ہیگل، کانٹ اور اب… چوہدری شجاعت کا فلسفہ “مٹی پاؤ، ڈنگ ٹپاؤ”


سینئر سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کی آپ بیتی ‘سچ تو یہ ہے’ تین سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل کتاب ہے، اسے فیروز سنز نے چھاپا ہے، قیمت پانچ کم ہزار رکھی گئی ہے۔ زیادہ قیمت کی ایک وجہ کتا ب میں درجنوں رنگین تصاویر کا ہونا اور دوسری وجہ غالباً یہ ہوسکتی ہے کہ کتاب کی تمام تر رائیلٹی فلاحی کاموں کیلئے وقف کی گئی ہے۔ اسلوب انتہائی سادہ، عام فہم اور براہ راست ہے۔ اس کتاب پر کئی نامور لکھاری کالم باندھ چکے ہیں۔ نت وڑائچ (چوہدری برادران کا آبائی گاوں) سے لے کر وزیر اعظم ہاوس تک کی کہانی چوہدری شجاعت حسین کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ چوہدری ظہورالہی کی وضع دار سیاست، ایوب دور ، بھٹو کی حکومت، جنرل ضیا کا مارشل لا، نواز شریف اور بی بی کی دو دو حکومتیں ، جنرل مشرف کا اقتدار اور پھر دو ہزار آٹھ کے انتخابات کا آنکھوں دیکھا حال چوہدری صاحب نے خو ب روانی کیساتھ قلمبند کیا ہے۔ کتاب میں میدان سیاست کی سنجیدگیوں کے علاوہ کچھ کھٹے کچھ مٹھے واقعات بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔ لہذا ہم چوہدری صاحب کے کچھ دلچسپ مشاہدات کا آنکھوں دیکھا حال قارئین تک پہنچائیں گے۔

چوہدری صاحب نے لکھا ہے کہ ایوب دور کے آغاز میں ان کے آبائی گھر کی بیرونی دیوار گرا دی گئی، کہا گیا یہ غیر قانونی ہے، چوہدری شجاعت کی عمر اس وقت گیارہ یا بارہ سال تھی، دیوار گرانے کے بعد فوجی اہلکار چوہدری ظہور الہی کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے، اور چوہدری صاحب کچہری تک والد کے پیچھے بھاگتے رہے۔ بیرونی دیوار چھ انچ باہر تعمیر کرنے کا الزام لگا کر ان کے والد کو چھ ماہ سزا دینے کا حکم دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چند ماہ بعد وہی فوجی حکام جو دیوار گرانے آئے تھے، کہنے آئے کہ براہ مہربانی اپنی دیوار دوبارہ تعمیر کر لیں۔ جنرل ایوب خان گجرات شہر آر ہے تھے، مقامی حکام کو اندیشہ تھا کہ یہاں سے گزر ہوا تو جنرل کی نظر گری دیوار پر پڑ گئی تو معاملہ گڑ بڑ ہو سکتا ہے۔ چوہدری ظہور الہی نے کہا کہ دیوار آپ نے گرائی ہے اور اب آپ ہی اپنے خرچے پر دوبارہ تعمیر کریں گے۔ چنانچہ یہ دیوار اسی جگہ پر مارشل لا حکومت ہی کے خرچے پر دوبارہ تعمیر ہوئی اور آج بھی اسی جگہ موجود ہے۔

اپنے خاندانی کاروبار کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ ان کے تایا چوہدری منظور الہٰی انیس سو ترپن میں جاپان گئے تو ‘لیلن’ اور ہوزری کی پاور لومز ساتھ لے کر آئے۔ اس طرح لیلن جو اب ‘بریزے ‘کہلاتی ہے ، پہلی مرتبہ چوہدری فیملی نے پاکستان میں متعارف کرائی۔ سقوط ڈھاکہ پراپنا ردعمل لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹی وی پر جنرل یحٰی کی تقریر چل رہی تھے جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ جنگ جاری ہے اور ہم سرنڈر نہیں کریں گے، چوہدری صاحب کے ایک میجر دوست نے انہیں رابطہ کرنے پر بتایا کہ سرنڈر آرڈر تو انہیں پہنچ چکے ہیں۔ قول و فعل کا یہ تضاد دیکھ کر چوہدری صاحب کا جی چاہا کہ وہ جوتا اتاریں اور ٹی وی اسکرین پر دے ماریں۔ چوہدری شجاعت حسین کو آج بھی افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اس وقت جوتا ٹی وی اسکرین پر کیوں نہ مارا۔

اکہتر تا ستتر کو اپنے خاندان کے لئے (بھٹو صاحب کی وجہ سے) چوہدری شجاعت نے مشکل ترین دور قرار دیا ہے۔ اسی دور میں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی پہلی بار گرفتار ہو کر حوالات تک پہنچے۔ سول لائن تھانے میں تھوڑی دیر بعد ایک نشئی کو بھی اندر دھکیل دیا گیا، اس نے آتے ہی چرس کے کش لگانے شروع کر دئیے ۔ اور وہ دھواں جو ایک نشئی کو چس دے رہا تھا اس سے چوہدری برادران کیلئے سانس لینا محال ہو گیا۔ بھٹو حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں متحدہ جمہوری محاذ کے تمام تر رہنماوں کیساتھ چوہدری فیملی کے گھریلو تعلقات قائم ہو گئے۔ خان عبدالولی خان المعروف باچا خان سترہ برس بعد لاہور آئے تو انہی کے گھر قیام کیا۔ چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ اس دوران انہوں نے محسوس کیا کہ باچا خان کا کھانا اور رہن سہن بہت سادہ تھا، انہوں نے آتے ہی کہہ دیا تھا کہ آج سے گھر میں انواع و اقسام کے کھانوں کی بجائے ایک وقت میں صرف ایک کھانا ہی پکے گا۔ چنانچہ بظاہر تو ایسا ہی ہونے لگا لیکن دوسرے کمرے میں دیگر مہمانوں کیلئے دیگر کھانے بھی ہوتے۔ باچا خان کو خبر ہوگئی، وہ اچانک دروازہ کھول کر اس کمرے میں آن پہنچے جہاں میاں محمود علی قصوری اور دیگر مہمان ایک سے زائد ڈشز سے لطف اندوز ہو رہے تھے، باچا خان نے قصوری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کچھ یوں اظہار ناراضی کیا، “بھئی! آپ کو اپنے گھر سے کھانا نہیں ملتا؟”

حاصل بزنجو کے والد غوث بخش بزنجو سے ان کے گھر آتے تو ہمیشہ مکس چائے طلب کرتے، بزنجو صاحب مکس چائے کو ‘گڑ بڑوالی چاے” کہتے تھے۔ لال مرچ کے شیدائی تھے، لال مرچ کے دو بڑے چمچ دیکھتے ہی دیکھتے نگل جاتے تے۔ اکبر بگٹی کو اس کے برعکس سبز مرچ پسند تھی، دوپہر کے کھانے میں اکثر دس بارہ بڑے سائز کی نہایت کڑوی ہری مرچیں کچی چبا لیتے۔ مولونا مفتی محمود (والد مولانا فضل الرحمان) کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ شوگر کے مریض تھے، لیکن ہمارے گھر کئی بار ان کو اس طرح دیکھا کہ ایک بڑی سی پلیٹ میں آم ہیں، گٹھلیاں نکال کر اس میں آئس کریم ڈال کر مولانا دیوار کی طرف منہ کر کے کھارہے ہیں تاکہ کوئی انہیں ٹوک نہ دے کہ شوگر کی وجہ سے اتنا میٹھا ان کے لئے اچھا نہیں۔ متحدہ جمہوری محاذ کے اکثر اجلاس انہی کے گھر میں(راولپنڈی ویسٹرج) کے ڈرائنگ روم میں ہوتے، رازداری کی وجہ سے اخبارنویسوں کو مدعو نہ کیا جاتا ۔ لیکن ہر اجلاس کی کاروائی اگلے روز اخبار میں من و عن چھپ جاتی۔ اپوزیشن کے تمام سینئر رہنما اس صورتحال سے بہت پریشان تھے۔اچانک ایک اجلاس کے دوران کسی راہنما کا پاوں ڈائننگ ٹیبل کے نیچے کسی چیز سے ٹکرایا، جھک کر نیچے دیکھا تو میز کے نیچے راولپنڈی کے دبلے پتلے صحافی سعود ساحر ٹیپ ریکارڈر لے کرے چھپے بیٹھے تھے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اجمل جامی

اجمل جامی پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں، آج کل دنیا ٹی وی کے لئے لائیو ٹالک شو کرتے ہیں، خود کو پارٹ ٹائم لکھاری اور لیکچرار کے علاوہ فل ٹائم ملنگ مانتے ہیں، دوسری بار ملا جائے تو زیادہ پسند آسکتے ہیں۔ دل میں اترنے کے لئے ٹویٹر کا پتہ @ajmaljami ہے۔

ajmal-jami has 48 posts and counting.See all posts by ajmal-jami