شقی القلب بینکر کو ایک فیس بک پوسٹ کا نتیجہ کیا بھگتنا پڑا؟


بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم تو ہوتا ہے لیکن اس سے بھی دردناک بات یہ ہے کہ اس ظلم کی مذمت کی بجائے الٹا ظالموں کی حمایت کی جاتی ہے اور مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے قتل عام کی حمایت کرنے والے صرف جاہل شدت پسند ہی نہیں بلکہ بظاہر پڑھے لکھے بھارتی بھی ہیں۔ ایک ایسی ہی شرمناک مثال ایک بڑے بھارتی بینک کا وہ اسسٹنٹ مینجر ہے جس نے گزشتہ دنوں کشمیر میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی مسلمان بچی کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس بدبخت کی سفاکی کا اندازہ کیجئے کہ 8 سالہ بچی پر ہونے والے بھیانک ظلم کی حمایت کرتے ہوئے اسے ذرہ برابر شرم نہیں آئی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق کوتک مہندرا بینک نے اپنی کوچی برانچ میں اسسٹنٹ منیجر کے عہدے پر فائز وشنو نندا کمار نامی اس بے حس شخص کو عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ اس نے کشمیری بچی کے قتل پر اپنی سفاکانہ رائے کا اظہار کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا تھا ”اچھا ہے کہ وہ لڑکی چھوٹی عمر میں ہی قتل کردی گئی ورنہ وہ بھی بڑی ہو کر بھارت میں بم چلاتی۔“ یہ سنگدلانہ الفاظ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کئے گئے جس کے بعد وشنو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بینک سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ اسے ملازمت سے فارغ کیا جائے۔ گزشتہ روز بینک کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ”ہم نے وشنو نندا کمار کو 11 اپریل 2018ءکے دن ہی عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ کسی بھی ملازم کی جانب سے اس قسم کا تبصرہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم ان الفاط کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔“

مقامی میڈیا کے مطابق وشنو کا تعلق ریاست کیرالا کے ایک ایسے خاندان سے ہے جو دہائیوں سے ہندو شدت پسند تنظیموں آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستگی رکھتا ہے۔ شیطان صفت وشنو نے سخت تنقید اور ملازمت سے برطرفی کے بعد اپنا فیس بک اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کردیا ہے اور میڈیا کے بارہا رابطہ کرنے پر بھی کوئی ردعمل نہیں دے رہا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں