تعلیمی نصاب میں تعصب اور دروغ گوئی


Pakistani girls at school in Mingora, Swat valley. Malala Yousafzai has inspired other girlsایک امریکی ادارے کے تعاون سے کئے جانے والے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں تاریخی اغلاط سے پر ہیں اور ان میں دیگر مذاہب اور اقلیتوں کے بارے میں تعصب پھیلایا جاتا ہے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس شعبہ میں اصلاح کی مسلسل کوشش کررہی ہے۔

زیر نظر رپورٹ تین روز قبل جاری کی گئی ہے اور اسے امریکہ کے کمیشن برائے عالمی مذہبی آذادی USCIRF کے مالی تعاون سے پاکستان کی ایک این جی او امن و تعلیم فاؤنڈیشن نے تیار کیا ہے۔ یہ فاؤنڈیشن ملک میں مذہبی برداشت اور بقائے باہمی کے لئے کام کرتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درسی کتابوں میں جو ملک کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم چار کروڑ سے ذیادہ طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہیں، دوسرے مذاہب کی توہین آمیز تصویر پیش کی گئی ہے۔ اور انہیں گھٹیا ، دھوکے باز اور ناقابل اعتبار قرار دیا گیا ہے۔ ہندوؤں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں بھارتی ایجنٹ بتایا گیا ہے حالانکہ مسلمان اور ہندو برصغیر میں صدیوں سے مل جل کررہ ہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق درسی کتابوں میں ہندوؤں کو پاکستان کے دشمن بھارت کا نمائیندہ اور عیسائیوں کو برطانوی نوآبادیاتی سماج کا ساتھی قرار دیتے ہوئے معاشرے سے الگ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس قسم کا مواد پڑھانے سے بچوں میں تعصب اور دوسرے عقائد اور اقلیتوں کے بارے میں شبہات اور نفرت پیدا ہونا لازم ہے۔ ان کتابوں میں مسلمانوں کی بڑائی کا ذکر کرتے ہوئے ، اقلیتی مذاہب اور لوگوں کے بارے میں منفی تاثر عام کیا گیاہے۔ درسی کتب میں پاکستان کے لئے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خدمات یا ان کے بارے میں کوئی مثبت تعارف کروانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر جلیل عباس جیلانی نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نصابی کتابوں کی اصلاح کے لئے مسلسل کام کرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رپورٹ میں بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ 2011 کی رپورٹ میں جن کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی تھی ، اب ان خامیوں کو دور کردیا گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کے لئے مسلسل کام کیا جارہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں 2011 کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اس رپورٹ کی روشنی میں کچھ اصلاح کی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اغلاط اور تعصب سے پر نیا مواد کتابوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کتابوں میں تاریخ کا گمراہ کن تصور سامنے لایا جاتا ہے۔ تاریخی واقعات بیان کرتے ہوئے غلط حوالے دئے جاتے ہیں اور متبادل نقطہ نظر پیش نہیں کیا جاتا۔

رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس طرح ملک میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور اقلیتوں کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ 1) نصابی کتابوں میں واضح طور سے بتایا جائے کی ملک کا آئین سب باشندوں کو مکمل مذہبی آذادی فراہم کرتا ہے ۔ 2) خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کی بجائے مثبت حب الوطنی کو بڑھانے کا درس دیا جائے۔ 3)پر امن بقائے باہمی اور مذہبی تنوع کا سبق عام کیا جائے۔ 4) کتابوں کو تاریخی اغلاط اور غلط حوالوں سے پاک کیا جائے۔

اگرچہ اس رپورٹ میں پاکستان کی تعلیمی صورت حال کے حوالے سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جو اس ملک کے اہل علم کے نوٹس میں نہیں ہے۔ لیکن ملک میں صورت حال کی اصلاح کے لئے کوئی تحریک دیکھنے میں نہیں آتی۔ عام طور سے یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ درسی کتابوں کو علم عام کرنے کی بجائے سٹیٹ پالیسی کے فروغ کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ اسی طریقہ کار کی وجہ سے ملک میں جہالت ، کم علمی، تعصب اور دوسروں کے بارے میں نفرت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسکول جب بچوں کو غلط تاریخ اور اقلیتوں کے بارے میں متعصبانہ معلومات فراہم کرتے ہیں تو بعض عناصر کے لئے ان بچوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنا مشکل نہیں رہتا۔

جو کام امریکی ادارے کے تعاون سے سامنے آیا ہے، اسے آگے بڑھانے اور قومی سطح پر اس کے بارے میں مذاکرہ کرنے اور تعلیمی نصاب کو خالص علم کا نمایندہ بنانے کے لئے فوری طور پر مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کے مقاصد پورے ہو سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali