تحریک لبیک کا دھرنا کیوں ناکام ہوا؟


تحریک لبیک نے ایک بار پھر پورے ملک میں دھرنوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تحریک لبیک کے قائدین نے حالیہ دھرنوں کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ چونکہ فیض آباد معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا اس لیے وہ کارکنوں کو دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کا حکم جاری کر رہے ہیں۔ تحریک لبیک کے داتا دربار لاہور میں کئی دنوں کے احتجاجی دھرنے میں بہت کم لوگ نکلے، آخر کیوں؟ ہمارے نزدیک اس کی ناکامی کی چند ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

سب سے پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ تحریک لبیک کے پیش نظر اس وقت دھرنوں کے لیے کوئی بڑا مقصد نہیں ہے‘ جب کہ اس سے قبل نومبر 2017ء میں دیے جانے والے دھرنے میں ایک بڑا مقصد تھا، حکومت چونکہ مبینہ طور پرختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی مرتکب ہوئی تھی اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ختم نبوت ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مسلمان کمپرومائز کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہوتے۔ حکومت ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کی وجہ سے غلطی پر تھی یوں تحریک لبیک کے ساتھ دیگر لوگوں کی ہمدردیوں کا ہونا ایک فطری امر تھا کیونکہ لوگ اپنے طورپر حکومت کو کوس رہے تھے اور ان دنوں حکومت پر تحریک لبیک کے پلیٹ فارم سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا تو لوگ دھڑادھڑ ان کے ساتھ ملتے گئے جسے تحریک لبیک اپنی کامیابی سمجھ رہی تھی کہ ان کی ایک کال پر پورا ملک بند ہو سکتا ہے۔

آج صورت حال مگر مختلف ہے کہ ختم نبوت کا پرانا حلف نامہ اپنی اصل شکل میں بحال ہو چکا ہے۔ تحریک لبیک کے بنیادی مطالبات تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ زاہد حامد سے استعفیٰ لیا جا چکا ہے۔ نومبر 2017ء کے دھرنے کے یہ بھی انکشاف ہوا کہ تحریک لبیک مذہبی جماعت ہونے کے ساتھ ایک ”سیاسی‘‘ جماعت بھی ہے۔ تحریک لبیک کے فیض آباد سٹیج سے بار بار پس پردہ قوتوں سے مدد طلب کی جاتی رہی اور دھرنے کے اختتام پر متعدد ایسے شواہد جمع ہو چکے تھے کہ جس سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں رہی تھی کہ جان بوجھ کر ریاست کو کمزور اور ناکام دکھایا گیا ہے ‘ سوا سی کے پیشِ نظر ریاست نے چند ماہ کے بعد جب خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری پر ہاتھ ڈالا اور ان کی گرفتاری کی باتیں ہونی لگیں تو تحریک لبیک کے قائدین کو ایک بار پھر فیض آباد دھرنا یاد آیا اور اس بار چونکہ دھرنے کے لیے کوئی ٹھوس جواز نہیں تھا اس لیے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ فیض آباد معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ تحریک لبیک کے حالیہ دھرنے میں چونکہ کوئی بڑا مقصد نہیں ہے اس لیے تحریک لبیک کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے عوام بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں نکلے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ تحریک لبیک بیک وقت مذہبی اور سیاسی جماعت ہے جس طرح کہ کسی دور میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام ہوا کرتی تھیں۔ حالات کے ساتھ ساتھ لیکن جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام نے سیاسی اور مذہبی معاملات کو کسی حد تک جدا کیا یا کم از کم اس حد تک لازمی طور پرجدا کیا کہ جب ان کے قائدین کی ذات پرالزام عائد ہوتا ہے تو وہ مذہب کی آڑ نہیں لیتے بلکہ احتساب کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے عوام تحریک لبیک کے قائدین سے بھی اسی طرح کی توقع کرتے ہیں کہ جب بات ان کی ذات کی ہے تو انہیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے اپنے آپ کو قومی اداروں کے سامنے پیش کر دینا چاہیے۔ تحریک لبیک کا چونکہ حلقہ وسیع ہے اس لیے لوگ اپنے قائدین کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے احتجاج بھی کریں گے جس کی بہرصورت گنجائش موجود ہے۔ لیکن ملک کو بند کر دینا‘ لوگوں کا نظام زندگی مفلوج کر دینا اور وہ بھی محض اپنی ذات کے دفاع کے لیے ‘ کوئی بھی ذی عقل اسے قبول نہیں کرے گا، نہ ہی ہمارے سماج میں اسے قبول کرنے کی کوئی گنجائش ہے بلکہ اس طرح کے اقدامات سے تحریک لبیک کا گراف نیچے ہی آئے گا۔

تحریک لبیک کے امیر خادم حسین رضوی نے فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت آئندہ انتخابات میں پورے ملک سے اپنے امیدواروں کے ذریعے بھر پور طریقے سے شرکت کر ے گی، ضمنی الیکشن میں ان کی جماعت کو حوصلہ افزا ء ووٹ بھی پڑے لیکن اس کے باوجود وہ کوئی ایسا راستہ بھی اختیار کرنا چاہتے ہیں جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ چند وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر معمولی فہم والا انسان بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ تحریک لبیک کا حالیہ دھرنا ناکام کیوں ہوا اور تحریک لبیک کا مستقبل کیا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں