پیسوں کو خوشی میں کیسے بدلیں!


ہمارے لیے ایسا فلسفہ سمجھنا تھوڑا مشکل ہو گا لیکن مل کے ٹرائے مارتے ہیں، شاید بات پلے پڑ جائے۔ چیزیں خریدنے کے بجائے اگر اپنے پیسوں کو ہم چند اچھے لمحے خریدنے پہ خرچ کریں تو ہمیں نسبتاً زیادہ خوشی ملتی ہے۔ یہ ایک سادہ ترین ڈیفینیشن ہے اس نظرئیے کی جسے اب تھوڑا الجھا کے سمجھا جائے گا۔ دیکھیے قصہ یہ ہے کہ جب بندہ دن رات جان مار کے محنت کرے اور قسمت سے تھوڑے پیسے بچا لے تو انہیں کہاں خرچ کرنا چاہئے، اصل سوال یہ ہے۔ ساٹھ ستر فیصد پڑھنے والے اس وقت یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ لاٹ صاحب کوئی بہت ہی لش پش نوکری کرتے ہیں جو بچائے گئے پیسے اڑانے کی سوچ رہے ہیں۔ کم آن، یہ ہم سب کا رونا بن چکا ہے کہ یار بچت نہیں ہوتی۔ کبھی تو ہوتی ہو گی؟ بس جب بھی تھوڑا بہت بونس، کوئی جگاڑ، کوئی اضافی مال پانی ہاتھ آ جائے تو ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟ ہم اپنی سواری اپ گریڈ کر لیتے ہیں، ہم زمین خریدتے ہیں، ہم تھوڑا بہت زیور بنا لیتے ہیں۔ تھوڑا زیادہ ہو گیا؟ اچھا جو اپنے جیسے ہیں وہ کوئی نئی گھڑی خرید لیں گے، برانڈڈ کوٹ پتلون لے لیا، چار پانچ جوتے موجود ہوتے ہوئے چھٹا جوتا خرید لیا، مزید اچھا موبائل اٹھا لیا، یہ لمبی چوڑی اسی انچ کی ٹی وی سکرین لگا لی۔ دروازہ چھوٹا ہو گیا۔ ٹی وی بڑا ہو گیا۔ بچے خوش ہو گئے۔ بیوی شانت ہو گئی۔ ماں باپ سوچتے رہے کہ بچہ الو کا پٹھا ہو گیا ہے۔

ایک پاگل گورا بیس سال سے لوگوں کے رہن سہن کا جائزہ لے رہا تھا۔ آخر وہ ایک فائنل نتیجے پر پہنچ گیا۔ وہ بھی یہی کہتا ہے کہ اپنے پیسے نئی سے نئی چیزیں خریدنے پہ خرچ نہ کریں بلکہ ان پیسوں سے اچھا وقت گزارنے کا سوچیں۔ سادہ لفظوں میں ڈاکٹر تھامس گلووچ کے مطابق کوئی نئی گاڑی خریدنے سے بہتر ہے کوئی نیا سفر کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو خوشی چیزیں خریدنے سے حاصل ہوتی ہے وہ بہت جلدی اسی طرح غائب بھی ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر وہی پیسے آپ کہیں سیر و تفریح کرنے پہ لگاتے ہیں یا تھیٹر میں کوئی ڈرامہ دیکھنے پہ خرچ کرتے ہیں تو وہ چیز ہمیشہ آپ کی یادوں میں ایک اچھے وقت کی طرح محفوظ رہ جاتی ہے۔ ایک موبائل لینے کی خواہش میں بندہ مر رہا ہوتا ہے‘ اسے خریدنے کے بعد کیا سین ہوتا ہے؟ ایک دو دن اس میں گھس کے سارے فنکشن معلوم کر لیے۔ دبا دب تصویریں کھینچ لیں۔ سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس پہ چالو کر لیے۔ دوستوں میں شو مار لی۔ سوتے ہوئے اسے سینے سے لگا کے سوئے۔ باتھ روم گئے تو کموڈ سے دور واش بیسن پہ رکھا۔ گاڑی میں بیٹھے تو چھپا کے رکھا کہ باہر سے نظر نہ پڑے۔ او کے، ٹھیک ہو گیا، کیا یہ سارے ارمان اور جذبے دس بارہ دن بعد بھی ویسے ہی تازے رہتے ہیں؟ بس پھر وہ موبائل ایک عادت بن جاتا ہے۔ تین چار ماہ بعد آپ کی نظریں کسی دوسرے موبائل پہ گڑ جاتی ہیں، اللہ اللہ خیر سلا۔ اگر وہی پیسے دوستوں کے ساتھ ملا کے کوئی ایک دو دن کا ٹور لگایا جاتا تو کیا خیال ہے، وہ زیادہ سُچل کام نہ ہوتا؟

پھر ملکیت ایک ایسی بھیڑی چیز ہے کہ یہ بندے کو ہر وقت بھگاتی رہتی ہے۔ ایک گاڑی لے لی، وہ سامنے والے کے پاس اس سے اچھی ہے، اب ہم بھی وہی لیں گے۔ مکان بنا لیا، یار یہ تو بچوں کی شادی کے بعد چھوٹا پڑے گا، چلو نیا بناتے ہیں۔ ابے کیا کرو گے بھائی؟ کہاں لے کے جاؤ گے اتنی ملکیتیں؟ اور جب مقابلہ ایسا ہو کہ ختم ہونے کا سین ہی نہ ہو۔ کمپیوٹر کو دیکھ لیں۔ ایک عام کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو ضرورت کیا ہے کہ وہ جدید ترین پروسیسر والا لیپ ٹاپ خریدے؟ فلمیں، گانے، انٹرنیٹ، آفس سوفٹ ویئر، بہت ہوا تو تھوڑا بہت فوٹو شاپ، اس سے زیادہ کیا لینا ہے یار کمپیوٹر سے؟ تو اس سب کے لیے 2008 والے ماڈل بھی قسم سے بہت کافی ہیں۔ پھر لیٹیسٹ کمپیوٹر لینے کا دل کیوں کرتا ہے؟ وہی لت، جس میں ہم گردن تک پھنسے ہوئے ہیں کہ یار ذاتی گیجیٹس ہائی فائی ہونے چاہئیں بھلے بندہ گُل ہو جائے اس چکر میں۔ معاملہ یہ ہے میرے عزیز کہ انسان دو چیزوں سے مل کے بنتا ہے، ایک وہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے اور دوسرے وہ سب کچھ جو اس پہ گزرا ہے یا ایسے کہہ لیجیے کہ جہاں جہاں سے وہ گزرا ہے۔ اچھا وقت، سکون کا وقت، فرصت کا وقت، فراغت کا وقت، بے فکری کا وقت، ‘چِل ماحول تے مٹھے چول‘ قسم کا وقت زندگی میں کتنی بار گزارہ ہو گا آپ نے؟ خبردار، آہ لے کے شادی سے پہلے کی حرکتیں یاد کرنا ضروری نہیں، آپ اپنا جہان پیدا کر، اب بھی ممکن ہے، فرصت کے وقت کو انجوائے کرنے والے تو بنیں یار۔ ترجیحات کوشش کر کے ہی بدلی جا سکتی ہیں، نہیں بدلنی تو بھی ایک بار تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے؟ کتنے سال ہو گئے دفتر سے مسلسل ایک ہفتے کی چھٹی نہیں لی؟ او خدا کا نام مانو یار، جاؤ بابا نکلو ادھر دھوئیں مٹی سے، اور کچھ نہیں تو جنوبی پنجاب والے فورٹ منرو ہو آئیں، لاہور، اسلام آباد، پشاور والے مری سوات گھوم آئیں، کراچی والے… کوئٹہ مشکل ہے تو یار ادھر گورکھ ہل کا چکر لگ سکتا ہے، ابھی نیٹ پہ سب تفصیل مل جائے گی، پانچ سات گھنٹے کا سفر ہے کراچی سے، اللہ خیر تے بیڑے پار۔

بڑی گہری بات ہے، تھوڑی توجہ کیجیے گا (آہا کیا خطیبوں جیسا نرگسی جملہ ہے) کیس یہ ہے کہ ہماری ملکیتی چیزوں میں سے کچھ بھی ہم ساری زندگی اپنے پاس نہیں رکھتے، رکھ بھی لی تو مر کے چھوڑنا ہی پڑتا ہے لیکن اچھی یادیں، اچھے سفر، اچھے تجربے، اچھے لوگ، محبتیں، مہربانیاں یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہمارے اندر رہتے ہوئے ختم ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں ہم سے الگ نہیں ہوتیں۔ کیا غضب کا سودا ہے ایک بار کر لیا تو پھر مجال ہے جو بانٹنے سے بھی کم ہو جائے۔ فقیروں کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ ان کی زندگی میں اصل کمائی کو روپوں میں نہیں ناپا جا سکتا اب چاہے وہ منظر ہوں، چاہے وہ لوگ ہوں، چاہے وہ تجربے ہوں چاہے وہ تھوڑے بہت مختصر سفر ہوں اور چاہے پھر وہ کبھی کبھار کی چھوٹی موٹی بے لوث محبتیں ہی کیوں نہ ہوں۔

ایک اور بڑے مزے کی بات ہے۔ جب آپ اپنے پیسوں سے کوئی پسندیدہ چیز خریدنے جا رہے ہوتے ہیں تو پہلے ایک بے صبری کا سا معاملہ ہوتا ہے لیکن چیز خریدی اور سیٹسفیکشن لیول برابر۔ سارا لطف ختم۔ دوسری طرف اگر آپ کسی ٹور پہ نکل رہے ہوں یا کوئی نئی جگہ دیکھنے جا رہے ہوں تو اس کی ایکسائٹمنٹ عین اس وقت سے شروع ہو جاتی ہے جب آپ پروگرام کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات طے کر رہے ہوتے ہیں، پھر تفریح شروع ہوتی ہے، اس کا اپنا مزا ہے اور فائنلی ٹور ختم ہونے کے بعد بھی اچھی یادیں کبھی اڑ کے دماغ سے فرار نہیں ہوتیں۔ تو کل ملا کے وہ شدائی گورا ڈاکٹر اور یہ تہی دست فقیر اس بات پہ مصر ہیں کہ سچی خوشی چیزوں کے ڈھیر لگانے میں نہیں مل سکتی (عین ویسے ہی جیسے یار لوگ ساری عمر سچا پیار ڈھونڈتے ہیں) بلکہ صحیح والی خوشی یا اطمینان اس وقت نصیب ہوتا ہے جب وقت کمایا جائے، بندے کمائے جائیں، صحبتیں ہوں، محفلیں ہوں، پسند کی جگہوں پہ گھومنا ہو، یار دوست ہوں، رونق میلے ہوں… چاہے وہ شاہ جمال کا میلہ ہی کیوں نہ ہو۔ ویسے اگر آپ تھوڑے بہت بھی فوٹو گرافی کے شوقین ہیں تو لائف ٹائم ایکسپیرئنس ہوتے ہیں یہ عرس یا میلے وغیرہ، ڈو گو دیم آ ٹرائے!

خریداری سے حاصل ہونے والی خوشی کو تو اکنامکس بھی ناپ لیتی ہے، قانون تقلیل افادہ مختتم / لا آف ڈیمینشنگ مارجینل یوٹیلٹیز یہی کام کرتا ہے۔ جس نے اکنامکس پڑھی ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا اس کے لیے سادہ ترین لفظوں میں ساری کہانی یہی ہے جو اوپر سمجھا دی، اتنا جاننے کا ہوکا اچھا نہیں ہوتا یار، اکو الف ترے درکار۔ تو خیر، ناپی جا سکنے والی خوشیاں بہت خرید لیں، کوشش کیجیے زنجیریں توڑیں، انگڑائی لیں، کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ، بس اسی مصرعے کو دیکھتے ہوئے اس خوشی کو حاصل کرنے کی طرف ہاتھ پھیلائیں جسے ساری زندگی آپ نے کبھی خوشی سمجھا ہی نہیں۔ سبحان اللہ لکھ کے شیئر کریں، مولا یونان کا ویزہ لگوائے گا (لیکن پہلے ویزے کے لیے اپلائے کرنا شرط ہے)۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 444 posts and counting.See all posts by husnain