شام ایک بار پھر نشانے پر


آہ بدقسمت شام ایک بار پھر اِن بڑی طاقتوں کے نشانوں پر۔ آگ اور خون کے طوفان سے ابھی نکلا بھی نہیں تھا کہ پھر نشانے کی زد پر رکھ لیا گیا ہے۔ میرے خدا صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت میں پورپور گندھا ہوئے خوبصورت ملک کا کیسے اِن لوگوں نے ناس ماردیا ہے۔ شامیو تم نے جبر اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ مگر تم ہار گئے۔ شاید تم نے اِن ظالموں کی اُس سفاکی کا سوچا ہی نہ تھا جو تمہارے ساتھ برتی گئی۔

ایک بار پھر دنیا کے تھانیدار  دنیا کے سب سے بڑے بدمعاش اعلان کررہے ہیں کہ ہم شام کے خلاف اسد کو رگید ررہے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین پر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ڈرامے کا وہی ایپی سوڈ جو عراق پر حملے کے وقت تھا۔ وہی کہانی جو تب تھی۔ صدام آمر تھا۔ صدام ظالم تھا۔ صدام کے کرداروں پر کُردوں کو قتل کرنے کا الزام بجا مگر اِن انسانیت کے ہمدردوں کا کیا کردار سامنے آیا۔ کیا کیا چالیں چلی گئیں۔ شیعہ، سنی اور کردوں کولڑانے کی۔ اور وہ لڑ رہے تھے۔ ایک دوسرے کا تخم ماررہے تھے۔ مسلمان کا گلا مسلمان کاٹ رہا تھا۔ 1988میں ایران نواز کُردوں کے دیہاتوں پر جس طرح زہریلی گیس کی بارش کی گئی اُس کے پیچھے کِس کی ہلّا شیری تھی۔ 1990 اور 1991میں شیعاؤں کو کچلاگیا۔ ایسا کرنے میں کِس کی شہہ تھی؟

سوال تو بہت سارے پوچھے جا سکتے ہیں۔ جائز اعتراضات کی بھی ایک لام ڈور ہے کہ آخر یہ کیمیائی مواد صدام کے ہاتھ بیچا کیوں گیاتھا؟ اُسے گیس بنانے کی اجازت کیوں دی گئی تھی؟ کردوں اور ایرانیوں کا تخم مارنے کے لئے کہ شاہ ایران کے بعد انہیں مشرق وسطیٰ میں اپنے مطلب کا بندہ چاہیے تھا۔

دسمبر 1998میں امریکہ اور برطانیہ کے فائٹر جہازوں کے پورے پورے سکواڈرن شمالی اور جنوبی عراق کے نوفلائی زون پر کثرت سے پروازیں کرتے تھے۔ جوابی عذر میں اِن علاقوں کے کُرداور شیعوں کی صدام سے مخالفت اور عتاب سے محفوظ رکھنے کا بہانہ تھا۔ لیکن اقوام متحدہ آفس کی عراق کے لئے نامزد Humanitarian coordinator کی رپورٹ تھی کہ گائیڈڈ میزائل گرنے سے بصرے میں بیسیوں لوگ مرے اور زخمی ہوئے۔ اب پنٹاگون بکواس کرے کہ ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تو بندہ اِن جھوٹوں کے لئے کیا کہے۔ تُرکی عراق کے شمالی کُردوں پر اسی نوفلائی زون سے بمباری کرتا ہے تو خاموشی۔ ترکی امریکہ کاحلیف تھا نا اُس وقت۔
کتنے دہرے تہرے معیار ہیں اِن بڑی طاقتوں کے۔

اب دوما میں اسد حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کئیے۔ مظلوم شامیوں کی محبت میں امریکہ، انگلینڈاور فرانس تینوں اسی طرح اتفاق و اتحاد سے کھڑے ہوئے ہیں جیسے 2003 میں بیچارے عراقیوں کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ مریں گے کون وہی جنہیں اب اسد ماررہا ہے اور جنہیں یہ تینوں مل کر ماریں گے اب۔ اسد بھی اگر مرجائے گا تو کیا۔ عراق صدام سے چھٹکارا پاکر بھی تو تباہ ہوگیا ہے۔

اس کم بخت اس ناہنجار بشارالاسد کو کیا کہا جائے کہ جو اقتدار سے جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے۔ اسی طرح جیسے صدام چمٹا ہوا تھا۔ اقتدار کی ہوس بندے کو اس پاتال میں پھینک دیتی ہے جہاں قوموں کا بیڑہ غرق ہوتا ہے۔

جب عراق خاک و خون میں نہارہا تھاکسی وژن رکھنے والے نے کہا تھا عراق سے فراغت کے بعد دیکھ لیناشام کی باری ہے۔ میں نے اللہ رحم کرئے گا کہتے ہوئے دل کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔ آہ دمشق میں تم سے ملنے کے لئے 2008میں آئی تھی۔ تیرے کوچہ بازاروں میں، تیرے شہروں میں تب امن تھا۔ مجھے یاد ہے مدحت پاشا بازار کاوہ حصہ جو باب توما سے باب کیسان تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرح عیسائی اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہاں دیوار دمشق کا کچھ حصہ غائب ہے۔ ٹیکسی نے مجھے حانینہ سٹریٹ کے پاس اُتاراجہاں سے میں حانینہ چرچ میں آگئی۔ سیڑھیاں بہت نیچے لے گئی تھیں۔ اب یہ معلوم نہیں ہوا کہ تعمیر ہی ایسے انداز میں ہوئی یا سڑکوں اور شاہراہوں کی مسلسل بلندی کا عمل اس کا باعث تھا۔ یہی وہ چرچ ہے جہاں حانینہ نے سینٹ پال کا بپتسمہ انجام دیا تھا۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ پر کلک کریں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں