اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فکری آزادی کے خلاف منظم مہم پر اساتذہ کی تشویش


مختلف شعبہ ہائے تعلیم کے ممبران اور اساتذہ کی حیثیت سے ہم پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں میں پچھلے کچھ دنوں میں ہونے والے واقعات کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ ان واقعات سے پاکستان میں فکری اور تدریسی آزادی کو ٹھیس پہنچائی جارہی ہے۔ بارہ سے تیرہ اپریل کے درمیان ہونے والے ایک ہی نوعیت کے چار مختلف جبری استبداد کے واقعات ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کے کیمپسز میں رونما ہوئے ہیں۔

پہلے واقعے میں تیرہ اپریل کے دن حبیب یونیورسٹی کراچی میں ہونے والی ایک تقریب جس کا عنوان “ایتھنک رائٹس، نیو سوشل مومنٹس اینڈ دا سٹیٹ آف دا فیڈریشن ان پاکستان” کو انعقاد سے صرف ایک گھنٹہ پہلے زبردستی روک دیا گیا۔ اس تقریب میں پاکستان میں ابھرنے والی سماجی تحریکوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور پھر ان تحریکوں پر ماہرین نے تبادلہ خیال کرنا تھا۔ نہ صرف تقریب کو زبردستی رکوا دیا گیا بلکہ ایک مہمان مقرر کو یونیورسٹی کے محافظوں نے زبردستی کیمپس سے باہر نکال دیا، حالانکہ خود یونیورسٹی نے اس کو مدعو کر رکھا تھا۔

دوسرے واقعے میں تیرہ اپریل کے دن ہی لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنس (LUMS) میں مشال خان شہید کی پہلی برسی کے موقع پر ایک تقریب پلان کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس 13 اپریل کو عبدالولی خان یونیورسٹی (چارسدہ ) کے طالب علم مشال خان کو ایک پرتشدد ہجوم نے توہین رسالت کے الزام میں قتل کیا تھا۔ سرکاری جے آئی ٹی نے مشال کان کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا ہے۔ نیز یہ کہ اس مقدمے میں چار ملزمان کو سزائے موت اور متعدد ملزموں کو قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ تاہم لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنس میں اس تقریب کو بھی زبردستی روک دیا گیا۔ اس تقریب میں طلبہ و طالبات نے اپنے ساتھی مشال خان جس نے اپنی چھوٹی سی زندگی کو امن اور انصاف کے حصول کے لئے وقف کی تھی کی اندوہ ناک موت کا غم منانا تھا۔

تیسرے واقعے میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے فرائض ادا کرنے والے استاد عمار علی جان کو کوئی وجہ بتائے بغیر یکدم نوکری سے برخاست کردیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے کوئی سرکاری وجوہات بھی نہیں دی گئیں۔ ڈاکٹر عمار نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ جولائی 2017 سے بھرپور طریقے سے طلبہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ حالانکہ عمار جان کو یونیورسٹی انتظامیہ نے تنخواہ دی ہی نہیں لیکن پھر بھی وہ طلبہ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیات کو ابھارنے اور عدم تشدد کو فروغ دینے کے لئے پوری لگن کے ساتھ کام کررہے تھےاور ان کو یکدم سے نوکری سے نکالنا غیر ذمہ دارانہ اور ذلت آمیز رویے کا اظہار ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ایسا رویہ اور برتائو پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے ساتھ ہونے والے برتائو پر سوالات اٹھاتا ہے۔

آخری اور چوتھے واقعے میں ریاستی اہل کاروں نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کی فیکلٹی اور انتظامیہ سے ملاقات کی اور ان سے طلبہ کو پڑھائے جانے والے نصاب کے بارے میں سوالات کئے۔ فکلٹی اور انتظامیہ کو انتباہ کیا گیا کہ طلبہ کو ایسے مضامین نہ پڑھائے جائیں جن سے ان میں تنقیدی شعور اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ ریاستی کارکنوں کی طرف سے یونیورسٹی میں باضابطہ مداخلت جس کا مقصد تنقیدی سوچ کو پنپنے سے روکنا اور طلبہ کے سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا تھا، بہت پریشان کن واقعہ ہے۔

یہ چاروں واقعات ایک خطرناک رجحان کا حصہ ہیں جس کا مقصد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور بحث کو یونیورسٹیوں میں روکنا ہے۔ فیکلٹٰی ممبران کی حیثیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ یونیورسٹی ایک ایسی جگہ ہونی چاہئے جہاں فیکلٹی اور طلبہ آزادی سے ساتھ خیالات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ بغیر کسی خوف یا ڈر کے سماجی معاملات کا تجزیہ کرسکیں۔ یونیورسٹی کا مقصد ایک ایسی فضا کو فروغ دینا ہوتا ہے جہاں خیالات کا اظہار کیا جاسکتا ہے ، اس کے ساتھ ریسرچ اور تجزیے کو بھی فروغ ملے۔ صرف کھلی بحث اور مکالمہ ہی وہ طریقہ کار ہیں جن سے ہمارے سماجی اور سیاسی مسائل کو سمجھا اور تشخیص کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک کا مستقبل اس بات پر انحصار رکھتا ہے کہ ہم اپنے طلبہ کو سوچنے اور سمجھنے میں کتنا ماہر بنا پاتے ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر یہ واقعات تشویشناک ہیں۔ فیکلٹی ممبران کی حیثیت سے ہم یونیورسٹیوں میں ہونے والے جبراور ڈراؤ دھمکاؤ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ہم متعلقہ اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے اور اس بات کی یقین دہانی کراے کہ ہماری یونیورسٹیاں بیرونی مداخلت سے آزاد رہیں گی۔

اس محضر نامے پر مختلف یونیورسٹیز کے درج ذیل اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے دستخط کئے ہیں

  1. Nida Kirmani, Associate Professor, Lahore University of Management Sciences
  2. Sarah Suhail, Visiting Faculty, Lahore school of Economics
  3. Hassan Javid, Assistant Professor, Lahore University of Management Sciences
  4. Anushay Malik, Assistant Professor, Lahore University of Management Sciences
  5. Faiza Mushtaq, Assistant Professor, IBA Karachi
  6. Arsalan Khan, Assistant Professor, Union College
  7. Hammal Aslam, Assistant Professor, BUITEMS Quetta
  8. Tania Saeed, Assistant Professor, Lahore University of Management Sciences
  9. Afiya Zia, Sessional Lecturer, University of Toronto, Canada.
  10. Sanaa Alimia, Research Fellow, Leibniz Zentrum Moderner Orient, Berlin; Visiting and Associated Faculty, University of Peshawar
  11. Amen Jaffer, Assistant Professor, LUMS
  12. Adnan Khan, Assistant professor, Lahore University of Management Sciences
  13. Mahvish Ahmad, PhD Candidate, Cambridge University
  14. Iftikhar Dadi, Associate Professor, Cornell University
  15. Gwendolyn Kirk, Associate Lecturer, University of Wisconsin-Madison
  16. Ali Raza, Assistant Professor, Lahore University of Management Sciences
  17. Imdad Hussain, Assistant Professor, Forman Christian College University, Lahore
  18. Omar Kasmani, Post-doctoral Research Associate, Free University of Berlin, Germany
  19. Babar A. Qureshi, Visiting Faculty, Massachusetts Institute of Technology, Cambridge, MA, USA
  20. Aimen Bucha, Lecturer, Beaconhouse National University
  21. Waqas H. Butt, PhD Candidate, University of California, San Diego, USA
  22. Sarah Eleazar, visiting faculty, Beaconhouse National University, Lahore
  23. Shayan Rajani, PhD Candidate, Tufts University
  24. Qalandar Bux Memon, Assistant Professor, Forman Christian College, Lahore
  25. Ameem lutfi, Global Studies Fellow, Duke University.
  26. Tabitha Spence, Teaching and Research Fellow, Lahore School of Economics
  27. Muhammad Azeem, Assistant Professor, LUMS
  28. Sara Shroff, PhD. Candidate, New School
  29. Noaman G. Ali, PhD Candidate, University of Toronto
  30. Shozab Raza, PhD Candidate, University of Toronto
  31. Alia Amirali, Lecturer, Quaid-e-Azam University, Islamabad
  32. Tooba Syed, Lecturer, Quaid-e-Azam University, Islamabad
  33. Amina Jamal, Associate Professor, Ryerson University, Toronto
  34. Imdad Hussain, Assistant Professor, Forman Christian College, Lahore
  35. Barbara Heron, Professor, York University, Toronto
  36. Shehnoor Khurram, PhD candidate, York University, Toronto, Canada.
  37. Marvi Shaikh,  lecturer, University of Sindh, Jamshoro.
  38. Shafqat Ali Kadri, Associate professor, University of Sindh, Jamshoro
  39. Dr Taimur Rahman, Assistant Professor, LUMS
  40. Sadaf Aziz, Assistant Professor, LUMS
  41. Elleni Zeleke, Assistant Professor, Whitman College
  42. Azzah Ahmed, PhD Candidate, University of California, Los Angeles, USA
  43. Alissa Trotz, Associate Professor, University of Toronto
  44. Hafeez Jamali, Assistant Professor, Habib University
  45. Riaz Ahmed, Associate Professor and Chair Applied Chemistry, Karachi University
  46. Fawad Khan, Adjunct Faculty at the National Academy of Performing Arts, Karachi
  47. Ayyaz Mallick, Visiting Researcher, Habib University
  48. Nosheen Ali,  Assistant Professor,  AKU-IED
  49. Shahana Rajani, Visiting Faculty, IBA Karachi
  50. Nadir Cheema, SOAS London University & Bloomsbury Pakistan
  51. Tayyaba Jiwani, PhD Candidate, University of Toronto
  52. Zahra Malkani, Lecturer, Habib University
  53. Ayaz Qureshi, Lecturer, University of Edinburgh
  54. Abdul Aijaz, GC University, Lahore

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں