شکیل چوہدری کا  ذاتی ناشائستہ حملہ: جواب الجواب


anwarمحترم شکیل چوہدری صاحب نے کتنے جعلی آئی ڈی بنا رکھے ہیں جن کو استعمال کر کے کل پہلے میرے  تبصرے پر بدتمیزی کی گئی، پہلے سلم نے اپنی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا پھر ایک قاضی جس نے مذہب  کی آڑ لے کر میرے تبصرے کولچرپن کہا، پھر ایک ارشد محمود جو مجھے سابق سیکریٹری اطلاعات سمجھ کر
بے ہودہ پن کا مظاہرہ کررہا تھا اور جب میں نے بتادیا کہ میں سابق سیکریٹری اطلاعات نہیں ہوں تو ایک اور صاحب  سلمان احمد آئے اور مجھ سے میری معلومات مانگیں ،میں سمجھ رہا تھا کہ چوہدری صاحب آپ کیا کھیل رہے ہیں ، لہذا جیسے ہی آپ کو میرے متعلق  یہ کنفرم ہوگیا کہ میں سابق سیکریٹری اطلاعات نہیں ہوں ، آپ نے  اپنی بہادری کا ثبوت اس مضمون کی شکل میں دےڈالا، چوہدری صاحب لکھتے ہیں تو دل بھی بڑا کریں ، اس کوچہ میں اگر تعریف ہوتی ہے تو مخالفت بھی ، ورنہ ان چھ سطروں کو نظر انداز بھی کیا جاسکتا تھا، یا پھر میرے تبصرےکے نیچے ہی جواب لکھ دیتے لیکن جیسے کہ آپ  نےمجھے مخاطب کرتے ہوئے  لکھا ہے  کہ‘‘آپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ کے چند جملے ایک مفصل اور تحقیقی  مضمون پر فوقیت رکھتے ہیں’’؟  چوہدری صاحب  ‘‘چور کی داڑھی میں تنکا’’ کی مثال سے تو آپ  واقف ہوں گے ، یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کو میرے خلاف پورا مضمون لکھنا پڑا، اس لیے کہ میرے چند جملے ہی آپ کے اس مفصل اور نام نہاد تحقیقی مضمون پر بھاری ہیں۔

 جناب میں  نے آپ کے مضمون  ‘‘مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ: جواب الجواب’’ صرف چھ لاین کا ایک تبصرہ کیا تھا جس میں  نے آپ کے اور صرف  آپ کے انداز کوبیہودہ کہا تھا جس پر میں اب بھی قائم ہوں اور اگر آپ زیادہ اپنے بارےمیں  لوگوں کے خیالات  جاننا چاہتے  ہیں تو سید عابد علی کے مضمون ‘‘ابوالکلام آزاد: ناشائستہ حملہ، شائستہ جواب’’ میں  لوگوں کے تبصرےپڑھ لیں، ایک صاحب نے فرمایا ہے کہ ‘‘بہت خوب عابد علی بخاری، بہت مناسب طریقے سے مدلل جواب دیا ہے آپ نے۔ شکیل چوہدری کو اپنے اور آپ کے طرز تکلم کا موازنہ ضرور کرنا چاہیے’’۔ میں نے اپنے تبصرےمیں ایک سوال بھی کیا تھا  آپ سے کہ ‘‘کیا محمد علی جناع ایک بیوقوف انسان تھے اور ساری عقل مولانا آزاد کے پاس تھی؟’’  آپ نے  میری مخالفت میں جو کچھ فرمایا ہے  سب کچھ ہے لیکن  اس سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں مانتا ہوں کہ آپ کا تاریخ کا مطالعہ بہت وسیع ہے لیکن آپ کی سوچ منفی ہے، آپ لوگوں کو دلائل نہیں دےرہے ہوتے بلکہ ان پر طنز برسارہے ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ ‘‘معذرت خواہ ہوں کہ میرا مضمون ’مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ :جواب الجواب ‘پڑھ کر آپ کےحب الوطنی کے جذبہ  کو ٹھیس پہنچی۔ بڑے ادب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ  آپ کا یہ جذبہ اتنا نازک کیوں ہے’’؟  کیا ایک مصنف کو یہ انداز ااپنانا چاہیے جبکہ وہ اپنے مخالف سے مخاطب ہو۔

ہمارا اصل موزوں مولانا ابوکلام آزاد ہیں میں یہاں صرف ان پر بات کروں گا۔ میں جب کسی سے مکالمہ کرتا ہوں  تو بات صرف اصل موضوع پر کرتا ہوں۔ پاکستان میں آپ پہلے نہیں ہیں جن کو آزاد سے عشق ہے بلکہ اور بھی ہیں۔ 23 مارچ پاکستان کے لیے اہم ترین دن ہے جسے ہم یوم پاکستان کہتے ہیں۔ مگر شاید اینکر کامران خان کو یہ دن پسند نہیں اس لیے 23 مارچ 2012ء کو انہوں نے سبز قمیض پہن کر جیو پر اپنے پروگرام “آج کامران خان کے ساتھ” کو “آج ابوالکلام آزاد کے ساتھ” میں بدل ڈالا، اور 25 منٹ تک  ابوالکلام آزاد کی ان باتوں کا تذکرہ کرتے رہے جو پاکستان مخالف تھیں۔ ابوالکلام آزاد نو سال تک کانگریس کے صدر رہے لیکن  گاندی یا نہرو سے مسلمانوں کے حق میں ایک بات بھی نہیں منواسکے۔ جناح صاحب ان کو کانگریس کا شو بواے کہتے تھے۔ جب یہ وزیرتعلیم تھے تو اس وقت ہی سے ہندوستان کی تاریخ میں سے مسلمانوں کے اصل کردار غائب ہوتے رہے اور مسلمان حکمرانوں کو غاصب، لٹیرے اور حملہ آور لکھا گیا اور آج بھِی ہندوستان کی تاریخ میں یہ ہی لکھا ہوا ہے۔

مولانا آزاد کو بھارت اور پاکستان میں ایک متنازع حیثیت حاصل ہے۔ جو شخص قائد اعظم کے حوالے سے یہ سوال اٹھائے کہ کیا جناح ایک مسلم رہنما ہیں؟ جونو سال کانگریس کا صدر کم، نہرو اور پٹیل کا ذاتی ملازم زیادہ لگے، جو شخص پاکستان کی ساری زندگی مخالفت کرتا رہا ہو۔ آزاد جو ہندوستانی مسلمانوں کی قیادت کے دعوے دار تھے مگر ہندوستانی مسلمانوں نےقائد اعظم محمد علی جناح کی حمایت کی اور آزادکو ایک کونے میں لگادیا ۔ بنگلہ دیش بننے کے بعدلوگوں کوآزاد کی ایک پیش گوئی کہ پاکستان کی عمر 25 سال ہے یاد آئی مگر یہ آزاد کی پیشنگوئی نہیں دلی خواہش لگتی ہے، جب ہی اندرا گاندھی نے کہا تھاکہ آج دو قومی نظریہ ختم ہوگیا، اصل میں وہ اپنے والد جواہر لال نہرو کے دوست آزاد کی زبان بول رہی تھی، بنگلہ دیش ضرور بنا اور آج بھی قایم ہے، پاکستان بھی دنیا کے نقشے پر موجود ہے، مگرآزاد کا اکھنڈبھارت 1947ء میں جو ٹوٹا تو اب کبھی اکھنڈ نہیں ہوسکے گا۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 28 اکتوبر2013ء سے 16 دسمبر 2013ء تک  اپنے مضامین میں مولانا آزاد کو موضوع بنایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنےپانچ مضامین میں پاکستان کے ایک کٹر مخالف مولانا ابوکلام آزاد کے ہم خیال بنے ہوئے تھے، ڈاکٹر صاحب بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناع مولانا آزاد کو سخت ناپسند کرتے تھے اور اُنکو کانگریس کا شوبوائے کہتے تھے۔۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تین کالم میں جو دو، نو اور سولہ دسمبر 2013 کوروزنامہ جنگ میں شایع ہوئے اس میں مولانا آزاد کا انٹرویو شایع کیا۔ اس پورےانٹرویو کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ایسے سیاستدان کا انٹرویو ہے جو پاکستان اور قائداعظم کا بدترین مخالف تھا، مثال کے طور پر جب اُن سے کہا گیا کہ ” بعض علماء بھی تو قائداعظم کے ساتھ ہیں‘‘۔ تو مولانا آزاد کا جواب تھا ” علماء اکبر اعظم کے ساتھ بھی تھے، اُس کی خاطر انہوں نے ’’دین اکبری‘‘ ایجاد کیا تھا، اس شخصی بحث کو چھوڑو، اسلام کی پوری تاریخ ان علماء سے بھری پڑی ہے جن کی بدولت اسلام ہر دور میں سسکیاں لیتا رہا۔ راست باز زبانیں چند ہی ہوتی ہیں”۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کے مضمونوں کے جواب میں ایک مضمون لکھا تھا، آپ چاہیں تو اس لنک کے زریعے پڑھ سکتے ہیں ، اس میں آپ کو آزاد کے بارےمیں کچھ اور مواد بھی مل جائےگا۔

  http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=41491

ایک آخری بات آزاد نےانڈیا ونس فریڈم نامی ایک کتاب لکھی مگر اسکے کچھ اوراق 30 سال بعد چھاپنے کے لیے لاکر میں رکھ دئیے تھے، ایسا آزاد نے کیوں کیا، بقول تاریخ داں ڈاکٹر صفدرمحمود کے کہ کانگریس کے اس شو بوائے نے گاندھی اور نہرو کے بارے میں لکھا تھا اور وہ جانتا تھا 30 سال بعد تینوں میں سے کوئی نہیں ہوگا۔

میرا خیال ہے میرا یہ جواب آپ کے لیے کافی ہوگا، ویسے مجھے معلوم ہے آپ نے کچھ ماننا نہیں، ہاں ایک اور بات چوہدری صاحب  کہ میں فتوی قطعی نہیں دیتا اس لیے اپنے آپ کو درست کرلیں میں نے  آپ کے مضمون پررائے دی تھی اور وجاہت  مسعود صاحب سے شکوہ کیا تھا۔

“ہم سب” کی پالیسی  آزادی اظہار کی ہے۔ ہم کسی تحریر کو نقطہ نظر کے اختلاف کی بنیاد پر مسترد نہیں کرتے۔ شرط صرف یہ کہ  ذاتی  حملے نہ کئے جائیں۔ فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی نہ کی جائے اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ جہاں تک “ہم سب” اور اس کے  مدیر کے بارے میں کمنٹ کا تعلق ہے، ادارہ اس کا جواب نہیں دیتا اور نہ اس پر کوئی پابندی لگاتا ہے۔  ہم اپنے سب پڑھنے اور لکھنے والے احباب کے شکر گزار ہیں۔ تاہم ایک بار پھر درخواست ہے کہ ایک دوسرے کی ذات اور نیت کو ہدف بنانے کی بجائے اگر دلائل کو متعلقہ موضوع تک محدود رکھا جائے تو مکالمہ بھی آگے بڑھے گا اور پڑھنے والوں کی رہنمائی بھی ہو گی۔ پڑھنے والوں کو اس سے کیا غرض کہ لکھنے ولا کون ہے اور اس کے “پس پردہ عزائم” کیا ہیں۔ ذاتی شکوے شکایت سے پڑھنے والے کی نظر میں مکالمے کی افادیت مجروح ہوتی ہے۔ پڑھنے والا اپنی معلومات اور علم میں اضافے کے لئے “ہم سب” پر آتا ہے۔ اسے شائستہ  اور غیر شخصی تبادلہ خیال پڑھنے کو ملنا چاہیے۔  مدیر


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “شکیل چوہدری کا  ذاتی ناشائستہ حملہ: جواب الجواب

  • 16-04-2016 at 12:05 pm
    Permalink

    Pedantic and superficial, Full of subjectivity, useless as a dialogue even. Syed sb, Shakil Chaudhri’s style may be objectionable, but he knows how to develop an argument, you lack that ability altogether

  • 16-04-2016 at 12:23 pm
    Permalink

    One may not like the tone of Shakil Sahib’s writing but his arguments are all sound and deserve a better response than the one penned by the author? Just like Abid Bukhari Sahib, the author of this article also likes mud slinging and personal attacks.
    The article starts with allegations of “multiple fake identities” against Shakeel ,Choudhry an allegation for which I am certain the author does not have any evidence of, unless he is a hacker of administrator of this website. It is a plane personal attack.
    But I am not surprised, because author is the standard sample product of sick and one sided history taught in our books and biased attitude nurtured in our schools and official narrative.
    God help us all in the battle for sanity..
    Shakeel Sahib, please keep lighting the candle.

  • 16-04-2016 at 2:08 pm
    Permalink

    میں بالکل جناب سید انور محمود صاحب سے متفق ہوں کہ ذاتی حملے کسی طور پر بھی برداشت نہیں ہونے چاہیں خواہ آپ کتنے ہی صاحب علم ہونے کا دعوی کیوں نہ کریں ، ہم سب کی اس حوالے سے پالیسی لائق ستائش ہے ۔

    • 16-04-2016 at 3:36 pm
      Permalink

      انور محمود صاحب
      میں نے شکیل چوہدری صاحب کا مقالہ بھی پڑھا اور آپ کا مقالہ دوبار پڑھا۔ کیا آپ ان کے کسی ایک بھی سوال کا جواب دینا پسند کریں گے؟ اس طرح تو مجھ ایسے بہت سے لوگ ان کے موقف کو درست تسلیم کرلیں گے اور میں تو اکثر شیر بنگال روڈ سے گذرتا ہوں یوں ایک عجیب خلجان کا شکار رہوں گا۔ امید ہے کہ آپ ان کے سوالات کا جواب دے کر ہم ایسے طالب علموں کو تشفی کا سامان مہیا کریں گے۔ دوسری بات یہ کہ حضور ہمارے ارباب اقتداربالیقین مجھ سے زیادہ محب وطن ہوں گے تو آج تک کیوں اردو کے نصاب سے ابوالکلام نکالا نہیں جاسکا۔ جب کہ اگر پنجابی کے نصاب میں بابا گورونانک کو شامل کیا جائے تو غداری کا اچھا خاصا سنگین الزام لگ جاتا ہے۔ البتہ اردو کے نصاب میں ابوالکلام کے علاوہ عصمت، قرۃ العین (حتی کہ “آگ کا دریا”) کرشن چندر، پریم چند وغیرہ کے شامل ہونے سے حب الوطنی پرذرا آنچ بھی نہیں آتی

      • 16-04-2016 at 8:58 pm
        Permalink

        کامران صاحب،
        اور میں تو اکثر شیر بنگال روڈ سے گذرتا ہوں یوں ایک عجیب خلجان کا شکار رہوں گا

        انور صاحب نے تو واقعی ہم سب کو مخمصے میں ڈال دیا 🙂

    • 16-04-2016 at 9:16 pm
      Permalink

      راضیہ سیدصاحبہ‘

      آپ نے فرمایا ہے کہ آپ سید انور محمود صاحب سے بالکل متفق ہیں کہ ذاتی حملے کسی طور پر بھی برداشت نہیں ہونے چاہئیں۔ براہ مہربانی یہ فرمادیں کہ ذاتی حملوں کا آغازکس نے کیا؟ کیاانورصاحب نے میرے انداز کو بغیرکسی دلیل لے بے ہودہ قرار نہیں دیا؟ کیا شائستہ بحث اس طرح کی جاتی ہے؟ کیا یہ ذاتی حملہ نہیں تھا؟ اگرآپ اسے ذاتی حملہ تصورنہیں کرتیں تو کیا آپ اسے ناشائستہ تنقید سمجھتی ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ اتنے زیادہ قارئین میرے مضامین کو مدلل اور شائستہ قراردیا ہے؟ شایدانورصاحب کی ’بے ہودہ‘ کی تعریف سب سے نرالی ہے۔

      اب انہوں نے بغیرکسی ثبوت کے مجھ پرمتعدد جعلی آئی ڈیزبنانے کا الزام بھی دھردیا ہے۔ کیایہ ذاتی حملہ ہے کہ نہیں؟ انور صاحب نے تو ’ہم سب‘ کے مدیرکو بھی نہیں بخشا۔ وجاہت مسعود پر کی جانے والی اس تنقیدکوآپ کس نظرسے دیکھتی ہیں؟

      انور صاحب نےمیری تنقیدکو ’ذاتی ناشائستہ حملہ‘ قراردیا ہے۔ ذرا ان کی شائستگی کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ سلم نامی کسی صاحب نے انورصاحب کے تبصرہ کے جواب میں یہ لکھا:

      ’سید انور محمود صاحب،
      آپ تو جمھوریت کے اور حق آزادئ اظہار کے چمپئن نکلے
      وجاہت صاحب کو پچھلے دنوں ملنے والے صحافتی ایوارڈ کے اصل مستحق تو سید انور محمود صاحب ہیں سب مل کر بولو ۔ جمہوریت زندہ باد
      جو ہمیں نا پسند ہو وہ تنقید ۔ مردہ باد
      جمہوریت کا چمپئن کون ۔ مودودی مودودی
      قائد کا ناقد کون ۔۔ مودودی مودودی
      پاکستان سرخ ہے ۔ نہ پاکستان سبز ہے
      مودودی کے افکار سے ۔ پاکستان کو قبض ہے۔‘

      انورصاحب نے اس کا جو جواب دیا اسے آپ کیا نام دیں گی؟ کیا یہ شائستگی کا ایک شاہکار ہے؟ انہوں نے لکھا۔

      ’بھائی سلم صاحب اپنی جاہلت کا اظہار کسی اور وقت کرلینا۔
      ہوسکتا ہے کہ مودودی آپکا رہبر ہو جیسے ابو کلام آزاد، میں نے وجاہت صاحب سے شکوہ کیا ہے تکلیف آپکو ہوئی ہے۔ تماری بکواس سے معلوم ہوگیا کہ تم پکے بھانڈ ہو۔۔۔۔۔۔ جسکو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔‘

      میرے خیال میں سلم صاحب کے تبصرے میں سنجیدگی کی کمی تھی لیکن انورصاحب نے اس کا جس طرح جواب دیا کیا اسے کسی طرح بھی شائستہ کہا جاسکتا ہے؟ اپنا جواب لکھتے وقت انہوں نے اپنی عمر کا خیال بھی نہیں رکھا۔ میں یہاں یہ وضاحت کردوں کہ میں سلم صاحب کونہیں جانتا۔ اگریہ تبصرہ میں نے لکھا ہوتا تو یہ اس سے کافی مختلف ہوتا اورانورصاحب کے اس کا جواب دینا اتنا آسان نہ ہوتا۔

    • 17-04-2016 at 11:01 pm
      Permalink

      محترمہ راضیہ سید صاحبہ
      آپسے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں کہ آپکی ڈیڑھ لاین کے تبصرئے پرآپکوشکیل چوھدری صاحب ایک لمبا جواب ملا، جس میں میری بدتمیزی کو اجاگر کیا ہے، سلم کوئی اور نہیں چوہدری صاحب کی بنائی ہوئی ایک آئی ڈی ہے، چوہدری صاحب نے اپنی ایک اور آئی ڈی ارشد محمود سے کیا کچھ فرمایا یہ بھی پڑھ لیں:
      سید انور محمود کے نام: منجانب: ارشد محمود
      قائد اعظم کی ایک سو بے وقوفیاں گنوائی جاسکتی ہیں۔ اب انہیں داڑھی والی مقدس ہستی گناہ اور خطا سے پاک کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ صرف منٹو کا وہ مضمون ہیں پڑھ لیں۔ جو قائد اعظم کے اوپر لکھا ہوا ہے۔۔ قائد اعظم ایک ایسے شخص کو اپنا ڈرائور بھرتی کرلیتے ہیں۔۔جو ڈرائونگ ہی نہیں جانتا۔۔۔۔ اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے؟
      آپکا بہت بہت شکریہ

      • 18-04-2016 at 1:21 am
        Permalink

        سید انور محمود‘ معافی چاہتا ہوں لیکن آپ بغیرکسی ثبوت کےکیوں مسلسل جھوٹ بولے جارہے ہیں؟ آپ کے لئے یہ یقین کرنا کیوں ناممکن ہے کہ میرے علاوہ بھی لوگ آپ پر تنقید کرسکتےہیں؟ کیا آپ کومکمل یقین ہے کہ اب تک میرے سوا کسی نے آپ پرتنقید نہیں کی ہے؟ کیا کامران کاظمی‘ حاشرابن ارشاد‘ رامش فاطمہ‘ عدنان ملک‘ محمدطاہریونس وائیں‘ وسیم علی‘مبشر چودھری محمد نعیم اورسلمان یونس بھی حقیقی لوگ نپہں ہیں؟ کہیں آپ persecution complex کاتو شکارنہیں؟ اگر ایسا ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔

        مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ کو راضیہ صاحبہ سے معذرت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا یہ کوئی آسمانی صحیفہ ہے کہ چھ سطر کے تبصرے کا جواب چھ سطراور ڈیڑھ سطر کے تبصرے کا جواب ڈیڑھ سطر سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے؟ راضیہ صاحبہ کواگر میراجواب قابل اعتراض لگا تھا تا تو انہوں نے خود اس کا اظہارکیوں نہ کیا؟ کہیں ان کا کمنٹ آپ ہی کا لکھا ہوا تونہیں لکھا تھا؟ دونوں کے اندازتحریر میں کافی مشابہت نظرآتی ہے۔ لیکن اگرآپ یہ کہہ دیں کہ آپ راضیہ صاحبہ کونہیں جانتے اوران کے نام سے شائع ہونے والے کمنٹ سے آپ کا کوئی تعلق نہیں تو میں آپ کا یقین کرلوں گا۔

      • 18-04-2016 at 9:23 am
        Permalink

        شکیل چوہدری صاحب
        کامران کاظمی‘ حاشرابن ارشاد‘ رامش فاطمہ‘ عدنان ملک‘ محمدطاہریونس وائیں‘ وسیم علی‘مبشر چودھری محمد نعیم اورسلمان یونس سب حقیقی لوگ ہیں، اور انہوں نے جو تنقید کی وہ بھی حقیقت ہے اور شاید میں نے عدنان ملک کے علاوہ باقی کسی کو جواب نہیں دیا لیکن سلم، ارشد محمود، قاضی اور سلمان 100 فیصد آپکی ڈمی آئی ڈی ہیں، آپ لگاتے رہیں مجھ پر جھوٹ کے الزام، میں محترمہ راضیہ صاحبہ کو نہیں جانتا، لیکن آپ یوں کہہ رہے ہیں کہ ڈمی آئی ڈی کا کھیل آپکو آتا ہے۔ امید ہے اب آپ کو فرصت نہیں ملے گی کیونکہ عابد بخاری نے آپکے ممدوع مولانا آزاد کےلیے بہت کچھ لکھ ڈالا ہے، ویسے آپکو ایک مشورہ ہے اور بلکل مفت کہ کبھی کبھی چیزوں کو نظرانداز بھی کیا جاتا ہے، اور سوشل میڈیا کو اپنا کلاس روم خیال نہیں کیا کریں۔ دیکھتے ہیں عابد بخاری کو آپ کیا جواب دیتے ہیں۔

