سندھ کے مرتے ہوئے ’اپنے‘ لوگ


آپ شاید کبھی ایسے شخص سے ملے ہوں جو کسی ایم پی اے، ایم این اے، ضلع چیئرمن، یوسی چیئرمن یا کاؤنسلر کے محلے، گاؤں یا شہر سے تعلق رکھتا ہو۔ کتنا اعتماد اور تحفظ کا احساس نظر آتا ہے ایسے لوگوں میں، جیسا کہ وہ خود اعلی عھدہ رکھتے ہوں یا عھدیدار کے خاندان میں سے ہوں۔

اگر ایسا نہیں بھی ہو پھر بھی کسی بڑے آدمی کے گاؤں سے تعلق رکھنا بھی کوئی چھوٹی بات نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ، جو کسی بڑے آدمی کے محلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے، لیکن اس سے زیادہ خوش فہمی بھی ہے۔

کیونکہ کسی ایم پی اے، ایم این اے، ضلع چیئرمن، یوسی چیئرمن یا کاؤنسلر کے محلے، گاؤں یا شہر سے تعلق رکھنے کے جتنے فوائد ہیں، مثلاً، لوگوں پر رعب جمانا یا انہیں یہ بتا کر احساس کمتری میں مبتلا کرنا وغیرہ، تو اتنے ہی نقصانات بھی ہوتے ہیں، کبھی اس کے بارے میں سوچا ہے کسی نے؟

حقیقت یہ ہے کہ آپ کسی اہم یا بڑے آدمی کے جتنے نزدیک ہیں، اتنے محفوظ بھی ہیں تو غیر محفوظ بھی۔

اس ضمن میں امیر اور غریب میں ایک فرق بھی نظر آتا ہے، وہ یہ کہ اگر آپ امیر ہیں اور اپنے علاقے کے اہم آدمی سے ’بنا‘ کر چلتے ہیں تو آپ جو چاہے وہ کرتے پھریں، کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

لیکن اگر آپ غریب ہیں تو پھر دگنے عذاب میں ہیں، چاہے آپ کسی بڑے آدمی کے کتنے بھی ہمدرد ہوں، نسلوں سے ان کے ووٹر رہے ہوں۔ کیوں کہ غریب لوگوں کی ہمدردی یا ووٹ بھی تو ’ٹیکن فار گرانٹیڈ‘ ہوتا ہے۔ اس لیے آپ کے ’بنا‘ کر یا بگاڑ کر چلنے سے اس بڑے آدمی کی صحت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

بلکہ اگر آپ غریب ہیں، تو آپ جتنے بڑے آدمی کے قریب ہیں، اتنے ہی بڑے غذاب میں ہیں۔

کیوں کہ یہ دنیا ہے، چھوٹے موٹے واقعات تو بند نہیں ہونے۔ ظلم بھی ہوتا رہے گا اور نا انصافی بھی۔ پھر اگر ظلم کرنے اور ظلم سہنے والے ایک ہی بڑے آدمی کے لوگ ہوں تو پھر کیا کیا جائے؟

یہی وجہ ہے کہ ان بڑے آدمیوں نے اپنے لوگوں کے دو طبقات بنا رکھے ہوتے ہیں؛ ایک طبقا ’اپنے لوگوں‘ کا، دوسرا ’زیادہ اپنے‘ لوگوں کا۔

اور ہوتا اکثر یہ ہے کہ ان کے اپنے لوگ، ان کے زیادہ اپنے لوگوں کے کسی نہ کسی ظلم اور نا انصافی کا شکار ہو ہی جاتے ہیں۔ اور پھر وہ بڑے آدمی اپنوں کی نسبت زیادہ اپنوں کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل سندھ کے ایک شہر جھانگارا، جو یوں سمجھیے کہ موجودہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا گاؤں ہے، میں ایک لڑکی تانیہ خاصخیلی کو ایک شخص نے صرف اس لیے گولی مار دی کہ لڑکی نے اس سے شادی کرنے سے انکار کیا تھا۔

یہ سندھ کا شاید پہلا واقعہ ہو جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کی وجہ سے بڑی سطح پر ہائے لائیٹ ہوا۔ ہر طرف مظاہرے ہوئے۔ مذمتیں کی گئیں، مختلف تنظیموں کے رہنما پہنچے، حکومتی مشنری حرکت میں آئی، گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ لیکن، نتیجا کیا نکلا؟ کل، پرسوں کی بات ہے کہ ایک سندھی اخبار میں مقتولہ کی ماں کا ایک قوم پرست تنظیم کے رہنما کے نام بیان چھپا کہ اصل قاتل گرفتار کروانے میں مدد کی جائے۔

جب لوک گلوکارہ ثمینہ سندھو کے قتل کی خبر پڑھی اور پھر یہ بھی کہ واقعہ لاڑکانہ میں ہوا ہے، تو میرے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ کیا اس کیس کا انجام بھی تانیہ کیس جیسا ہوگا؟

ہو سکتا ہے کہ ثمینہ سندھو کو بھی یہ خوش فہمی ہو کہ ان کا تعلق لاڑکانہ سے ہے۔ ہو سکتا ہے ان کا بھی کسی اہم آدمی کے ’اپنے‘ لوگوں میں شمار ہوتا ہو۔ پر انہیں کیا پتہ کہ جہاں ’اپنے‘ ہوتے ہیں وہاں‘زیادہ اپنے‘ بھی ہوتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

منیش کمار کی دیگر تحریریں
منیش کمار کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں