لبرل ازم: خیالی اور حقیقی…


shadab murtazaجب جنرل ضیاء کی آمریت میں افغان جہاد زور و شور سے جاری تھی تب عالی مقام “آہنی خاتون” لبرل برطانیہ کی لبرل وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر نے نو اکتوبر 1981  کو اس سرزمینِ پاک پر قدم رنجہ فرما یا تھا اور مردِ مومن مردِ حق، ضیاء الحق کی معیت میں افغان مہاجرین کے کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے وہاں موجود “مجاہدین” سے خطاب فرماتے ہوئے دو ملین پاؤنڈ کی امداد دینے اور افغان جہاد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلانِ مبارک بھی کیا تھا. ویڈیو یو ٹیوب پر میسر ہے لنک آخر میں دے دیا گیا ہے.

جب لبرل امریکہ کے لبرل صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر زبنیگ برژنسکی سے ایک فرانسیسی رسالے کے نامہ نگار نے سوال کیا کہ کیا سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر رابرٹ گیٹس کی یادداشتوں میں موجود ان کا یہ بیان درست ہے کہ افغان مجاہدین کو امریکہ کی امداد (آپریشن سائیکلون) سوویت یونین کے افغانستان میں داخل ہونے سے چھ ماہ پہلے شروع ہوئی تھی تو برژنسکی نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تین جولائی 1979 کو جمی کارٹر نے کابل میں سوویت یونین کی حامی حکومت کے مخالفین کو خفیہ امداد دینے کے حکم نامے پر دستخط کیے. جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس بات پر کوئی پچھتاوا ہے تو حضرت مشیر نے نہایت بے شرمی سے کہا کہ “کیسا پچھتاوا؟ یہ خفیہ آپریشن ایک زبردست خیال تھا. اس کے نتیجے میں سوویت یونین افغانی جال میں پھنس گیا اور تم چاہتے ہو کہ مجھے اس پر پچھتاوا ہو!” لیکن اسی پر بس نہیں. جب لبرل امریکہ کے قومی سلامتی کے لبرل مشیر حضرت برژسنکی سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو اسلامی انتہا پسندوں کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس طرح مستقبل کے دہشت گردوں کو شہہ دینے پر بھی کوئی پچھتاوا نہیں تو انہوں نے یہ تاریخی الفاظ کہے: “دنیا کی تاریخ کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز کیا ہے؟ طالبان یا سوویت یونین؟ چند بھڑکے ہوئے مسلمان یا وسطی یورپ کی آزادی اور سرد جنگ کا خاتمہ؟” اور اس طرح لبرل امریکہ اور لبرل برطانیہ نے مذہبی دہشت گردوں کے ذریعے افغانستان کو اس منتخب جمہوری سوشلسٹ حکومت کی “آمریت” سے “آزاد” کروایا جس نے افغانستان میں بادشاہت کے ہاتھوں عوام کا استحصال ختم کیا، جاگیرداری نظام ختم کیا، صنفی امتیاز ختم کیا. لبرل امریکہ اور لبرل برطانیہ کی اس “آزادی مہم” کے افغانستان اور پاکستان پر جو مبارک، مثبت اور ترقی یافتہ اثرات پڑے وہ آج بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں. عراق، لیبیا، یوگوسلاویہ، شام، یمن، یوکرین وغیرہ میں بھی امریکی، برطانوی اور فرانسیسی لبرل ازم، مذہبی دہشت گردی، شاونزم اور فاشزم کا حسین ملاپ اپنے جلوے کی بہاریں آج بھی دکھا رہا ہے.

اگر ہم امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے سابقہ اہلکار ولیم بلم کی سرد جنگ کے دور سے امریکی فوج اور سی آئی اے کی دنیا بھر میں مداخلتوں اور سازشوں پر تحقیقی کتاب پڑھیں تو ویت نام، مشرقی یورپ، لاطینی امریکہ، ایشیاء، افریقہ میں سفاک ترین فوجی آمریتوں کی مدد کرنے اورجمہوری منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے میں لبرل امریکہ کے کردار کو دیکھ کر لبرل ازم پر ہمارا ایمان نہایت پختہ ہوجائے گا. ہٹلر کو جنگی تیاری کے لیے پیسہ فراہم کرنے والے بینکار اور صنعتکار امریکی، ضیاء الحق، بتستا، پنوشے، سہارتو اور ان جیسے دیگر سفاک فوجی آمروں، فاشسٹ سویلین حکومتوں، نکارا گوا کے منشیات فروش مافیاؤں کی سرپرستی کرنے والے کوئی اور نہیں ہمارے لبرل امریکہ اور لبرل برطانیہ تھے. جبکہ ہمارے لبرل احباب کے مطابق لبرل ازم تو جمہوریت، انصاف اور آزادی کا نام ہے اور اس کے ڈانڈے برطانیہ اور امریکا سے ملتے ہیں. فکری اعتبار سے برطانیہ اور معیشت کے اعتبار سے امریکہ.

ذرا اور گہرائی سے دیکھیں تو امریکہ کے قیام میں سیاہ فاموں اور مقامی انڈین قبیلوں کی نسل کشی کا ذمہ دار کون تھا؟  اٹلانٹا، افریقہ اور ایشیاء کے لوگوں پر جبری حکومت مسلط کرنے اور ان کا انسانیت سوز استحصال کرنے والا کون تھا؟ سوویت یونین یا کمیونزم یا عیسائیت یا اسلام؟ برطانوی ریاست کا افریقیوں اور ایشیائی لوگوں کا استحصال کس نظریے، کس سیاسی یا سماجی نظام کے تحت، کس قسم کی ریاست نے کیا؟ جواب ہے لبرل ازم پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت سرمایہ دار ریاستوں نے.

لبرل ازم کے باوا آدم حضرت جان لاک نے انسانی برابری اور آزادی کا حسین فلسفہ پیش کیا. لیکن حضرت خود اٹلانٹا میں سیاہ فام انسانوں کو غلام بنا کر فروخت کرنے والی کمپنی کے شیئرہولڈر بھی تھے اور کیلیفورنیا کے آئین کے خالق بھی جس میں انہوں نے کیلیفورنیا کے ہر آزاد انسان کو سیاہ فام غلام انسان پر تمام مالکانہ حقوق دیئے. لبرل ازم کے دوسرے عظیم مفکر جان اسٹوارٹ مل تو خیر سے ہندوستان کے انسانوں اور وسائل کو نوچنے، لوٹنے، کھسوٹنے اور قتل عام کرنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے باوقار اور وفادار اعلی افسر تھے. ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں بنگال کا ایک قحط بہت بدنام ہوا جس میں 1943 میں تیس لاکھ بنگالی بھوکے مر گئے. اس قحط کے حوالے سے تحقیق میں پتہ چلا کہ دانا و بینا حضرت سر ونسٹن چرچل نے اناج کو زخیرہ کرلیا تھا تاکہ اس وقت جاری دوسری عالمی جنگ میں برطانوی فوج کو راشن کی فراہمی میں کمی نہ آئے اور اگر یہ نوبت نہ آئے تو اناج کو بین الاقوامی منڈی میں مہنگے داموں فروخت کر کے منافع کمایا جا سکے جو کہ لبرل سرمایہ دارانہ معیشت کا مرکزی مقصد ہوتا ہے. سو آزاد معیشت نے ونسٹن چرچل کو اناج بیچ کر منافع کمانے اور بنگال کے لوگوں کو بھوک سے مرجانے کی آزادی دے دی. لبرل دوست ناراض نہ ہوں کیونکہ اس وقت برطانیہ “غیر نظریاتی” ریاست تھی. اس پر نہ کمیونسٹوں کی حکومت تھی نہ ہی چرچ کے پادری اس کے حکمران تھے. لبرل ازم کچھ ایسی ہی شے ہے. کہنے میں کچھ، کرنے میں کچھ. بات آزادی اوربرابری کی لیکن عمل آزادی اور برابری کے خلاف. بات جمہوریت اور سیکیولرازم کی لیکن مدد فوجی آمروں اور ہر طرح کے بدمعاشوں اور دہشت گردوں کی حتی کہ مذہب انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی بھی. تاجِ برطانیہ بیوقوف نہیں تھا کہ اس نے ہندوستان سے جاگیرداری ختم نہ کی. اور امریکہ نادان نہیں تھا کہ اس نے جمہوری قوتوں کے خلاف فوجی آمروں اور ملائیت کا ساتھ دیا. جاگیرداری کی آئیڈیالوجی مذہب ہے. جاگیرداری کے ساتھ اس کی آئیڈیالوجی بھی زندہ رکھی گئی اور مغربی لبرل ریاستوں نے اسے بھرپور طریقے سے روشن خیال اور جمہوریت پسند قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے استعمال کیا جو کہ ہنوز جاری ہے. مشرقِ وسطی اس کی حالیہ مثال ہے.

لبرل ازم کا معاشی فلسفے کا مقصد یہ ہے کہ نجی ملکیت پر آنچ نہ آئے جو کہ سماجی اور سیاسی مسائل کی جڑ ہے.  لبرل ازم کے مطابق انسان دولت کما کر پرتعیش زندگی گزارنے میں بھی آزاد ہے اور روکھی سوکھی روٹی کھا کر جیتے جی مرنے میں بھی آزاد ہے. لیکن اس سوال کا کیا جواب ہے کہ جہاں آزادی کی قدر پیسے سے تولی جاتی ہو، جہاں پیسے کے بنا آپ کو نہ روٹی ملے، نہ گھر، نہ تعلیم، نہ علاج، نہ انصاف تو وہاں غریب انسان کن معنی میں آزاد ہے؟ کیا صرف کاغذ پر لکھ دینے سے کہ تمام انسان آزاد اور برابر ہیں، تمام انسان حقیقتا آزاد اور برابر ہو جاتے ہیں؟ تجربہ کر کے دیکھ لیں. بنا پیسے کے آزاد رہنے کی کوشش کریں. بنا پیسے کے آپ کو صرف ایک آزادی ملے گی اور وہ ہے مر جانے کی آزادی. اگر آپ کے پاس پیسے نہ ہوں اور آپ کے سامنے ایک دکان میں دنیا بھر کی چیزیں رکھی ہوں تو کیا آپ اپنی پسند کی چیز لینے میں آزاد ہوں گے؟ چنانچہ حقیقت تو یہی ہے کہ معاشی تفریق اور نابرابری ہی ہے جو طبقاتی معاشرے میں ہر قسم کی برابری اور آذادی کا تعین کرتی ہے. لبرل احباب طبقات کو معیشت سے نکال کر ان کی حسنِ خیال، ذوقِ طبع، میلان و رجحان وغیرہ کے خیالی پیمانوں سے درجہ بندی کر کے اس چھپانا چاہتے ہیں.

ایک اور غلط فہمی جسے لبرل احباب مسلسل دوہراتے رہتے ہیں وہ ان کی جانب سے”غیرنظریاتی” ریاست کا مطالبہ ہے. ان کے نزدیک نظریاتی ریاست یا تو مذہبی ہوتی ہے یا کمیونسٹ. اور دونوں صورتوں میں ایسی ریاست انسانی آزادی اور برابری کی دشمن ہوتی ہے. اس لیے یہ غیر نظریاتی ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں. اوپر میں نے ایسی “غیرنظریاتی” ریاستوں کی مثال پیش کی ہے. لبرل احباب  یہ کہنے میں نجانے کیوں شرماتے ہیں کہ انہیں ایسی ریاست چاہیے جو لبرل اقدار پر مبنی ہو یعنی ایسی ریاست جو لبرل سرمایہ دار طبقے کے تسلط میں ہو اور جس کے اقتدار کے ذریعے سرمایہ دار طبقہ اپنی نجی ملکیت اور دولت میں اضافہ کرسکے. شاید یہ اب تک اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ لبرل سرمایہ دار طبقہ انہیں روشن خیال، جمہوریت سے لبریز، مذہبی تفرقے سے پاک ریاست فراہم کرے گا. والٹیئر نے کہا تھا کہ جب بات پیسے کی ہو تو سب کا مذہب ایک ہو جاتا ہے یعنی پیسہ ہی مذہب بن جاتا ہے. یورپ کے لبرل سرمایہ دار طبقے کا سعودی عرب کے ساتھ بھائی چارہ ہمارے ان لبرل دوستوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونا چاہیے. امریکہ کے سعودی عرب کے ساتھ ناجائز رشتے ڈھکے چھپے نہیں. فرانس نے تو سعودی شہزادے کو حال ہی میں اپنا اعلی ترین سول اعزاز عطا کیا ہے. افغان جہاد میں امریکہ، سعودی عرب اور برطانیہ کا گٹھ جوڑ کس سے چھپا ہے؟ یمن پر سعودی حملے کا اعلان واشنگٹن سے ہوا تھا. کچھ اور نہ سہی کم ازکم اسی بات سے سبق سیکھ لینا چاہیے کہ اللہ بخشے جنرل ضیاء کی آمریت کی پیداوار حضرت نواز شریف چینی سرمایہ کاری کے ساتھ لبرل ہو گئے! یہ سب گورکھ دھندا کس قدر جمہوری اور سیکیولر تھا اور ہے دانا و بینا لوگوں کے لیے یہ کوئی راز کی بات نہیں. ریاست کوئی بھی ہو نظریاتی ہی ہوتی ہے. جس طبقے اور جس نظریات کے لوگ اس پر مقتدر ہوتے ہیں یہ انہی کا پاٹھ پڑھتی ہے. ریاست کوئی جناتی ادارہ نہیں، انسانی ادارہ ہے. اس کو چلانے والے انسان ہوتے ہیں اور ان انسانوں کے نظریات ہوتے ہیں، مفادات ہوتے ہیں اور وہ ریاست کے زریعے یہی مفادات پورے کرتے ہیں. غیر نظریاتی ریاست کے کیموفلاج میں لبرل سرمایہ دار ریاست کا مطالبہ کرنے سے حقیقت بدل نہیں جاتی. غیر نظریاتی ریاست کے نام پر جمہوری اور سیکولر ریاست کا مطالبہ کرنے سے پہلے انسان کو کم از کم یہی سوچ لینا چاہیے کہ جمہوریت اور سیکولرازم بھی نظریے ہی ہیں. یہ کوئی ایسے جذبات نہیں جنہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہو لفظوں، اصولوں اور ضابطوں کے قالب میں ڈھالا نہ جا سکتا ہو!

ایک نظر ذرا جمہوریت پر بھی ڈال لی جائے..جمہوریت کیا ہے؟ وہ جس میں جمہور یعنی عوامی اکثریت کی رائے مقدم ہو. ان کے حقوق کا پاس و احترام ہو. اور جمہور کیا ہے؟ کیا جاگیردار، سرمایہ دار، اعلی حکام جمہور یعنی عوام میں شمار ہوتے ہیں؟ مثلا کیا نواز شریف، ن لیگ، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف کے قائدین عوام میں شمار کیے جا سکتے ہیں؟ عوام تو مزدور، کسان، نچلے اور درمیانے طبقے کے نوکری پیشہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر ریاست میں اکثریتی طبقہ ہوتے ہیں. کسی ایک لبرل ریاست کا ذکر کریں جہاں اس عوام کے لیے جمہوریت حقیقت میں موجود ہو. امارت کے نظام میں عوام کے لیے جمہوریت کیسے ہو سکتی ہے جب کہ ریاستی ادارے، انتظامیہ، مقننہ سب کے سب دولتمند حکمران طبقے کے تسلط میں ہوں؟ پاکستان یا پڑوسی ملک ہندوستان کی جمہوریت پر ہی نظر ڈال لیں. یا امریکہ اور برطانیہ کی جمہوریت دیکھ لیں. حقیقی جمہوریت وہیں ہو گی جہاں جمہور کی حکمرانی ہو اور یہ لبرل سرمایہ دار ریاست میں ممکن نہیں جہاں ایک عام آدمی الیکشن لڑنے کے لیے کڑوڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتا.

پاناما لیکس نے تو لبرل ازم اور سرمایہ داری کے چہرے سے پورا نقاب ہی نوچ ڈالا ہے. امریکہ کی پچاس سب سے بڑی کمپنیوں کے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ آف شور اثاثے پائے گئے ہیں. اس لوٹ کو کس نظریاتی ریاست کے کھاتے میں ڈالا جائے؟

لبرل احباب کمیونزم کے ذیل میں سوویت یونین کو بہت لتاڑتے ہیں. اور اس عمل میں حماقت کی حد تک چلے جاتے ہیں. اس کی ایک مثال محترم ذیشان ہاشم کا تازہ کالم ہے. موصوف نے قحط جیسی قدرتی آفت کا الزام بھی کمیونزم کے سر ڈال دیا ہے اور یہ احمقانہ دعوی کردیا ہے کہ سرمایہ دارانہ معیشتوں میں قحط نہیں آتے صرف سوشلسٹ معیشتوں میں آتے ہیں! امریکہ کا 1930 کا قحط جس میں اندازا سات لاکھ لوگ ہلاک ہوئے وہ بھی شاید ان کے نزدیک سوویت یونین میں آیا تھا! اسی طرح انہوں نے یہ لغو بیان بھی داغ دیا کہ سوویت یونین میں لوگوں کو پیسہ نہیں ملتا تھا کپڑے تک ریاست دیتی تھی! الامان الحفیظ یہ حماقت سے بڑھ کر سوویت یونین کے بارے میں نری جہالت ہے. اسی طرح وینزویلا میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت قائم کردی. ان کے منہ میں گھی شکر لیکن دسمبر مٰیں ہونے والے حالیہ الیکشن میں وینزویلا میں ڈیموکریٹک یونٹی پارٹی کو فتح ہوئی اور یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی، جسے وہ اپنی کم علمی میں کمیونسٹ پارٹی سمجھ رہے ہیں، شکست سے دوچار ہوئی. چنانچہ انہوں نے جو شہادتیں وینزویلا کو اپنے تئیں سوشلسٹ ملک  سمجھ کر اس پر تھوپ دی ہیں وہ امریکہ کی حامی موجودہ لبرل سرمایہ دار حکومت پر صادق آتی ہیں. مخالفت کی شدت میں وہ اسے بپھرے ہیں کہ روس میں مطلق العنان بادشاہت کے دور کو انہوں نے سوویت یونین سے زیادہ ترقی یافتہ دور قرار دے ڈالا! ٹالسٹائی، گورکی، چیخوف، شولوخوف اگر یہ جان لیں تو چیخیں مارتے ہوئے اپنی قبروں سے نکل پڑیں. کہاں ناخواندہ اور پسماندہ، گھوڑے اور لکڑی کے ہلوں سے کاشتکاری کرنے والے کسان اور فیکٹریوں میں بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں کے خاندانوں کا روس اور کہاں تعلیم یافتہ اورخوشحال، ٹریکٹر اور جدید زرعی مشینوں کا مشترکہ فارموں میں استعمال کرنے والے کسان اور جدید صنعتوں میں ہفتے میں پانچ دن پانچ سے چھ گھنٹے یومیہ کام کرنے والے مزدور! پس بعض لوگ مخالفت کے تشنج میں جائز و ناجائز کی تمیز روا رکھنے کے بھی اہل نہیں ہوتے.

لبرل ازم کے بانیوں کے قول و فعل، برطانوی اور فرانسیسی ریاستوں کی استعماری مہموں کی تاریخ، امریکہ کی لبرل اور نیو لبرل پالیسیوں کے نتائج، لبرل سرمایہ دار ریاستوں کی جانب سے مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی اور جنگ و جدل، سرمایہ دارانہ نظام میں دولت اور وسائل کی آخری حدوں کو چھوتی تفریق سب اس بات کا عندیہ ہیں کہ لبرل ازم اور اس کا معاشی سیاسی نظام دنیا کو اور انسانیت کو مزید تباہی کی جانب تو لے جا سکتا ہے ان میں کوئی بہتری نہیں لاسکتا. تاریخی ارتقاء کے بہاؤ میں لبرل ازم کا کردار اب محض قدامتی اور رجعتی ہے.

http://dgibbs.faculty.arizona.edu/brzezinski_interview

(محترم بھائی شاداب مرتضیٰ، اختلاف رائے کے باوجود آپ کے  خیالات من و عن شائع کیے جا رہے ہیں ۔

از رہ کرم تصحیح فرما لیجئے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی 1858 میں ختم ہو گئی تھی اور بنگال کا قحط دوسری جنگ عظیم کے دوران رونما ہوا تھا جب  جاپانی افواج برما پر قابض ہو چکی تھیں ۔ 1943 میں سوویت یونین اور برطانیہ جنگ میں اتحادی تھے۔

لبرل احباب  یہ کہنے میں قطعاً نہیں شرماتے کہ انہیں ایسی ریاست پسند ہے جو لبرل اقدار پر مبنی ہو۔ لبرل اقدار میں بنیادی درجہ تکثیریت کو حاصل ہے۔ ایک لبرل ریاست میں اشتراکی جماعت کام کر سکتی ہے۔ سوویت یونین، چین، شمالی کوریا، ایران، سعودی عرب اور کیوبا میں سوائے حکومتی جماعت کے کسی دوسری سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔ ںظریاتی ریاست کی تعریف ہی یہی ہے کہ ایسی ریاست جو سیاسی نقطہ نظر پر اجارے کا دعویٰ رکھتی ہو۔ لبرل ریاست نظریاتی نہیں ہوتی بلکہ ہر طرح کے نظریے کو کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

ہم سب کی ادارتی ٹیم نے دانستہ آپ کے الفاظ میں قطع و برید سے گریز کیا ہے تاکہ کہیں ایسا احتمال پیدا نہ ہو کہ آپ کے نظریاتی استدلال کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ تاہم تجویز دی جاتی ہے کہ اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے دوسروں کے خیالات کو “احمقانہ” اور “لغو” قرار دینے سے  گریز کرنا چاہیے۔ مدیر)


Comments

FB Login Required - comments

13 thoughts on “لبرل ازم: خیالی اور حقیقی…

  • 16-04-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    شاداب مرتضی صاحب مختصرا” یہی عرض ہے آپ نے جس خوبصورتی سے لبرلازم کے نام پر اشرافیہ کے حق استحصال کا پردہ چاق کیا ہے اس کے لئے آپ مبارکباد کے مستحق ہیں. عین ممکن ہے لبرلازم واقعی انسانی آزادی کا داعی ہو لیکن ہمارے محترم لبرل حضرات کا دائرہ کار انتہائی محدود ہے. ان کی تمام دلیلوں کا حاصل یہی ہوتا ہے کہ مذہب کے منفی کردار کو سامنے لایا جائے(جو کہ بالعموم درست ہوتا ہے) , سوشلزم کی کمزوریوں کو سامنے لایا اور اس کے نتیجے میں موجودہ سرمایہ دارانہ استحصال کو جواز بخشا جائے. بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ جمہوریت اور سیکولرزم کے لئے ہر وقت کڑھنے والوں کے لئے انسانی تکلیف, غربت اور افلاس بے معنی یا فروعی چیزیں ہیں اور ان کے خیال میں ایک سیکولر اور سرمایہ دارانہ جمہوریت پر مبنی ریاست قائم ہوتے ہی تمام مسائل خود بہ خود حل ہونے لگیں گے.

    • 16-04-2016 at 4:50 pm
      Permalink

      بہت شکریہ. میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے لبرل دوست سیاست اور معیشت کے تال میل کو مزید گہرائی سے سمجھیں گے اور اپنے خیالات میں بہتری لائیں گے.

  • 16-04-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    شکریہ محترم وجاہت بھائی.

    ایسٹ انڈیا کمپنی برطانیہ میں ختم ہوگئی تھی لیک ہندوستان ہنوز برطانیہ کے تسلط میں ہی تھا جب بنگال کا قحط واقع ہوا. آپ نے سوویت یونین اور برطانیہ کے معاہدہ کا زکر یہاں کس ضمن میں کیا میں سمجھنے سے قاصر ہوں. وہ تو جرمن سامراج کے خلاف دفاعی معاہدہ تھا. اس میں برطانیہ کو ہندوستان کا استحصال جاری رکھنے کی اجازت تو نہیں دی گئی تھی. غالبا آپ تاثر کو اس جانب منتقل کرنا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے سے ہندوستان کے استحصال میں سوویت یونین کا بھی حصہ بنتا ہے! یہ ایک عجیب تاثر ہے.

    ذیشان ہاشم صاحب نے کمیونزم اور سوویت یونین کے بارے میں جو ہرزہ سرائی بلکہ ایک لحاظ سے طعن و تشنیع فرمائی میں نے تو اس کی حقیقت کو نمایاں کیا ہے. اگر آپ کو احمقانہ اور لغو خیالات اور بیانات احمقانہ اور لغو نہیں لگتے تو میں آئندہ لفظوں کے انتخاب میں احتیاط کروں گا. ادب میں ان لفظوں کا استعمال ناشائستہ تو نہیں سمجھا جاتا.

    سوشلزم میں محنت کش طبقے کی سیاسی جماعت کی آمریت ہوتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے سرمایہ داری نظام میں سرمایہ دار طبقے کی آمریت مختلف سیاسی جماعتوں کی صورت میں ہوتی ہے. معصوم سادے لوگ یی سمجھتے ہیں کہ شاید پارٹی الگ ہے تو نظم بھی الگ ہوگا لیکن یہ مختلف جماعتیں کسی ایک یا دوسرے سرمایہ دار گروہ کی ہی سیاسی نمائندگی کرتی ہیں. فرق یہ ہے کہ سرمایہ داروں کی آمریت جمہوریت میں دھکی چھپی ہوتی ہے اور سوشلزم میں کھلم کھلا اور واضح کیوں کہ ہم کمیونسٹوں کو اس سچائی کو چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں.

  • 16-04-2016 at 7:01 pm
    Permalink

    Liberalism ki is say behtreen class li hi nhi ja skti……. beshak is mein kuch historical facts reasonable and reliable nhi hain….. kam say kam liberal hazrat jis bundyad ko jawaz bana ker mazhabi tabqay say swal kertya hain unko andaza ho gya ho ga k unk foundation mein kon say Ajza e Tarkebi shamil hain….

  • 16-04-2016 at 7:58 pm
    Permalink

    لہجے کا طنز، تحقیر کی حد تک چلا جائے تو مکالمہ یک طرفہ بازگشت بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر یہ دلچسپ ہے کہ لبرل ازم پہ اہلِ عقیدہ کے درجنوں تنقیدی مضامین چھپانے والے مدیر کو اختلافی نوٹ ایک سوشلسٹ لکھاری کے مضمون پہ ہی لکھنا پڑا۔ کیا یہ ‘حادثہ’ اصل ہدف و حریف کی طرف اشارہ نہیں کرتا!

  • 17-04-2016 at 2:03 am
    Permalink

    پ خوش قسمت واقع ہوے کہ آپ کا کالم من وعن شاہع بھی ہوا اور وجاھت صاحب نے اپنے وال پر بھی لگایا۔۔۔☺

  • 17-04-2016 at 2:53 am
    Permalink

    برادر شاداب مرتضٰی:
    ھر ریاست/مملکت دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کا پیمانہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور پرداخت کو رکھتی ھے، لبرل امریکہ یا لبرل برطانیہ نے دوسرے ممالک یا اقوام کیساتھ کیا رویہ رکھا اور انہیں کیسے اپنے مفادات کے حصول کیلۓ استعمال کیا اور ان کا استحصال کیا، آپ کے موضوعِ کلام کیلۓ یہ Premise بنتا نہیں ھے، کسی ریاست کے لبرل ھونے یا نظریاتی ھونے کی بحث کا معاملہ اُس ریاست کے اپنے شہریوں کیساتھ رویے اور ان کے حقوق و مفادات کی نگہداری اور انہیں یکساں طور پر تکریم و مواقع کی فراہمی سے ھے۔
    ریاست کے نظریاتی ھونے یا لبرل ھونے سے اس کے قومی مفادات میں کوئی جوہری فرق نہیں آتا۔۔۔ اصل سوال کا تعلق شہریوں کے حقوق اور فلاح کے امور میں ریاست کی غیر امتیازی دلچسپی اور عملی اقدامات سے ھے۔

  • 17-04-2016 at 3:12 am
    Permalink

    قوموں کے درمیان تعلقات میں اخلاقی اقدار کے پیمانے مختلف ھوتے ہیں۔ بھارت میں ھندو سے یہ توقع رکھنا کہ وہ گاۓ ذبح کرے اور اس کے گوشت کا سالن بنا کر مسلمان ھمساۓ کو پیش کرے، یا پاکستان میں کوئی مسلمان اپنے عیسائی ھمساۓ کو لحمِ خنزیر کے کباب بنا کر اسکی دعوت کرے، غیر حقیقی و مضحکہ خیز تصور ھے۔ امریکہ، برطانیہ یا کسی بھی ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے قومی مفادات کو فراموش کردے اور ھم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کی ٹھیکیداری کرے تو تبھی وہ ملک ھماری نظر میں اچھا ملک ھوگا۔ عدل کا تقاضہ تو یہ ھے کہ ھر وہ ریاست جو اپنے شہریوں کی فلاح اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کو اپنی ترجیحِ اولیں رکھے وہ ایک اچھی ریاست ھے۔
    ایک اچھی ریاست وہ ھے جہاں اگرمجھ سے مختلف مذہب کے پیروکاراکثریت میں بھی ھوں اور میں ایک مسلم پاکستانی اس ریاست میں ایک شہری کے طور پر رہتا ھوں تو مجھے اپنے عقائد، عبادات اور مذہبی رسومات بلکہ اس سے بڑھ کر اپنے تہذیبی و ثقافتی تہوار منانے کی مکمل آزادی ھو۔ جہاں کوئی عیسائی یا ھندو، یہودی یا بدھ مجھے مسلمان کہ کر قتل نہ کردے۔ مجھے یقین ھو کہ مجھے اس ریاست میں دوسرے شہریوں کے برابر سماجی اور قانونی و آئینی حقوق حاصل ہیں اور ریاست کا رویہ میرے ساتھ متعصبانہ نہیں ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب ایسی ریاست کو آپ مقبول سمجھیں یا مردود، آپ کو اختیار ھے۔۔۔ آپ اسے لبرل کہیں یا نظریاتی، آپ کا حسنِ نظر ھے۔۔۔۔۔

  • 17-04-2016 at 2:06 pm
    Permalink

    سید مجیب طاہر صاحب۔ اس کا مطلب ہے لبرل ریاست میں صرف اپنی قوم کے لوگوں کو انسان سمجھا جاتا باقی دنیا کے انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر۔؟؟؟ یہ نظریہ تو ہٹلر کا بھی تھا۔ یہ نظریہ تو میسولینی کا بھی تھا۔ یہ ایک فاشسٹ سوچ ہے۔ اس کا مطلب ہے اگر کچھ لوگ لبرلز کو لبرل فاشٹ کہتے ہیں تو کوئی غلط نہیں کہتے۔

  • 17-04-2016 at 2:54 pm
    Permalink

    میری ناقص رائے میں ہمارے اہل علم و دانش احباب لبرل ازم اور لبرل لوگوں اور قوموں کے اعمال کو گڈمڈ کرتے ہوئے ایک کی آڑ میں دوسرے کو رگیدتے جارہے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح مغرب میں مسلمان انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کی آڑ میں اسلام کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہمیں سمجھنا اور سمجھانا چاہئے کہ لبرل ازم غلط ہے یا لبرل لوگ بلکہ اس سے بھی پہلے لبرل ازم اور سیکولرازم کی تعریف کرکے یہ جاننا چاہئے کہ اصل میں یہ کس بلا کا نام ہے، اس کے حقیقی معنی کیا ہیں۔ پھر کہیں جا کر پتہ چلے گا کہ لبرل اور سیکولر لوگ یا پھر مسلمان انتہاپسند اور دہشت گرد جو کچھ کررہے ہیں کیا وہ ان نظریات کے عین مطابق ہے جس سے وہ خود کو منسوب کرتے ہیں یا پھر وہی بات ہے کہ من چہ می سرائم و طنبورۂ من چہ می سرائد!

  • 17-04-2016 at 11:47 pm
    Permalink

    برادر مجی پاشا۔ آپ بات کو کہیں سے کہیں لے گئے۔ ایک ریاست کی اولین ذمہ داری یہ ھے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے حقوق کی نگہداری اور قومی مفادات کے تحفظ کو اہم ترین ترجیح رکھے، اس سے یہ کہاں لازم آتا ھے کہ ایسی ریاست دوسری ریاستوں کے شہریوں کو جانور سمجھے۔
    تاھم اگر کچھ ریاستوں کے شہری خود کو بکاؤ مال کی طرح غیر ملکی آقاؤں کے مقاصد کی آبیاری کیلۓ پیش کرتے ھوں تو قصور کس کا ھوا؟؟؟؟
    ریاستوں کا دل نہیں ھوتا۔۔۔ ریاستیں جذبات سے نہیں دانش سے رہنمائی لیتی ہیں۔ ھٹلریا مسولینی کے حوالے سے ھماری راۓ کی زیادہ وقعت نہیں ھے، دیکھنے کی بات یہ ھے کہ ان کے اہلِ وطن ان کے بارے میں کیا راۓ رکھتے ہیں۔

  • 18-04-2016 at 1:15 pm
    Permalink

    I am surprised that the EDITOR is furious on words of “Lagu” and “Ahmaqana” used for Liberals where as in this same website which dirty and slang word is not used for Religious people and specially MOLVI in every second write-up..?

Comments are closed.