کیا آپ ذہنی طور پر آزاد ہیں؟


جون روسو نے لکھا تھا کہ سب انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں لیکن وہ چاروں طرف زنجیروں میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ زنجیریں سماجی بھی ہیں، سیاسی بھی، معاشی بھی اور معاشرتی بھی لیکن سب سے زیادہ پریشان کن زنجیریں ذہنی زنجیریں ہیں اسی لیے مشہور فلاسفر سورن کرکیگارڈ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ اکثر لوگ اظہار اور گفتار کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں لیکن سب سے بڑی آزادی سوچ کی آزادی ہے جس کے لیے کسی حکومت اور کسی قانون کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جب ہم بچے ہوتے ہیں تو ہمارا کلچر، ہماری ثقافت، ہمارا مذہب اور ہمارا معاشرہ ہمیں کچھ ذہنی زنجیریں پہنا دیتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں کیا کھانا چاہیے، کیا پہننا چاہیے، کیا لکھنا چاہیے، کیا پڑھنا چاہیے، کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں کہنا چاہیے اور اگر ہم ان زنجیروں کو توڑنا چاہیں اور آزاد ہونا چاہیں تو ہمارا معاشرہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس آزادی کی ایک قیمت ہے۔ بعض دفعہ وہ قیمت اتنی بھاری ہوتی ہے کہ لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور زنجیریں توڑنے کی بجائے بادلِ ناخواستہ انہیں قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے سچ سے دور ہو جاتے ہیں اور ایک منافقت کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ منافقت کی زندگی ہمارے لیے نفسیاتی مسائل پیدا کرنے لگتی ہے۔ جب ہم بہت زیادہ پریشان ہو جاتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ ہم آخر زندگی کی اس گہری کھائی میں کیسے آن گرے۔ ہم اس شخص کی طرح بن جاتے ہیں جو جس شاخ پر بیٹھا ہوتا ہے اسی کو کاٹ رہا ہوتا ہے اور جب وہ نیچے گرتا ہے تو حیران ہوتا کہ میں درخت سے گہری کھائی میں کیسے گرا۔

نفسیاتی طور پر صحتمند زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم ذہنی طور پر آزاد ہوں۔ آزادانہ طور پر سوچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کچھ وقت اپنے ساتھ گزاریں۔ بعض لوگوں کے لیے جو اپنے والدین، بہنوں، بھائیوں، بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتے ہیں، اپنے ساتھ وقت گزارنے کا خیال اجنبی ہو سکتا ہے۔ میں اپنے مریضوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اکیلے سیر کے لیے جائیں کسی پارک یا ساحلِ سمندر پر جا بیٹھیں اور اپنے آپ سے پوچھیں۔

میں کیا کھانا، کیا پہننا، کیا پڑھنا اور کیا سننا پسند کرتا ہوں؟ِ

نجانے کتنے لوگ اپنی پسند اور ناپسند کودوسروں کی پسند اور ناپسند پر قربان کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا کرنا رشتوں کے لیے ضروری ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ ایسا کرنے سے انسان کی شخصیت اور انفرادیت مجروح ہوتی ہے۔ ایک کنیڈین بیوی کو پنیر بہت پسند تھی لیکن چونکہ اسکے شوہر کو پنیر ناپسند تھی اس لیے وہ پنیر نہیں کھاتی تھی۔ لیکن خاوند کی موت کے دو سال بعد جب میں اس سے ملا تو کہنے لگی پچھلے دو سال سے میری زندگی میں ایک انقلاب آ گیا ہے۔ اب میں اپنی مرضی سے پنیر کھا سکتی ہوں۔ کسی کی زندگی میں پنیر اتنی اہم چیز نہیں ہے لیکن پنیر ان تمام جائز خواہشات کا استعارہ ہے جن کی وہ عورت قربانی دیتی تھی تا کہ شوہر کو خوش رکھے۔

بہت سی عورتیں خاص طور پر بیویاں اس لیے ساری عمر قربانیاں دیتی رہتی ہیں کیونکہ وہ اپنے شوہر پر مالی اور سماجی طور پر DEPENDENT ہوتی ہیں۔ جب عورتیں تعلیم حاصل کر لیتی ہیں اور نوکری کرنے اور گاڑی چلانے لگتی ہیں تو ان کی تنخواہ انہیں ایک نئی آزادی دیتی ہے اور وہ اپنی مرضی کے کھانے کھا سکتی ہیں اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکتی ہیں اور اپنی مرضی کی کتابیں خرید سکتی ہیں۔ انہیں کسی سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی۔عورتوں کی آزادی کی تحریک نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ معاشی آزادی کا سماجی، نفسیاتی اور ذہنی آزادی سے گہرا تعلق ہے۔

وہ عورتیں چاہے وہ بیوی ہو یاں ماں، بہن ہوں یا بیٹی جب وہ کسی مرد کی دست نگر ہوتی ہیں تو بعض دفعہ وہ آزادانہ طور پر سوچ بھی نہیں سکتیں۔ میں ایسی عورتوں کو ایک کتے اور بھیڑیے کی کہانی سناتا ہوں۔ ایک جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا جب وہ جوان تھا تو وہ ہر روز اپنا شکار پکڑ لیتا تھا لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اپنی نقاہت کی وجہ سے اس کے لیے شکار پکڑنا مشکل ہو گیا۔ ایک دن جنگل کے کنارے پر اسے ایک جوان اور صحتمند کتا نظر آیا۔ اس نے کتے سے اس کی صحت کا راز پوچھا تو کتنے نے بتایا کہ میں اپنے مالک کے ساتھ رہتا ہوں وہ مجھے اچھے اچھے کھنا کھلاتا ہے۔ بھیڑیے نے کہا کیا تم مجھے اپنے مالک سے ملوا سکتے ہو تا کہ وہ مجھے بھی اپنے گھر لے جائے اور میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ رہوں۔ کتے نے کہا کل تم اسی وقت اسی جگہ آ جانا میں اپنے مالک کو لے آئوں گا۔ یہ بات سننے کے بعد بھیڑیا چند لمحوں کے لیے بہت خوش ہوا اور اس کے ذہن سے مستقبل کے سب خدشے دور ہو گئے۔ لیکن جب کتا مڑا تو بھیڑیے نے اس کی گردن پر ایک نشان دیکھا جہاں سے اس کے بال غائب تھے۔ بھیڑتے کے اصرار پر کتے نے بتایا کہ اس کا مالک جب غصے میں آ جاتا ہے تو اسے ایک زنجیر سے باندھ دیتا ہے اور کئی دن تک باندھے رکھتا ہے جب تک کہ اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔ بھیڑیے نے یہ کہانی سنی تو کہا ’ میں کل یہاں نہیں آئوں گا۔ مجھے تمہارے مالک سے نہیں ملنا۔

میں اپنے مریضوں سے کہتا ہوں کہ انہیں زندگی میں یہ اہم فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس پالتو کتے کی طرح گلے میں زنجیر ڈال کر یا اس بھیڑیے کی طرح آزاد اور خود مختار زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ میں نے تمام عمر اپنی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے خوشی سے قربانیاں دی ہیں۔ لیکن مجھے احساس ہے کہ وہ قربانیاں ہر انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتیں۔

فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اپنی زندگی میں وہ آزادی حاصل نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے بارے میں سوچ سکتے ہیں اور اپنے بچوں کو وہ آزادی حاصل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

میں نے چالیس برس کے تجربے، مشاہدے، مطالعے اور تجزیے سے یہ سیجکھا ہے کہ انفرادی آزادی کا سماجی، معاشی اور سیاسی آزادی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ اور آزادی کا طویل اور جانگسل سفر ذہنی آزادی سے شروع ہوتا ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں جانتا ہوں کہ جب کوئی انسان ذہنی طور پر آزادی حاصل کر لیتا ہے تو پھر اسے کوئی اور انسان غلام نہیں بنا سکتا۔

ہوچی منہ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ جس قوم کے شہری ذہنی طور پر آزاد ہوں ان پر کوئی اور قوم حکومت نہیں کر سکتی۔ جوشؔ ملیح آبادی فرماتے ہیں

 سنو اے ساکنانِ خاکِ پستی

صدا یہ آ رہی ہے آسماں سے

کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر

غلامی کی حیاتِ جاوداں سے

ہم سب کو اپنے آپ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر پوچھنا چاہیے۔۔۔ کیا ہم ذہنی طور پر آزاد ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 137 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail