چھوٹو گینگ: یہ ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟


ajmal jamiراجن پور کے نزدیک کچے کے علاقے میں تقریبا دو سو ڈاکووں نے سات اضلاع کی دو ہزار سے زائد نفری کو گزرے دو ہفتوں سے بے بس کر رکھا ہے، یہی نہیں بلکہ اب بھی چوبیس پولیس اہلکار چھوٹو گینگ کے ہاتھوں یرغمال ہیں، سات اہلکار شہید ہو چکے ہیں، ان میں ایس ایچ او حنیف غوری بھی شامل ہیں، جنہیں چھوٹو گینگ کے دست راست نے نوے گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ بدھ اور جمعرات کو جب آئی جی پنجاب بے بس ہوئے تو ملتان میں کور کمانڈر سے ملاقات کرنا پڑی، رینجرز کی معاونت ضرور لی گئی مگر اس انداز میں کہ قیادت پولیس اور انتظامیہ کے پاس ہی رہے۔

غلام رسول بکھرانی عرف چھوٹو کے خلاف پہلی ایف آئی آر 1987 میں درج ہوئی، اور اب نہ صرف موصوف کے سر کی قیمت لگ چکی ہے بلکہ مقدمات کی تعداد بھی درجنوں میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ 1987 سے 2016 تک انتظامیہ اور پولیس نے کیا ستو پی رکھے تھے؟ کچے کے اس علاقے میں چھوٹو گینگ کی ایک پوری ریاست آباد ہے جسے ہر معنوں میں ‘نو گو ایریا’ کہا جاتا ہے۔ لیکن پنجاب کے وزیر قانون بضد ہیں کہ پورے صوبے میں کوئی نو گو ایریا نہیں۔ گیارہ کلومیٹر کی اس پٹی میں اب چھوٹو گینگ اس قدر طاقتور ہے کہ اس کے ہاں کالعدم تنظیموں کے خطرناک کارندے بھی بطور مہمان رہائش پذیر ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کے لئے بھی یہ علاقہ آسائش کا مسکن رہا ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک اہم عہدیدار کی ایک تحریر موصول ہوئی جسے من و عن قارئین کے لئے پیش کر رہا ہوں۔۔

choto” کچے میں مظلومانہ شہادت پانے والے ایلیٹ فورس اور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا قاتل چھوٹو ڈکیت نہیں بلکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ اور آئی جی پنجاب ہیں، محض اس اندیشے سے کہ فوج کو پنجاب میں کارروائی کا جواز نہ ملے، جانتے بوجھتے ان جوانوں کو موت کے منہ میں دھکیلا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب کو اچھی طرح معلوم تھا کہ پچھلے سال پولیس ملازمین کو چھڑانے کے لئے ادا کیا جانے والا تاوان کہاں کہاں پہنچا اور اس میں سے بچ جانے والا چھوٹو کا حصہ کہا خرچ ہوا؟ اس سال ستر لاکھ روپے سے زائد کا سریا اور سیمنٹ اس علاقے میں کس مقصد کے لئے پہنچایا گیا؟ چاروں طرف دریا سے گھرے اس جزیرہ نما علاقے میں زیر زمیں کنکریٹ سے تیار کردہ بنکرز میں رہائش پذیر چھوٹو گینگ اس قدر طاقتور کیسے بن گیا کہ سات اضلاع کی پولیس اس سے مقابلہ کرنے سے قاصر ہے؟ یرغمال بنائے گئے جوانوں کے وائرلیس سے پیغام دیتے ہوئے چھوٹو نے خبردار کیا کہ چوکیاں ختم کر کے فورس کو واپس نہ کیا گیا تو یرغمال کئے گئے جوان میرے ‘پیو کے پتر’ نہیں ہیں۔ کارروائی کی صورت میں روزانہ لاشیں ہی اٹھانا پڑیں گی اور اگر فوج نے کارروائی کی تو ہتھیار ڈال دوں گا اور اس حال تک پہنچانے والوں کے نام لے کر کچا چٹھا کھول دوں گا۔ موخر الذکر سنگین دھمکی کے بعد آئی جی پنجاب جو کل تک جوانوں سے فرما رہے تھے کہ معمولی ڈکیتوں کا گروہ ہے ہمت کرو کہ پنجاب میں شہادتوں کا ریشو سب سے کم ہے، شہید جوانوں کے لواحقین کا سامنا کئے بنا علاقے سے غائب ہو گئے۔ فورس کے جوان شکوہ کناں ہیں کہ جدید ترین ہتھیاروں اور اندھیرے میں دیکھنے والے آلات سے لیس گروہ جو روزانہ برملا للکارتا رہا کہ بزدلو! ہمت ہے تو آو ہم پر حملہ کرو ، ان کے مقابلے میں سالوں پرانے اسلحے کے ساتھکے ساتھ کھلی کشتیوں میں کیوں انہیں مرنے کے لئے اتارا گیا،؟ درجنوں گاڑیوں کے حصار میں چلنے والے اور ماڈل ٹاون سے رائیونڈ تک ہیلی کاپٹر پر سفر کرنے والے حکمرانوں سے کون پوچھے کہ فضائی نگرانی کے ساتھ کارروائی کا آغاز کیوں نہ کیا گیا؟ کیا آپ کی جان چھے بہنوں کے اکلوتے بھائی اور تین چھوٹی بچیوں کے باپ سے زیادہ  قیمتی ہے؟ کارروائی روک کر انہی وڈیروں اور جاگیرداروں کے ذریعے مذاکرات کا ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے والا پولیس کے آگے ہتھیار ڈالنے پر رضا مند کیوں نہیں؟ بے حسی کی گرد ہر سو پڑی ہے، منصوبے ٹھنڈے کمروں میں بنتے ہیں، جانیں جوانوں کی جاتی ہیں۔”

ہائے وہ ایک بھی نہ سمجھا

آنکھ کس کس زبان میں روئی

اور اب خبر ہے کہ بالاخر فوج کو آنا پڑا۔ گینگ کے بیشتر افراد ہتھیار ڈال چکے ہیں، لیکن کچھ سوال ہمیشہ وزیر قانون پنجاب اور ‘خادم اعلیٰ’ پنجاب کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ اس آپریشن سے پہلے چار آپریشن کیوں ناکام ہوئے؟ ذمہ دار آپ نہیں تو کون ہیں؟ دریائے سندھ میں پانی زیادہ ہونے کے باوجود آپریشن کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟  کیا پولیس کی استطاعت کار نہ بڑھانے کے ذمہ دار آپ نہیں؟ آپ نے پولیس کو غیر سیاسی بنانے میں کیا کردار ادا کیا؟ پولیس ٹریننگ کے لئے دس فیصد سے بھی کم خرچ کیوں ہوتا ہے؟ کیا پولیس ڈیپارٹمنٹ کی اعلی تعیناتیاں آپ کے مشورے سے نہیں ہوتیں؟ پندرہ ارب سے زائد کی رقم  سے پلنے والا کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کس مرض کی دوا ہے؟ کہا گیا کہ سی ٹی ڈی کا مینڈیٹ تخریب کاروں اور دہشت گردوں کے خلاف ہے، کیا ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والا چھوٹو دہشت گرد نہیں؟ مقامی ایم پی ایز اور ایم این ایز چھوٹو گینگ کے لئے اس قدر ہمدرد کیوں ہیں کہ ہر بار مذاکرات کے لئے بے تاب رہتے ہیں؟ اور اگر پانچویں بار چھوٹو کے خلاف پولیس آپریشن ناکام نہیں ہوا تو وزیر اعلیٰ پنجاب جمعرات کو کس پر سیخ پا تھے؟

آپ ڈولفن فورس بناتے ہیں، میٹرو بناتے ہیں، اورنج لائن کے لئے مائیک توڑتے پھرتے ہیں۔۔ دہائیوں سے قائم پنجاب پولیس مگر آپ کی توجہ کی منتظر ہے۔ فرصت ملے تو برائے مہربانی راجن پور کے تھانہ شاہ والی کی حالت زار پر بھی رحم فرمائیں۔ ارشاد احمد عارف صاحب فرماتے ہیں کہ شاہ والی تھانہ راجن پور کا آخری اور دور دراز تھانہ ہے، بھلے دنوں میں ایک ایس ایس پی یہاں آن پہنچا، تھانے کے باہر ایک کانسٹیبل مالش کروا رہا تھا، ایس ایس پی تھانے کے اندر تک چلا گیا لیکن کانسٹیبل ٹس سے مس نہ ہوا، غصے میں افسر نے کانسٹیبل سے پوچھا تمہیں میں نظر نہیں آرہا؟ کانسٹیبل نے جواب دیا، حضور، کانسٹیبل سے چھوٹا رینک کوئی نہیں اور شاہ والی سے آگے تھانہ کوئی نہیں۔

پس تحریر: غلام رسول بکھرانی عرف چھوٹو چھ فٹ قد کا مالک ہے، بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے چھوٹو کے نام سے مشہور ہوا۔ ایک زمانہ تھا کہ پنجاب کے حکمران جعلی پولیس مقابلوں پر کریڈیٹ لیتے تھے، اب کی بار اصلی مقابلہ ہوا تو حکمران سیخ پا اور انتظامیہ بے بس نظر آئی۔ اور اب خوفناک لطیفہ یہ ہے کہ ملک میں ڈاکو بھی مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بجائے فوج پر اعتماد کو ترجیح دے رہے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 14 posts and counting.See all posts by ajmal-jami

3 thoughts on “چھوٹو گینگ: یہ ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟

  • 16-04-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    اگر فوج چھوٹو کو زندہ گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئ تو کچھ ایسے حقائق منکشف ہوں گے،جن کے سامنے پاکستان کی حد تک پاناما لیکس کی زنبیل چھوٹی پڑ جائے گی.

  • 16-04-2016 at 6:33 pm
    Permalink

    اجمل جامی صاحب کی تحریر عوامی جذبات کی ترجمان ہے۔ خادمِ اعلی کی ذاتی حفاظتی فورس یقیناً عمدہ تربیت اور جدید اسلحہ رکھتی ہو گی۔ اور اب گینگ تاریخ کی گرد میں بھی جاۓ گا۔ مگر سوال پھر وہی یہ گینگ بنایا کس نے؟ کیونکر بنا؟ اور پولیس کا اچانک اسقدر دشمن کیوں ہوا؟ اس گینگ کے سوگواران کون کونسے سیاستدان ہوں گے۔؟

  • 16-04-2016 at 10:33 pm
    Permalink

    ہمارے آزاد قلم کار جس انداز میں پولیس کی کارروائی کا تجزیہ کرتے ہیں کیا وہ ضرب عضب کا بھی تجزیہ کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے۔ کتنا وقت اور کتنے وسائل صرف ہو چکے ہیں، افواج کا کس قدر جانی نقصان ہوا ہے؟ چند ہزاریا شاید چن سو لوگوں کے خلاف آپریشن ابھی کئی برس اور جاری رہتا نظر آ رہا ہے۔

Comments are closed.