  • 16-04-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    قبلہ شاہ صاحب کا شکیل چودھری صاحب پر متعدد آئی ڈیز بنا کر تنقید کرنے کا الزام پڑھ کر غالب یاد آ گئے، “باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے.. سایۂ شاخ گل افعی نظر آتا ہے مجھے”.. محترم شاہ صاحب نے چودھری صاحب کے پوچھے گئے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، بس وہ کچھ دہرا دیا جو ڈاکٹر صفدر محمود صاحب تاریخ نویسی کے نام پر غیر مدلل مداحی کے ضمن میں لکھتے آے ہیں. مکرر عرض ہے کہ یہاں ابو الکلام آزاد اور محمد علی جناح نامی دو پہلوانوں کا ملاکھڑا ہر گز نہیں چل رہا. دونوں کے سیاسی خیالات، ان کی عملی سیاست اور اس کے اثرات پر بات چل رہی ہے. ابھی تک واضح نہیں ہوسکا کہ محترم شاہ صاحب کو آزاد کی سیاست سے اس کے سوا کیا اختلاف ہے کہ وہ قائد اعظم اور پاکستان کے مخالف تھے. یہ محض اختلاف راے ہے، جس کے اظہار کی، دلائل کے بغیر کوئی حیثیت نہیں. محض آزاد کی تحقیر اور مخاطب پر دشنام ترازی سے بات نہیں بنے گی سرکار!.. کوئی دلیل دیجئے.. نجانے مدیران کرام نے شاہ صاحب کی سیادت کے احترام میں اس قدر غیر مدلل مضمون چھاپ دیا، یا ان کی عمر کے خیال سے…

  • 16-04-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    ایک طالب علمانہ سوال ہے، شاید شاہ صاحب جواب سے مشرف فرمائیں . فرماتے ہیں، “23 مارچ پاکستان کے لیے اہم ترین دن ہے جسے ہم یوم پاکستان کہتے ہیں”. ذرا واضح فرمائیں گے کہ اس دن کی کیا اہمیت ہے؟

  • 16-04-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    دراصل مشکل یہ ہے کہ ایک حریف کا مطالعہ “ڈاکٹر” صفدر محمود تک محدود ہے اور دوسرے نے لاتعد بنیادی متون پڑھ رکھے ہیں۔ رہی بات ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی تو ظاہر “دیوبند” بھی ہندوستان میں “بریلی” بھی ہندوستان میں، اور تبلیغی جماعت کا مرکز بستی نظام الدین بھی اسی کافروں کی بستی میں۔ اور تینوں ماشاٴالله/خدانخواستہ خاصے زوروں پر ہیں۔

  • 17-04-2016 at 9:47 am
    Permalink

    دلائل کی قلت کا تدارک جذباتیت کی شدت سے کیا گیا ہے. اپنا نکتہ نظر الزام و دشنام کی بجائے مہذب انداز میں بھی بیان کر سکتے تھے.

  • 17-04-2016 at 4:26 pm
    Permalink

    تجھ سے گلہ ہے اور نہایت ادب سے ہے، یہ ہم سب کی ادارتی ٹیم کو کون سی بات اس مضمون میں چھاپنے کے قابل لگی جو یہ یہاں چھپ گیا، کم از کم میں تو سمجھنے سے قاصر ہوں، باقی مضمون کے بارے میں کیا تبصرہ کرنا، کہ آپ اپنا تعارف ہوا تعصب کی ہے، الزام تراشی اور پتا نہیں کس تاریخ کا حضور ذکر فرما رہے ہیں جس میں تئیس مارچ یوم پاکستان ہے،

Comments are closed.