شام پر مزید میزائل حملوں سے افراتفری پیدا ہو گی: پوتن


امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے جانب سے شام پر حملے کے حوالے سے روس نے کہا ہے کہ شام پر مزید میزائل حملوں سے بین الاقوامی تعلقات میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی سے فون پر گفتگو کے دوران کہی۔

ایران اور روس کے صدور کا یہ بھی ماننا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام پر میزائل حملے سے شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

شام پر حملے کے بارے میں مزید پڑھیے

شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہیں: صدر ٹرمپ

ٹوماہاک میزائل: کتنے ہدف تک پہنچے، کتنے تباہ کیے گئے؟

امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ

خیال رہے کہ سنیچر کی رات امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس نے شام کے علاقے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں تین مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر کیے جانے والے اس حملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘گذشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کی۔ اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔’

نکی ہیلی

Getty Images

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک اپنی افواج شام سے نہیں نکالے گا جب تک اس کے مقاصد پورے نہیں ہو جاتے۔

نکی ہیلی نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے تین امریکی مقاصد بتائے جن میں ایک اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکی مفاد کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

ان کے مطابق امریکہ کا دوسرا مقصد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینا اور تیسرا مقصد یہ ہے کہ شام اس کے لیے ایک ایسی اچھی جگہ ہے جہاں سے وہ ایران پر نظر رکھ سکتا ہے۔

شام

BBC

نکی ہیلی نے کہا کہ ’امریکی فوجیوں کو واپس بلانا ہمارا مقصد ہے لیکن ہم تب تک شام نہیں چھوڑیں گے جب تک ہم ان چیزوں کو مکمل نہیں کر لیتے۔‘

اس سے قبل اتوار ہی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے ‘پوری طرح تیار ہے’۔

ادھر شامی صدر بشار الاسد نے روسی ماہرین قانون کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مغربی ممالک کی جانے سے میزائل حملہ جارحیت تھی۔

صدر بشار الاسد کے دفتر نے ان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’شام کے خلاف سہ ملکی جارحیت کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3286 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp