ماروی کی قرارداد اور ملا کی ویٹو پاور !


khizer hayatویسے تو خیر سے ہمارے ہاں اقتدار کا ہما ملٹری اور پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں مٹر گشت کرتا رہتا ہے مگر اس میں ایک اور اہم کردار مولانا حضرات کا بھی آتا ہے- اس کردار کی طاقت کے آگے بھٹو جیسے طاقتور وزیر اعظم نے بھی گھٹنے ٹیکے اور ظلمت کی ضیا نے تو اسے اپنی طاقت کا سرچشمہ بنایا۔ یہ سب طاقتور عناصر کو خوش رکھنے اور مل بانٹ کے کھانے کی ترکیب ہے یا خرابی کی صورت میں الزام ایک دوسرے پر رکھنے کا بہانہ ہے ؟ کوئی نہیں جانتا ….. یا شاید سادہ لوح عوام کو کنفیوز رکھ کے اپنا الو سیدھا رکھنے کی سبیل ہے ؟
اسلامی نظریاتی کونسل کا اصل کام اجتہاد ہونا چاہئیے تاکہ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں تیزی سے بدلتے تقاضوں اور انسانی فلاح کیلئے بنی نئی ایجادات کے استعمال کو قرانی حدود میں رہتے ہوے قابل عمل بنائے۔ مگر اصل میں کونسل ممبران صرف اور صرف ایسی تمام جدتوں کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہیں – اس کی بڑی مثال ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال ہے جو ایک کہ انتہائی اہم فول پروف آلہ ہے۔ قتل اور زنا بالجبر کے بھیانک مجرموں کو پکڑنے کیلئے اور پوری دنیا میں انتہائی کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے – کونسل ممبران صاحبان کو مذہب کا زیادہ پتہ ہو گا مگر جتنا ہمارا علم ہے اس کے مطابق دین اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے جو ہر دور کے لئے ہے۔ قران میں اللہ ہمیں دنیا مسخر کرنے اور علم حاصل کرنے پر بہت زور دیتا ہے – اور بدلتے وقت کے تقاضوں کے ساتھ بدلنے یعنی اجتہاد کرنے کا حکم دیتا ہے
کونسل ممبران کا تازہ کارنامہ محترمہ ماروی کی قومی اسمبلی میں بچیوں کی شادی کیلئے عمر کی حد مقرر کرنے کی قرارداد کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی ا±مور نے کم عمری کی شادی کے خلاف قانون میں ترمیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ کم عمر کی شادیاں روکنے کے قانون میں ترمیم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی رکن پارلیمان ماروی میمن نے جمع کروائی تھی۔ ارکان اسمبلی نے بچیوں کیلئے شادی کیلئے عمرکی حد مقرر کرنے کو نہ صرف خلاف اسلام بلکہ توہین رسالت بھی قرار دے دیا – اس پر محترم قاری حنیف ڈار نے کہا ’ اگر ان حافظ صاحب سے کہا جائے کہ اپنی چھ سالہ پوتی یا نواسی سے ہمیں نکاح کرنے دیجئے تو گولی مارنے کو دوڑیں گے ۔ چھ سال والی حدیث ان کے دل و دماغ میں پھنسی ہوئی ہے۔ آخر یہ کیسی سنت ہے جس پر کوئی عمل کر کے 100 شہیدوں کا اجر لینے کو کیوں تیار نہیں ؟
نظریاتی کونسل کے ارکان نے کیا قرآن میں یہ نہیں پڑھا کہ اللہ نے شادی کیلئے باہمی رضامندی پر خصوصی زور دیا ہے اور کیا ایک نابالغ بچی سے ایسی رضامندی کی توقع کی جا سکتی ہے؟
محترم وزیر اعظم اور ان کی حکومت ملک کو روشن خیالی کے اعلیٰ اصولوں پر چلانے کے دعویدار ہیں۔ ماروی میمن کی قرارداد کے حشر سے ان کے دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے – اب ماروی صاحبہ نے یہ بل اپنی مرضی اور خوشی سے تو نہیں واپس لیا ہو گا اور کوئی خاص احتجاج بھی سامنے نہیں آیا –


Comments

FB Login Required - comments