کیا ویرات کوہلی سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟


انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے اب تک جس طرح ریکارڈ ساز کرکٹ کھیلی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے سپر لیجنڈ بننے کے امکانات انتہائی روشن ہیں۔ اس وقت سینچریوں کی سینچری بنانے کا واحد اعزاز سابق انڈین بلے باز اور کپتان لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کے پاس ہے جبکہ ویرات کوہلی نے اب تک کرکٹ میں 21اور ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں 34سینچریاں اسکور کی ہیں۔

لٹل ماسٹر کے مقابلے میں کوہلی کی سنیچریوں کی تعداد تقریباً نصف ہونے کے باوجود کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ کرکٹ اعدادو شمار کا کھیل ہے اور اس کی روشنی میں موجودہ انڈین کپتان ٹنڈولکر سے آگے نکل جائیں گے۔ بلا شبہ یہ پیش گوئی انہونی معلوم ہوتی ہے مگر اعداد و شمار واضح طور پر نشاندہی کر رہے ہیں کہ کوہلی سپر لیجنڈ کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔ آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ اعدادو شمار کیا کہہ رہے ہیں۔ ٹنڈولکر نے سینچریوں کی سینچری 24سالہ کرکٹ میں بنائی اور 39سال کی عمر میں ریٹائر ہو گئے۔

کوہلی نے2008میں اپنی انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز 2008میں کیا جبکہ پہلا ٹیسٹ تین سال انتظار کےبعد2011میں کھیلا۔

کوہلی نے اپنے10سالہ کرکٹ کیریئر میں55 سینچریاں بنا لی ہیں جبکہ ان کی عمر صرف29 سال ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے پاس کرکٹ کھیلنے کے لئے ابھی مزید10سال باقی ہیں۔ ٹنڈولکر نے سینچریوں کی سینچری بنانے کا اعزاز 200ٹیسٹ میچز اور 463ایک روزہ میچز کھیل کر حاصل کیا ۔

کوہلی کی موجودہ سینچریوں کی تعداد صرف66ٹیسٹ اور 207ایک روزہ میچز میں بنیں۔فی الوقت بھی کوہلی کو ریکارڈ توڑ بیٹسمین قرار دیا جا سکتا ہے جنہوں نے گزشتہ نومبر میں12ویں سینچری بطور کپتان اسکور کر کے لیجنڈ انڈین کرکٹر سنیل گواسکر کا ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ ایک سال میں 10 سینچریاں بنا کر سائوتھ افریقہ کے گریم اسمتھ اور آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ کا ریکارڈ توڑا جنہوں نے 9 سینچریاں بنائی تھی ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں تیز ترین 9000 رنز اسکور کرنے کا اعزاز بھی موجود بھارتی کپتان کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ اعزاز جنوبی افریقہ کے جارج بیٹسمین کپتان اے بی ڈی ویلیئر سے چھینا۔ ویرات کوہلی اپنی اسٹائلش بیٹنگ کی وجہ سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین میں مقبول ہیں۔ انہوں نے مقبولیت میں شاہد آفریدی ،سچن ٹنڈولکر اور دیگر مقبول ترین کرکٹرز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

کوہلی نے گنگولی کا 142اننگز میں 11سینچریاں اسکور کرنے کا ریکارڈ پہلے ہی توڑ دیا ہے جب انہوں نے 11سینچریاں صرف 43اننگز میں بنائیں۔ وہ سابق انڈین کپتان اظہر الدین کے قائم کردہ ریکارڈ 9378رنز کے بھی پرخچے اڑا چکے ہیں۔ جو انہوں نے 308اننگز کھیل کر بنایا تھا۔ کوہلی نے جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے چوتھے ایک روزہ میچ میں کپتانی کرتے ہوئے سینچری کی مدد سے اپنا اسکور 9423تک پہنچا کر یہ ریکارڈ توڑا۔

سب سے زیادہ سینچریاں بنانے والے کرکٹرز میں ان کا نمبر پانچواں ہے۔ لٹل ماسٹر کی100سینچریوں کے بعد پونٹنگ نے ریکارڈ بک میں71، سنگا کارا نے 63اور جیک کیلس نے 62سینچریاں اسکور کر کے جگہ بنائی ہے۔ ناقابل پیش گوئی متغیر صورتحال ،فٹنس، صحت ،موسم کے باوجود اعداد و شمار خود اس سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ ویرات کوہلی لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑ کر عالمی سپر لیجنڈ کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔

کوہلی کو چار سیریز میں مسلسل ڈبل سینچری اسکور کرنے کا ایسا اعزاز حاصل ہے جو دنیائے کرکٹ میں کسی دوسرے کھلاڑی نے حاصل نہیں کیا۔ دیگر بھارتی بلے بازوں اور آل رائونڈرز نے عمومی طور پر ملکی و کٹوں پر زیادہ بہتر کار گزاری کا مظاہرہ کیا۔ ا س کے برعکس ویرات کوہلی نے بیرون ملک زیادہ بہتر پرفارمنس دی ہے۔ دوسرے الفاظ میں کوہلی فاسٹ وکٹوں پر زیادہ جارح بلے باز کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

کوہلی نے اپنی34ایک روزہ انٹرنیشنل سینچریوں میں سے20بیرون بھارت سکور کیں۔ انگلینڈ، آسٹریلیا ،جنوبی افریقہ ،نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک کی وکٹوں پر کوہلی کی سنچریوں کا اوسط 6.01اننگز ہے جبکہ اپنے ملک کی وکٹوں پر 5.57اور مجموعی طور پر اوسط5.79اننگز ہے۔ بھارت جون میں انگلینڈ کے خلاف 5میچز کی سیریز کھیلے گا۔

اس سال ایشیا کپ بھارت میں ہو رہا ہے،،میزبان ٹیم ستمبر میں 3سے 6میچز کھیلے گی جبکہ اکتوبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 5 میچز کی سیریز کا شیڈول ہے۔ رواں سال کوہلی کو 19میچز کھیلنے کا موقع ملے گا۔ ماضی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے انجری یا ڈراپ ہونے کے کوئی خدشات نہیں ہیں۔ آئی سی سی شیڈول کے مطابق 2019/20سے 2022/23تک بھارت کے مجموعی طور پر 67ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کنفرم ہیں یعنی آنے والے برسوں میں بھارتی ٹیم 16 سے17میچز سالانہ کھیلے گی۔

اس شیڈول سے ہٹ کر اگلے سال جولائی میں ورلڈ کپ انگلینڈ میں ہوں گے اگر کوہلی کا ٹنڈولکر سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لٹل ماسٹر نے اپنی پہلی ایک درجن ایک روزہ سینچریز 83اننگز میں بنائیں جبکہ کوہلی نے دگنی سے زائد تیز رفتاری سے صرف41 میچزمیں حالیہ 12سینچریاں اسکور کر لیں۔ کوہلی کو ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑ کر جانے کے لئے صرف 16 ایک روزہ انٹرنیشنل سینچریوں کی ضرورت ہے۔

ویرات کوہلی کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یقینی طور پر وہ ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کی نصف سنچری 2021کے آخر یا 2022 کی ابتدا میں بنا لیں گے۔ ایک روزہ میچز میں ٹنڈولکر کا اوسط 44.83 رنز ہے جبکہ کوہلی نے 58.11 کے اوسط سے موجودہ رنز اسکورکئے ہیں۔

موجودہ اعدادو شمار کی روشنی میں بڑے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہےکہ ویرات کوہلی اپنے کرکٹ کیریئر میں سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑ کر سپر لیجنڈ بن جائیں گے۔

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں