میں، ساحر اور آگرہ کے دو مینار


آدھی سوئی آدھی جاگتی چاندنی کے مزے لے رہی تھی کہ یک دم وہ آگئے اور چپکے سے ماتھے پر بوسا دے کر بولے”اے میری محبوب اب تو ہم یقینا کسی اور جگہ ہی ملا کریں گے“ میں نے پہلو بدلا اور انہیں کھینچ کر اپنے دائیں جانب بٹھا لیا۔ دیر تک وہ مجھے پیار سے دیکھتے رہے۔ میں اس کیف و مستی میں سرشار انہیں بولنے اور گیت سنانے کا عندیہ دیتی مسکراہٹ لئے آنکھیں میچے پڑی رہی۔

محبت کے لازوال گیت رات کی خاموشی میں مجھ پر سحر طاری کر رہے تھے۔ میں بے خود ہو رہی تھی اس بے خودی میں جانے کتنی گھڑیاں یا گھنٹے گزرے، کچھ احوال معلوم نہیں۔ مگر ہاں اُس کے چہرے کی خوشی اور آواز کی کھنک یاد ہے جو اس سے پہلے نہ تو کسی نے دیکھی، نہ سنی تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ آج اُس کی ایک بہت بڑی تکلیف دور ہو گئی تھی۔ اُس کی اس دلی مسرت میں میرا شامل ہونا گویا ایک زمانے کے خواب کا پورا ہونا تھا۔ جو ہم دونوں دیکھتے دیکھتے بوڑھے ہو گئے تھے۔ اتنے میں الارم کی بے ہنگم آواز سے میں بیدار ہو گئی اور میرا شاعر میری نیم واآنکھوں کے سرخ ڈ ُوروں میں قید ہو کر پہلو سے اٹھ کر پھر ذہن کے نہاں خانوں میں چھپ گیا۔

ہاں میرا شاعر، میرا ساحر، ہم دونوں میں گہری محبت ہے۔ امریتا، ساحر کے ساتھ میری محبت تم سے کہیں زیادہ طاقتور ہے ہاں میں جب چاہوں اپنے محبوب کو اپنے سامنے بٹھا لوں۔ دونوں بس ایک دوسرے کی محبت کا دم بھرتے یونہی راتیں گزار لیتے ہیں۔ ہم دونوں کی محبت کا محرک ایک بادشاہ کے کمال فن پرستی کا نمونہ تاج محل ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھ سے کہیں اور ملو۔ امریتا! بھی کہتی ہوں کہ مجھے بھی نہیں ملنا تم سے وہاں جہاں محبت کی دوئی دفن ہے۔

وہ کہتا ہے کہ وہ جگہ دولت کا مظہر ہے میں بھی کہتی ہوں کہہ ہاں شہنشاہوں نے محبت کی ہی کب تھی۔ وہ کہتا ہے اس پرشکوہ عمارت کی بنیادوں میں کئی محبت کرنے والے دلوں کے مالک اپنی محبوباﺅں سے جدا سو رہے ہیں۔ میں بھی یہ کہتی ہوں کہ ہم حسرت زدہ سو ہی کب پاتے ہیں۔ اگر زندگی تھکا دے تو محبوب کی بانہوں کے سوا آرام کہاں۔

میرے محبوب ساحر آج رات تم بہت خوش تھے تمہارے گیتوں کا ترنم مجھے ایک ایسی سرسبز لہلہاتی وادی میں لے گیا جہاں محبت تو تھی مگر کوئی نشانی نہ تھی محبت کی۔ میں نے تمہارے سنگ بہت خوبصورت وقت بتایا۔ کیونکہ کل تم رنجیدہ نہیں تھے۔ میں جانتی ہوں ایسا کیوں تھا۔ جھوٹی محبت کے نام پر کھڑے کئی ستونوں میں سے دو ستون گر گئے ہیں نا۔ میرے شاعر اب نہ صرف میں اس تاج محل کے جھوٹ سے شاکی ہوں۔ بلکہ ڈر بھی رہی ہوں کہ یہ عمارت کسی بھی وقت زمین بوس ہو کر کئی دوسرے محبت کرنے والوں کو بھی نگل نہ جائے۔ وہ محبت کرنے والے جو محبت میں دوئی کو مانتے ہی نہیں پھر بھی تاج محل کو مرکز ِ محبت سمجھتے ہیں۔ مگر یقین رکھوجھوٹے مظہرِ الفت دیر تک قائم نہیں رہ سکتے۔ شائد اس عمارت کی شکستگی پیار کرنے والوں کو سکھا دے کہ صرف فنا ہی محبت کی نشانی ہے۔

آج ایک بار پھر ایک اور جہانِ محبت کی طرف دل کھنچ رہا ہے۔ تم سا نہ تھا پر تم سے ملتا تھا۔ ”کبیر“۔ آج وہ دوست پرانا بھی یاد آرہا ہے کہتا تھا

”پریت نہ کریو پنچھی جیسی

جو جل سوکھے اُڑ جاوے

پریت کیجیو مچھلی جیسی

جو جل سوکھے مر جاوے!

کل پکا وعدہ میں تمہیں بانہوں میں بھر لوں گی مگر گیتوں میں اداسی نہ لانا اب۔

تمہیں میری بے نشاں محبت کی قسم، جو زمان اور مکان سے آزاد ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں