فراست بھائی: خاکہ


فیضان قادری

faizan“السلام وعلیکم ارے ماموں کیسے ہیں بڑے دنوں بعد نظر آئے۔” میں اپنے ایک دوست سے ملنے اپنے پرانے محلے گیا تو ماموں نظر آگئے یہ میرے سگے یا رشتے کے ماموں نہیں ہیں بلکہ ہر محلے میں ایک صاحب ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہر ملنے والا ماموں ہی بلاتا ہے مجھے انکا اصلی نام بھی معلوم نہیں ہمیشہ ان کو ماموں ہی کہا اور سنا۔

“ارے بھیا ہم تو یہاں ہی ہیں آپ ہی عید بقر عید نظر آتے ہیں” ماموں نے شکوہ کیا۔ “بس مصروفیات اتنی ہوگئی ہیں کہ وقت ہی نہیں ملتا ادھر آنے کا ایک دو مرتبہ آیا تھا لیکن آپ سے ملاقات نہیں ہوئی آپ سنائیں کیا حال چال ہیں”۔ “ارے بھیا کیا حال چال سنائیں ٹھیک ٹھاک ہیں اللہ کا کرم ۔ارے ہاں وہ فراست بھائی کا انتقال ہوگیا”۔ “اپنے فراست بھائی؟ “میں نے قدرے حیرت سے پوچھا۔ “ہاں بھئی اپنے ہی اور کون سے؟ میں گیا تھا اور تو کوئی تھا نہیں محلے والوں نے دفنا دیا مجھے تو پرانے جاننے والے نے اطلاع کر دی ورنہ معلوم بھی نہ چلتا۔” “کب ہوا انتقال؟”مجھے یقین نہیں آیا تو میں نے دوبارہ پوچھا۔ “ارے اسی رمضانوں کے مہینے میں شروع کے دنوں میں ہوگیا بس بھئی اللہ بچائے ایسی تنہائی کی موت سے مرنا تو سب نے ہی ہے لیکن ایسے مرنا نہیں چاہتے ہم۔مالک کرم کرے بس”۔ “ہوا کیسے ویسے تو ٹھیک ٹھاک تھے”۔ “ارے بھیا خاک ٹھیک ٹھاک تھے۔۔۔ خیر بس وقت ہوگیا تھا چلے گئے” قدرے توقف کے بعد بولے “چلو بھیا ہم چلتے ہیں کچھ کام سے جا رہے تھے ذرا پھر ملاقات ہوگی خدا حافظ” ماموں چلے گئے لیکن میں سوچتا رہ گیا۔

میں میٹرک کے امتحان دے کر فارغ ہوا تھا اور اکثر وقت گھر سے باہر رہتا انہی دنوں میں میری ماموں سے اچھی دوستی ہوگئی۔ ماموں کی عمر ہم سے کوئی دس سال ہی زیادہ ہوگی لیکن پورے علاقے کا ماموں ہونے کی وجہ سے خود پر ایک بزرگی طاری رکھتے۔ ایک دن کہنے لگے،”ادریس بھائی عمرے پر گئے ہیں اپنا سکوٹر چھوڑ گئے ہیں ہمارے ہاں آپ کو چلانا آتا ہے” ماموں نے مجھ سے پوچھا اور میں تب اپنی عمر کے ان دنوں میں تھا جب کسی بھی سواری کو چلانا جاننا باعث فخر ہوتا ہے۔ گو کہ مجھے سکوٹر ایسا کوئی خاص چلانا نہیں آتا تھا لیکن میں نے پھر بھی حامی بھر لی جس پر ماموں نے مجھے چابی پکڑائی اور ہم دستگیر سے لیاقت آباد کے ایک پرانے محلے تک محض خود اعتمادی اور ماموں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے پہنچ پائے۔ ورنہ راستے میں چلنے والے دوسرے تمام افراد نے ہمیں کہیں اور بھیجنے کی پوری کوشش کی۔ خیر اس پرانے محلے میں پہنچے پر ہم نے موٹر سائیکل ایک دوکان کے آگے کھڑا کیا اور وہاں سے پیدل چلے۔ آگے گلیاں تنگ تھیں اور ان میں راہگیر بھی تھے اور دوکانیں بھی ایک گلی کے نکڑ پر بنے ہوئے چائے خانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ماموں نے کہا “یہ ہوٹل یاد رکھئے گا” اسی گلی میں چند گھر چھوڑ کر ماموں نے خوب جانچ کرنے کے بعد زور سے دروازہ پیٹا اور کئی مرتبہ پیٹنے پر اندر سے دروازہ کھلا اور صرف لنگی پہنے ادھیڑ عمر کے ایک صاحب برامد ہوئے یہی فراست بھائی تھے۔ بڑے تپاک سے ملے اور دروازے پر ہی باتیں شروع کردیں حال احوال اور ہمارے تعارف کے بعد جیسے انہیں یاد آیا اور بولے “ارے آپ یہیں کھڑے رہیں گے کیا اندر آجائیں۔”

ہمیں بٹھا کر وہ اندر چلے گئے اور جب واپس آئے تو وہ ایک بنیان پہنے ہوئے تھے ماموں نے کہیں سے ڈھونڈ کر سگریٹ کا پیکٹ برامد کرلیا تھا اور بیٹھے پھونک رہے تھے۔ فراست بھائی نے واپس آکر ان دو کرسیوں میں سے ایک میں ٹنگ گئے اور ہمارا انٹرویو شروع کردیا۔ کیا نام ہے؟ کیا کرتے ہو؟ کیا پڑھتے ہو؟ کتنے بھائی بہن ہیں؟ والد صاحب کیا کرتے ہیں؟ اور یہ جان کر کہ میرے والد صاحب ٹیچر ہیں وہ اس کرسی میں سے ہل ہل کر باہر نکلے اور مجھ سے مصافحہ کر کے واپس اسی کرسی میں چلے گئے۔ وہ خود بھی کسی مقامی اسکول میں اردو پڑھایا کرتے تھے۔ مزید کچھ دیر ایسے ہی سوال جواب کرتے رہے اس دوران ماموں چٹائی پر پڑی کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف رہے اور جب سوال جواب ختم ہوئے تو ہمیں بولے نوجوان اب آپ چائے بنالیں سب کے لئے اور اندر کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ باورچی خانہ کہاں ہے۔ اور باورچی خانے کا سماں کچھ یوں تھا کہ باقاعدہ بدبو آرہی تھی، چمچے چمچیاں استعمال کے بعد ہر جگہ بکھرے ہوئے تھے، وہاں کا ماحول دیکھ کر طبیعت مالش کرنے لگی میں ابھی ماحول ہی دیکھ رہا تھا کہ کہ فراست بھائی اندر آگئے۔ “میں نے آپ کو بتایا ہی نہیں کہ سامان کہاں رکھا ہوا ہے”

 انہوں نے مجھے چینی اور چائے کی پتی نکال کردی چینی کے پیکٹ میں چونٹیاں بھری ہوئی تھیں اور ننھے ننھے لال بیگ بھی اور چائے کی پتی جس طرح بازار سے آئی تھی ویسے ہی رکھی ہوئی تھی تو بچی ہوئی تھی “برتن آپ کو نکالنے پڑیں گے. اس میں سے” انہوں نے مسکراتے ہوئے ہماری طرف دیکھا “اصل میں ہماری بیگم اپنے گھر گئی ہیں ناں” انہوں نے بتایا.

“کہیں دوسرے شہر گئیں ہیں کیا کافی دنوں سے نہیں ہیں شاید لگ رہا ہے” میں نے کہا تو وہ بولے کہ نہیں وہ تو اسی شہر میں ہی ہیں اصل میں وہ شادی کے چار روز بعد ہی چلی گئی تھیں ہم کئی مرتبہ گئے منانے مانیں نہیں ہم نے بھی پھر تین حرف پڑھ دئے کہ کیوں باندھ کر رکھیں نہیں رہنا چاہتیں تو نہ رہیں. پھر انہیں اچانک یاد آیا کہ چائے کیلئے دودھ بھی چاہئے ہوگا اور کچھ پیسے پکڑا کر بولے کہ بازار سے دودھ لے آؤں. میں گھر سے باہر آیا اور اسی نکڑ کی دوکان سے چائے خرید کر لے آیا واپس آیا تو وہ ماموں سے کسی بہت ہی گہرے موضوع پر گفتگو کررہے تھے ہم چائے کے بعد کافی دیر وہیں بیٹھے رہے اور واپس آگئے۔

ان سے دوسری ملاقات میری اردو بازار میں ہوئی۔ کالج کی چھٹی سے کچھ دیر پہلے میں اردو بازار پہنچا تو فراست بھائی ایک دوکان کے باہر کھڑے بحث کررہے تھے. ان کے پاس کچھ پیسے کم تھے اور وہ اپنا شناختی کارڈ گروی رکھوا کر کتابیں لے جانا چاہتے تھے جس پر دکان دار راضی نہیں تھا. فراست بھائی پہلے تو اسے آرام سے سمجھاتے رہے اور بعد میں دوکاندار کو احمق قسم کے شریفانہ القابات سے نوازنے لگے. مجھے پہچان کر انہوں نے پوری کہانی سنائی میں ان دنوں ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا میرے پاس کچھ پیسے تھے جن سے میں نے بقایا رقم پوری کی اور کتابیں انکے حوالے کیں اور انکو کھینچ کر وہاں سے الگ کیا اس کے بعد وہ مجھے بس میں اپنے گھر لے کر گئے اور میری رقم واپس کردی۔

اس کے بعد میری ان سے کئی مرتبہ ملاقات ہوئی. کبھی راہ چلتے، کبھی دوران سفر، گھر سے باہر دیکھ کر کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہ صاحب کس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں ہمیشہ صاف اور اجلے استری شدہ کپڑوں میں ہوتے قرینے سے سجے ہوئے بال اور شیو کبھی بڑھا ہوا نہیں، ہمیشہ ٹھیک ٹھاک حلیہ میں ہوتے لیکن گھر پہنچتے ہی تمام کپڑے اتار کر ہینگر میں لٹکاتے اور وہی لنگی باندھ لیا کرتے. گھر میں بس ایک یہی کام کپڑوں کو ہینگر میں لٹکانے کا قرینے سے کرتے اس کے علاوہ شاید ہی کوئی کام ہو جو اس گھر میں ترتیب سے ہو۔

ان ملاقاتوں کے بعد میں اکثر ان کے گھر جانے لگا کبھی کبھی بساط کے مطابق میں ان کا گھر صاف کردیا کرتا. وہ کبھی منع بھی نہیں کرتے تھے ہاں لیکن کبھی خود سے کسی کام کو کرنے کو نہیں کہا. کھانا بنانے کے شوقین تھے اور اکثر بریانی بنایا کرتے طبیعت کے ملنگ تھے اور بلا کے شاہ خرچ. پیسہ خرچ کرتے وقت کبھی ایک لمحہ کو نہیں سوچتے تھے. کہتے کہ یہ جائے گا تو اور لے کر واپس آئے گا اور واقعی میں نے ان کو کبھی پیسے کی تنگی میں نہیں دیکھا حالانکہ جس اسکول میں وہ پڑھاتے تھے وہاں انکی تنخواہ ایسی کچھ زیادہ بھی نہیں تھی۔

بلا کے حجتی آدمی تھے کسی بھی بات پر بحث کرسکتے تھے ایک مرتبہ میں ان کے گھر پہنچا تو ان کے دوتین دوست بھی موجود تھے اور اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ گوشت بھوننے سے پہلے ٹماٹر ڈالنا چاہئے یا بعد میں. فراست بھائی اپنی بات ثابت کرنے کے لئے بعد میں کئی کھانا پکانے کے رسالے اور کتابیں خرید لائے اور اپنی غلطی ثابت ہونے پر پھر بھی نہیں مانی، کہنے لگے ان کو کیا پتہ گوشت کیسے بھونا جاتا ہے۔

مذہب کے بارے میں ہمیشہ مجھے ایک بات کہتے کہ نوجوان کبھی اس بارے میں پریشان نہیں ہونا بہت آسان ہے بس آپ کو جو اچھا لگتا ہے وہ کرو اور دوسروں کو وہ کرنے دو جو وہ کرتے ہیں. ان پر خدائی فوجدار نہ بنو لیکن اللہ رسول ؐ کے حکم سے آگے نہ بڑھو. غیبت کرنے اور سننے کے سخت خلاف تھے کبھی ان کے سامنے بات نکل جاتی تو کہتے “میاں کیوں میری عاقبت خراب کرنے پر تلے ہیں آپ” دوسرا اگر مشورہ کی نیت سے کوئی بات کرتا تو پوری بات سنتے اور پھر اپنی رائے دیتے اپنے بارے میں کہتے کہ”بھئی ہم تو پیٹ کے ہلکے ہیں ہمیں راز نہ بتایا کریں کسی کو کہ دیں اور کل کو روز قیامت آپ ہمارا گریبان پکڑے کھڑے ہوں” لیکن حقیقت میں ان کے سینے میں ہزاروں لوگوں کے انتہائی اہم راز دفن تھے کسی سے کبھی تذکرہ بھی نہیں کیا ہوگا۔

کبھی کسی کا مذاق نہیں اڑاتے لیکن دوران گفتگو جملہ بازی بڑی سخت کرتے. کوئی بھی بات ایسی مل جاتی جوقابل گرفت ہو تو چھوڑتے نہیں تھے ہمیشہ جملہ لگا کر حاضرین سے داد وصولتے۔

رہتے بھلے ہی گندے گھر میں تھے لیکن دل بڑا صاف تھا کبھی کسی کو اپنی زبان سے تکلیف نہیں پہنچائی اگر خود کسی کی بات سے دل دکھا تو فورا معاف کرتے کہتے کہ “اللہ کہ ہاں پکڑ ہوجاتی ہے میں معاف کروں گا تو لوگ مجھے معاف کریں گے یہ تو چین ری ایکشن ہے نوجوان”

پڑھائی اور اسکے بعد نوکری ہونے کی وجہ سے میرا فراست بھائی کے گھر آنا جانا کافی کم ہوگیا کبھی کبھی ملاقات ہوجایا کرتی ایک مرتبہ ملے تو معلوم ہوا کہ السر کی شکایت ہوگئی ہے اسکی وجہ یقینی طور پر روز روز باہر کھانا کھانا ہی تھی۔

السر اور کثرت سگریٹ نوشی کی وجہ سے وہ دن بدن کمزور ہوتے گئے لیکن عادات اسی طرح قائم رہیں باہر کھانا کھانا اسکول کے بعد اسی طرح گھومتے رہنا کبھی کچھ نہیں تو کراچی پریس کلب میں بیٹھے رہنا۔

ماموں سے ہی معلوم ہوا کہ انتقال کے دو دن بعد جب گھر کے اندر سے بدبو آئی تو محلے والوں کو پتہ لگا کہ یہ مر چکے ہیں. ان کا کوئی بھی رشتہ دار کراچی میں نہیں تھا محلے والوں نے ہی کفن دے کر دفنایا دو دن کی سڑی ہوئی لاش کر دفنانا کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوتا چند ایک افراد نے دور دور سے مٹی ڈال کر جلدی جلدی قبر بند کردی اور پھر اسکول وغیرہ سے معلومات کر کے گھر ان کے رشتہ داروں کو اطلاع دی جو رشتے دار ان کی زندگی اور بیماری میں کبھی نہیں آئے وہ مرنے کے بعد کیوں آتے. میں انکی قبر پر گیا اور وہاں سے انکے گھر. مالک مکان نے اسے کسی دوکان والے کو کرایہ پر دے دیا تھا انکا سامان اور کتابیں اسی پلنگ پر ڈھیر تھیں میں نے اس ڈھیر سے چن کر چند ایک کتابیں اٹھالیں سب پر فراست بھائی کے دستخط بمع تاریخ کے موجود تھے اور یہ کتابیں لے کر گھر آگیا۔

گوکہ مجھے آخری بار ان سے ملے کئی سال گزر چکے ہیں اور مجھے ان کی عادت بھی نہیں رہی تھی لیکن ان کے چلے جانے پر آنسو بہانے کو دل کرتا ہے. وہ کہتے ہیں کہ یار زندہ صحبت باقی درحقیقت یار تو مر کر بھی نہیں مرتا بس صحبت ختم ہو جاتی ہے دل بوجھل کیوں نہ ہو۔ لیکن موت کیا صرف موت ہوتی ہے؟ ایک ایسا تجربہ ہے جس کے بارے میں کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔ مرنے سے پہلے ایک انسان پر کیا کچھ بیت جاتا ہے اس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا۔ کتنے سارے خیالات کتنی ساری کیفیات وابستہ ہوتی ہیں اس واقعہ کے ساتھ جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا اور جو یہ جھیل جاتا ہے وہ بتا نہیں سکتا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “فراست بھائی: خاکہ

  • 19-04-2016 at 12:53 am
    Permalink

    ویل ڈن فیضان ۔۔ بہت خوبصورت

Comments are closed.