روہنگیا بحران: ایک خاندان کی میانمار واپسی اور دہلی میں قائم خیمہ بستی خاکستر


روہنگیا کیمپ

BBC
اتوار کی دوپہر کا منظر جب دہلی میں روہنگیا کا واحد کیمپ جل کا خاکستر ہو گیا تھا

میانمار کا کہنا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا پہلا کنبہ بنگلہ دیش سے ملک واپس آیا ہے جس کی باز آبادکاری کی گئی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ میانمار روہنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

گذشتہ سال اگست میں شروع ہونے والی بہیمانہ فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے میانمار یعنی برما سے تقریبا سات لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے راہ فرار اختیار کی تھی۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے میانمار پر نسل کشی کا الزام لگایا ہے جس کی میانمار تردید کرتا ہے۔

میانمار نے بتایا ہے پانچ افراد پر مشتمل ایک خاندان سنیچر کو ان کے باز آبادکاری والے کیمپ میں آیا ہے جسے شناختی کارڈ اور رسد پہنچائی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں‘

٭ ’روہنگیا کے معاملے میں انڈیا کا موقف درست نہیں‘

اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ وہاں شروع ہونے والے بحران کے بعد کسی پہلے کنبے کی واپسی ہوگی۔

میانمار کا کہنا ہے کہ وہ رخائن صوبے میں روہنگیا جنگجوؤں کے خلاف اپنے فوجی آپریشن میں حق بہ جانب ہے۔

بنگلہ دیش

Reuters
بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد اتنی ہے کہ ایک شہر آباد لگتا ہے

رواں ماہ کے اوائل میں اس نے سات فوجیوں کو 10 روہنگیا افراد کے قتل کے جرم میں قید کی سزا سنائی ہے۔

جو پناہ گزین بھاگ کر بنگلہ دیش آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ‘اس قسم کے واقعات وسیع پیمانے پر کیے گئے جس میں لوگوں کا اندھا دھند قتل، ریپ اور بستیوں کو جلانے کے واقعات شامل ہیں۔’

بنگلہ دیش میں بھی ان کی حالت خستہ ہے اور بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق روہنگیا کی خواتین اور نوجوان بچیوں کو جینے کے لیے جسم فروشی کا سامنا ہے۔

روہنگیا کے واحد کیمپ میں آتشزدگی

دریں اثنا انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں روہنگیا پناہ گزینوں کا واحد کیمپ اتوار کی صبح خاکستر پایا گيا جبکہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بھی ان لوگوں کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ روہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟

٭ ‘ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے’

دہلی کے کنچن کنچ علاقے میں دو سو سے زیادہ روہنگيا تقریبا 50 جھونپڑیوں میں رہتے تھے جو اتوار کی صبح جل کر خاکستر ہو گئی تھی۔ اس میں کسی کے مرنے کی خبر نہیں ہے البتہ ایک شخص کو زخم آئے ہیں۔

روہنگیا

BBC
دہلی کے کیمپ میں آباد روہنگیا کے پاس اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیا ہوا کارڈ تھا جو ایک رضا کار کے مطابق آگ کی نذر ہو گیا ہے

مقامی افراد کے مطابق وہاں صبح تین بجے آگ لگی۔

ہمارے نمائندے آدرش راٹھور نے بتایا کہ ‘وہاں 230 سے زیادہ افراد رہتے تھے اور سب کچھ خاک میں مل چکا تھا۔ جھگیوں کا نام و نشان باقی نہیں تھا۔کولر کے بکسے، بالٹیاں، جلے ہوئے برتن، چھوٹے سلینڈر جیسے دھات کی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا۔’

انھوں نے بتایا کہ جب اتوار کو ایک بجے وہ وہاں پہنچے تو اس وقت بھی کہیں کہیں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

ایک مقامی سماجی رضاکار اویس زین العابدین نے بتایا کہ روہنگیا ڈرے ہوئے ہیں اور وہ کھل کر یہ نہیں بتا پا رہے ہیں کہ آگ باہر سے آکر کسی نے لگائی تھی۔ زین العابدین روہنگیا کے معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی گزار بھی ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ یہ آگ سازش کا نتیجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘ان روہنگیا پناہ گزینوں کے پاس باقاعدہ اقوام متحدہ کے کارڈ اور طویل مدتی ویزا بھی ہے لیکن سب اس آگ میں جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6375 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp