جو صورت نظر آئی


کئی ہفتوں سے جناب فاروق عادل کی کتاب ”جو صورت نظرآئی“ساتھ لیے پھرتارہا۔ کل ورق پلٹنا شر وع کیے کہ نظر قائداعظم کے خاکے پر اٹک گئی۔ ایک خیال بجلی کے کودے کی طرح لپکا : ستر سال بعد قائداعظم کا خاکہ کیا خاک لکھاجائے گا۔ پڑھنا شروع کیا تو چھوڑ نہ پایا۔ فاروق عادل نے قائداعظم کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کی۔ واللہ! وہ شرات سوجھ ہی نہیں، کر بھی سکتے تھے۔ عام انسانوں کی طرح چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کے چہرے پر بھی دل آویز مسکراہٹ طاری کرتی تھیں۔

میر ی نسل کے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ قائداعظم ایک ربوٹک قسم کی شخصیت تھے۔ سخت گیر اور اصولوں کی جکڑ بندیاں کا شکار۔ جو مسکراتا اور نہ دوستوں کے ساتھ گیپ شپ کرتا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ عام شہری قائداعظم سے اپنی کوئی نسبت قائم نہیں کر پاتا۔ حیات کے آخری برسوں کی تصویروں میں وہ قراقلی ٹوپی اور شیروانی میں ملبوس نظر آتے ہیں لیکن اس حلیے میں وہ دل میں نہیں اترتے۔ یہ لباس بھی عام لوگوں کی نہیں اشرافیہ کی پہچان ہے۔ نامور فلم ساز اور مصنف اکبرایس ایم نے بھی اپنی کتاب میں قائداعظم کو ایک حساس اور درد دل رکھنے والے انسان کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قائداعظم کراچی کے لیے روانہ ہونے سے قبل اپنی مرحوم بیگم رتن بائی کی آخری آرام گاہ پہ حاضر ہوئے۔ دیر تک اداس بیٹھے رہے۔ بیٹی دینا کے ساتھ بھی ان کا رابطہ آخری سانس تک برقرار رہا سعادت حسین منٹونے میرا صاحب لکھ کر قائداعظم کی شخصیت کی بہت ساری پرتوں سے پردہ اٹھایا اور اب فاروق عادل نے ایک اور زاویئے سے کامیاب کوشش کی ہے۔

فاروق عادل ہفت روزہ تکبیر کے بانی محمد صلاح الدین شہید کے تلامذہ میں سے ہیں۔ جنہوں نے زندگی بھر بھٹو خاندان کو معاف نہیں کیا۔ وہ محض صحافی نہیں بلکہ بھٹو مخالف محاذوں کے مربی و معاون تھے۔ بقول فاروق عادل انہوں نے 1988میں عام الیکشن میں ذاتی خرچ سے بڑی تعداد میں پی پی پی مخالف اشتہارات شائع کرائے جن پر بے نظیر بھٹو کی ایک قابل اعتراض تصویر شائع کی گئی۔ صلاح الدین کے برعکس فاروق عادل بھٹو خاندان سے نفرت نہیں کرتے بلکہ وہ اسے پاکستان کا ایک اثاثہ تصور کرتے ہیں۔

کتاب میں بے نظیر بھٹو کا خاکہ خاصے کی چیز ہے۔ ہر سطر پرلطف اور ایک پرعزم خاتون کی سیاسی جدوجہد کی کہانی بیان کرتی ہے۔ بے نظیر کو جیتے جاگتے اور اٹھکیلیاں کرتے ہوئے دیکھنا ہو تو فاروق عادل کا لکھا ہوا خاکہ ضرور پڑھا جاناچاہیے۔ اس خاکے میں”دختر مشرق“ بہادری سے پولیس کا مقابلے کرتے اور سیاسی مخالفین کے لتے لیتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی ذاتی زندگی کے بھی بعض دلچسپ واقعات سے بھی پردہ اٹھایاگیاہے۔ بے نظیر اپنے بچوں کو مشرقی ماؤں کی طرح ڈانٹتیں۔ اپنے شوہر کے لیے وارفتگی کا اظہار کرتیں۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک ٹوٹ کر محبت کرنے والی بیوی اور ماں تھیں۔

اسلام آباد کے کتاب میلے میں کتاب کے اجراءکی تقریب میں جناب عرفان صدیقی نے فاروق عادل کو اپنا سینئر کہا تو حاضرین چونک گئے۔ جلد ہی تصحیح کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تکبیر میں لکھنا شروع کیا تو فاروق عادل برسوں پہلے اپنا سکہ وہاں جما چکے تھے۔ اگر عرفان صدیقی نے کتاب پڑھی ہوتی تو وہ ضرور کہتے کہ اکثر خاکوں پر ایک فلم بن سکتی ہے۔ خاص طور پر سیاسی شخصیات ہشت پہلو ہوتی ہیں۔ ان کا جو امیج شہریوں کے ذہنوں میں بٹھایاجاتاہے وہ اکثر میڈیا کی اختراع اور اور زیادہ تر خالی خولی کہانوں پر مشتمل ہوتا۔ میڈیا کی ضرورت واقعات کی محض رپورٹنگ ہوتی ہے۔ وہ بتاتاہے کہ کس نے کیا اور کہاں کہا لیکن اسے یہ غرض نہیں کہ جو کچھ سیاستدان کہتے ہیں اس کے پس منظرمیں کیا کہانی کارفرما ہوتی ہے۔ یہ کام ایک کہانی کار یا خاکہ نویس ہی کر سکتا ہے جو شخصیات کی اٹھان اور طرزحیات کا گہرائی سے مشاہدہ کرتاہے۔

فاروق عادل لکھتے ہیں کہ جنرل حمید گل کی ریٹائرمنٹ کو دو سال پورے ہوئے تو انہوں نے ہفت روزہ تکبیر کے لیے ان کا انٹرویو کیا۔ سوال کیا کہ وہ بچپن میں کیا پڑھتے تھے؟ حمید گل نے جواب دیا: نسیم حجازی کے ناول۔ فاروق عادل کہتے ہیں ساری زندگی جنرل حمید گل پر نسیم حجازی کے ناولوں کا سحرطاری رہا۔ وہ تاریخ کے اس رومان سے باہر نہ نکل سکے جو نسیم حجازی اپنے قارئین پر طاری کردیتے ہیں۔ لکھتے ہیں :وہ حقائق کا بے رحمی سے تجزیہ کرنے والے جرنیل نہیں بلکہ گردوپیش پر رومانوی انداز میں نظر ڈالنے والے حساس ادیب ہیں۔ راقم الحروف کو بھی سینکڑوں بار حمید گل صاحب سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ ہر بار یہ نکتہ نظر پختہ ہوا کہ یہ شخص خوابوں کی دنیا کا شہزادہ ہے۔ ان کی شخصیت میں بے پناہ تحرک تھا۔ محنت بھی بہت کرتے لیکن اکثر گمان گزرتا کہ وہ سیاسی حرکیات سے بے خبر ہیں۔

محمد صلاح الدین کا خاکہ ان کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ صلاح الدین ایک بڑے قلمکار اور صحافی ہی نہیں بلکہ ایک رجحان ساز انسان تھے۔ میدان صحافت اور سیاست کے یکسان شا ہ سوار تھے۔ انہوں نے محنت اور ریاضت سے ملک گیر شہرت حاصل کی۔ فاروق عادل اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں موجود نظریاتی اور سیاسی تفریق کو گہرا کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ وہ غیر جانبدار صحافت کے قائل نہ تھے بلکہ صحافت کو اپنے سیاسی نظریئے کے فروغ کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے۔

35 منتخب خاکوں میں صرف سیاستدان ہی شامل نہیں۔ ممتاز سماجی رہنما اور دانشور بھی اس کا حصہ ہیں۔ مرز ا جواد بیگ جنہیں قائداعظم کے ساتھ نیاز مندی کا شرف حاصل ہوا‘ کے خاکہ کے ذریعے دراصل فاروق عادل نے ملک کو درپیش بے شمار مسائل کا حل تجویز کرنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر چھوٹے صوبوں اور فعال شہری حکومتوں کے قیام کے فوائد بیان کیے۔

کتاب میں پاکستان اور نظریہ پاکستان سے محبت اور گہرے لگاؤ کا بار بار اظہار ہوتاہے۔ قاری یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے کہ منصف کی پہلی اور آخری محبت ایک جمہوری اور فلاحی پاکستان ہے جہاں شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں۔ ووٹ کی عزت ہو اور منتخب جمہوری اداروں کو ملک چلانے کی آزادی ہو۔ اظہار رائے پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

سیاست اور صحافت کے طالب علموں اور خاص کر نوجوانوں کو ضرور اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں ملکی تاریخ کے اہم کرداروں سے شناسائی ہوسکے۔ اب کوئی اور طریقے نہیں کہ پیرپگارا مرحوم، ایئر مارشل محمد اصغر خان، پروفیسر غفور احمد، بیگم نصرت بھٹو، غلام مصطفے جتوئی اور قاضی حسین احمد جیسی اساطیری شخصیات سے متعارف ہوا جائے اور ان کے شب و روز کا مطالعہ کیا جا سکے۔ وہ سب منوں مٹی اوڑھے اس دنیا سے پردہ فرما چکے۔

مغرب میں اس نوع کی درجنوں کتابیں لکھی جاتی ہیں‘ خاص پر ممتاز شخصیات کی سونح عمریاں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ رواج کم ہے لیکن چلیں دیر آید درست آید آغاز تو ہوا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 60 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood