شام میں سرد جنگ کی گرم بازاری


بالآخر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی فضائیہ نے شام میں ہوائی حملے کردیے۔ دمشق اور حمص میں مبینہ طور پر ان اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں کیمیائی اسلحہ تیار اور اسٹور کیا جاتا تھا۔ بشار حکومت پر کیمیائی حملے کا الزام لگنے کے بعد صدر ٹرمپ نے شام کے مرکزی اتحادی روس کو خبرداری ٹوئیٹ کی تھی کہ نئے اور سمارٹ امریکی میزائل آ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک سفارتی جنگ چھڑ گئی جو بے نتیجہ ختم ہوئی۔ امریکی قرارداد کو روس نے ویٹو کیا۔ اسی طرح روسی قرارداد کو اتحادیوں نے مسترد کردیا۔ سلامتی کونسل میں جاری اس جنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئیٹ کیا جس کے مطابق شام پر اتحادی حملے کا حتمی وقت ابھی طے نہیں کیا گیا۔ یہ جلد بھی ہو سکتا ہے اور بدیر بھی۔ فرانس اور برطانیہ شروع سے ہی عملی طور پر امریکہ کے ساتھ کھڑے تھے۔ جرمنی کی اخلاقی مدد بھی اسی گروپ کے ساتھ تھی۔

سفارتی جنگ میں روس کی جانب سے بھی ایسے شدید جواب دیے گئے کہ اقوام متحدہ نے سرد جنگ کا بازار دوبارہ گرم ہونے کی نوید سنادی۔ روس نے عالمی امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے پر سلامتی کونسل میں امریکہ کی مستقل نشست پر ہی سوال اٹھا دیے۔ روس نے یہ تنبیہ بھی کی کہ اگر امریکہ نے فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ سکتی ہے۔

ایسا سوچا جا سکتا تھا کہ ٹرمپ کی یہ دھمکی بھی شمالی کوریا کو دی جانے والی دھمکیوں جیسی ثابت ہوگی لیکن گذشتہ کچھ ہفتوں میں روس اور اتحادیوں کے تعلقات پہلے ہی بدترین سطح تک پہنچ چکے تھے۔ برطانیہ کی طرف سے منحرف روسی ایجنٹ پر حملہ کا الزام روس پر لگائے جانے کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کی بڑی تعداد ملک بدر کی جا چکی تھی۔ اسی دوران روس میں صدراتی الیکشن میں صدر پیوٹن نے دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ وہ پیوٹن ہی کیا جو الیکشن ہار جائے۔

اپنی تقریر میں پیوٹن نے جدید ترین نیوکلئیر میزائل اور اسلحہ متعارف کرایا جس کا ہدف امریکہ کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ روس میں سیاسی اپوزیشن پر متعدد پابندیاں ہیں۔ مرکزی رہنما کے الیکشن میں حصہ لینے پر ہی پابندی تھی۔ روسی معیشت یوکرائن کی جنگ کے وقت ہی پابندیوں کی زد میں ہے۔ اس کے علاوہ شام میں جنگ کے اثرات بھی پڑے ہیں۔ روسی صدر کے لیے جارحانہ قوم پرستی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ روسی افواج کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ عالمی محاذوں پر روس کی موجودگی اور اثر بھی بڑھایا گیا ہے۔ روسی عوام کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ پیوٹن روس کی عظمت رفتہ واپس لانے پر قادر ہے اور ان کے سوا اور کوئی آپشن نہیں۔ اس طرح پیوٹن اندرون ملک اپنے اقتدار کو بحال رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بھی ملتی جلتی مجبوریوں کی وجہ سے جارحانہ پالیسی اپنانے پر مجبور ہیں۔ مغرب روس کو اپنا مشترکہ اور حقیقی دشمن سمجھتا ہے۔ انہیں جو موقعہ یوکرائن اور کریمیا میں نہیں مل سکا وہ شام میں مل رہا ہے۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں کہ مغرب کو ایسا موقع لازمی چائیے اور اگر ضرورت پڑے تو وہ ایسا موقعہ خود بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ چنانچہ متعدد ذرائع کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ جو کیمیائی حملہ موجودہ بحران کی وجہ بنا ہے وہ خود مغرب اور ممکنہ طور پر برطانیہ کی خفیہ کارروائی ہے۔

شام میں مغربی اتحادیوں کی کارروائیاں جس قدر شدت پکڑتی جائیں گی اسی رفتار سے سعودی عرب اور اسرائیل بھی ناصرف مغربی بلاک کے قریب ہوتے جائیں گے بلکہ خطے میں بھی ان دونوں ممالک کا باہمی تعاون بڑھتا جائے گا۔ اس سے یمن کی جنگ میں اسرائیلی حصہ بڑھتا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ایران اور روس بھی مزید قریب آتے جائیں گے۔ شام کی ختم ہوتی جنگ میں مغرب کا بڑھتا کردار روس کو روکنے کے لیے ہے جبکہ سعودیہ اور اسرائیل کا مقصد ایران کو روکنا ہے۔ امریکہ کے علاوہ باقی اتحادی ابھی ایران کو براہ راست خطرہ نہیں سمجھتے۔ تاہم اگر روس کے ساتھ ان کی دشمنی بڑھتی گئی تو شاید مغربی بلاک کی وہ اندرونی سفارتی کنفیوژن بھی دور ہوجائے جس کی وجہ سے اب تک ایران نیوکلئیر معاہدہ باقی ہے۔

اگرچہ موجودہ ہوائی حملوں کی شدت صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے کہیں کم تھی لیکن مغرب نے اپنا الٹی میٹم اس قدر ضرور پورا کیا ہے کہ عزت بچ جائے۔ ٹرمپ کے تازہ بیان کے مطابق وہ یہ جنگ عسکری، معاشی اور سفارتی ہر تین سطح پر جاری رکھیں گے۔

پیوٹن اگرچہ ان حملوں کی ’سنجیدہ مذمت‘ کر چکے ہیں لیکن روس کا ممکنہ ردعمل اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے؟

امریکہ نے شامی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کچھ عرصہ قبل بھی میزائل حملے کیے تھے لیکن بشار حکومت پر یہ داؤ کارگر ثابت نہ ہوا۔ اسی وجہ سے اب تازہ حملے کرنا پڑے۔ کیا بشار حکومت مستقبل میں ان اقدامات سے پرہیز کرے گی تاکہ کوئی نیا حملہ نہ ہو؟ یہ سوال مشکل ہے کیونکہ شام اور روس کیمیائی حملے کے موجودہ الزام کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ گویا شامی حکومت کچھ کرے یا نہ کرے، مغربی حملہ بعض ایسی وجوہات کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے جس کا شام سے براہ راست کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

روس کی جانب سے ان حملوں کا ایک موثر جواب شام میں جنگی کارروائی میں تیزی کی صورت بھی دیا جا سکتا ہے۔ روس یہ چاہے گا کہ باقی ماندہ جنگ جس قدر جلد ہو سکے ختم کی جائے اور مکمل علاقہ کلئیر کر لیا جائے۔ جنگ کے رسمی خاتمے کے بعد روس کی پوزیشن بہت بہتر ہوجائے گی۔

نیٹو نے اس حملے کی حمایت کی ہے جو روس کے لیے اہم پیغام ہے۔ نیٹو کی وجہ پیدائش ہی روس کا جنگی مقابلہ ہے۔ مغرب اور روس کے سرحد سے یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ جنگ کہاں کہاں تک پھیلی ہوئی ہے۔

لیکن ایسا سوچا جا سکتا ہے کہ مغربی اتحادیوں اور روس کے خفیہ مذاکرات جاری ہوں۔ اس کی بڑی وجہ برطانوی وزیراعظم کا وہ پیغام ہے جو ان حملوں کے بعد نشر کیا گیا جس کے مطابق یہ حملے بشار حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے نہیں کیے گئے بلکہ شامی افواج کی جنگی کارروائیوں کو ایک حد میں رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اگر مغرب اگر بھی طرح بشار حکومت پر راضی ہو سکتا ہے تو اس کا دوسرا مطلب روس کے ساتھ ممکنہ جنگ کا ملتوی ہونا ہے۔ اس سارے کھیل میں شام کی حیثیت کھلونے سے زیادہ نہیں لیکن صاف ظاہر ہے کہ روسی اور مغربی بلاک اس کھلونے کو بہانہ بنا کر بچوں کی طرح لڑنا چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا اور ساؤتھ چائنہ سمندر کا مسئلہ جنگی خطرے کے طور پر ٹھنڈا ہو چکا ہے اور تجارتی جنگ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ روس کے ساتھ کشمکش جنگی اور تجارتی ہر دو سطح پر جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے مغرب کو اندازہ ہو چکا ہو کہ چین سے جنگ تجارتی میدان جبکہ روس سے جنگ فوجی میدان میں ہی ہوگی چاہے جب بھی ہو۔

ہر جنگ کے جس طرح خاص مفادات اور مقاصد ہوتے ہیں اسی طرح ہر جنگ مخصوص قسم کے اثرات اور نتائج بھی پیدا کرتی ہے جو طویل مدتی ہوتے ہیں۔ پہلی خلیجی جنگ کے نتیجہ میں امریکہ نے القاعدہ مجاہدین اور اسامہ بن لادن کو اپنا دشمن بنا لیا جو اس سے پہلے افغان محاذ پر ان کے حلیف تھے۔ عرب ممالک میں بالخصوص اور مسلم دنیا میں بالعموم اس کے بعد ہی امریکہ دشمنی کے نام پر مجاہد بھرتی ہونا شروع ہوئے۔ یہ ایک طویل مدتی اور کثیر جہتی عمل تھا جس کا امریکہ کو پہلے سے کوئی اندازہ نہ تھا یا اس نے ان نتائج کی پرواہ نہ کی۔

دوسری خلیجی جنگ کا نتیجہ اس سے بھی شدید نکلا۔ صدام دور کے خاتمہ کے ساتھ عراق کا قومی اور مسلکی بحران نمایاں ہوگیا جسے غیر ملکی مدد نے اور تقویت دی۔ داعش اس کا براہ راست نتیجہ ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ امریکہ نے عراق جنگ اور صدام کے خاتمے کے بعد کی صورتحال کا کوئی گہرا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ شام میں ابتدائی شورش کے بعد سے داعش کا کردار شام کے مسئلے کو بڑھانے میں اہم رہا ہے۔ عراق کی جنگ کے مابعد کے اثرات کا شام کے مسئلے میں اہم کردار ہے۔

پہلی خلیجی جنگ کے وقت سوویت یونین تحلیل ہو چکا تھا اور امریکہ کا مقابلہ اسلامی جہاد سے ہونا تھا۔ دوسری خلیجی جنگ کے بعد امریکہ ان جہادیوں سے بھی اکتا گیا۔ اس وقت تک روس قدرے بحال ہوچکا تھا اور اندرونی و بیرونی تقاضوں کی وجہ سے اپنے عالمی اثر ورسوخ میں اضافہ چاہتا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں