگائے ہے، کمر سیدھی ہے، ٹانگ پہ ٹانگ بھی نہیں چڑھائی، بس مطمئن سا بیٹھا ہے اور سوالوں کے انتظار میں ہے۔ پہلا سوال کیا گیا کہ آسمان پہ ستارے کتنے ہیں؟ جواب ملا: چھ کھرب، بیس ارب، پچپن کروڑ، چوراسی لاکھ، ستانوے ہزار، چھ سو دو۔ انٹرویو لینے والوں کے پاس سوال غلط کرنے کے لیے کوئی بہانہ نہیں تھا کیونکہ احمقانہ سوال انہی کی طرف سے آیا تھا۔ اب انہوں نے پوچھا کہ 2855 کو 4087 سے ضرب دیں تو کیا جواب آئے گا؟ بغیر کسی کیلکولیٹر کے، بغیر کوئی حساب کیے، وہ امیدوار ترنت بولا 11668385، اب تو ساروں کی ہوا ٹائٹ تھی کہ یار اسے کس طرح انٹرویو میں فیل کریں؟ انہوں نے کہا کہ چائنیز زبان میں الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں پہ مضمون لکھو اور ہمیں سمجھاؤ کہ یہ ہوا کیا ہے؟ اس نے وہ بھی لکھ کے فوراً سامنے کر دیا۔ اب انٹرویو لینے والوں میں سے جو آدمی سب سے مہا عقلمند تھا وہ سامنے آیا۔ اس نے تالیاں بجائیں اور کہا کہ ویل ڈن یار، تم بہت ہی قابل آدمی ہو، بس ایک کام کرو‘ اب ہمیں تھوڑا ہوا میں اڑ کے دکھاؤ۔ انٹرویو دینے والے نے اڑنا شروع کر دیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 457 posts and counting.See all posts by husnain