وفاداریاں اور راستے بدلنے کا موسم


محبت کرنے والوں کے دل ہمیشہ دھڑکتے رہتے ہیں کہ ’’جانے کون، کہاں راستہ بدل جائے‘‘۔ اور یہ ایک اضافی بات ہے کہ کوئی اپنی چھوٹی یا بڑی بیوفائی کو کس طرح نباہتا ہے۔ سیاست میں وفا کرنے کے آداب مختلف ہوتے ہیں۔ توقع یہ کی جاتی ہے کہ سیاست داں دیکھ بھال کر اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے ہوئے کسی شخصیت یا نظریے سے وابستگی کا فیصلہ کرے گا۔ البتہ یہ کشمکش ممکن ہے کہ دل کچھ کہے اور دنیا کچھ اور۔ پھر وہ جو سماج کی دیوار والا پرانا استعارہ ہے وہ بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔ یعنی حالات کا جبر یا فائدے کا لالچ راستہ روک لے بلکہ بدل دے۔ عاشق اس لئے کمزور ہوتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا اور سیاست داں اس لئے کمزور ہوتے ہیں کہ ان کے پاس بہت کچھ ہوتا ہے اور اس کے چھین لئے جانے کا دھڑکا سا لگا رہتا ہے۔ اتنا کچھ کہنے کے بعد مجھے اس شاعرانہ تشبیہ سے باہر نکل آنا چاہئے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔ میں سیاست دانوں کے راستہ بدلنے کی بات کررہا ہوں۔

موسم میں کچھ ایسی تبدیلی پیدا ہورہی ہے کہ سیاسی بیوفائی کے جھکڑ چلنا شروع ہوگئے ہیں۔ اس ہفتے کا آغاز ہی کتنا ڈرامائی تھا۔ جنوبی پنجاب کےحلقوں سے منتخب ہونے والے ن لیگ کے ارکان کے ایک پورے گروہ نے پارٹی اور اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ ساتھ ساتھ انہوں نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بھی بنا ڈالا۔ آپ نے وہ پریس کانفرنس دیکھی ہوگی جو لاہور کے ایک ہوٹل میں پیر کے دن کی گئی۔ آپ سوچیں گے کہ اسمبلی کی مدت تو اب ختم ہونے والی ہے اور اس تمام عرصے میں ان افراد نے پارٹی سے اپنا تعلق قائم رکھا۔ تو بھائی، یہ کونسا وقت ہے بیوفائی یا بغاوت کا؟ آپ پورے منظرنامے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس سوال کا جواب کافی آسان ہے۔ انتخابات کا معرکہ سر پر کھڑا ہے اور نئی صف بندی کی جارہی ہے۔ پرانے عہدوپیماں توڑ کر نئے رشتے استوار کئے جارہے ہیں۔ بس مشکل یہ ہے کہ کسی کو پتہ نہیں کہ نئی محبتوں کا یہ اظہار کتنا سچا ہے اور کتنا جھوٹا…’’ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کرلو‘‘ والا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور ہاں ، بات ذرا نازک ہے مگر محبت اور ہوس میں بھی تو کچھ فرق ہوتا ہے۔ اور لوگ اپنا مطلب نکالنے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے۔

آپ یہ اندازہ لگا چکے ہوں گے کہ میں خالص سیاسی کالم نہیں لکھ پاتا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہےکہ میرے خیال میں ہمارا میڈیا مسلسل سیاست سیاست کھیلتا رہتا ہے اور دوسرے کئی شعبے کہ جن سے ہماری زندگی وابستہ ہے ہماری توجہ سے محروم رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ سیاست اور حکمرانی سے لاتعلقی ممکن نہیں ہے۔ ہم پر کون، کس طرح حکومت کررہا ہے اور ہمارے ملک میں طاقت کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے اسے سمجھے بغیر ہم اپنی اجتماعی زندگی کی کوئی پہیلی بوجھ نہیں سکتے۔ تو اب یہ دیکھئے کہ سیاسی بیوفائی کے اس موسم کا ہمارے معاشرے اور چال چلن سے کیا تعلق ہے۔ اگر ہم سیاست کو ایک آئینہ سمجھیں تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ ہمیں اس میں کیا کچھ دکھائی دے رہا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ سیاست دانوں کا وفاداریاں اور جماعت تبدیل کرنے کا سلسلہ ہمیشہ سے قائم ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ کبھی یہ فیصلہ سوچ ، نظریے اور تجربے کی بنیاد پر ہوتا ہے اور کبھی بلکہ زیادہ تر اس کا تعلق مجبوری، مصلحت یا موقع پرستی سے ہوتا ہے۔ اس سارے عمل میں جمہوری اقدار اور معاشرتی اطوار میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہر فوجی مداخلت کے بعد سیاست دانوں کی ایک ایسی کھیپ ضرور موجود ہوتی ہے کہ جو غیرآئینی اور غیر جمہوری اقدامات کو قبول کرلے۔ کسی مثال کی کوئی ضرورت نہیں۔ موجودہ صورت حال اچھوتی بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ اور جس انداز میں وفاداریاں تبدیل کی جارہی ہیں اس کو سمجھنا مشکل ہورہا ہے۔ کچھ ایسا ہے کہ جیسے تاش کی گڈی کو نئے سرے سے پھینٹا جارہا ہو۔

جیسا کہ میں نے کہا، ہمیں اس سیاسی کھیل کے معاشرتی مضمرات کی طرف بھی دیکھنا چاہئے۔ یعنی جس قسم کی سیاست کو فروغ حاصل ہورہا ہے اس سے ہماری اجتماعی زندگی پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ کام بہت مشکل ہے اور صرف سماجی علوم کے ماہرین کے بس کاہے۔ میں تو محض ایک سوال اٹھا رہا ہوں۔ یہ وضاحت بھی میں کردوں کہ صرف سیاست دانوں کو تمام خرابیوں کی جڑ سمجھنا اور انہیں گالی دینا بالکل جائز نہیں اور جمہوری نظام کی مخالفت کرنے والے اس رویے کو ایک دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن ہم جب میڈیا میں بیشتر سیاست دانوں کو بار بار اپنا موقف اور ا پنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے حکمرانی کے نظام میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کی گنجائش کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اور یہ بھی کہ ہمارے سیاست داں غیرجمہوری اقدامات کے خلاف کھڑے ہونے کی قوت نہیں رکھتے۔ یہ سب دیکھ کر عام لوگ ذہنی انتشار اور جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ہم خوف کی فضا میں جی رہے ہیں اور کئی موضوعات ایسے ہیں جن پر کھل کر بات نہیں کی جاسکتی ۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ رجعت پسند مذہبی قوتیں بلا روک ٹوک جمہوری سیاست پر دھاوا بول رہی ہیں اور کوئی ان کی مدافعت کے لئے موجود نہیں ہے۔

جمعرات کے دن تحریک لبیک پاکستان نے لاہور اور پنجاب کے دوسرے کئی شہروں میں اپنے مطالبات کے حق میں دھرنوں اور مظاہروں کا آغاز کیا۔ اسے آپ اسلام آباد میں فیض آباد کے دھرنے کی دوسری قسط کہہ سکتے ہیں۔ اب دیکھئے کہ حکومت اور حکمراں اس کا کیا حل نکالتے ہیں۔ تشویش کے لئے ایک نیا محاذ بھی تیار ہے۔ کراچی میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر احتجاج نے پشتون نوجوانوں کی بظاہر ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا ہے ۔ سرکاری سطح پر اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اسے شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ بڑے فیصلے آنے والے انتخابات کے بطن سے پیدا ہوں گے اور قومی سیاست میں وفاداریوں کی تبدیلی کا تعلق براہ راست ان انتخابات سے ہے۔ بلوچستان کی داستان پرانی ہوچکی ۔ ن لیگ کے لئے جنوبی پنجاب کی بغاوت کتنی اہم ہے ابھی واضح نہیں۔ بس آخر میں کہنے کی بات یہی ہے کہ وہ محبت ہو یا سیاست ، بیوفائی کے نتائج اچھے نہیں ہوتے۔ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ معاشرے جن میں افراد اور اداروں کے درمیان اعتماد اور اعتبار کا فقدان ہو کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں