ترقی یافتہ ممالک کے مردوں میں سپرمز کی تعداد 50 فیصد کم کیوں ہو چکی ہے؟


ہم ترقی یافتہ ممالک کو رشک کی نگاہوں سے تو دیکھتے ہیں لیکن اب ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ان ممالک کے متعلق ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ پسماندہ ممالک کے مرد اپنی پسماندگی پر نازاں ہوں گے۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی نتائج میں یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”گزشتہ 40سال میں امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک کے مردوں میں سپرمز کی تعداد 50فیصد کم ہو گئی ہے ۔ سپرمز میں کمی کی یہ رفتار اب بھی اسی شرح سے جاری ہے اور کچھ ہی عرصے میں ان ممالک میں مردوں کے بانجھ ہونے کی شرح انتہائی خطرناک حد کو چھونے لگے گی۔“

رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے مردوں کے سپرمز کم ہونے کی وجوہات بعض مخصوص کیمیکلز، زرعی سپرے، سگریٹ نوشی، ڈپریشن اور موٹاپے کو قرار دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی دیگر کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کے تعین کے لیے مزید تحقیق کرنی لازمی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ہیگی لیوین کا کہنا تھا کہ ”یہ تحقیق ترقی یافتہ ممالک کے حکام اور صحت کے محکموں کے لیے ایک وارننگ ہے۔ انہیں فوری طور پر مردوں کے سپرمز کی تعداد میں کمی کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کرنی چاہئیں اور اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔“

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں