رات، چاندنی، چوہا اور چور


Barkat Shah Kakarکسی زمانے میں چوری چکاری رات کا شغل ہوا کرتا تھا، پگڑی باندھے، منہ ڈھانپے، کمر باندھے،کاندھے پر موٹی رسی لٹکائے اور نقب لگانے والے اوزار کو تھامے کسی بھی شخص کو با آسانی چور قرار دیا جا سکتا تھا۔ بندہ اگر چور نہ بھی ہوتا لکڑہارا ہوتا، تب بھی ارباب ذوق کی تفریح طبع کیلئے عارضی طور پر خود کو چور گردان لیتا۔ جب گاؤں کا چوہدری، ملک یا ٹھکری ان کی نیازمندی (الٹی سواری) کے لئے گدھا اور ڈھیر سارا کلنک طلب کرتا وہ بتیسی دکھا کر اپنا تعارف کرا لیا کرتے، کہ جناب! میں تو لکڑہارا ٹھہرا پرلے گاؤں کا۔ بستی کے تمام مرد اور بچے دانت پیستے رہ جاتے۔

اوپر سے سیانے نقب اور نقاب کے بیچ جھولی دامن کا ساتھ بتاتے ہیں۔ اور تو اور آنجہانی بلونت سنگھ نے بھی رات، چور اور چاند کے عنوان سے ایک ناول لکھ ڈالا ہے جس میں بقول ہمارے ایک نقاد دوست کے چاند کا صیغہ مروت میں یا کسی دوست کی فرامائش پر بھرتی کیا گیا ہے۔ دراصل اس میں قصہ رات اور چور کے گرد گھومتا ہے۔ حق مغفرت کرے ہمارے مشرقی قصبہ کا بدنام زمانہ علی بابا اور چالیس چوروں والا معاملہ بھی رات کو ہی وقوع پذیر ہوتا ہے، بھلا ہو اس عقل مند کنیز کا جس کا نام مرجینا بتایا جاتا ہے، جو محض تیل گرم کروا کر چالیس چوروں کا صفایا کرتی ہے۔ کلیم عاجز نے مرجینا کے اسی متعدی فعل سے مرعوب ہوکرشعر کہہ ڈالا ہوگا۔

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بہرحال رات اور چور کے اس جدلیاتی رشتے کا ذکر ہمیں نصابی کتب میں بھی جا بجا ملتا ہے جس میں نقاب پوشِ، نقب لگانے والا ڈاکو ایک بہادر لڑکے کی دیدہ دلیری کی وجہ سے رنگے ہاتوں پکڑا جاتا ہے۔ بہادر اور چوکنے لڑکے کی اس خوبی کا اصل محرک اس کا بوائے سکاؤٹ ہونا بتایا جاتا ہے۔

ویسے ہماری روایت کا اس پر اجماع ہے کہ چور شکل اور حلیے سے ہی پہچانا جا سکتا ہے۔ قانون، جج، وکیل، فوجداری و دیوانی دفعات، استغاثہ، گواہان وغیرہ سارے چونچلے ہیں۔ یہ گواہی کیا کم ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہوتا ہے۔ گوکہ ننھے سے تنکے نے کئی برس تک درباروں، چوراہوں اور مجالس کے بیچوں بیچ کئی چوروں کی پگڑیاں اچھالیں- آخر کار چور بھی سیانے بنے، انہوں نے یکایک داڑھیاں منڈوانی شروع کردی اور بات یہاں تک پہنچی کہ مونچھوں کو بھی خیرباد کہ دیا ۔ برس ہا برس گزرےِ، لیکن روایت کی بانجھ کوکھ سے ایسا محاورہ جنم نہ لے سکا جو ان چوروں کی نشاندہی اور سماجی سرزنش میں معاون ثابت ہو جنہوں نے داڑھیاں منڈوا لیں ہو۔

بچپن سے لڑکپن تک ہم اسی مخمصے کے شکار رہے کہ چوری ایک ایسا عمل ہے جس میں فاعل یا فاعلین (چور) محض محل وقوع کی تبدیلی کر کے ایک خاص عمل کا تکرار کرتے ہیں، جسے اردو میں چوری کہا جاتا ہے۔ چور اور ڈاکو میں ہیت کے اعتبار سے کیا فرق ہے اسے ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ البتہ اتنا جانتا ہوں کہ قزاق ڈاکوؤں کا ایک اچھوتا قبیل ہے جو رات، نقاب، نقب وغیرہ کے روایتی قیود و رسوم سے سرگشتہ ہوتا ہے۔ خشکی ٖپر پائے جانے والے جن بے نقاب ڈاکوؤں کا ذکر استاد نور محمد ترکئی کے پشتو ناولوں میں ملتا ہے وہ ہو بہو شعلے فلم کا خاکہ کھینچتے ہیں۔ اگر چوری اور ڈکیتی کے بعد ڈاکوؤں کو نماز پڑھتے دکھایا جاتا تو فلم کے ڈائریکٹر رامیش سپی پر آسانی سے ہاتھ ڈالا جا سکتا تھا کہ وہ کہانی کی پلاٹ سمیت چوری کا مرتکب ہوا ہے- ہال ہی میں راجن پور میں چھوٹو نامی شخص نے جو کھلبلی مچا رکھی ہے اس سے بارہا دل کو تسلی ہو جاتی ہے کہ سو پچاس برس پہلے جن ناپید سورما ڈاکوؤں کا ذکر ہمارے مہا بیانیے میں ہوتا تھا اب بھی ہمارے ارد گرد پوری جاہ و جلال میں وجود رکھتے ہیں۔ چھوٹو گینگ اور پاناما لیکس کا ایک ساتھ وارد ہونا ایک ایسا حادثہ ہے جس نے بارہا مابعد جدید عصر کے بڑوں اور روایت کے چھوٹوؤں کے درمیان طبقاتی فرق کا تعین کیا ہے۔

جدیدیت اور عالمگیریت نے جہاں محسوس و غیر محسوس انداز میں لوگوں کا کرتا پاجاما چھینا وہاں دولت اور سرمائے کی چوری چکاری کو ایسے لطیف پیرائے میں قانونی جواز فراہم کیا ہے کہ بندہ لاکھ سعی کرے لیکن کرپشن کے اس آہنی غبارے کو بلاسٹ کرنے سے قاصر رہتا ہے- سرمائے کا دریا کس اصول اور قانون کا پابند ہوتا ہے، اس کے رخ کا تعین کون سے عوامل کرتے ہیں اور عموماََ باہر کی جانب کیسے سرک جاتا ہے بقول فیض احمد کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ البتہ یہ پتہ چلانے کے لئے ہمیں ایان علی جیسے کرداروں کا برس ہا برس انتظار کرنا پڑتا ہے اور انتظار اتنا ہی طویل ہوتا ہے جتنا کہ خاک کے پردے سے انسان کو نکلنا ہوتا ہے۔ بہر حال خاندانوں اور افراد کی دولت اور رعونت کے چھڑتے دریا میں ویسے بھی اضافے کا رجحان رہتا ہے جس میں وکی لیکس اور پاناما لیکس کی صورت میں کھبی کھبار ایک عارضی سی تغیانی بھی واقع ہوجاتی ہے۔

لوگوں کے ڈوبے دل احتساب اور انصاف کے بوسیدہ الفاظ کی بازگشت سنتے ہیں۔ کالے دھن کے الزامات لگتے ہیں، لوٹی گئی رقوم کا ذکر ہوتا ہے، مکافات کے قانون کی رٹ دائر ہوتے دکھائی دیتی ہے، کمیشنیں بنتی ہیں اور پھر آخر کار نتیجہ نکلتا ہے کہ خرقہ پوش ملزم اورنگزیب عالمگیر کی سنت پر عمل پیرا رہتے ہوئے ٹوپیاں بنا کر بیچنے سے پیٹ کے تندور کو گرم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس جب منقولہ جائیداد ہی نہیں تو ٹیکس کی ادائیگی چہ معنی دارد۔ سرمائے کی منتقلی کا دریا پھر سے معمول پر آجاتا ہے۔

 عوام دیکھ رہے ہوتے  ہیں کہ چند لوگ دن کی روشنی اور رات کی چاندنی و تاریکی میں روز افزوں پھیل پھول رہے ہوتے ہیں۔ غریب اور محکوم کڑھتے رہتے ہیںِ۔ ان کا عمل اور ردعمل نفرت اور محبت کے دو متحارب پاٹوں بیچ پیستا رہتا ہے، سادہ لوحی اور تقدیر پرستی کا آسیب انہیں آن لیتا ہے اور وہ اب رات کی تاریکی میں اپنے گلی کوچوں میں کسی نو وارد چور کے انتظار میں کڑھتے رہتے ہیں، اگر چور ہاتھ نہ آئے تو چوہے پر بھی اکتفا کر لیتے ہیں، جو بہرحال چوری چکاری کیلئے مشہور چوپایہ ہے۔


Comments

FB Login Required - comments