برائے مہربانی طبیعات کے طالب علموں کو کچھ نہ کھلائیں


کسی نئے شہر جاکر جب میں بچوں سے پوچھتا ہوں کہ یہاں کیا دیکھنا چاہتے ہو تو بیٹا کہتا ہے، لائبریری؛ بیٹی کہتی ہے، یونیورسٹی۔ اس ویک اینڈ پر ہم نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی دیکھی۔

صبح سویرے ہم کار میں لد کر جارج ٹاؤن پہنچ گئے لیکن دریائے پوٹومیک پار کرتے ہی رش دیکھ کر پریشانی ہوئی۔ ایسا لگا کہ سردی جاتے ہی لوگوں نے گرم نرم سب کپڑے اتار پھینکے اور ناچتے گاتے باہر نکل آئے۔ سیاحوں کا ایک ہجوم تھا جو جارج ٹاؤن کی گلیوں اور سڑکوں پر رواں دواں تھا۔ چمکیلی دھوپ میں جگہ جگہ چمکتے دمکتے بدن نظر آئے۔

اس علاقے میں پارکنگ مشکل سے ملتی ہے۔ کہیں پندرہ ڈالر فی گھنٹا پارکنگ فیس ہے اور کہیں بیس ڈالر۔ میں کار گھما کر سیدھا یونیورسٹی کے صدر دروازے پر لے گیا۔ وہ سڑک او اسٹریٹ کہلاتی ہے۔ اتفاق سے کچھ جگہ خالی تھی۔ وہاں سرکاری نرخ پر پارکنگ مل گئی۔ فقط ڈھائی ڈالر۔

مجھے پیرس کا ڈزنی لینڈ یاد آیا۔ وہاں ایک گوشے میں امریکی قصبے کا ماحول بنایا گیا ہے۔ پرانے گھر، اینٹوں سے بنی دو ڈھائی منزلہ عمارتیں، صاف ستھری چھوٹی سڑکیں اور ہریالی۔ جارج ٹاؤن جاکر لگا کہ ایک بار پھر وہیں پہنچ گیا ہوں۔

یہ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کا سب سے پرانا علاقہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکا نے واشنگٹن اسلام آباد کی طرح باقاعدہ منصوبے کے تحت بسایا تھا۔ ریاست میری لینڈ نے جو زمین دارالحکومت کے لیے دی، اس میں جارج ٹاؤن پہلے سے آباد تھا۔

پوٹومیک کے کنارے واشنگٹن شہر کا قیام 1791 میں عمل میں آیا۔ جارج ٹاؤن کالج اس سے دو سال پہلے بن چکا تھا۔ یہی کالج بعد میں یونیورسٹی میں تبدیل ہوا۔ سوا دو سو سال کی تاریخ رکھنے کے باوجود یہ یونیورسٹی امریکا کی دس پرانی جامعات میں شامل نہیں۔

ہماری کراچی یونیورسٹی بارہ سو ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن بہت سی زمین استعمال میں نہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا رقبہ سو ایکڑ ہے لیکن چہ چپہ کام میں لایا گیا ہے۔ بہت سی عمارتیں ہیں۔ ہاسٹلز ہیں، لائبریریاں ہیں، کھیل کے میدان ہیں، مارکیٹ ہے، کئی اسپتال ہیں، تھانہ ہے، گرجا ہے، پورا شہر سمجھیں۔

صدر دروازے کے سامنے تاریخی ہیلی ہال ہے۔ وہیں بشپ جان کیرل کا مجسمہ نصب ہے۔ بشپ صاحب اس یونیورسٹی کے بانی تھے۔ واشنگٹن میں آپ کسی باغ، کسی عمارت، کسی مقام پر چلے جائیں، اسے بنانے والے کا مجسمہ یا تصویر موجود ہوگی۔ نہیں تو نام کی تختی ضرور ملے گی۔

ہر یونیورسٹی اپنے طالب علموں کی شناخت ہوتی ہے۔ طالب علم اچھا ہو تو یونیورسٹی کی پہچان بن جاتا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے آٹھ طالب علم مختلف ملکوں کے سربراہ بن چکے ہیں۔ ان میں امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن، اسپین کی موجودہ بادشاہ فلپ ششم، اردن کے شاہ عبداللہ اور لبنان کے وزیراعظم سعد حریری بھی شامل ہیں۔

ہیلی ہال کے سوا ہمیں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں کسی جگہ کا نام پہلے سے معلوم نہیں تھا۔ چنانچہ طے پایا کہ ادھر ادھر آوارہ گردی کرتے ہیں۔ جس سڑک، جس گلی میں نکلے، رنگ برنگے پھولوں کا قطعہ دکھائی دیا۔ کہیں سرخ، کہیں کاسنی اور کہیں زرد گل مسکرا رہے تھے۔ چیری بلوسوم کا وقت گزر چکا۔ اس کے پھول پھیکے پڑگئے ہیں۔ لیکن ٹیولپ خوب بہار دکھارہے تھے۔

ایک جگہ لڑکوں بالوں کو ریت پر والی بال کھیلتے دیکھا۔ ایک جگہ سائیکل اسٹینڈ تھا۔ ایک سے زیادہ مقامات پر کتب خانے نظر آئے۔ کم از کم تین میں نے دیکھے۔ این میری بیکرافٹ ہال سے بھی گزر ہوا جو یونیورسٹی کیمپس میں سب سے پرانی عمارت ہے۔ اسے 1792 میں تعمیر کیا گیا تھا۔

ایک کھڑکی پر عجیب تحریر دکھائی دی جسے دیکھ کر ہم ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے۔ لکھا تھا، برائے مہربانی طبیعات کے طالب علموں کو کچھ نہ کھلائیں۔ یہ ”پلیز ڈو نوٹ فیڈ دا زومبنیز‘‘ کا ایڈیٹڈ ورژن تھا۔ گویا فزکس کے طلبہ کو زومبیز کہہ کر ان کی بھد اڑائی گئی تھی۔ جانے طبیعات والے کس طبیعت کے لوگ ہوں گے اور انھوں نے کیا جواب دیا ہوگا۔

کچھ دیر گھوم پھر کے سوچا کہ یونیورسٹی سے کوئی یادگار لے جانی چاہیے۔ پھول توڑنا اچھا نہیں لگا۔ تصویریں کھینچنے سے ہمارا دل نہیں بھرتا۔ چنانچہ بک شاپ ڈھونڈی۔ بڑی سی عمارت، پہلی منزل پر پارکنگ، دوسری پر کپڑوں جوتوں اور سووینئرز کی دکان، کتابیں تیسری منزل پر سجی دیکھیں۔ درسی کتابیں کم تھیں، فکشن، تاریخ، فلسفہ اور مذہب زیادہ۔ یاد رہے کہ یہ یونیورسٹی رومن کیتھولک پادری نے قائم کی تھی اور اس کی یہ شناخت برقرار ہے۔ لیکن مذہب کی دشمن کتابیں مذہب کی دوست کتابوں سے زیادہ دھری تھیں۔

ہم چاروں نے اپنی پسند کا کچھ نہ کچھ خریدا اور سو ڈالر کا نذرانہ پیش کرکے گھر کی راہ لی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 102 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi