مستقبل کے مذہبی رہنماؤں کا لرزا دینے والا حال


اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لہجے میں تپش اور آنکھوں سے شعلے لپک رہے تھے۔ میں اس کی اس حالت سے خوفزدہ ہو گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اگر میں نے مزید ایک لفظ بھی کہا تو وہ مجھ پر ہاتھ چھوڑ بیٹھے گا۔ حالانکہ وہ عمر میں مجھ سے کئی برس چھوٹا تھا۔ بات تقریباً بیس منٹ پہلے شروع ہوئی تھی۔

یہ آج سے تقریباً پندرہ برس قبل کا واقعہ ہے۔ میں اپنے ایک دوست کے انٹرنیٹ کیفے میں اس کے ساتھ بیٹھا کوک اور فرنچ فرائز کے مزے لے رہا تھا کہ ایک کیبن سے وہ لڑکا اٹھ کر آیا اور اپنے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عوض مقررہ رقم کے بارے میں دریافت کیا۔ میرے دوست نے رقم بتائی تو وہ لڑکا قدرے تیز لہجے میں رقم میں رعایت کا مطالبہ کرنے لگا۔ اپنے حلیے سے وہ کسی مدرسے کا طالب علم جان پڑتا تھا اور میرے سوال کے جواب میں اس نے اس بات کی تصدیق بھی کر دی۔ خیر میرے دوست نے اسے مطلوبہ رعایت فراہم کر دی جس کے بعد اس نے اطمینان سے اپنی جیب سے وہ رقم نکال کر میرے دوست کے حوالے کی اور کہا کہ جو لوگ دینی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے انٹرنیٹ استعمال کریں ان کے لیے فی گھنٹہ معاوضے میں رعایت رکھنی چاہیئے۔ میرے دوست نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے بات ختم کر دی مگر میں نے اس سے سوال کر دیا کہ وہ انٹرنیٹ پر کون سے دینی سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا۔

اس سوال کی تفصیل میں جائے بغیر میں آپ سے اتنا عرض کر دیتا ہوں کہ لڑکے نے جو بتایا وہ حیران کن تھا۔ وہ ایک ایسے واقعے کی تفصیل جاننا چاہ رہا تھا جو اس کے مدرسے کے مولوی صاحب نے اس کے سامنے بیان کیا تھا۔ بہرحال وہ تفصیل اس کو انٹرنیٹ پر ایک گھنٹے کی تلاش کے بعد بھی نہیں مل سکی۔ یہ اور بات کہ اس تلاش کا کل دورانیہ دس منٹ سے زیادہ نہیں تھا۔ باقی کے پچاس منٹ کسی اور تلاش میں گذرے تھے۔ جب اس نے وہ واقعہ مجھے سنایا تو میں نے اس کو بتایا کہ یہ واقعہ ایسے نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ہے۔ اس پر اس لڑکے نے مجھے مشکوک نظروں سے گھورا اور کہا کہ یہ واقعہ مولوی صاحب نے بیان کیا ہے۔ جب میں نے اسے بتایا کہ یہ واقعہ اصل میں ایسے بیان ہوا ہے تو وہ لڑکا بھڑک اٹھا اور نہایت غصیلے لہجے میں کہا کہ اس کے لیے مولوی صاحب کی بات حتمی ہے۔ اس کے علاوہ وہ اور کچھ نہیں سننا چاہتا۔ جب میں نے اس کو کچھ حوالوں کے تحت سمجھانے کی کوشش کی تو اس کا رنگ سرخ پڑنے لگا۔ اس کے لہجے میں تپش اور آنکھوں میں شعلے لپکنے لگے۔ وہ اپنے مولوی صاحب کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے اس سے معذرت کی اور اسے رخصت کر دیا۔

وہ تو چلا گیا مگر میرے لیے سوچ کے دروازے وا کر گیا۔ میں نے خود کافی عرصہ قبل ایک مدرسے میں تقریباً تین برس گذارے تھے۔ ہمارے مدرسے کے اساتذہ نے ہمارے سوالوں کا ہمیشہ نہایت شائستگی اور مستند حوالوں کے ساتھ جواب دیا۔ جس سے ہمارے علم میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا۔ اس کے علاوہ ہمارے اساتذہ نے ہمارے کردار اور شخصیت کی پختگی پر خاص توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مدرسے میں کبھی ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جیسا کہ ہم عموماً مدارس کے حوالے سے سنتے رہتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ نے ہمیشہ ہمیں شائستگی اور نرم کلامی کا سبق پڑھایا تھا۔ ان کا ہمیشہ سے یہ کہنا تھا کہ جو زبان قرآن کی تلاوت کی عادی ہو اس زبان سے سخت کلمات کا ادا ہونا کسی طور بھی قابل تحسین نہیں ہے۔

پھر کیا وجہ تھی کہ اس لڑکے کے لہجے میں اول تا آخر درشتگی اور چہرے پر معصومیت کے بجائے کرختگی نمایاں تھی۔ اس لڑکے کی عمر زیادہ سے زیادہ چودہ پندرہ برس تھی۔ تب ہم نے اس کے انٹرنیٹ استعمال کی ہسٹری چیک کی تو افسوس ہوا۔ اس ہسٹری میں وہی کچھ تھا جو کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ ہم نے نئی نسل کی بے راہ روی پر تبصرے کرتے ہوئے اپنی بقیہ کوک اور فرنچ فرائز کا صفایا کیا اور پھر میں وہاں سے نکل آیا۔

اس واقعے کے اثرات میرے ذہن میں ابھی تازہ ہی تھے کہ وہ لڑکا تین چار دن کے بعد مجھے دوبارہ دکھائی دیا۔ میں اپنے ایک دوست کے گھر کسی کام سے جا رہا تھا کہ اسی کی گلی کے کونے پر ایک تندور پر مجھے وہ لڑکا ایک اور قدرے چھوٹی عمر کے لڑکے ساتھ دکھائی دیا۔ وہ اپنے مخصوص درشت لہجے میں تندور والے سے روٹی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ میں کچھ پیچھے رک کر دیکھنے لگ گیا۔ میری نگاہوں کے سامنے تندور والے نے بوری نما کپڑا اٹھا کر اس کے نیچے سے تین چار باسی اور تقریباً جلی ہوئی روٹیاں نکال کر اسے پکڑائیں جو اس لڑکے نے بخوشی لے لیں۔ اس کے بعد ان دونوں کا رخ گلی کے اندر کی طرف تھا۔ میں بھی کچھ فاصلہ رکھ کر پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ اس گلی کے تقریباً پانچ یا چھ گھروں کے دروازے کھٹکھٹا کر انہوں نے کھانے کا سوال کیا۔ ہر گھر سے بچا کھچا، ادھ کھایا ہوا کھانا شاپروں میں ڈال ڈال کر ناقابل اشاعت الفاظ کے ہمراہ ان کے حوالے کیا گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں دو گلیاں چھوڑ کر بنی ہوئی مسجد سے ملحقہ مدرسے میں چلے گئے۔

میں نے اپنے دوست سے ان کی بابت دریافت کیا۔ تو اس نے بےزاری سے بتایا کہ اس مدرسے میں تقریباً چالیس بچے پڑھتے ہیں جن میں سے آدھے ادھر مدرسے میں ہی رہتے ہیں اور اسی طرح گھروں سے مانگ مانگ کر کھانا کھاتے ہیں۔

یہ جان کر میں نے خود سے سوال کیے کہ کیا بھکاریوں کی طرح گھروں اور تندوروں سے کھانا مانگ کر کھاتے ہوئے یہ بچے عزت نفس کے مفہوم سے آشنا ہوں گے؟ اور کیا مدرسے میں ان کی شخصیت سازی کی جاتی ہو گی یا بھیک پر پلتے ہوئے ان بچوں کی شخصیت کو مزید کچل دیا جاتا ہو گا؟ پھر میرے ذہن میں انٹرنیٹ کیفے میں دیکھی ہسٹری تازہ ہو گئی۔

مستقبل کے مذہبی راہنماؤں کا حال لرزا دینے والا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

اویس احمد

پڑھنے کا چھتیس سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔ اب لکھنے کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔ کسی فن میں کسی قدر طاق بھی نہیں لیکن فنون "لطیفہ" سے شغف ضرور ہے۔

awais-ahmad has 76 posts and counting.See all posts by awais-ahmad