مجھے جان کی امان، عزت اور آزادی چاہیے


میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھے زندگی کی ضمانت، عزت نفس کی حفاظت اور آزادی چاہیے۔ اور کس کس کو چاہیے ہے؟ یقیناً ہر شخص کو۔ یہ جو تم لوگوں نے بے یقینی، نا امیدی اور خوف کی وجہ سے نیچے دیکھنا شروع کر دیا ہے میں اس کیفیت سے واقف ہوں۔ میں بھی اسی صورت حال میں مبتلا رہا ہوں۔ لیکن اس کے علاوہ چارہ نہ تھا کہ میں اس سے نکل آتا۔ اب میں اس کیفیت سے نکل آیا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ زندگی کی ضمانت، عزت نفس کی حفاظت اور آزادی میرا بنیادی حق ہے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ میرے قبیل کے لوگ ان حقوق سے محروم ہیں اور شاید ناواقف بھی ہیں۔ یہی ناواقفیت آپ سب مایوس کر دیتی ہے اور ہم سب اپنے آپ کو کمزور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں اب کمزور نہیں ہوں۔ کیونکہ میں نے اپنا حق لینے کی ٹھان لی ہے۔

میں نے سب سے اپنے حق کی درخواست کی ہے، مطالبہ کیا ہے اور اس پر زور دیا ہے۔ میں نے اپنے حقوق کے مطالبے کے اظہار کا آغاز ان سے کیا جو میز کی دوسری جانب بیٹھے ہیں۔ یعنی میرے حقوق ان کی ذمہ داری ہیں۔ لیکن وہ اپنی ذمہ داری نبھا نہیں پائے ہیں۔ اس بات کا انہیں بھی علم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھا نہیں پائے ہیں۔ ان میں پھر کچھ وہ ہیں جو اپنا فرض نبھا نہ سکنے کی ذمہ داری لیتے ہیں لیکن زیادہ تر وہ ہیں جو اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اس کوتاہی کی ذمہ داری ان دیکھے فرضی دشمنوں پر ڈالتے ہیں۔ ان کی اس ناسمجھی کا نقصان یہ ہے کہ ہم صحیح سمت میں پہلا قدم نہیں اٹھا پا رہے۔ اگر ہمیں اپنے کردار کی کسی خامی کا ادراک ہو گا اور اس کا اقرار کریں گے تو اس کی درستگی کی طرف قدم اٹھے گا۔

میں ان کی جانب بھی جانا چاہتا ہوں جو میری صورت حال سے صرف اس لیے واقف نہیں ہیں کیونکہ ان کی جان، عزت اور آزادی میری نسبت تھوڑی سی زیادہ محفوظ ہے۔ تو وہ سمجھتے ہیں کہ میں جو محفوظ نہیں ہوں تو یہ میرا اپنا کیا دھرا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں امن کا مخالف ہوں۔ میں تو مارنے اور مرنے کے لیے ہی بنا ہوں۔ مجھے کیا لگے امن سے۔ میرے باپ دادا کو تو افغانستان کی جنگ بہت موافق تھی۔ جنگ اور دشمنی ہی تو میرا کلچر ہے۔ آج سے چالیس سال قبل (انیس صد اسی کی دہائی میں) مجاہدین (موجودہ طالبان کی ابتدائی شکل) کی مہمان نوازی ڈکٹیٹر ضیا الحق نے ہماری مرضی کے عین مطابق ہمارے ذمے ڈالی تھی۔ جیسے مجھے اپنی زمین پر ساری دنیا سے مذہبی جنونی اکٹھے کرنے اور انہیں قتل عام برپا کرنے کی تربیت دینے کا شوق تھا اور مرد مومن مرد حق تو صرف میری مدد کر رہا تھا۔ میں اپنے ان ہم وطنوں کو یہ بتا رہا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں تھا۔ ہم اس ساری صورت حال کے بارے میں اس وقت بھی بالکل ایسے ہی جیسے آج ہیں۔

کچھ شاید میری بات سمجھ نہ پائیں۔ لیکن اس میں معاملہ کسی بد نیتی کا نہیں ہے۔ بلکہ صورت حال کا فرق ہے۔ میرے کتنے ہم وطن ہیں جنہوں نے میرا گاؤں علاقہ یا میرا ضلع دیکھا ہی ہے۔ اس لیے میں ان سے ناراض نہیں ہوں گا لیکن میں ان کے کہنے سے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ وہ جب میری بات سمجھ پائیں گے تو میرا ساتھ بھی دیں گے۔ اب بھی جو سمجھتا ہے میرا ساتھ دے رہا ہے۔

یہ تو بہرحال مجھے علم ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔ جان، عزت اور آزادی کا تحفظ سبھی کا متاثر ہوا ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے ہماری سر زمین کو جو امن حاصل تھا وہ آج نہیں ہے۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اس کے پیچھے کوئی وجہ ہے۔ وہ وجہ صرف بیرونی نہیں ہے۔ اس بد امنی اور تنزلی کے پیچھے کچھ بہت بڑی غلط پالیسیاں اور غلط فیصلے ہیں۔ وہ پالیسیاں اور غلط فیصلے ہم سب لوگوں کے خلاف گئے ہیں۔ کچھ زیادہ متاثر ہوئے اور کچھ کم، لیکن متاثر سبھی ہوئے۔ اس صورت حال کو ٹھیک کرنا اور حکمرانوں کو اس بات کا احساس دلانا بھی ہم سب کا فرض ہے۔ ہم نے یہ فرض نبھانا ہے۔

اس مہم میں جیت میری ہے۔ کیونکہ پر امن جدوجہد میرا ہتھیار ہے۔ امن کبھی ہارتا نہیں ہے۔ شکست جنگ ہی کو ہے، امن کو نہیں۔ جنگ جتنی لمبی چلے، امن کی ضرورت اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔ امن کے پیغام میں اتنی کشش ہے کہ سارے ملک سے لوگ اس میں شامل ہو رہ ہیں۔ امن کہ جدوجہد کے راستے کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ یہی جدوجہد ہی پاکستان کی قسمت کو بدلے گی۔ پر امن جدوجہد کے خلاف کوئی بونی دلیل چلے گی نہیں۔ وہ دن دور نہیں جب ہم سارے پاکستانی برابر کے شہری ہوں گے۔ ہر طرف امن ہو گا، سرحدوں کے اندر اور باہر ہر جانب امن ہو گا۔ تشدد، جنگ اور نفرت کی بات کرنے والے شرمندہ ہوں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 159 posts and counting.See all posts by salim-malik