سیکولر حضرات کے دس معروف مغالطے


\"saadi\"

چند عرصہ قبل جو بحث وطن عزیز کے صرف انگریزی اخبارات اور مخصوص طبقے تک محدود تھی، کہ ملک کی ’اسلامی شناخت‘ کو کسی طرح سے ’سیکولر شناخت‘ میں تبدیل کیا جائے۔ آج وہی فکر اور وہی نعرہ عوامی سطح پر منتقل ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت تو یہ بحث گھر گھر پہنچ گئی ہے۔ اس بحث میں سیکولرز حضرات کی جانب سے اگرچہ مغالطوں کا ایک انبار لگ چکا ہے، لیکن بار بار دہرائے جانے والے چند معروف مغالطے ملاحظہ ہوں :

۔1۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلم دنیا میں سیاست، ریاست اور حکومت کے مباحث زوروں پر تھے، اس کی کھوکھ سے مسلم سیاسی فکر میں کئی نئے مکتبہ فکر وجود میں آئے، برصغیر میں خاص طور پر مولانا مودودی نے اسلام کے سیاسی نظام کو ایک مربوط ضابطہ کی شکل میں پیش کیا، جس کی مخالفت و حمایت میں ایک مکتبہ تیار ہوچکا ہے۔ سیکولرز حضرات جب اسلامی سیاسی نظام کی بحث کرتے ہیں تو عمومی طور پر مودودی صاحب کے نئے ضابطہ کو اسلام کی ’کل سیاسی فکر‘ سمجھ کر اس کی خامیوں، نقائص اور اس پر رد و کد سے سیکولر ازم کا ’مقدمہ‘ ثابت کرتے ہیں، جو نہایت ہی مغالطہ انگیز اسلوب ہے۔ سیکولر ازم کی بحث میں مسلم سیاسی افکار میں سے ایک فکر پر تنقید یا اس کے نقائص کی نشاندہی سے سیکولر ازم کا اثبات بالکل ایسا ہے کہ حنفی فقہ پر تنقید سے ’الحاد‘ ثابت کیا جائے۔ اس لیے خوب سمجھنا چاہیے مودودی صاحب کی سیاسی فکر بے شمار مسلم سیاسی مفکرین میں سے ایک مفکر کی تعبیر ہے، اسے ’اسلامی سیاسی فکر‘ کے مترادف سمجھنا پہلا مغالطہ ہے۔

۔2۔ ’خارجی سیاسی فکر‘ کو ’اسلامی سیاسی فکر‘ سمجھنا دوسرا مغالطہ ہے، سیکولرز حضرات اپنا مقدمہ لڑتے ہوئے ایک کنفیوژن یہ بھی پیدا کرتے ہیں کہ مسلم دنیا میں حالیہ اٹھتے خارجیت زدہ فکر کے نقائص سے سیکولر ازم کا جواز ثابت کرتے ہیں، حالانکہ اس فکر کو خود مسلم دنیا کے چوٹی کے فقہاء و مفکرین رد کر چکے ہیں۔ خارجی سیاسی اسکول کوئی نیا مکتب فکر نہیں ہے۔ یہ دور صحابہ میں ہی وجود میں آگیا تھا پھر وقتا فوقتا مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا۔ مین سٹریم اسلامی مکاتب اسے صدیوں سے رد کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  دیوار چین آؤٹ، دیوار امریکہ ان

۔3۔ ’تھیوکریسی‘ اور ’اسلامی سیاسی فکر‘ کو مترادف سمجھنا تیسرا مغالطہ ہے۔ مذہبی پاپائیت کے نقائص، خامیوں اور اس کے ہولناک نتائج سے سیکولر ازم کا مقدمہ ثابت کرنا مبنی بر مغالطہ ہے۔ اسلام کی ٹھیٹھ سیاسی فکر اور مذہبی پاپائیت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا کہ خود سیکولر ازم اور اسلام میں ہے۔

۔4۔ مسلم سیاسی فقہ میں ذمی اور جزیہ کے تصور کو ’دوسرے درجے کی شہریت‘ کے مترادف سمجھنا چوتھا مغالطہ ہے۔ پہلے درجے کا شہری، دوسرے درجے کا شہری وغیرہ جیسی اصطلاحات کو ٹھیٹھ اسلامی سیاسی اصطلاحات کے قالب میں ڈھالنا مسلم سیاسی فقہ کی بنیادوں سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔

۔5۔ سیکولر ازم کو ’عدم محض‘ سمجھنا پانچواں مغالطہ ہے،سیکولر ازم خود ایک مذہب، ایک فکر اور ایک ضابطہ ہے، لہٰذا اس کا مقدمہ لڑتے ہوئے اسے محض ’عدم مذہبیت‘ کے روپ میں پیش کرنا مغالطہ انگیزی ہے، اس دنیا میں عدم محض کا وجود نہیں ہے۔ مذہب اگر ایک فکر، رویہ، شناخت اور ایک نظام ہے تو سیکولر ازم بھی ایک متعین اقداری فکر کا نام ہے۔ سیکولز حضرات اپنے آپ کو ’فری تھنکر‘ کے روپ میں پیش کرتے ہیں جو یا تو سیکولر ازم سے ناواقفیت پر مبنی ہے یا خلط مبحث کا شاخسانہ ہے۔

۔6۔ اسلام اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا چھٹا مغالطہ ہے۔ بات واضح اور دو ٹوک ہے کہ ریاست میں اسلام کے عمل دخل کا قائل نہ ہونا خواہ کسی بھی شکل کسی بھی صورت میں ہو سیکولر ازم ہے۔ دور صحابہ سے لے کر آج تک جتنے بھی مسلم سیاسی مکتبہ فکر وجود میں آئے ہیں، غامدی صاحب کے بیانیے سمیت کسی میں بھی سیکولر ازم کا نظریہ نہیں سما سکتا۔ اس لیے بھٹو صاحب کی طرح ’اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے‘ کا مغالطہ دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

اسی بارے میں: ۔  برطانیہ جیسا حوصلہ درکار ہے

۔7۔ مسلم سیاسی فقہ کے بعض مسائل کی جدید جمہوری ریاستوں میں تطبیقی مشکلات سے ’اسلامی ریاست‘ کے عدم امکان کا نتیجہ نکالنا ساتواں مغالطہ ہے۔ جدید دور میں ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام اتنا ہی ممکن الوقوع ہے جتنا کہ قرون اولیٰ میں تھا۔ اسلامی سیاسی فقہ کے اصول و کلیات اور مسائل و جزئیات میں اسلام کے تمام شعبوں میں سے سب سے زیادہ لچک ہے۔

۔8۔ مذہبی شخصیات، ادارے اور جماعتوں کے طرز عمل اور طریقہ کار میں نقائص سے اسلامی ریاست کی خامیوں پر استدلال آٹھواں مغالطہ ہے۔ مذہبی شخصیات کو اسلام کے ترازو میں تولا جائے گا۔ اسلام کو مذہبی شخصیات کے طرز میں تولنا مبنی بر مغالطہ ہے۔

۔9۔ خلافت کے ادارے کے ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت سے ’اسلامی ریاست‘ کی ناکامی پر استدلال نواں مغالطہ ہے۔ عالمگیر خلافت اسلامی ریاست کی ایک گزشتہ شکل تھی۔ ضروری نہیں کہ آج کے دور میں بھی اسلامی ریاست اسی شکل میں ہی قائم ہو بلکہ ریاست کا اسلامی بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے چاہے اس کی شکل جو بھی ہو اور اس کا جو بھی نام رکھا جائے۔

۔10۔ اسلامی سیاسی فقہ کے اٹل اور منصوص احکام، کلیات اور قواعد کلیہ کو جزئی مسائل، عارضی احکام، عرف پر مبنی فیصلے اور فقہاء کے مستنبط اجتہادی مسائل کے ساتھ خلط کرنا دسواں مغالطہ ہے۔ اسلامی ریاست کے نقائص، خامیوں یا اس کی کمزوریوں پر اگر بحث کرنی ہے تو ان اٹل اصولوں اور کلیات پر بحث کرنی چاہیے جو اسلامی ریاست کے بنیادی ستون ہیں۔ انہی اصولوں و کلیات کا تقابل سیکولر ریاست کے ساتھ تقابل کرنا چاہیے نا کہ اس ریاست کی جزئی تفصیلات، عارضی و عرفی مسائل اور فقہاء کے حالات و زمانے کے مطابق مستنبط کردہ اجتہادی مسائل کے ساتھ تقابل ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سمیع اللہ سعدی کی دیگر تحریریں
سمیع اللہ سعدی کی دیگر تحریریں

28 thoughts on “سیکولر حضرات کے دس معروف مغالطے

  • 16-04-2016 at 6:39 pm
    Permalink

    گویا نہ تھیوکریسی کا عمومی تصور، نہ مولانا مودودی کی فکر اور نہ اسلام کے ابتدائی خلفا کا طرز حکومت حقیقی اسلام کے عکاس ہیں تو پھر یہ ہے کیا کچھ اس طرف بھی اشارہ کیجیے اور ہاں تصحیح فرما لیجیے سیکیولرازم کسی بھی اعتبار سے” مذہب” نہیں ہے

  • 16-04-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    سعدی صاحب “گویا یہ بھی میرے دل میں ہے ” ۔ بہت عمدہ لکھاہے ۔ بندہ اب تک ان مغالطوں کی جمع وترتیب کررہا تھا کہ آپ نے ایک دم سب کچھ صاف کردیا ۔ اچھی کاوش ہے اس حوالے سے مزید لکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایک مغالطے پر تفصیلی کلام کیا جانا چاہیے ۔

  • 16-04-2016 at 8:04 pm
    Permalink

    ” جدید دور میں ایک مکمل اسلامی ریاست کا قیام اتنا ہی ممکن الوقوع ہے جتنا کہ قرون اولیٰ میں تھا۔” درست فرمایا آپ نے۔ کاش یہ بھی بتاتے کہ ان قرون اولیٰ کہ کس ریاست کی مثال آپ کے ذہن میں تھی یا ہے۔ کیا وہ ریاست تو نہیں جسکے تین خلفاٴ یکے بعد دیگرے قتل کئے گئے تھے اور جسکے قیام کے سلسلے میں بےشمار صحابا نے خانہ جنگی کی تھی؟

  • 16-04-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    سیکولرزم ہی ایک بہتر نظام زندگی ہے۔ تھیو کریسی سے تو نہایت بہتر۔ اس نظام میں‌ کسی بھی ملک کے تمام شہری برابر کے انسانوں‌ کی زندگی گذار سکتے ہیں‌ جس میں‌ مذہب کی بنیاد پر ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر فوقیت نہ دی جائے اور اس کی بنیاد پر تعصب نہ کیا جائے۔ سیکولرزم کے راستے میں‌ رکاوٹ ڈالنے کے بجائے تعلیم یافتہ طبقے کو عوام میں‌ شعور بڑھانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • 16-04-2016 at 9:27 pm
    Permalink

    مضون نگار کی اس کاوش کو نہ سراھنا کے انھوں نے نمبر وار پواینٹ بنا کر اپنی اعتراضات پڑھنے والوں تک پہنچا دیے زیادتی ھوگی
    باقی رہی صحت خیال اور میرٹس آف دا آرگومنٹ پر جواب، تو وہ اب اہل علم صاحبان سے توقع یے کہ وہ بھی اسی طرح نقطہ وار جوابی مضمون سے ہم قارئین کو سیکھنے کا موقع دیں گے

  • 16-04-2016 at 10:17 pm
    Permalink

    بجا فرما ڈاکڑ صاحبہ،،، اسلامسٹس کی تصور ریاست و سیاست کی جڑ میں جو سوچ کار فرما ہے اس کے مطابق ’دنیا میں دو ہی سٹیزن شپ (citizenship) ایک میں سارے مسلمان اور دوسری میں سارے غیر مسلم ، کچھ اسلامسٹس کھل کا اس کا اظہار کردیتے ہیں جیسے کہ مودودی صاحب اور سید قطب وغیرہ اور باقی جو کھل کر نہیں کہتے ان کی سیاسی سوچ اور تصور ریاست کو تھوڑا سا کریدیں تو اندر سے یہی ’دو قومی‘ نظریہ برآمد ہو گا

  • 16-04-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    پہلے تین خلفا کی خلافت کے قیام کے سلسلے میں کون سے خانہ جنگہ ہوئی تھی۔ کیا آپ اپنے اس اعتراض کا تاریخ سے حوالہ پیش کر سکتے ہیں۔ نیز چوتھے خلیفہ کے ساتھ جو خانہ جنگی پیش آئی تھی کیا وہ خلافت کے قیام کے لیے تھی؟ یہ دعوی بھی دلیل طلب ہے۔

  • 17-04-2016 at 4:40 am
    Permalink

    برادر سمیع۔ آپ نے دس مغالطے اہلِ علم و فضل اور ھم جیسے کم علم قارئین سے شیئر فرماۓ ۔ شکریہ تاھم شکوہ یہ ھے کہ آپ نے کئی نئے مغالطے تشکیل دیدۓ ہیں۔ ذرا راہنمائی فرمایۓ اور سیکولر حضرات کے حقیقی معنوں میں دانت کھٹے کر دیجیۓ : (پیراگراف کے مطابق نمبردۓ جا رھے ہیں)
    1۔ “سیکولر ازم کی بحث میں مسلم سیاسی افکار میں سے ایک فکر پر تنقید یا اس کے نقائص کی نشاندہی”۔۔۔۔ “اس لیے خوب سمجھنا چاہیے مودودی صاحب کی سیاسی فکر بے شمار مسلم سیاسی مفکرین میں سے ایک مفکر کی تعبیر ہے، اسے ’اسلامی سیاسی فکر‘ کے مترادف سمجھنا پہلا مغالطہ ہے۔” ۔ مسلم سیاسی فکر سے آپ کی کیا مراد ھے اور ھم اس کے بارے میں کہاں سے جان سکتے ہیں؟؟ یا وہ کون سا مسلم مفکر ھے جسکی پیشکردہ تعبیر کو آپ مسلم سیاسی فکر کہہ رھے ہیں؟؟
    2۔ “خارجی سیاسی فکر‘ کو ’اسلامی سیاسی فکر‘ سمجھنا دوسرا مغالطہ ہے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “مین سٹریم اسلامی مکاتب اسے صدیوں سے رد کر چکے ہیں۔” فرمایۓ گا کہ مین سٹریم اسلامی مکاتب نے کون سی اسلامی سیاسی فکرکو متفقہ طور پرقبولیت سے سرفراز کیا ھے؟؟؟
    3- “تھیوکریسی‘ اور ’اسلامی سیاسی فکر‘ کو مترادف سمجھنا تیسرا مغالطہ ہے”۔۔۔۔”اسلام کی ٹھیٹھ سیاسی فکر اور مذہبی پاپائیت میں اتنا ہی بعد ہے جتنا کہ خود سیکولر ازم اور اسلام میں ہے۔”۔ یہ کون سی ٹیٹھ سیاسی اسلامی فکر ھے جس کی جانب آپ اشارہ فرما رھے ہیں؟؟
    4- “مسلم سیاسی فقہ میں ذمی اور جزیہ کے تصور کو ’دوسرے درجے کی شہریت‘ کے مترادف سمجھنا چوتھا مغالطہ ہے” ۔ ان “ٹھیٹھ اسلامی سیاسی اصطلاحات” سے بھی سیکولر حضرات کو آگاہ فرمایۓ جن سے انہیں علم ھوجاۓ کی اسلامی ریاست میں ذمی اور جزیہ کا اصل تصور ویسا نہیں جو وہ سمجھتے ہیں بلکہ وہ ھے جو آپ سمجھ رھے ہیں۔ کسی کے تصور کو غلط کہہ دینا کافی نہیں ھوتا، درست تصور کی نشاندہی بھی ضروری ھے۔ تاکہ آپ کا فریقِ مخالف “اُس تصور” کے حوالے سے اپنے دلائل سامنے لاۓ اور غیر جانبدار قارئین کو استفادے کا موقعہ میسر آۓ۔
    5۔ “سیکولر ازم کو ’عدم محض‘ سمجھنا پانچواں مغالطہ ہے،سیکولر ازم خود ایک مذہب، ایک فکر اور ایک ضابطہ ہے”۔ یہ سیکولرازم اگرایک مذہب ھے تو اس کا ایک خدا بھی ھوگا جس کی یہ سیکولر حضرات بندگی/ پرستش کرتے ھوں گے۔ از راہِ کرم اس بارے میں آگاہ فرمایئے تاکہ ھماری راہنمائی ھو۔۔۔۔۔ مزید یہ کہ “عدم محض” یا “لا نفرق بین احد (البقرہ 285) کہنے سے کیا کوئی نیا مذہب تخلیق ھو جاتا ھے؟؟ ذرا یہ بھی فرمایئے کہ رحمِ مادر میں کس مذہب کا نظام کار فرما ھوتا ھے جو کسی مذہبی تفریق کو در خور اعتناء نہیں گردانتا اور کسی اقلیتی یا اکثریتی گروہ کی طرفداری نہیں کرتا۔ اسلامی یا کسی بھی اچھی ریاست کا یہی حقیقی تصور ھونا چاہیئے (احقر کی راۓ ھے، جانے آپ متفق ھوں یا نہ ھوں)
    6- ” اسلام اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا چھٹا مغالطہ ہے”۔ آپ نے اسلام اور سیکولر ازم کو مد مقابل گردانا ھے، یہ آپ کا مغالطہ ھے۔ اگر آپ یہ فرمائیں کہ مذہب اور سیکولر ازم کے اجتماع کو ممکن سمجھنا۔۔۔ تو بات قدرے واضح اور دوسرے مذاہب کو بھی محیط ھو جاۓ گی، اور تب آپ کی نگاہ اس امر پر بھی آئیگی کہ بھارت میں مسلم علماء کی ایک تعداد سیکولرازم کی حمایت کرتی ھے۔ اس بارے میں آپ کی کیا راۓ ھے؟؟
    7- “مسلم سیاسی فقہ کے بعض مسائل کی جدید جمہوری ریاستوں میں تطبیقی مشکلات سے ’اسلامی ریاست‘ کے عدم امکان کا نتیجہ نکالنا ساتواں مغالطہ ہے۔ ” ھم کم علم قارئین کی تفہیم کیلۓ ارشاد فرمایئے گا کہ مسلم سیاسی فقہ کے وہ کون سے بعض مسائل ہیں جن کو جدید جمہوری ریاستوں میں “تطبیقی مشکلات” کا سامنا ھے؟؟؟ اور وہ کون سی جدید جمہوری ریاستیں ہیں؟؟
    8۔ “مذہبی شخصیات، ادارے اور جماعتوں کے طرز عمل اور طریقہ کار میں نقائص سے اسلامی ریاست کی خامیوں پر استدلال آٹھواں مغالطہ ہے” آپ کا یہ آٹھواں مغالطہ تو عجب حیرانیاں اپنے جلو میں لئے ھوۓ ہے۔ حضور، اگر مذہبی شخصیات، اداروں اور جماعتوں کے طرزِ عمل اور طریقۂ کار کے حسن و قبح، خصائص یا نقائص پر نقد و جرح نہیں ھوگی تو کسی بھی نظریاتی یا مذہبی ریاست کی کارکردگی (کامیابی یا ناکامی کے تخمینے) جانچنے کے پیمانے کیا ھوں گے؟؟؟؟؟
    9۔ “خلافت کے ادارے کے ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت سے ’اسلامی ریاست‘ کی ناکامی پر استدلال نواں مغالطہ ہے” آپ نے درست فرمایا۔ تاہم نشاندہی فرمایئے گا کہ “ریاست کا اسلامی بنیادی اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے چاہے اس کی شکل جو بھی ہو اور اس کا جو بھی نام رکھا جائے۔” سے آپ کی کیا مراد ھے؟؟؟
    10۔ اسلامی سیاسی فقہ کے اٹل اور منصوص احکام، کلیات اور قواعد کلیہ کو جزئی مسائل، عارضی احکام، عرف پر مبنی فیصلے اور فقہاء کے مستنبط اجتہادی مسائل کے ساتھ خلط کرنا دسواں مغالطہ ہے”۔ اسلامی سیاسی فقہ کے “ان اٹل اصولوں اور کلیات” کی جانب بھی راہنمائی کیجیئے ۔۔۔۔ بہت بہت شکریہ۔۔۔
    محترم بخت محمد برشوری نے بجا فرمایا ھے کہ “اس حوالے سے مزید لکھنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ایک مغالطے پر تفصیلی کلام کیا جانا چاہیے ۔” ۔ امید ھے کہ آپ گہر ھاۓ علم سے فیضیاب فرمائیں گے۔

  • 17-04-2016 at 4:56 am
    Permalink

    سیدمجیب طاھر صاحب
    آپ نے بہت اچھی نقطہ وار تنقیح و تنقید کی یے، راقم کا مشورہ ھے کے آپ اسے مدیر صاحب کو بطور جوابی مضمون چھپنے کے لیے بھیج دیں تا کہ زیادہ لوگ مستفید ھو سکیں اور مکالمہ آگے بڑھے

    شکریہ

  • 17-04-2016 at 12:32 pm
    Permalink

    کسی بھی نظریہ کی عملی شکل ہی اس کی ترجمان ہوتی ہے بقیہ سب توجیہات ہیں –

  • 17-04-2016 at 2:02 pm
    Permalink

    رفتم بمسجدے کہ ببینم جمالِ دوست
    دستش بہ رخ کشید و دُعا را بہانہ ساخت

  • 17-04-2016 at 3:39 pm
    Permalink

    محترم سعدی صاحب نے شاید ایک بسیط مضمون کو چند سطروں میں سمیٹنا چاہا لہذا مضمون مغالطوں کے تجزیے کے بجاے بلند بانگ دعاوی کی فہرست بن کر رہ گیا. استاذی سید علی عباس جلالپوری کی طرز پر ہر “مغالطے” پر الگ مضمون باندھتے تو ہر دعوی کے پیچھے کارفرما فکر کا اندازہ ہوتا اور پھر ہم بھی کچھ معروضات پیش کرتے. امید ہے محترم مصنف اس تشنگی کو رفع فرمائیں گے جو ان کے اجمال و تعجیل کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے ورنہ ہم محترم وجاہت مسعود کے درج کردہ شعر سے اگلا بیت پڑھنے پر مجبور ہوں گے کہ:

    زاہد نداشت تاب جمال پری رخاں
    کنجے گرفت و یاد خدا را بہانہ ساخت

  • 17-04-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    محترم س: نوازش، آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر: وجاہت مسعود صاحب کی صوابدید پر ھے کہ وہ جو بھی مناسب سمجھیں۔۔۔ اس مضمون پر مزید تنقید کی بہت گنجائش موجود ھے تاھم “کمنٹس” کا دامن اس کا متحمل نہیں ھو سکتا۔
    جناب راؤ شفیق احمد: آپ نے درست فرمایا کہ “کسی بھی نظریہ کی عملی شکل ہی اس کی ترجمان ہوتی ہے بقیہ سب توجیہات ہیں –” نبی کرم ﷺ کے عہدِ زریں سے خلافتِ فاروقی کا تابناک دور تک اسلامی حکومت (اسلامی ریاست نہیں) کے عملی اقدامات اسلامی سیاسی فکر کی مؤثر نظریاتی بنیاد فراھم کرتے ہیں اور ان کے طرزِ حکومت کے گہرے تجزیے سے اسلام کو بطورِ دین سمجھنے میں بہت مدد ملتی ھے۔
    صاحبِ مضمون کی جانب سے مغالطوں کی نشاندہی کی گئی ھے لیکن مکالمے کیلۓ کوئی میدان واضح نہیں کیا گیا، صاحبِ مضمون نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کے نزدیک درست سیاسی فکر، یا نظام حکومت کیا ھے تاکہ مباحثہ آگے بڑھ سکتا۔۔ نفی کے ساتھ اثبات بھی ضروری ھوتا ھے۔۔۔ صرف “لا الٰہ” کہ دینے سے کلمۂ حقیقی کی تفہیم ناممکن ھے، “الااللہ” کہنا بہت لازم ھے بلکہ مکمل بات سمجھانے کیلۓ ” محمد الرسول اللہ” بتانا بھی ناگزیر ھے۔

  • 17-04-2016 at 4:41 pm
    Permalink

    نظریہ و مذہب کا تعلق اس “ھاتھ “سے ھوسکتا ھے جو “پانی سے بھرا پیالہ “کسی پیاسے کو پیش کرتا ھے۔ “پانی اور پیالے کا کوئی نظریہ اور کوئی مذہب نہیں ھوتا۔” (پہلی بات)
    لیکن۔۔۔۔۔ اگر پانی اور پیالے کا “دین” “کسی عظیم ہستی” نے اسلام قرار دیا ھو اور وہ پانی کا پیالہ ھر پیاسے کو بلا تفریق رنگ، نسل، لسان و مذہب میسر ھو (جیسے سورج کی روشنی اور بارش وغیرہ) تو پھر” اسلام” کوئی ایسی اصطلاح ھے جسے وسیع معانی و مفہوم کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ھے۔ (دوسری بات)
    تیسری بات کی گنجائش بھی موجود ھے، دوستو

  • 17-04-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    1۔’’مودودی صاحب کی سیاسی فکر بے شمار مسلم سیاسی مفکرین میں سے ایک مفکر کی تعبیر ہے، اسے ’اسلامی سیاسی فکر‘ کے مترادف سمجھنا پہلا مغالطہ ہے‘‘ سوال یہ ہے کہ مودودی صاحب کی سیاسی فکر اگرچہ کُلّی طور پر نہ سہی تو کیا جزوی طور پر بھی اسلامی ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ بے شمار مسلم سیاسی مفکرین کی آراء مل کر ایک مکمل اسلامی سیاسی فکر کی تشکیل کرتی ہیں یا پھرچوں چوں کا مربّہ بن جاتی ہیں؟
    2۔ خارجی سیاسی فکر کو مسلم دنیا کے چوٹی کے فقہاء و مفکرین اور مین سٹریم (جسے بآسانی جمہور بھی لکھا جاسکتا تھا) اسلامی مکاتب فکر کا صدیوں سے رد کیا جانا کیا اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ غیر اسلامی ہے کیونکہ آپ نکتہ 8 میں فرماتے ہیں کہ ’’مذہبی شخصیات کو اسلام کے ترازو میں تولا جائے گا۔ اسلام کو مذہبی شخصیات کے طرز میں تولنا مبنی بر مغالطہ ہے‘‘ تو پھر خارجی مکتبہ فکر کو جو آج کل اباضی فکر کی شکل میں اومان وغیرہ میں موجود ہے اور جسے اردن کے دارالحکومت عمان میں 2004 میں منعقدہ ایک کانفرنس میں تقریبًا تمام مسلمان فرقوں کے علماء نے اسلامی فکر تسلیم کیا، وہ آپ کے بیان کردہ چوٹی کے فقہاء و مفکرین کے مطابق کیسے غیر اسلامی ہے اور اگر ہے بھی تو ان کی رائے کی آپ کے نکتہ 8 کے پیش نظر کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
    3۔ نکتہ 3 میں اسی غلطی کو دہرایا جارہا ہے جس کی نشاندہی میں ایک اور مراسلہ میں کرچکا ہوں کہ نظام کو چلانے والوں کی غلطیوں اور نقائص کے باعث نظام کو مطعون نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام ایک مرکزمائل نظام کو پیش کرتا ہے جو ایٹم سے لے کر نظام شمسی بلکہ بڑی بڑی کہکشاؤں تک میں پایا جاتا ہے۔ اس نظام چلانے والے اگر بہترین لوگ ہوں تو وہ خلافت راشدہ بن جاتا ہے اور اسی نظام کو بدترین لوگ چلائیں تو وہ پاپائیت کہلاتی ہے۔ دوسری غلطی سیکولرازم اور اسلام میں بُعد بتانا ہے جس کا باعث سیکولرازم کی تعریف و ماہیت سے ناواقفی ہے۔
    4۔بدقسمتی سے پچھلی صدیوں کے فقہاء کے ساتھ ساتھ جدید دور کے عالم دین بشمول آنجہانی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بھی غیر مسلموں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دیتے ہیں۔ گویا ’’ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا‘‘
    5۔ یہ نکتہ بالکل درست ہے اور میں اس کی مکمل تائید کرتا ہوں کیونکہ قرآن میں ہے ’’ولکل وجھۃٍ ھو مولیھا‘‘ ہر ایک کا اپنا اپنا مطمع نظر ہوتا ہے جس کی طرف وہ پھرتا ہے (2:148)اس لحاظ سے صرف سیکولرازم ہی نہیں بلکہ دہریت بھی ایک مذہب ہے۔ذھب کا مطلب ہوتا ہے جانا اور ذاھب کہتے ہیں جانے والے کو۔ اس طرح مذہب کا مطلب ہوگا وہ راستہ جس پر کوئی چلتا ہے۔ اس کے لئے خدا کو ماننا یا نہ ماننا ضروری نہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے لئے کوئی بھی راستہ اپنائے چاہے وہ الہامی ہو یا انسانی دماغ کی پیداوار وہ مذہب ہی کہلائے گا۔
    6۔میثاق مدینہ پڑھ کر دیکھ لیں معلوم ہوجائے گا کہ ریاست کا شہریوں کے مذہب میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ریاست مدینہ ایک سیکولر ریاست تھی۔ بات وہی ہے کہ سیکولرازم کا مطلب جانے بغیر یا اسے اپنا مطلب پہنا کرپاکستان میں اسے مطعون کیا جاتا ہے جبکہ بھارت کے مسلمانوں کی زندگی کی ضمانت ہی سیکولرازم ہے گویا ’’تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی۔۔۔وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی‘‘۔ بھٹو صاحب کے نعرہ کا جواز فراہم نہیں کررہا لیکن اس انداز کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں ’’الشریعۃ اقوالی و الحقیقۃ احوالی والمعرفۃ راس المالی والعقل اصل دینی والحب اساسی و الشوق مرکبی والخوف رفیقی والعلم سلاحی والحلم صاحبی والتوکل زادی والقناعۃ کنزی والفقر فخری‘‘
    7۔ اس نکتہ سے اختلاف کی بظاہر کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔
    8۔ اس نکتہ کے بارے میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ یا یہ درست ہے یا نکتہ نمبر دو میں علماء کی آراء کو بنیاد بنا کر خارجی فکر کو غیر اسلامی قرار دینا۔
    9۔ یہ بات تو درست ہے کہ ریاست کا اسلامی بنیادی اصولوں پر قائم ہونا ضروری ہے چاہے اس کی شکل جو بھی ہو اور اس کا جو بھی نام رکھا جائے۔لیکن کوئی بھی ریاست اسلامی نہیں ہوتی کیونکہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دین و مذہب انسانوں اور اشخاص کے لئے ہوتا ہے۔ ریاست انسان یا شخص یا بالفاظ دیگر مکلّف نہیں ہوتی۔ مکلّف اسے چلانے والے ہوتے ہیں جو چاہیں تو اسے خلافت راشدہ بنادیں چاہے تو پاپائیت۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر حکومت خلافت نہیں ہوتی۔ خلیفہ کا مطلب جانشین ہوتا ہے اور خلافت جانشینی کو کہتے ہیں۔ خلیفہ اپنے پیشرو کے وضع کردہ نظام کو لے کر آگے چلتا ہے جبکہ ایک حکمران اپنی پالیسیوں کو نافذ کرتا ہے۔یہ ایک وضاحت طلب بات ہے اسے بعد میں کسی وقت ایک مفصل مضمون میں واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
    10۔ یہ نکتہ بھی بالکل درست ہے سوائے’’اسلامی ریاست‘‘ کی غلط اصطلاح کے استعمال کے۔

  • 17-04-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    سید مئجیب طاہر سے گزارش ہے کہ اپنے فیس بک پروفائل سے آگاہ فرمائیں
    یا ای میل ایڈریس دے دیں

  • 17-04-2016 at 7:20 pm
    Permalink

    میری مراد ریاست کے قیام سے ہے۔ رسول پاک کے وصال سے امام حسین کی شہادت تک جتنی جنگیں ہوئیں انہیں خانہ جنگی ہی کہا جائےگا۔ نصاریٰ اور یہود کی سازش تو نہیں کہا جا سکتا۔ رہی بات امریکا کی سیاسی تاریخ میں قتل کی بات تو میری رائے میں اسلام کی سیاسی تاریخ اور امریکا کی سیاسی تاریخ کے مضمرات مختلف نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ سیاست، ریاست، حکمرانی، استحصال، نظریاتی آمریت اور بہت کچھ کلمہ پڑھنے یا نہ پڑھنے سے اپنی غایت میں بدل نہیں جاتے۔

  • 18-04-2016 at 2:41 am
    Permalink

    عجیب بات فرمائی موصوف نے عقل حیران ہے شاید صاحب تحریر مجدد دوراں کے درجے پر فائز ہیں اگر یہی بات حلقہ غامدی کی جانب سے آتی تو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہاں اتنی بات ضرور سمجھ آتی ہے کہ شاید یہ مدافعت جمہوریت کی ناکام کوشش ہے سید مودودی رح کو اسی کوشش میں ” خلافت و ملوکیت ” لکھنا پڑی اور اب حلقہ دیوبند کی جانب سے ایسی آوازیں اٹھنا انتہائی قابل افسوس امر ہے ..

    کیا خوب فرمایا تھا مولانا یوسف لدھیانوی شہید رح نے

    بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کرلیتے ہیں کہ بڑے بڑے عقلاء اس قبولیتِ عامہ کے آگے سر ڈال دیتے ہیں، وہ یا تو ان غلطیوں کا ادراک ہی نہیں کرپاتے یا اگر ان کو غلطی کا احساس ہو بھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔ دُنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں ان کے بارے میں اہلِ عقل اسی المیے کا شکار ہیں۔ مثلاً “بت پرستی” کو لیجئے! خدائے وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر خود تراشیدہ پتھروں اور مورتیوں کے آگے سر بسجود ہونا کس قدر غلط اور باطل ہے، انسانیت کی اس سے بڑھ کر توہین و تذلیل کیا ہوگی کہ انسان کو – جو اَشرف المخلوقات ہے- بے جان مورتیوں کے سامنے سرنگوں کردیا جائے اور اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ حق تعالیٰ شانہ کے ساتھ مخلوق کو شریکِ عبادت کیا جائے۔ لیکن مشرک برادری کے عقلاء کو دیکھو کہ وہ خود تراشیدہ پتھروں، درختوں، جانوروں وغیرہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تمام تر عقل و دانش کے باوجود ان کا ضمیر اس کے خلاف احتجاج نہیں کرتا اور نہ وہ اس میں کوئی قباحت محسوس کرتے ہیں۔

    اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج “جمہوریت” میں چل رہا ہے، جمہوریت دورِ جدید کا وہ “صنمِ اکبر” ہے جس کی پرستش اوّل اوّل دانایانِ مغرب نے شروع کی، چونکہ وہ آسمانی ہدایت سے محروم تھے اس لئے ان کی عقلِ نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیا اور پھر اس کو مثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ پوری دُنیا میں اس کا غلغلہ بلند ہوا یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِ مغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کردی۔ کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ “اسلام جمہوریت کا عَلم بردار ہے” اور کبھی “اسلامی جمہوریت” کی اصطلاح وضع کی گئی، حالانکہ مغرب “جمہوریت” کے جس بت کا پجاری ہے اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے، اس لئے اسلام کے ساتھ “جمہوریت” کا پیوند لگانا اور جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنا صریحاً غلط ہے۔

    جمہوریت اس دور کا صنمِ اکبر
    مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالی

    کوئی موصوف سے یہ پوچھے کہ اگر ” خلافت ” عالمی نہیں ہوگی تو کتب فقہ سے متعدد خلفاء کا ہونا ثابت کیجئے کہ یہ کوئی ایسا عنوان نہیں کہ جس پر علما امت گفتگو نہ فرما چکے ہوں .

    عجیب بات ہے کہ علما امت حضرت علی رض کی خلافت میں حضرت امیر معاویہ رض کی حکومت کو باغی حکومت قرار دیتے ہیں اگر موصوف ایسے متجددین اس دور میں ہوتے تو شاید متعدد خلفا کا نظریہ پیش کرکے امامت کے درجے پر فائز ہو جاتے .

    صحیح مسلم کی روایت ہے: «إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا» کہ جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو دوسرے کو قتل کر دو ۔

    اندلسی فقیہ اور مجتہد امام ابن حزم ﷫ اپنی کتاب ‘مراتب الاجماع’ میں لکھتے ہیں:

    وَاتَّفَقُوا أنه لَا يجوز أَن يكون على الْمُسلمين فِي وَقت وَاحِد فِي جَمِيع الدُّنْيَا إمامان لَا متفقان وَلَا مفترقان وَلَا فِي مكانين وَلَا فِي مَكَان وَاحِد

    ”اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ جائز نہیں کہ مسلمانوں کے ایک ہی وقت میں پوری دنیا میں دو خلیفہ ہوں، چاہے وہ آپس میں متفق ہوں، چاہے اختلاف کرنے والے ہوں، چاہے دو مختلف علاقوں میں ہوں، چاہے ایک ہی علاقہ میں ہوں۔ ”

    اسی طرح امام بیہقی ﷫اپنی کتاب ‘السنن الکبری’میں باقاعدہ باب لايصلح إمامان في عصر واحد( ایک ہی وقت میں دو مسلمان خلفا کا ہونا جائز نہیں ہے) کے نام سے باب باندھ کر اس کے ذیل میں متعدد احادیث نقل کرتے ہیں

    پھر خطرناک ترین جملہ ” عالمگیرخلافت اسلامی ریاست کی ایک گزشتہ شکل تھی ”

    موصوف یہ گزشتہ دین اور گزشتہ شکل کے نظریے نے ہی اسلام کی شکل بگاڑ کر رکھ دی ہے عجیب ترین بات یہ ہے کہ عبادات و رسومات میں معمولی سا تغیر بھی خلاف اسلام اور ” بدعت ” ہوتا ہے لیکن سیاست شرعی کی شکل ہی تبدیل کر کے رکھ دینا عین اجتہاد ہے اور افسوس اس بات پر کہ ” خلفاء ” راشدین کی سنت نظائر کے درجے میں بھی قبول نہیں .

    حضرت عرباضؓ سے ایک روایت ہےجس میں آپ ﷺ کی وصیت ہے کہ میرے بعد بہت سے اختلافات پیدا ہوں گے اس کے بعد ارشاد فرمایا:
    عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ (سنن ابن ماجہ کتاب المقدمات، صحیح)
    تم پر لاز م ہے میری سنت اور میرے خلفائے راشدین کی سنت جو ہدایت یافتہ ہیں ان (یعنی میری اور ان کی سنت) کو اپنی داڑھوں مضبوط پکڑنا۔

    یہاں سنت خلفاء راشدین کا اطلاق سیاسی معاملات میں کیوں نہیں ہوتا عجیب بات ہے کہ اگر یہ حدیث صرف مراسم عبودیت سے منسلک ہوتی تو پھر یہاں خلفاء کی تخصیص ہی کیوں کی گئی اصحاب رسول رض کی سنت کا ثبوت تو متعدد دوسری روایت سے بھی ملتا ہے ایسا کیوں ہے کہ سیاسی معاملات میں ہمیں خلفاء راشدین کی سنت سے ہٹنا بدعت محسوس نہیں ہوتا .

    اگر جواز اور وقتی ضرورت کے تحت ہر گزشتہ امر کو قدامت کا عنوان دے کر دین جدید کهڑا کر دیا جاوے تو پهر احیاء کس چڑیا کا نام ہے .

  • 18-04-2016 at 5:43 am
    Permalink

    جناب ، ایک فقرہ جو سیکولرازم کو واضع کردیتا ہے اورمذہب کو بھی جوڑے رکھتا ہے شائد وہ یہ ہے کہ (حکومت سب کی مذہب اپنا اپنا ) یہ جملہ نامعلوم کن صاحب نے وضع کیا ہے ۔ وہ غالبا ہندوستانی علماٰ کی اکثریت بھی مطالبہ کرتی ہے ۔ شکرییہ

  • 18-04-2016 at 9:43 am
    Permalink

    چہ خوب.محترم حسیب صاحب نے خلفاے راشدہ کی سیاست کی سنت کی پیروی کی تلقین فرمائی ہے. چونکہ وہ خود صاحب مطالعہ ہیں، لہذا تفصیل میں جاے بغیر ان سے استفسار ہے کہ بہت ہی بنیادی معاملات میں خلفاے راشدین نے جو الگ الگ طرز فیصلہ اختیار فرمایا، ان میں سے کس کی پیروی کا وہ ہمیں مکلف سمجھتے ہیں؟ نصف امت جو کہ امامت کی قائل ہے، اس کی بات کو فی الحال جانے دیتے ہیں.

  • 18-04-2016 at 11:19 am
    Permalink

    حقیقی اسلامی حکومت تو اب امام مہدی ہی قائم کر سکتے ہیں، جن کا ظہور قیامت سے پہلے ہوگا. وہی نظام کی تصحیح اور کنفیوژن کو دور کر سکیں گے. اس وقت تک مسلمانوں کو مطلق العنان بادشاہ، فوجی و جمہوری ڈکٹیٹر اور کرپٹ اور حریص لیڈر ہی بھگتننے پڑیں گے. باقی جو عوام کا حال ہے تو وہ ان کا مقدر، امتحان، اعمال اور دشمن کی سازش.

  • 18-04-2016 at 11:54 am
    Permalink

    ویسے جب تاتاریوں کا غضب ٹوٹا تو ہمارے علما سوئی کی نوک پر فرشتے گن رہے ہوں گے. اس زمانے میں اگر بارود ہوتا تو چنگیز خان کا کام آسان ہو جاتا، کچھ خود کش حملہ آور ہی کام تمام کر دیتے. مگر اس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی، اسے اتنا خون نہ ملتا. مگر اب تو بات جوہری طاقت تک جا چکی ہے اور زمین کا ماحولیاتی نظام بھی بگڑ چکا ہے. خدا کرے ہم ان مغالطوں سے جلد باہر آ سکیں، یہ بحث ادھوری نہ رہ جاۓ !!

  • 18-04-2016 at 5:21 pm
    Permalink

    محترم وجاھت اور قاضی صاحب:

    ھم عوام کلانعام کا گلہ تو پہلے شعر میں ھی پورا ھو جاتا ھے

    ما را بہ غمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت
    خود سوئے ما نہ دید و حیا را بہانہ ساخت

  • 18-04-2016 at 8:08 pm
    Permalink

    اسلامسٹ کے لیے آپ بھی گوگل کی مدد لیں 🙂
    اور جب گوگل پر ھوں تو امریکہ کو کینیڈا کا آئین اور ’ریاستـ‘ اور ’حکومت‘’ کا فرق بھی تلاش کر کے پڑھ ڈالیے گا، تاکہ خلط مبحث واقع نہ ھو

  • 18-04-2016 at 10:45 pm
    Permalink

    محترم سمیع اللہ سعدی آپ کی یہ تحریر اور مستزاد اس پر کیے ہوئے ہندی کی چندی نکالتے تبصرے پڑھ کر بے اختیار رضی اختر شوق کا ایک شعر یاد آگیا

    ہم ایسے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
    ان کو بھی سنا آئے جو غم خوار نہیں تھے

    ان چائنا کٹنگ تبصروں کی جو ٹون ہے وہ “آنجہانی ڈاکٹر اسرار احمد صاحب” جیسی پرغضب و تہی مغز ترکیب سے واضح ہے۔ خدا آپ کو اپنی امان میں رکھے۔

  • 19-04-2016 at 12:24 am
    Permalink

    “امریکہ میں 70فیصد لوگ سمجھتے ہیں مذھب ان کی زندگیوں میں اہم ہے.
    81فیصد خود کو کسی مذھب سے منسلک سمجھتے ہیں. )پروٹسٹنٹ، کیتھولک، یہودی، مسلمان، ہندو، بدھ وغیرہ(
    امریکا کا یہ مذہبی تنوع قبل ذکر ہے، جہاں ساری دنیا سے تارکین وطن آباد ہوئے ہیں
    اس لیے اس کا آئین کسی عقیدے کو سپانسر کرنے کی اجازت نہیں دیتا.” Sociology by Macionis

    سو، نہ ہی کسی کو عددی اکثریت کی صورت میں اپنا عقیدہ اقلیتوں پر تھوپنا چایئے؛
    نہ عددی اقلیت کی شکل میں بنیاد پرستی کو آڑ بنا کر نہتی اکثریت کو دہشت زدہ کرنا چایئے.

  • 19-04-2016 at 4:22 am
    Permalink

    جناب من یہ کوئی چیستان نہیں کہ جسے سلجھانے کیلئے کسی دقیق تحقیقی عمل سے گزرنا پڑے خلافت راشدہ میں حاکم کا چنا جانا حالات و واقعات کے اعتبار سے چار مختلف احتمالات کے نظائر پیش کرتا ہے ..

    ١. حضرت ابو بکر صدیق رض کا بطور حاکم عمر فاروق رض کو تفویض کرنا .
    ٢. حضرت عمر فاروق کا شوریٰ مقرر کرنا .
    ٣.حضرت علی رض کی ہنگامی بیعت .
    ٤.حضرت ابو بکر صدیق رض پر امت کا جمع ہو جانا .

    اب خلیفہ کا انتخاب یا تو عمومی بیعت سے ہوگا یا شوریٰ کے انتخاب سے یا تفویض سے یا امت کے اجماع سے .

Comments are closed.